20/01/2023
دلِ اُمید توڑا ہے کسی نے
سہارا دے کے چھوڑا ہے کسی نے
نہ منزل ہے نہ منزل کا نشاں ہے
کہاں پہ لا کے چھوڑا ہے کسی نے
میں اِن شیشہ گروں سے پوچھتا ہوں
کہ ٹُوٹا دل بھی جوڑا ہے کسی نے
قفس کی تیلیاں رنگین کیوں ہیں
یہاں پہ سر کو پھوڑا ہے کسی نے
چمن میں بخُدا شبنم نہیں ہے
یہاں دامن نچوڑا ہے کسی نے
ہے دیوانوں کو زنجیروں سے نسبت
یہ رشتہ خوب جوڑا ہے کسی نے
محبت میں مجھے برباد کر کے
لہو دل کا نچوڑا ہے کسی نے
بھری محفل میں مجنوں نے پُکارا
میری لیلی کو دیکھا ہے کسی نے