30/03/2026
🚨 15 اور 13 سالہ دو بھائی… جنہوں نے ساہیوال اور لاہور پولیس کو مشکل میں ڈال دیا 🚨
یہ ایک ایسے کیس کی کہانی ہے جو کم عمری، غلط راستے اور انجام کی حقیقت کو واضح کرتی ہے…
خالد اور رضا… دو کم عمر بھائی، جو بچپن میں ہی چوری کی دنیا میں قدم رکھ بیٹھے۔ ابتدا ساہیوال سے ہوئی، جہاں خالد کو پولیس نے گرفتار کیا، مگر وہ ضمانت پر رہا ہو گیا۔ عدالت میں پیشی کے احکامات کے باوجود وہ بار بار غیر حاضر رہتا رہا۔
جب ضمانتی کو وارننگ دی گئی تو وہ خالد کو عدالت میں پیش کرنے پر مجبور ہوا۔ جج صاحب نے حکم دیا کہ خالد کو ہتھکڑی لگا دی جائے۔ لیکن شاید کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے…
عدالت سے باہر نکلتے ہی، صرف 15 سالہ خالد نے ہتھکڑی سمیت پولیس کو چکمہ دیا اور موقع سے فرار ہو گیا۔ ایک دوست کے ساتھ موٹرسائیکل پر سوار ہو کر وہ چھانگا مانگا جا پہنچا… جہاں اس نے ہتھکڑیاں بھی تڑوا لیں۔
اس واقعے کے بعد اس نے لاہور کا رخ کیا… اور یہاں وارداتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
ان دنوں Aftab Phalroan ایس پی اے وی ایل ایس تعینات تھے۔ خالد اور اس کے بھائی رضا کی مسلسل وارداتوں نے لاہور پولیس کو پریشان کر دیا۔ شہر میں موٹرسائیکل چوری کی وارداتیں بڑھتی جا رہی تھیں، اور یہ دونوں بھائی پولیس کے لیے ایک چیلنج بن چکے تھے۔
بالآخر ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی گئی… اور ایک دن دونوں بھائیوں کو اس وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا جب وہ موٹرسائیکل چوری کر رہے تھے۔
دورانِ تفتیش، انہوں نے حیران کن انکشافات کیے… دونوں نے اعتراف کیا کہ وہ 25 سے زائد موٹرسائیکلیں چوری کر چکے ہیں۔ نہ صرف یہ، بلکہ اپنے گروہ کے دیگر ساتھیوں اور ان خریداروں کا بھی پتہ بتایا جہاں یہ قیمتی موٹرسائیکلیں محض 5 ہزار روپے میں فروخت کر دیتے تھے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اتنی کم قیمت کیوں…؟
تو ان کا سادہ مگر چونکا دینے والا جواب تھا:
"ہمیں تو بس اپنی دیہاڑی سے مطلب ہوتا تھا… موٹرسائیکل کی اصل قیمت سے ہمیں کوئی غرض نہیں تھی۔"
آخرکار پولیس نے دونوں بھائیوں کے خلاف چالان مکمل کر کے انہیں جیل بھیج دیا…
یہ کہانی صرف ایک جرم کی نہیں… بلکہ ایک سبق ہے کہ کم عمری میں اٹھایا گیا غلط قدم انسان کو کہاں لے جا سکتا ہے… ⚠️