24/10/2022
ناقص قانون، منہ زور اشرافیہ یا قصاص و دیت(1)
اوریا مقبول جان
میرے لئے یہ بہت حیران کن تجربہ تھا، جس کی خوشگوار یاد آج بھی مجھے ایک ایسے ماحول میں لے جاتی ہے جس میں پاکستان کا قبائلی معاشرہ جس پر ابھی انگریز کے نافذ کئے گئے اینگلو سیکسن قانون کا اثر نہیں ہوا تھا وہ کیسی پُر سکون اور پُر امن زندگی گزار رہا تھا۔ پشتون اور بلوچ قبائلی رسم و رواج اکثر اسلامی تعزیرات کے تابع ہیں۔ اسی لئے مجھے اپنے اس تجربے کی معاشرتی افادیت کا آج تک احساس ہے۔ میری سول سروس کی نوکری کی پہلی پوسٹنگ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، پشین تھی۔ اس حیثیت سے میں قتل کے مقدمات کے لئے قائم جرگے کا سربراہ تھا۔ روزانہ کئی مقدمات میں ملزم پیش ہوتے اور گواہیاں دی جاتیں۔ مقدمات کے دوران قاتل کے خاندان والے مقتول کے ورثاء سے اسلامی قانونِ دیت کے تحت صلح صفائی کی کوشش بھی کرتے رہتے۔ اگر معاملہ طے پا جاتا تو پھر ایک بہت بڑی تقریب منعقد ہوتی جسے ’’ننوات‘‘ کہتے ہیں۔ ایسی ہی ایک تقریب میں مجھے جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ تقریب مقتول کے ورثاء کے گھر کے صحن میں منعقد ہوئی۔ عشاء کے بعد صحن میں مقتول کا قبیلہ فرشی نشست پر گائو تکیے لگا کر بیٹھا تھا۔ جرگہ کے سربراہ کی حیثیت سے مجھے اور جرگہ ممبران کو ایک اہم مقام پر بٹھایا گیا تھا۔تھوڑی دیر کے بعد قاتل کے ورثاء اپنے قبیلے اور قاتل کے ہمراہ صحن میں داخل ہوئے اور سامنے قطار در قطار ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ پشین اور چمن کے علاقوں میں چشتی خاندان کے بزرگوں کو بڑی عزت اور احترام سے دیکھا جاتا ہے۔’’ننوات‘‘ کے اس قافلے کی قیادت چشتی خاندان کے بزرگ ہی کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک بزرگ نے آگے بڑھ کر قرآنِ کریم میں قصاص و دیت اور عفو و درگزر کی وہ مشترکہ آیات تلاوت کیں اور اس کے بعد اسلام میں معافی، عفو و درگزر کی اہمیت پر تھوڑی سی گفتگو کی۔ اس کے بعد قاتل کا باپ آگے بڑھا اور دست بستہ کھڑے ہو کر اس نے انتہائی رقت آمیز لہجے میں اپنے بیٹے کے جرم کا اعتراف کیا اور انتہائی عجزوانکساری سے بھر پور پشتو زبان میں معافی طلب کی۔ اس دوران قاتل سرجھکائے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ دونوں کے ساتھ ایک فرد کپڑے سے ڈھکے ایک بڑے سے تھال کو اُٹھائے ہوئے تھا جس میں خون بہا کی رقم اور ایک پستول تھا۔ قاتل کے باپ نے درخواست کی کہ اگر تم چاہو تو قتل کے بدلے میں قتل کر دو یا خون بہا کی رقم لے کر اسے معاف کر دو۔ تھال مقتول کے ب