27/12/2023
ھم نے طلاق لے کے عورتوں کو پچھتاتے ھوئے دیکھا ھے۔
جو عورتیں شوہر کے گھر اس لیے چھوڑ آئیں کہ ھماری عزت نہیں ھے انہیں زمانے کی ٹھوکریں کھاتے دیکھا ہے۔
جو سسرال میں رھنا اس لیے گوارا نہیں کرتیں کی ان سے کام نہیں ھوتا ذمہ داری نہیں اٹھا سکتیں وہ جب تن تنہا اولاد کی ذمہ داری اٹھاتی ھیں تو ان کے چودہ طبق روشن ھوتے دیکھے ھیں۔
جنہوں نے شوھر کو سبق سکھانے کے لیے عدالتوں سے طلاقیں لی ان کو رجوع کے لیے تڑپتے ھوئے دیکھا ھے۔
بلقیس ایدھی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا: ”دنیا کے جوتے کھانے سے بہتر ھے ایک آدمی کے جوتے کھالو“۔
یہ جو فیمنسٹ یا لبرل خواتین، عورتوں کو طلاق دلوا کے حقوق دلوانے نکلتی ھیں ان کی تقلید کرنے سے پہلے انکی ذاتی زندگی میں بھی ایک نگاہ ڈال لینی چاھیے کہ وہ گھر کیسے بسا رھی ھیں یا طلاق کے بعد کتنی آئیڈیل لائف گزار رھی ھیں۔
میں طلاق کے خلاف نہیں ھوں کہ اس کا حق اللہ تعالیٰ نے دیا ھے مگر یہ آخری آپشن ھونا چاھیے اس کو پہلا آپشن مت سمجھیے۔ حالات ناگزیر ھیں تب بھی طلاق کا فیصلہ کرنے سے پہلے علیحدہ ھو جائیں چھ ماہ الگ رہیں پھر فیصلہ کریں۔
گھر ٹوٹنے نہیں چاھیئں..
اولادیں برباد ھو جاتی ہے..
انا کو قربان کرنا پڑے.کر دیجیے..
مگر اولاد کو تحفظ دیجیے...
طلاق مسائل کا حل نہیں ہے...
میاں بیوی کے درمیان جو مسائل ھیں انہیں حل کریں..
مسائل حل کرنا سیکھیں..
زک زیک سیکھیں..
جھوٹی انا اور جھوٹی عزت میں گھر مت اجاڑیں۔
یہ ٹھیک ھے کہ مار مت کھائیں.. ظلم برداشت مت کریں.. آواز اٹھائیں مگر طلاق آخری آپشن ھے۔ کم از کم چھ ماہ علیحدہ رھنے کے بعد فیصلہ کریں۔
Tanzeem Haider Bhatti
Advocate High Court
7-Turner Road, Lahore
Contact # 03006071214