23/05/2026
ٹیکس کی دنیا میں بڑا دھماکہ: پنجاب حکومت کا راتوں رات نیا قانون نافذ! کاروباری طبقے اور عوام کے لیے بڑی خبر!
پنجاب حکومت نے ٹیکس کے نظام کو آسان اور بہتر
بنانے کے لیے ایک نیا قانون پاس کیا ہے، جسے **"دی پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز (امینڈمنٹ) ایکٹ 2026"** کا نام دیا گیا ہے۔ یہ قانون 14 مئی 2026 سے پورے پنجاب میں لاگو ہو چکا ہے۔ اس کا مقصد پرانے ٹیکس قانون (2012) میں تبدیلیاں کر کے اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔
سب سے پہلی بڑی تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) کو اب نئے ضوابط اور رولز بنانے کے زیادہ قانونی اختیارات دے دیے گئے ہیں، تاکہ وہ ٹیکس کے معاملات کو زیادہ اچھے طریقے سے چلا سکے۔
اس نئے قانون میں مختلف سروسز (خدمات) پر ٹیکس کی حد کو بالکل واضح کر دیا گیا ہے:
* **فون اور انٹرنیٹ (ٹیلی کمیونیکیشن) سروسز:** ان پر ٹیکس کی حد **ساڑھے انیس فیصد (19.5%)** رکھی گئی ہے۔
* **سامان کی ترسیل (ٹرانسپورٹ):** ریل یا سڑک کے ذریعے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کی سروس پر ٹیکس کی حد **پندرہ فیصد (15%)** ہوگی۔
* **باقی تمام سروسز:** ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی سروسز ہیں، ان پر ٹیکس کی حد **سولہ فیصد (16%)** مقرر کی گئی ہے۔
قانون کو زیادہ سخت اور فعال بنانے کے لیے محکمہ جاتی عہدوں میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب پرانے عہدے "اسسٹنٹ کمشنر" کی جگہ **"انفورسمنٹ آفیسر یا آڈٹ آفیسر"** کام کریں گے، جن کا کام ٹیکس کی وصولی اور حساب کتاب کی کڑی نگرانی کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، انفرادی افسران کے بجائے اب زیادہ تر بڑے اختیارات براہِ راست "اتھارٹی" کے پاس ہوں گے۔
اس قانون کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اب پنجاب ریونیو اتھارٹی کو زیادہ خود مختاری دے دی گئی ہے۔ نئے رولز بنانے یا ٹیکس کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے اب اتھارٹی کو بار بار حکومت سے منظوری لینے کے طویل طریقہ کار کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ وہ خود فوری فیصلے کر سکے گی۔ یہ تمام ترامیم سیکرٹری جنرل چوہدری عامر حبیب کے دستخطوں کے ساتھ جاری کی گئی ہیں تاکہ صوبے میں ٹیکس کا نظام تیز رفتار اور شفاف ہو سکے۔
انفارمیشن اچھی لگے تو لائک ضرور کریں
゚