Muqsit saleem Adv

Muqsit saleem Adv CMS by Hamid law Firm
0323-1484498
Advocate Muqsit Saleem
Till supreme court

27/04/2026

27-04-26 ;آج عدالت عالیہ میں ہمارے دائر کردہ ایک مقدمہ میں تفصیلی سماعت ہوئ ، جس میں شیخ زائد ہسپتال کے اُن ملازمین کے حقوق کی بات کی گئی جو دورانِ سروس وفات پا گئے، مگر اُن کے لواحقین کو تاحال تقریباً پچھتر لاکھ روپے کے پرائم منسٹر اسسٹنٹ پیکج 2015 کے واجبات ادا نہیں کیے گئے تھے۔

یہ امر بھی عدالت کے سامنے رکھا گیا کہ یہی پیکج پاکستان بھر کے تمام فیڈرل گورنمنٹ ملازمین کو باقاعدگی سے دیا جا رہا ہے، مگر شیخ زائد ہسپتال کے ملازمین کو بلاجواز اس سے محروم رکھا گیا اور اس حق کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا۔

یہ مقدمہ ہم نے اپنے کلائنٹس کی جانب سے دائر کیا، جہاں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ کوئی سادہ سروس میٹر نہیں بلکہ ایک پوسٹ ہیومس بینیفٹ ہے، جو ملازمین کی وفات کے بعد اُن کے اہل خانہ کا قانونی حق بنتا ہے۔ ادارے کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا گیا کہ بطور ایک خودمختار (Autonomous) باڈی وہ وفاقی حکومت کی پالیسیز کے پابند نہیں، اور اس بنیاد پر نہ صرف انکار کیا گیا بلکہ پیک اینڈ چوز کی پالیسی بھی اپنائی گئی۔

عدالت کے روبرو پشاور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ، لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے مستند فیصلے پیش کیے گئے، جن میں واضح طور پر قرار دیا جا چکا ہے کہ پرائم منسٹر اسسٹنٹ پیکج 2015 ایک نافذ العمل پالیسی ہے اور اس کا اطلاق اُن تمام اداروں پر ہوتا ہے جو وفاقی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، خصوصاً وہ ادارے جو ہیلتھ ڈویژن کے تحت آتے ہیں۔

مزید برآں، ہم نے عدالت کو یہ بھی آگاہ کیا کہ ہمارے کلائنٹس نہ صرف مذکورہ پیکج کے حقدار ہیں بلکہ گروپ انشورنس بینیولنٹ فنڈ ایکٹ 1969 کے تحت دستیاب فوائد کے بھی مستحق ہیں۔ اسی طرح پلاٹ بیسڈ پیکج کے تحت پلاٹ کی الاٹمنٹ اور مالی امداد دونوں اُن کا قانونی حق ہیں، جنہیں دلوانے کے لیے بھی مؤثر قانونی اقدامات کیے گئے۔

الحمدللہ، عدالت نے ہمارے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے متاثرہ ملازمین کے حق میں حکم جاری کیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف کی ایک کرن ہے بلکہ مستقبل میں اسی نوعیت کے دیگر کیسز کے لیے بھی ایک مضبوط نظیر فراہم کرے گا۔

اسی تناظر میں، شیخ زائد ہسپتال کے دیگر متعدد ملازمین کے لیے بھی اسی بنیاد پر مزید دو پٹیشنز زیرِ تیاری ہیں، تاکہ جنہیں اب تک ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا گیا، انہیں بھی وہی ریلیف حاصل ہو جو ہمارے موجودہ کلائنٹس کو ملا ہے۔

یہ مقدمہ اس بات کی عملی مثال ہے کہ جب حق کے لیے مؤثر اور مستقل جدوجہد کی جائے تو نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔ نوجوان وکلاء کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ تحقیق، تیاری اور اصولی مؤقف کے ساتھ عدالت کے سامنے پیش ہونا ہی اصل کامیابی ہے۔

Today, detailed hearing took place in a petition filed by us before the High Court.

petition was filed on behalf of employees of Sheikh Zayed Hospital whose legal heirs were denied approximately PKR 7.5 million under the Prime Minister’s Assistance Package 2015.

It was highlighted that this package is being granted to all Federal Government employees across Pakistan, but Sheikh Zayed Hospital unjustifiably ignored these claims.

We argued that this is not merely a service matter but a posthumous benefit legally accruing to the families. Despite claiming autonomy, the institution cannot bypass Federal policies. Relevant judgments of the High Courts and the Supreme Court were placed on record, confirming enforceability of the package.

We also secured entitlement of our clients under the Group Insurance Benevolent Fund Act, 1969, along with benefits under the plot-based package, including allotment of a plot and financial assistance.

The Court has passed an order in favor of our clients—bringing relief to the affected families and setting a strong precedent.

We are also preparing two more petitions for other employees on the same grounds to ensure similar relief.

A reminder that consistent legal effort and strong advocacy lead to real results.



Managing Partner,
CMS BY Hamid Law Firm

25/04/2026

It’s 3 am and This file is stuck with me on a Saturday Night so Might as well post some advice;

مجھے آج بھی ایک کیس یاد ہے، بظاہر سیدھا سا پراپرٹی ڈسپیوٹ تھا۔ دونوں طرف مضبوط دعوے، لمبی بحثیں، اور عدالت میں خاصی گرما گرمی۔ لیکن جب میں نے فائل کھولی تو اصل کہانی کہیں اور ہی تھی۔

میں نے بارہا صرف ایک چیز پر وقت لگایا — فرد اور ریونیو ریکارڈ۔

ہر انٹری کو بار بار پڑھا، انتقالات کی ہسٹری کو جوڑا، خسرہ اور کھتونی کے نمبرز کو ملایا۔ شروع میں سب کچھ نارمل لگ رہا تھا، لیکن جتنا گہرائی میں گیا، ایک چھوٹی سی انٹری نے پوری تصویر بدل دی۔

وہی ایک پوائنٹ، جو بظاہر معمولی تھا، عدالت میں پورے کیس کا رخ موڑ گیا۔

اس دن ایک بات پھر سے واضح ہوئی —
زمین کے مقدمات میں سچ اکثر دلائل میں نہیں، بلکہ ریونیو ریکارڈ کی لائنوں کے درمیان چھپا ہوتا ہے۔

یہ کام شاید مشکل لگتا ہے، تھوڑا بور بھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ
جو وکیل ان کاغذات کو پڑھنا سیکھ جائے، وہ بہت سی بحثوں سے پہلے ہی کیس سمجھ لیتا ہے۔

اور اکثر… جیت بھی وہیں سے شروع ہو جاتی ہے۔

Managing Partner,
CMS by Hamid Law Firn

25/04/2026

📜

24/04/2026

When cash Flows your Happiness 📱

Whirl wind and Cute Caos during office inspection 🌅
23/04/2026

Whirl wind and Cute Caos during office inspection 🌅

22/04/2026

Learn to Fly…

Spent most hours of the night prepping for a matter fixed before the Supreme Court only to find it delisted in the morni...
21/04/2026

Spent most hours of the night prepping for a matter fixed before the Supreme Court only to find it delisted in the morning. Client who is enjoying the Stay is Happy and insist on a photo while you are regretting why you missed the final minutes of “Witness for the prosecution” for the Travel.

🎬🎞️

19/04/2026

Case up North. When Civil Court Murree Calls 🔊

18/04/2026

Try Try Again

18/04/2026

Strive 🌅

18/04/2026

Weekends on loop 🥂

16/04/2026

‎آج ہائی کورٹ میں اپنے مقدمے کی سماعت کے بعد دفتر میں ہمارے عزیز ایڈوکیٹ سپریم کورٹ خلیل الرحمان صاحب کے ساتھ ایک نہایت اہم اور فکر انگیز گفتگو ہوئی جسے میں آپ تمام دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

‎یہ پیغام خاص طور پر ان نوجوان وکلا کے لیے ہے جو اس میدان میں سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہیں اور ان کلائنٹس کے لیے بھی جو یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ عدالت میں ایک وکیل کا اصل کردار اور طریقہ کار کیا ہوتا ہے۔

‎گفتگو کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

‎عدالت میں بحث ایک فن ہے
‎ہر بات پر بے جا زور دینا وکالت نہیں کہلاتا۔ اصل مہارت اس بات میں ہے کہ وکیل کو معلوم ہو کہ اسے کہاں تک دلائل دینے ہیں اور کس مقام پر رک جانا ہے۔

‎عدالت کے ساتھ رویہ اور حکمت عملی
‎جج کے ساتھ غیر ضروری بحث یا زور آزمائی نہ صرف کیس کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ اس سے وکیل کی پیشہ ورانہ ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ عدالتی وقار کا احترام اور حکمت عملی کے ساتھ بات کرنا ہی کامیابی کی بنیاد ہے۔

‎پیشہ ورانہ اخلاقیات
‎وکالت کی اخلاقیات صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ یہ عملی تجربے سے حاصل ہوتی ہیں۔ خلیل الرحمان صاحب نے اپنے طویل تجربات کی روشنی میں ان پہلوؤں پر بات کی جبکہ میں نے بھی ایک حالیہ کیس کی مثال دیتے ہوئے چند اہم نکات پیش کیے۔

‎کلائنٹ کی ہدایات اور عدالتی حکم
‎ایک باریک لیکن نہایت اہم حد یہ ہے کہ کلائنٹ کی ہدایات کہاں ختم ہوتی ہیں اور عدالت کا حکم کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اس توازن کو برقرار رکھنا ہر وکیل کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

‎یاد رکھیں کہ ایک کامیاب وکیل وہی ہے جو اپنے کلائنٹ کے مفاد کا تحفظ کرتے ہوئے عدالتی اصولوں اور ضوابط کی بھی مکمل پاسداری کرے۔

‎اس ویڈیو میں ہم نے انہی نکات کو مختصراً بیان کیا ہے۔ اسے ضرور دیکھیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں۔

Today, after a hearing at the High Court, I had a deeply insightful and thought-provoking discussion at the office with our esteemed colleague, Khalil-ur-Rehman, Advocate Supreme Court. I believe the essence of this conversation is vital to share with you all.

This message is specifically for young lawyers striving to excel in the legal profession, as well as for clients who wish to understand the nuances of how a lawyer operates within the courtroom.

Key takeaways from our discussion:

The Art of Advocacy
Effective advocacy is not about insisting on every single point with equal force. True skill lies in knowing the strength of your arguments—knowing exactly how far to push and when to stop.

Conduct and Strategy
Unnecessary confrontation with the court can jeopardize a case and damage a lawyer's professional reputation. Respectful communication combined with a strategic approach is the real key to success.

Ethics of Advocacy
Legal ethics are seldom mastered through textbooks alone; they are refined through practical experience. Khalil-ur-Rehman Sahab shared his invaluable experiences, and I contributed points based on a recent case to highlight these practical realities.

The Critical Boundary
A subtle yet crucial line exists between following a client’s instructions and adhering to the court’s authority. Understanding where one ends and the other begins is essential for every practitioner.

A successful lawyer is one who champion’s their client’s cause while maintaining the highest regard for judicial principles and the dignity of the court.

In this video, we have briefly outlined these points. I encourage you to watch, learn, and share your thoughts.

Ch Muhammad Muqsit Saleem,
Managing Partner,
CMS by Hamid Law Firm

Address

1 Turner Road Near Lahore High Court, 10 F (com) DHA Phase 1
Lahore
54000

Telephone

+923231484498

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muqsit saleem Adv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Muqsit saleem Adv:

Share