Sardar Siddique Khan

Sardar Siddique Khan I believe in doing the right things; that is my character and personality. Provides legal guidance to businesses or clients.

Our primary duties include structuring solutions for disputes, providing support in legal issues and reviewing legal materials and contracts.

“  anything else, preparation is the key to success.” —Alexander Graham Bell.
15/01/2024

“ anything else, preparation is the key to success.” —Alexander Graham Bell.

سپریم کورٹ کو چاہیئے فیصلہ دینے سے پہلے متعلقہایس ایچ او سے پوچھ لیا کرے کہ وہ مانے گا کہ نہیں #بےاختیارعدلیہ
29/12/2023

سپریم کورٹ کو چاہیئے فیصلہ دینے سے پہلے متعلقہ
ایس ایچ او سے پوچھ لیا کرے کہ وہ مانے گا کہ نہیں
#بےاختیارعدلیہ

جناب شیر افضل مروت ایسوسی ایٹ کی لاہور ھائی کورٹ لاہور آمد پر لی گئی یادگار تصاویر
18/12/2023

جناب شیر افضل مروت ایسوسی ایٹ کی لاہور ھائی کورٹ لاہور آمد پر لی گئی یادگار تصاویر

15 important rules for Men
02/04/2023

15 important rules for Men

"What would be the first thing you would do if I asked you to confess your love without saying it?""I'll buy a pair of a...
24/01/2023

"What would be the first thing you would do if I asked you to confess your love without saying it?"

"I'll buy a pair of anklets for you and ask permission from you to put them on your feet with my hands."

"And If I say 'yes'?"

"I'll end up being the luckiest guy existing on earth."

"Why does putting on anklets on my feet makes you this happy?"

"It's peace instead of happiness. Everytime I hear your footsteps, I'll be at peace. I'll feel secure knowing that the woman I love is there, around me."

"And how does it convey your love to me?"

"The moment I get down to put them on your feet, I want you to know, there's no fragile male ego in love. We're the same and I'll never think twice to get down to your feet and protect them everytime you lose your balance on the path of life."

  Bar Association
18/01/2023

Bar Association

میں ایسے شخص کو زندوں میں کیا شمار کروں جو سوچتا بھی نہیں خواب دیکھتا بھی نہیں
16/01/2023

میں ایسے شخص کو زندوں میں کیا شمار کروں
جو سوچتا بھی نہیں خواب دیکھتا بھی نہیں

جنٹل مین بن کے دکھاو   آصف محمودترکش پانچویں کے بعد ہائی سکول میں داخلہ لیا تو انگریزی پڑھنی شروع کی۔ ایک دن چھٹی کی درخ...
10/01/2023

جنٹل مین بن کے دکھاو
آصف محمودترکش

پانچویں کے بعد ہائی سکول میں داخلہ لیا تو انگریزی پڑھنی شروع کی۔ ایک دن چھٹی کی درخواست لکھواتے ہوئے استاد محترم نے I beg to say لکھوایا تو ہاتھ پتھر کے ہو گئے۔دل نے آواز دی کہ چھٹی کوئی دے یا نہ دے لیکن یہ بھیک نہیں مانگی جا سکتی کہ I beg to say۔

ابھی دماغ میں Beg کی ذلت کا احساس ختم نہیں ہوا تھا کہ درخواست ختم بھی ہو گئی۔ اب کی بار درخواست کے اختتام پر استاد جی نے لکھوایا: Your obedient servant.۔ اب تو کنپٹیاں ہی سلگ اٹھیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں خود کوکسی کا تابع فرمان قسم کا نوکر قرار دے دوں؟

وکالت کے شعبے میں آیا تو یہاں بھی وہی تذلیل دیکھی۔ جو انصاف مانگنے آتا تھا اسے سائل کہا جاتا تھا۔ سائل ہماری عدالتوں اور کچہری میں ہمیشہ عرض گزار ہی پایا گیا۔ انصاف مانگا نہیں جا سکتا تھا۔ سائل یہ مطالبہ نہیں کر سکتا تھا کہ انصاف دیا جائے۔ ہاں وہ Prayer یعنی التجا اور درخواست پیش کر سکتا تھا۔

میں بیٹھ کر سوچتا کہ اگر عدالت بنی ہی انصاف دینے کے لیے ہے اور اگر اللہ کا حکم ہے کہ انصاف کرو ،یہ تقوی کے قریب تر ہے تو پھر اس بنیادی انسانی حق کے حصول کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا ، گڑگڑاتے لہجوں میں مسکینی طاری کر کے Prayer کیوں کی جا تی ہے۔ باوقار طریقے سے ڈیمانڈ کیوں نہیں کی جاتی۔

بہت بعد میں پتا چلا کہ یہ سب اتفاق نہیں ہے۔ یہ برطانوی دور غلامی میں سکھائے گئے غلامی کے وہ آداب ہیں جو ہمارے لہو میں دوڑ رہے ہیں۔انگریز لکھاریوں نے ہمیں آداب غلامی سکھانے کے لیے باقاعدہ کتابیں لکھیں۔ان میں سے ایک کتاب ڈبلیو ٹی ویب نے لکھی جس کا عنوان ہے: English etiquette for Indian gentlemen ۔

یہ کتاب کم اور غلامی کی دستاویز زیادہ ہے۔ اس میں ایک ایک کر کے مقامی لوگوں کو بتایا گیا کہ اب ان کا دور نہیں رہا ا، ان کی تہذیب بھی پرانی ہو چکی۔ نئے آقا اب جو چاہتے ہیں انہیں اسی تہذیب کو اپنانا ہو گا۔ ڈبلیو ۔ٹی۔ ویب کی اس کتاب میں بعض مقامات پر واضح طور پر آداب غلامی سکھائے گئے ہیں۔

تفصیل سے بتایا گیا ہے انگریز کے حضور حاضر ہونے کے آداب کیا ہیں، اس سے ملنے کے آداب کیا ہیں ، اس سے مخاطب کیسے ہونا ہے۔ مقامی یعنی ہندوستانی ڈیزائن کے جوتے پہن کر جانا ہے تو جوتے باہر برآمدے میں اتار کر اندر حاضر ہونا ہے، ایسے جوتے پہن کر انگریز کے حضور حاضر ہونا اس کی توہین ہے۔

خبردار سلام کے لیے اس وقت تک ہاتھ نہ بڑھایا جائے جب تک صاحب یا میم خود تمہیں اس قابل نہ سمجھیں۔

انگریزوں کو پیٹ درد جیسے الفاظ سننا پسند نہیں۔ خبردار جو کسی انڈین جنٹل مین نے ان کے سامنے پیٹ درد جیسے الفاظ استعمال کیے۔

کسی انگریز کو صرف اس کے نام سے نہیں پکارنا القابات لگانا ضروری ہے۔کسی یورپی سے سر راہ ملاقات ہو جائے تو اد ب کے تقاضے کیسے پورے کرنے ہیں اور ان میں سے کسی کو مدعو کرنا ہے تو میزبانی کے آداب کیا ہوں گے، وغیرہ وغیرہ۔

مقامی تہذیب کو مکمل طور پر قصہ پارینہ قرار دیتے ہوئے سونے سے جاگنے تک اور جاگنے سے سونے تک ، ہر معاملے اور ہر لمحے میں انگریزی طور طریقے سکھائے گئے ہیں۔ کھانا کیسے کھانا ہے۔ چھری کانٹا کیسے استعمال کرنا ہے۔ ہاتھ سے کھانا ایک برائی ہے ،خبردار جو کسی جنٹل مین نے گوشت ہاتھ سے کھایا۔

اہتمام سے بتایا گیا کہ کسی میم صاحب کے کھانے کی تعریف مت کرنا کیونکہ اس سے میم صاحب کی توہین ہو سکتی ہے کیونکہ میم صاحب کھانا نہیں بناتیں ، نوکر بناتے ہیں۔

تمیز سکھائی گئی ہے کہ کسی پارٹی میں جائیں تو وہاں نوکروں کا شکریہ ادا کرنے سے باز رہنا ہے۔ خبردار کوئی نوکروں کاشکریہ ادا نہ کرے۔ انگریزوں کی حساسیت کا خیال رکھنے کا بار بار ’ حکم‘ دیا گیا ہے لیکن مقامی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ تمہاری بے عزتی ہو جائے تو برا نہ مانا کرو۔

اور ہاں اگر تم معزز بننا چاہتے ہوں تو شادی کے دعوت ناموں میں چشم براہ جیسی فضولیات کی جگہ RSVP لکھا کرو۔انگریز کو یہاں سے گئے آج پون صدی ہو گئی ہے لیکن ہمارے شادی کے دعوت ناموں سے RSVP ختم نہیں ہو سکا ۔ ہم آج بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے معززین بننے کے چکروں میں ہیں۔

مقامی تہذیب و اقدار کی تذلیل پر مشتمل عمومی ’ ادب و آداب‘ کے بیان میں اگر کوئی کسر رہ گئی تھی کتاب کے آخر میں ’ درخواست لکھنے کے آداب‘ لکھ کر کے پوری کر دی گئی۔ باب نمبر گیارہ میں بتایا گیا ہے کہ درخواست ، پیٹیشن وغیرہ کیسے لکھی جائیں اور ساتھ ہی نمونے کے طور پر کچھ درخواستوں اور پیٹیشنز لکھی گئی ہیں کہ ان کو دیکھ کر ’ مقامی جنٹل مین‘ رہنمائی حاصل کریں۔

ان تمام درخواستوں میں چند چیزیں اہتمام سے بتائی گئی ہیں۔

اول: درخواست کی شروعات ، جو انتہائی غلامانہ، فدویانہ اور ذلت آمیز انداز سے کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر I beg to say کاا نداز سکول کے بچوں کی درخواست سے لے کر سرکاری عرضیوں تک ہر جگہ استعمال کیا گیا ہے تا کہ سکولوں سے ہی بچے یہ سیکھ لیں کہ آداب غلامی کیا ہوتے ہیں اور کیسے ایک دن کی چھٹی کی درخواست کا آغاز بھی Beg سے ہوتا ہے۔

دوم: ہر درخواست کے آخر پر Your servant،Your most obedient servant ، جیسے الفاظ لکھے گئے تھے تا کہ مقامی لوگوں کو یہ معلوم ہو رہے کہ انکی اوقات نوکر اور رعیت سے زیادہ نہیں۔

یہ ایک پوری تہذیبی واردات تھی جو اس سماج پر مسلط کی گئی۔چونکہ اہم مناصب پر پھر یہی ’ مقامی جنٹل مین‘ فائز ہوئے اور نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد یہی افسر شاہی ہمیں ورثے میں ملی اور کسی نے اس سماجی واردات پرنظر ثانی کی ضرورت محسوس نہیں کی اس لیے یہ ’مقامی جنٹل مین‘ آج بھی ’ انگریزی آداب‘ سے سماج کی پشت لال اور ہری کیے ہوئے ہیں۔

اس جنٹل مینی کے خلاف پہلی آواز دلی سے اٹھی۔ لعل گوردیج نامی ایک مداری دلی کے چوراہے میں بندر لے کر آتا اور ڈگڈگی بجا کر اسے کہتا : جنٹل مین بن کے دکھا۔لعل گوردیج کا بندر ہیٹ لگاتا ، چشمہ پہنتا اور پورا ’ جنٹل مین‘ بن جاتا۔ بندر اور مداری دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔مقامی جنٹل مین ناراض ہو گئے۔( دل چسپ بات یہ ہے کہ بندر نچانے والے آج بھی بندر نچاتے وقت یہ مطالبہ ضرور کرتے ہیں کہ جنٹل مین بن کے دکھا۔ شاید اسی لیے انگریز نے ان کا شمار ’ مجرم قبیلوں‘ میں کیا ہوا تھا)۔

کبھی کبھی جب دن ڈھل رہا ہوتا ہے ، مارگلہ سے اترتا ہوں تو یوں لگتا ہے جنگل سے بندر شور مچا مچا کر کہہ رہے ہوں: ’’ جنٹل مین بن کر تو دکھائو‘‘۔

پہاڑ سے اترتا ہوں تو دیکھتا ہوں سارا ہی شہر جنٹل مین بنا ہوتاہے۔

برسوں تک جو شخص میرے ساتھ رہا ہےاُسکی اِک تصویر میرے ساتھ نہیں ہے۔
02/01/2023

برسوں تک جو شخص میرے ساتھ رہا ہے
اُسکی اِک تصویر میرے ساتھ نہیں ہے۔

31/12/2022

سوشل میڈیا پر موٹیویشنل سپیکرز کی بھرمار ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک، ہر عمر، ہر علاقے، ہر شعبہ، حتی کہ ہر سائز کے موٹیویشنل سپیکرز دستیاب ہیں۔ میں ذاتی طور پر موٹیویشنل سپیکرز کے کام کا قدردان ہوں اور ہرگز ان کو پڑھنے یا سننے کا مخالف نہیں۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ زندگی میں ایک توازن برقرار رکھنے کے لیے ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر آپ موٹیویشنل سپیکرز کو سنتے ہیں تو یاسر جواد، حاشر ابن ارشاد اور رامش فاطمہ جیسے "ڈیموٹیویشنل سپیکرز" کو بھی ضرور سنیں۔ جہاں موٹیویشنل سپیکرز آپ کو ہواؤں میں اڑاتے پھرتے ہیں وہاں یہ ڈیموٹیویشنل سپیکرز ہی آپ کو واپس زمین پر اتارتے ہیں۔
Copied

ان زاہدوں کو چاہیے مسجد الگ الگ ہم میکدوں کو ایک ھی میخانہ چاہیے
30/12/2022

ان زاہدوں کو چاہیے مسجد الگ الگ
ہم میکدوں کو ایک ھی میخانہ چاہیے

پھر ایک فون اُسے میں رو رو کے کروں گی .پھر چھوڑ کے آجائے گا وہ دفتر، لگی شرط .
30/12/2022

پھر ایک فون اُسے میں رو رو کے کروں گی .
پھر چھوڑ کے آجائے گا وہ دفتر، لگی شرط .

Address

Shaukat Plaza, Temple Rd, Safanwala Chowk
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923004344440

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sardar Siddique Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sardar Siddique Khan:

Share