Lawyers Council & Co

Call Contact the practice

Lawyers Council & Co Civil Law
Family Law
Criminal Law
Corporate law
Immigration consultant
Fraud cases
Tax & Banking law
(1)

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کالاکھوں اوورسیز پاکستانیوں کےلئے بڑا اقدام اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد کے مسائل کے...
02/10/2026

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کالاکھوں اوورسیز پاکستانیوں کےلئے بڑا اقدام

اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد کے مسائل کےحل کےلیے اوورسیز عدالتوں کے ای فائلنگ رولزجاری

رولزکےاجراء سےاوورسیز کو ای فائلنگ اور پورٹل کے ذریعے سماعت کا قانونی تحفظ مل گیا

​چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم اور انتظامی کمیٹی کی ہدایت پر قواعد و ضوابط کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا

​ڈی جی ضلعی عدلیہ نےباضابطہ نوٹیفکیشن کی کاپی پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن کو ارسال کر دی

​وکلاء اور سائلین کو ای فائلنگ پورٹل پر رجسٹریشن کے بعد بائیومیٹرک یا پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق کرنا ہوگی

​ای فائلنگ پورٹل سے جمع کروائی گئی تمام دستاویزات کی قانونی حیثیت دستی جمع شدہ کاغذات کے برابر ہوگی

​مقدمات کی ای فائلنگ سرچ ایبل پی ڈی ایف اور دیگر منظور شدہ ڈیجیٹل فارمیٹس میں کی جائے گی

​ڈسٹرکٹ لیول پر سائلین کی سہولت اور ای فائلنگ کے مسائل کے حل کے لیے فیسیلیٹیشن ڈیسک قائم کیے جائیں گے

​غیر ملکی یا دیگر زبان کی دستاویزات کے ساتھ مستند مترجم کا تصدیق شدہ اردو یا انگریزی ترجمہ لازمی قرار دیا گیا ہے

​فل کورٹ کی منظوری کے بعد یہ نئے قواعد و ضوابط ہائیکورٹ رولز اینڈ آرڈرز والیم 5 کا حصہ بن گئے ہیں

*ایک اور کامیابی — الحمدللہ! ⚖️✨**اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے **Lawyers Council & Co.** کے سفر میں ایک اور اہم کامیابی ک...
30/09/2026

*ایک اور کامیابی — الحمدللہ! ⚖️✨**

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے **Lawyers Council & Co.** کے سفر میں ایک اور اہم کامیابی کا اضافہ ہوا۔ ہماری انتھک محنت، قانونی حکمتِ عملی اور مؤثر پیروی کے نتیجے میں ہمارے مؤکل کو **عدالت سے باعزت بریت** حاصل ہوئی۔

یہ کامیابی ہمارے لیے صرف ایک فیصلہ نہیں بلکہ **حق، انصاف اور اپنے مؤکل کے اعتماد کی حفاظت** کی ایک اور مثال ہے۔

الحمدللہ، کامیابیوں کا یہ سفر جاری ہے۔
**We fight for justice. We stand for our clients.** ⚖️

**Lawyers Council & Co.**
*Advocates | Legal Consultants*

🚨 سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: CNS کیس میں 12 کلو چرس کیس ختمTariq Sajjad Khan v. The State | 2026 SCMR 1215_فیصلہ: 23 اک...
03/09/2026

🚨 سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: CNS کیس میں 12 کلو چرس کیس ختم
Tariq Sajjad Khan v. The State | 2026 SCMR 1215
_فیصلہ: 23 اکتوبر 2025 | بینچ: جسٹس محمد ہاشم کاکڑ، جسٹس اشتیاق ابراہیم، جسٹس علی باقر نجفی_

کیس کا پس منظر:
اینٹی نارکوٹکس فورس نے 06.08.2017 کو ملزم سے موٹر سائیکل پر *12 کلو چرس* برآمدگی کا دعویٰ کیا۔
ٹرائل کورٹ نے 12 سال 6 ماہ قید کی سزا سنائی۔ لاہور ہائی کورٹ نے سزا کم کر کے "مدت جو گزار چکے" کر دی۔
سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہوئی۔

سپریم کورٹ نے کیا کہا؟ اور ملزم کیوں بری ہوا ⚖️

سپریم کورٹ نے conviction اور sentence دونوں ختم کر کے ملزم کو بری کر دیا۔ 3 بڑی وجوہات:

1. شہادت میں سنگین تضادات - Benefit of Doubt*
1. وزن کا فرق: FIR میں ہر پیکٹ 1200 گرام لکھا تھا = 12 کلو۔ لیکن عدالت میں کھول کر تولنے پر 10 پیکٹ کا کل وزن 9.930 کلو* نکلا۔ انفرادی وزن بھی 912 گرام سے 1096 گرام تک تھا۔
2. رنگ کا فرق:
گواہ نے کہا برآمد شدہ چرس کا رنگ "بھورا" تھا۔ لیکن عدالت میں کھولنے پر وہ "کالا" نکلا۔
3. Roznamcha میں اندراج نہیں:* مالِ مقدمہ پولیس اسٹیشن پہنچا لیکن روزنامچے میں چرس کی کوئی تفصیل نہیں لکھی گئی۔ صرف موٹر سائیکل کا ذکر تھا۔

2. CNS ایکٹ میں Proof کا Standard سب سے بلند ہے*
عدالت نے کہا: _"Control of Narcotic Substances Act, 1997 ایک سخت قانون ہے۔ اس لیے اس کے تحت جرم ثابت کرنے کے لیے شہادت کا معیار بھی سب سے اعلیٰ ہونا چاہیے، جس میں شک کی کوئی گنجائش نہ ہو۔"_
لیکن استغاثہ اس معیار پر پورا نہ اتر سکا۔

3. CCTV فوٹیج نہ دینا = شک پیدا ہونا
ملزم نے شروع سے کہا تھا کہ یہ جھوٹا مقدمہ ہے۔ اس نے پولیس اسٹیشن کی *CCTV فوٹیج* مانگی تاکہ ثابت کرے کہ برآمدگی پلانٹ کی گئی۔
تفتیشی افسر نے تسلیم کیا کہ کیمرے لگے تھے لیکن فوٹیج قبضے میں نہیں لی گئی اور نہ عدالت میں پیش کی گئی۔
سپریم کورٹ نے کہا: _"اگر CCTV فوٹیج پیش کی جاتی تو یہ فیصلہ کن طور پر ملزم کی بے گناہی یا جرم ثابت کر سکتی تھی۔"_

بونس قانونی نکتہ: Sec 423 CrPC
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ *اپیلٹ کورٹ کا فرض صرف رسمی نہیں ہے۔ Sec 423 CrPC کے تحت اپیلٹ کورٹ کو ریکارڈ پرکھ کر میرٹ پر فیصلہ کرنا لازمی ہے، چاہے وکیل صرف سزا کم کرنے کی استدعا ہی کیوں نہ کرے۔

نتیجہ: اپیل منظور۔ سزا ختم۔ ملزم بری ✅

🎯 وکلاء اور عوام کے لیے 3 بڑے سبق:
1. *Narcotics کیس میں وزن، رنگ، اور سیزنگ کی کارروائی میں ایک گرام کا فرق بھی کیس ختم کروا سکتا ہے۔
2. *CCTV, Roznamcha جیسے ثبوت نہ دینا استغاثہ کے لیے مہنگا پڑتا ہے۔
3. اپیل میں صرف سزا کم مانگنے سے بھی کورٹ conviction کو خود پرکھنے کی پابند ہے۔

قانون کا اصول: _"شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو جائے گا"_

#وکیل


_مز

02/09/2026

مڈھ رانجھا، سرگودھا کا اسلم اپنی فیملی کے ساتھ دوسرے گاؤں میں ایک فوتگی پر گیا ہوا تھا۔ پیچھے گھر میں اس کی سترہ سالہ کنواری بیٹی انعم اکیلی موجود تھی کہ مناظر علی نامی ایک شخص اسلم کے گھر کی دیوار پھلانگ کر اندر آیا اور انعم کو ایک کمرے میں لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی کرنے لگا۔ انعم نے شور و واویلا کیا تو دو راہگیر آواز سن کر گھر کے اندر آ گئے۔ انہیں اپنی طرف آتا دیکھ کر مناظر علی اپنی شلوار اٹھا کر وہاں سے فرار ہوگیا۔ یہ 2 جولائی 2020ء کا دن تھا۔ اسلم نے اسی روز وقوعے کی ایف آئی آر درج کروا دی۔

انعم کا طبی معائنہ کیا گیا، جس کے مطابق اس کے خفیہ اعضاء پر تشدد، تازہ زخموں کے نشانات اور پردۂ بکارت تازہ پھٹا ہوا پایا گیا۔ مزید تفتیش کے لیے اندام نہانی (ویجائنا) کے اندرونی اور بیرونی نمونے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوائے گئے۔ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کے طبی معائنے کے مطابق وہ جنسی عمل انجام دینے کے قابل پایا گیا۔

مقامی عدالت میں مقدمے کا ٹرائل چلا۔ استغاثہ کی جانب سے ڈاکٹروں، تفتیشی افسر، متاثرہ لڑکی اور چشم دید گواہ سمیت کل 9 گواہ پیش کیے گئے۔ دوسری جانب ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ اسے ایک پرانی خاندانی دشمنی کی بنیاد پر جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ اپریل 2022ء میں ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 25 سال قیدِ بامشقت اور متاثرہ لڑکی کو پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔

ہائیکورٹ میں ملزم کے وکیل نے دلائل دیے کہ فرانزک رپورٹ میں مخلوط ڈی این اے پایا گیا، جو متعدد افراد کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ڈی این اے کا غیر سپرم والا حصہ ملزم سے میچ نہیں ہوا، اس لیے ملزم کو شک کا فائدہ ملنا چاہیے۔ مزید یہ کہ مقدمہ سابقہ دشمنی کی بنا پر جھوٹا درج کروایا گیا۔ مدعی اسلم کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا۔ سرکاری وکیل نے استغاثہ کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے ماتحت عدالت کے فیصلے کا دفاع کیا۔

ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے رواں ماہ 8 جولائی کو اپیل کی سماعت کی اور جسٹس سید شہباز علی رضوی نے فیصلہ تحریر کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ فرانزک لیبارٹری میں جنسی زیادتی کے نمونوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے؛ ایک سپرم والا حصہ اور دوسرا بغیر سپرم والا حصہ۔ فرانزک سائنس کے اصولوں کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ ملزم کا ڈی این اے ان دونوں حصوں میں موجود ہو، کیونکہ غیر سپرم والے حصے میں بنیادی طور پر متاثرہ لڑکی کے اپنے جسمانی خلیات ہوتے ہیں۔ اس لیے اس حصے سے ملزم کا ڈی این اے میچ نہ ہونا جنسی زیادتی کے وقوع کی نفی نہیں کرتا۔

اصل اور بنیادی ثبوت ’’سپرم والے حصے‘‘ کا ڈی این اے ہوتا ہے، کیونکہ یہی اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ ملزم کا نطفہ، یعنی سپرم، متاثرہ لڑکی کے جسم میں منتقل ہوا۔ دوسرے حصے، یعنی بغیر سپرم والے حصے میں ملزم کے ڈی این اے کی عدم موجودگی، پہلے سے میچ شدہ سپرم ڈی این اے کی اہمیت اور سچائی کو کم نہیں کر سکتی۔ نطفے والے حصے (S***m Fraction) کا جب علیحدہ ٹیسٹ کیا گیا تو اس میں پایا جانے والا نطفہ، یعنی سپرم، صرف اور صرف ملزم مناظر علی کا ثابت ہوا۔

مخلوط ڈی این اے کی حقیقت یہ ہے کہ جب متاثرہ جگہ سے نمونے حاصل کیے جاتے ہیں تو ان میں متاثرہ فرد کے اپنے جسمانی خلیات اور ملزم کا نطفہ آپس میں مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیرونی جلدی خلیات یا ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے ڈی این اے کا پروفائل سائنسی زبان میں ’’مخلوط‘‘ (Mixture of Individuals) ظاہر ہو سکتا ہے۔

وقوعے کی ایف آئی آر بلا تاخیر درج ہوئی، لڑکی کا بروقت طبی معائنہ ہوا اور گواہان کے بیانات میں کوئی اہم تضاد سامنے نہیں آیا۔ میڈیکل رپورٹ میں پھٹن، سوجن، سرخی اور تازہ پھٹا ہوا پردۂ بکارت جیسی علامات پائی گئیں، جو جنسی زیادتی کے وقوع سے مطابقت رکھتی ہیں۔ سابقہ دشمنی کا دفاع بھی کمزور ہے۔ ایک باپ اپنی نوجوان کنواری بیٹی کو محض کسی رشتہ دار کے ناکام مقدمے کی بنیاد پر بدنام نہیں کرے گا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت عدالت کا فیصلہ درست ہے اور ملزم کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس کے خلاف عائد تمام سزائیں برقرار رکھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ شناخت خفیہ رکھنے کی غرض سے ’’اسلم‘‘ اور ’’انعم‘‘ نام فرضی ہیں۔

31/08/2026

لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ، 18 سال سے کم عمر کی شادی غیرقانونی قرار

پنجاب چائلڈ میرج ری سٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت فیصلہ جاری

عدالت میں حنا اسلم کی نکاح کے وقت عمر 15 سال ہونے کا انکشاف

کم عمر بچی کی شادی کے خلاف نئی ایف آئی آر کی درخواست پر پولیس کو تحقیقات کا حکم

جسٹس آف پیس کا اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

کم عمر بچی کی شادی سے متعلق نئے شواہد پر پولیس کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت

لاہور ہائیکورٹ کا حنا اسلم کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کرنے کا حکم

حنا اسلم کی حفاظت، فلاح و بہبود اور مفادات کو مقدم رکھا جائے۔ عدالت

بچے کی مرضی اہم لیکن کم عمری میں خود بخود فیصلہ کن نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت

کم عمر بچوں کی شادی کے خلاف قانون کا مقصد بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ عدالت

قابل سزا جرم کی موجودگی کا تعین کرنے کے لئے نئے مقدمے کی تحقیقات کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے متعلقہ اداروں کو اقدامات کا حکم
Child marriage. The child's purported consent cannot legitimize cohabitation expressly treated as child abuse under the Punjab Child Marriage Restraint Act, 2026, and her welfare and best interests remain paramount in determining custody and protective placement. Where a subsequent complaint discloses distinct cognizable offences relating to the solemnization and facilitation of a child marriage, it is not barred as a second FIR under Sughran Bibi; As an interim protective measure, custody of a child who is prima facie a victim of child abuse may be entrusted to the Child Protection and Welfare Bureau to safeguard her rights and provide a secure environment until her safety and well-being are assured. The question of permanent custody may thereafter be determined by the competent Guardian Judge in accordance with the welfare and best interests of the child.
W.P. 46868/26
Muhammad Aslam Vs Additional Sessions Judge etc
Mr. Justice Munawar Iqbal Duggal
2026 LHC 5390
ANNOUNCED IN OPEN COURT on 31.08.2026

28/08/2026

پرچہ تاخیری تھا، سول معاملہ زیرسماعت۔ تفتیش میں شامل ہونا۔ ضمانت منظور۔

PLJ2021CrC919

28/08/2026

خرچہ ناں و نفقہ میں سالانہ اضافہ کب سے لاگو ھو گا.

اس معاملے میں تعین کے لیے شامل قانونی سوال اس بات سے متعلق ہے کہ کیا دیکھ بھال کے الاؤنس میں 10% سالانہ اضافہ اس حکمنامے کی منظوری کی تاریخ سے لاگو ہوگا جس کو حتمی شکل دی گئی ہے یا مقدمہ قائم کرنے کی تاریخ سے؟

The legal question involved for determination in this case relates to whether 10% annual increase in maintenance allowance is to be effective from the date of passing of the decree that attained finality or from the date of institution of the suit. Examination of the impugned order/judgment of the Courts below reveals that the learned Courts have not kept the aim, object and scope of the Family Courts Act, 1964 in mind while interpreting the judgment and decree dated 25.11.2010 and have reached to a misconceived conclusion that it will be safe to allow the annual increase from the date of decree instead of the date of institution of the suit. It is pertinent to observe that any ambiguity in the decree as to grant of annual increase from the date of institution or from the date of decree would be so construed as to be not incongruous to the object and purpose of law which is a beneficial legislation and in this manner, the instant case exhibits a fortiori situation inasmuch as when the Act 1964 itself, being beneficial legislation, cannot be construed and interpreted in a manner detrimental to the minor or female, the judgment and decree passed under such law cannot be so interpreted.

Perusal of the pre-amendment provision brings forth that the legislature had not provided the annual increase; however, the Courts used to award and grant annual increase in the maintenance on their own, keeping in view facts of each case. The jurisprudence so developed was given a legislative form by the legislature through the above reproduced amendment. Perusal of Section 17A, as it stands after the amendment, reveals that in a suit for maintenance, the Court can transcend the legal and procedural limitation of civil law of being confined to the relief sought as sub-section (2)(a) thereof provides that the Family Court is vested with the power to fix an amount of maintenance higher than the amount prayed for in the plaint due to afflux of time or any other relevant circumstances. Such a statutory layout of the said provision is to be put parallel to the beneficial nature of the Act, 1964, which propels to the conclusion that section 17A is also beneficial in nature conferring financial protection to the female and minors. It is further seen from Section 17A that the Court can grant maintenance higher than what has been prayed for in the plaint on the basis of afflux of time or for other circumstances. Similarly, Section 17A(2)(b) of the Act, 1964 obligates upon the Court to prescribe the rate of annual increase and sub-section (3) of Section 17A spells out that where the Court does not prescribe any rate of increase, the annual increase of 10% would be read into the decree. However, on the basis of facts and circumstances of each case, the discretion of the Court to award more than 10% annual increase remains protected. Similarly, it is important to note that the legislature has vested the Family Court with the power to consider the afflux of time and such other circumstances while granting maintenance in the decree of maintenance. Considered from this perspective, the suit for maintenance was filed by petitioner No.1 (mother of the petitioners), in the year 2004 and decree passed attained finality in the year 2010, which show a lapse of almost six years in between the date of institution and the date of decree. Therefore, if the plea of the respondent (father) as to grant of annual increase from the date of decree is allowed, this would not only frustrate the object of the law but would also put premium in the hands of a defendant. The respondent in the instant case was to protract the suit for maintenance being concluded in order to avert the annual increase, which has been now given statutory recognition under Section 17A. Such an interpretation would be contrary and repugnant to the object and purpose of the law. Thus, it would be against the interest and welfare of the minor to grant annual increase from the date of decree particularly in cases like the one at hand where there is a gap of almost 6 years in the date of institution of the suit and date of final decree passed therein.

Petitioners are held entitled to 10% annual increase in the maintenance amount awarded to them under the judgment and decree dated 25.11.2010 till their legal entitlement and the effective date shall be from the date of institution of the suit and not the date of the decree.

Family
23991/17
Mah Noor Azhar Vs Muhammad Sohail Khan etc
Mr. Justice Anwaar Hussain
24-06-2022
2022 LHC 6063

28/08/2026

تاریخ پیدائش میں تبدیلی کی کاوش
(1) Change of date of birth NLR 1980 AC 339
(2) Birth Certificate/register overrides School Certificate. 1997 CLC 262 Lahore
(3) Fresh cause of action on rejection of application. 1998 SCMR 1494
(4) Two years rule also apply to Judiciary. 2003 SCMR 145
(5) Candidate was allowed to take part in election. 2007 CLC 1673 Peshawar
(6) Statement of father is enough in evidence. 2008 SCMR 255
(7) Allowed the change of entry in service book. 2008 SCMR 1047
(8) allowed when reasons communicated to student were different from record. 2009 YLR 1296
(9) Allowed when no adverse affect is on other's rights. 2011 CLC 265
(10) Allowed while relying on birth certificate. 2011 PLC 149
(11) Bank employee allowed 2011 SCMR 21
(12) Relied on Matric Certificate. 2011 YLR 2061
(13) Allowed over age admission granted. 2012 SCMR 242
(14) Entry in NADRA record is not conclusive proof. 2012 YLR 161.

28/08/2026

اگر انتقال پر Cutting ہو، تو یہ چیز اس انتقال کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے کافی ہے ۔
(2017 YLR 399).
انتقال پر فروخت کنندہ کے دستخط نہ تھے، رجسٹر پٹواری یا اس کی مصدقہ نقل پیش نہ کی گئی تھی۔ تحصیلدار بطور گواہ پیش نہ ہوا تھا۔ فروخت کرنے کا کوئی وقت، تاریخ، جاۓ خریداری یا گواہ نہ تھا۔ انتقال ثابت نہ ہو گا۔
(2016 SCMR 862).
کسی دستاویز پر محض نشان انگوٹھا تسلیم کر لینے سے دستاویز درست تسلیم نہ ہو گی۔
(2016 MLD 370).
(2016 YLR 987).
اگر دستاویز پر انگوٹھا اور دستخط کرنا تسلیم شد ہو، تو دعویٰ استقرار حق قابل رواں نہ ہے، بلکہ دعویٰ منسوخی دستاویز ہو گا۔
(2012 CLC 238).
فراڈ کی صورت ميں، ہبہ کو چیلنچ کرنے کی معیاد، علم ہونے سے شروع ہو گی۔
(2005 SCMR 1859).
ہبہ کو چیلنچ کرنے کے لئے 6 سال کی معیاد مقرر ہے۔

28/08/2026

زبانی معاہدہ بیع کے بارے سپریم کورٹ کا انتہائی معلوماتی فیصلہ

PLJ 2026 SC 210

The law relating to enforcement of oral agreements for sale of immovable property is now well settled and has repeatedly been reiterated by this Court in authoritative pronouncements.

It is a well-established legal principle that when a party seeks a decree of specific performance for the sale of immovable property based solely on an oral agreement, the onus is on that party to demonstrate that there was a mutual agreement and consensus between both parties regarding the terms of the oral contract.

A party claiming the existence of an oral agreement must clearly specify the date, time, place, and names of witnesses in their pleadings, such as the plaint or written statement. These requirements are sine qua non to prove an oral agreement to sell which have been settled by this Court in various decisions.
C.P.L.A.4361/2024
Ghulam Ali v. Ali Sher and others

Address

13/39 Lower Mall
Lahore
5400

Telephone

+923124142026

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lawyers Council & Co posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Lawyers Council & Co:

Shortcuts

Share

Category