27/04/2026
27-04-26 ;آج عدالت عالیہ میں ہمارے دائر کردہ ایک مقدمہ میں تفصیلی سماعت ہوئ ، جس میں شیخ زائد ہسپتال کے اُن ملازمین کے حقوق کی بات کی گئی جو دورانِ سروس وفات پا گئے، مگر اُن کے لواحقین کو تاحال تقریباً پچھتر لاکھ روپے کے پرائم منسٹر اسسٹنٹ پیکج 2015 کے واجبات ادا نہیں کیے گئے تھے۔
یہ امر بھی عدالت کے سامنے رکھا گیا کہ یہی پیکج پاکستان بھر کے تمام فیڈرل گورنمنٹ ملازمین کو باقاعدگی سے دیا جا رہا ہے، مگر شیخ زائد ہسپتال کے ملازمین کو بلاجواز اس سے محروم رکھا گیا اور اس حق کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا۔
یہ مقدمہ ہم نے اپنے کلائنٹس کی جانب سے دائر کیا، جہاں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ کوئی سادہ سروس میٹر نہیں بلکہ ایک پوسٹ ہیومس بینیفٹ ہے، جو ملازمین کی وفات کے بعد اُن کے اہل خانہ کا قانونی حق بنتا ہے۔ ادارے کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا گیا کہ بطور ایک خودمختار (Autonomous) باڈی وہ وفاقی حکومت کی پالیسیز کے پابند نہیں، اور اس بنیاد پر نہ صرف انکار کیا گیا بلکہ پیک اینڈ چوز کی پالیسی بھی اپنائی گئی۔
عدالت کے روبرو پشاور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ، لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے مستند فیصلے پیش کیے گئے، جن میں واضح طور پر قرار دیا جا چکا ہے کہ پرائم منسٹر اسسٹنٹ پیکج 2015 ایک نافذ العمل پالیسی ہے اور اس کا اطلاق اُن تمام اداروں پر ہوتا ہے جو وفاقی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، خصوصاً وہ ادارے جو ہیلتھ ڈویژن کے تحت آتے ہیں۔
مزید برآں، ہم نے عدالت کو یہ بھی آگاہ کیا کہ ہمارے کلائنٹس نہ صرف مذکورہ پیکج کے حقدار ہیں بلکہ گروپ انشورنس بینیولنٹ فنڈ ایکٹ 1969 کے تحت دستیاب فوائد کے بھی مستحق ہیں۔ اسی طرح پلاٹ بیسڈ پیکج کے تحت پلاٹ کی الاٹمنٹ اور مالی امداد دونوں اُن کا قانونی حق ہیں، جنہیں دلوانے کے لیے بھی مؤثر قانونی اقدامات کیے گئے۔
الحمدللہ، عدالت نے ہمارے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے متاثرہ ملازمین کے حق میں حکم جاری کیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف کی ایک کرن ہے بلکہ مستقبل میں اسی نوعیت کے دیگر کیسز کے لیے بھی ایک مضبوط نظیر فراہم کرے گا۔
اسی تناظر میں، شیخ زائد ہسپتال کے دیگر متعدد ملازمین کے لیے بھی اسی بنیاد پر مزید دو پٹیشنز زیرِ تیاری ہیں، تاکہ جنہیں اب تک ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا گیا، انہیں بھی وہی ریلیف حاصل ہو جو ہمارے موجودہ کلائنٹس کو ملا ہے۔
یہ مقدمہ اس بات کی عملی مثال ہے کہ جب حق کے لیے مؤثر اور مستقل جدوجہد کی جائے تو نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔ نوجوان وکلاء کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ تحقیق، تیاری اور اصولی مؤقف کے ساتھ عدالت کے سامنے پیش ہونا ہی اصل کامیابی ہے۔
Today, detailed hearing took place in a petition filed by us before the High Court.
petition was filed on behalf of employees of Sheikh Zayed Hospital whose legal heirs were denied approximately PKR 7.5 million under the Prime Minister’s Assistance Package 2015.
It was highlighted that this package is being granted to all Federal Government employees across Pakistan, but Sheikh Zayed Hospital unjustifiably ignored these claims.
We argued that this is not merely a service matter but a posthumous benefit legally accruing to the families. Despite claiming autonomy, the institution cannot bypass Federal policies. Relevant judgments of the High Courts and the Supreme Court were placed on record, confirming enforceability of the package.
We also secured entitlement of our clients under the Group Insurance Benevolent Fund Act, 1969, along with benefits under the plot-based package, including allotment of a plot and financial assistance.
The Court has passed an order in favor of our clients—bringing relief to the affected families and setting a strong precedent.
We are also preparing two more petitions for other employees on the same grounds to ensure similar relief.
A reminder that consistent legal effort and strong advocacy lead to real results.
Managing Partner,
CMS BY Hamid Law Firm