khawaja wasim imran Adv

khawaja wasim imran Adv Here is advocate khawaja waseem imran from Bar association kot addu

سالانہ محفل پاک میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم 2026 ڈی بی اے کوٹ ادو 🌹💐
06/09/2026

سالانہ محفل پاک میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم 2026 ڈی بی اے کوٹ ادو 🌹💐

06/09/2026

سالانہ. محفل میلاد پاک صلی اللہ علیہ وسلم ڈسٹرکٹ بار ایسوسی اشن کو ث ادو🌹🌹🌹💐💐💐

نمبر یا انسان؟🤔🤔🤔گزشتہ چند دنوں سے بچوں کے رزلٹ اور کامیابیوں کی خوشیاں جاری ہیں۔ ان تمام بچوں اور والدین کو مبارکباد 💐ج...
04/09/2026

نمبر یا انسان؟🤔🤔🤔
گزشتہ چند دنوں سے بچوں کے رزلٹ اور کامیابیوں کی خوشیاں جاری ہیں۔ ان تمام بچوں اور والدین کو مبارکباد 💐جنہوں نے محنت کی اور اچھے نمبر حاصل کیے۔ یقیناً اچھے نمبر خوشی اور فخر کا باعث ہیں، مگر اس موقع پر ہمیں ایک اہم سوال ضرور کرنا چاہیے:
کیا تعلیم صرف ڈگریوں کا حصول، زیادہ سے زیادہ نمبر اور پھر معاشی کامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے؟
بدقسمتی سے تعلیم کا اصل مقصد کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ انسان کو تہذیب، اخلاق، کردار، معاشرتی ذمہ داری اور اچھے برے کی تمیز سکھانا، دوسروں کے حقوق کا احساس دلانا اور ایک اچھا انسان بنانا شاید ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں رہا۔
سکولوں کی ذمہ داری صرف یہ نہیں تھی کہ بچوں کو "Number Getting Machines" بنا دیا جائے اور انہیں زیادہ سے زیادہ نمبر لینے کے گر سکھائے جائیں۔ ان کی اصل ذمہ داری تو بچوں کو Educate کرکے ایک مہذب، باکردار اور ذمہ دار انسان بنانا تھی۔
"Marks without character are dangerous. Because an educated fool is more dangerous than an uneducated one."
ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں چیٹنگ، نقل اور شارٹ کٹ عام ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر تعلیم انسان کے کردار کو بہتر نہیں بنا رہی تو پھر صرف بڑی بڑی ڈگریاں اور اعلیٰ نمبرز ہمارے معاشرے کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟
"The problem is not illiteracy. The problem is education without values."
والدین کو اپنے بچوں سے صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ کتنے نمبر آئے؟ بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ تم نے اچھا انسان بننے کے لیے کیا سیکھا؟
انہیں سچ بولنا سکھائیں، رحم کرنا سکھائیں، دوسروں کا درد محسوس کرنا سکھائیں، کمزور کے حقوق کا خیال رکھنا اور معاشرے کے لیے مفید انسان بننا سکھائیں۔
"Don't raise children to get high marks. Raise them to be high humans."
اور یاد رکھیں:
"A degree in the hand is useless if there is no humanity in the heart."
نمبر ضرور اہم ہیں، ڈگری بھی ضروری ہے اور معاشی کامیابی بھی زندگی کا حصہ ہے؛ لیکن کردار کے بغیر علم ادھورا ہے اور انسانیت کے بغیر تعلیم بے معنی۔
کیونکہ آخر میں قومیں نمبروں سے نہیں، کردار والے انسانوں سے بنتی ہیں۔🌹از رقم خواجہ وسیم عمران ایڈوکیٹ 🌹

🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰ووٹ کا میرٹ فارمولا — پہلے بندہ، پھر جھنڈا💐ہم پاکستانی بھی بڑے عجیب سیاسی مزاج کے لوگ ہیں۔ ڈاکٹر کے پاس جا...
22/08/2026

🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰ووٹ کا میرٹ فارمولا — پہلے بندہ، پھر جھنڈا💐
ہم پاکستانی بھی بڑے عجیب سیاسی مزاج کے لوگ ہیں۔ ڈاکٹر کے پاس جائیں تو ڈگری پوچھتے ہیں، وکیل کریں تو تجربہ دیکھتے ہیں، مکان بنوانا ہو تو مستری کی کاریگری جانچتے ہیں، حتیٰ کہ دودھ خریدتے ہوئے بھی بھینس دیکھ لیتے ہیں۔۔۔ مگر ووٹ دیتے وقت کبھی برادری، کبھی جھنڈا، کبھی نعرہ، کبھی پیسہ اور کبھی صرف یہ دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ "اپنا بندہ ہے یا نہیں!"
حالانکہ ووٹ دینے کے لیے بھی ایک چھوٹا سا میرٹ فارمولا ہونا چاہیے۔
میری ناقص رائے میں سیاسی فیصلے کے دو مرحلے ہونے چاہییں:
پہلا مرحلہ: پہلے امیدوار، پھر جھنڈا
سب سے پہلے اپنے علاقے کے امیدواروں کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے۔ ان گنت امیدوار میدان میں ہوں گے؛ کچھ پرانے کھلاڑی، کچھ نوآموز کھلاڑی، کچھ واقعی خدمت کے جذبے سے اور کچھ رنگین خواہشات سینے میں دبائے مسندِ اقتدار کے خواہاں۔
پرانے کھلاڑی کئی بار سیاسی میدان میں اتر چکے ہوتے ہیں۔ اقتدار کی دیگ سے کچھ نہ کچھ چکھ بھی چکے ہوتے ہیں، اس لیے کم از کم پیٹ کو یہ اطمینان تو ہوتا ہے کہ کچھ جا چکا ہے!
مگر نیا آنے والا کبھی کبھی نئی خواہشات، نئی امنگوں اور اقتدار کی تازہ بھوک لیے میدان میں اترتا ہے۔ اس کے سینے میں ارمان بھی زیادہ ہوتے ہیں اور مسند تک پہنچنے کی تڑپ بھی۔ بعض کی یہ بھوک واقعی خدمت کی ہوتی ہے، مگر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں شاید کسی نے بتایا ہو کہ:
"سیاست میں بڑا اسکوپ ہے!"😎
ایسے میں صرف نیا ہونے پر کسی کو مخلص اور صرف پرانا ہونے پر کسی کو تجربہ کار سمجھ لینا بھی مناسب نہیں۔
پرانے کھلاڑی کا تجربہ ضرور دیکھیں، مگر اس کا اسکور کارڈ بھی دیکھیں؛
نئے کھلاڑی کا جوش ضرور دیکھیں، مگر اس کی نیت، کردار اور بھوک کی نوعیت بھی پہچانیں۔
کیونکہ نیا امیدوار کبھی نئی امید بھی ہو سکتا ہے اور کبھی نئی پیکنگ میں پرانی کہانی بھی!
امیدوار کو پرکھنے کا اصل معیار🤔
امیدوار کے لباس، گاڑی، ڈیرے، قافلے، پیسے، اثر و رسوخ اور انتخابی جلسے کی رونق سے مرعوب ہونے کے بجائے اس کا کردار دیکھا جائے۔
یہ دیکھا جائے کہ:
کیا وہ دوغلا تو نہیں؟
کیا سامنے کچھ اور اور پیچھے کچھ اور تو نہیں؟
کیا وہ منافقانہ سیاست تو نہیں کرتا؟
کیا ہر بدلتی ہوا کے ساتھ اپنا مؤقف بھی بدل لیتا ہے؟
کیا کل جس بات کو اصول کہتا تھا، آج مفاد کے لیے اسی اصول سے دستبردار تو نہیں ہو گیا؟
کیا اسے اپنے علاقے کے مسائل کا علم ہے؟
کیا عام آدمی اس تک آسانی سے پہنچ سکتا ہے؟
کیا الیکشن کے بعد بھی وہ عوام کے درمیان نظر آتا ہے؟
کیا وہ گلی، محلے، یونین کونسل، تحصیل اور ضلع کے مسائل کو اسمبلی تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
اور سب سے بڑھ کر:
کیا اس کے دل میں اپنے علاقے، ملک اور قوم کے لیے حقیقی ہمدردی ہے؟
یہ ضروری نہیں کہ اچھا امیدوار ہماری پسندیدہ جماعت ہی سے تعلق رکھتا ہو۔ اگر ایک دیانت دار، مخلص اور قابل شخص کسی دوسری جماعت میں ہے تو صرف اس کے جھنڈے کا رنگ مختلف ہونے کی وجہ سے اسے برا سمجھ لینا بھی کوئی سیاسی دانش مندی نہیں۔
آخر:
جھنڈا کپڑے کا ہوتا ہے، کردار انسان کا!
ظاہری شان و شوکت سے ذرا محتاط رہیے
امیدوار کے پاس بڑی گاڑی ہے، بڑا ڈیرہ ہے، بہت پیسہ ہے، سینکڑوں آدمی ساتھ چلتے ہیں، ہر جگہ استقبال ہوتا ہے، بڑے بڑے لوگوں سے تعلقات ہیں—یہ سب اپنی جگہ، مگر یہ عوامی خدمت کا سرٹیفکیٹ نہیں۔
بعض اوقات اتنا بڑا قافلہ دیکھ کر لگتا ہے کہ امیدوار الیکشن لڑنے نہیں بلکہ بادشاہت بحال کرنے نکلا ہے!
یاد رکھیے:
پیسہ سیاسی قابلیت نہیں،
قافلہ عوامی مقبولیت کی ضمانت نہیں،
اور اونچی آواز میں تقریر نیک نیتی کا ثبوت نہیں۔
اصل دولت کردار ہے، اصل اثر خدمت ہے اور اصل طاقت عوام کا اعتماد ہے۔
دوسرا مرحلہ: اب سیاسی جماعت کو پرکھیں
جب امیدواروں میں سے بہتر انسان، بہتر کردار اور بہتر عوامی نمائندے کا انتخاب ہو جائے تو پھر اس کی سیاسی جماعت کو دیکھا جائے۔
جماعت کا ماضی کیا ہے؟
اس کی کارکردگی کیا رہی؟
اس کا منشور کیا ہے؟
اس نے جو وعدے کیے، ان میں سے کتنے پورے کیے؟
اس کی قیادت کا کردار کیا ہے؟
اس کے فیصلے اصولوں پر ہوتے ہیں یا اقتدار کی ضرورت کے مطابق؟
خاص طور پر یہ دیکھا جائے کہ حلال و حرام، جائز و ناجائز اور اصول و مفاد کے درمیان فرق واقعی معلوم ہے یا سیاسی موسم کے ساتھ تعریفیں بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
کیونکہ ہمارے ہاں کچھ سیاسی مسافر ایسے بھی ہیں جو صبح ایک نظریے کے سورج کو سلام کرتے ہیں، شام دوسرے نظریے کے چاند کو اور رات کو فرماتے ہیں:
"ہم تو شروع سے یہی کہتے آئے ہیں!"
ایسے حضرات کے لیے شاید کمپاس نہیں، GPS بھی ناکافی ہے!
برادری نہیں، کردار 🙄
ووٹ دیتے وقت برادری، قومیت، ذاتی تعلق، دولت، دھونس، ناجائز اثر و رسوخ یا وقتی جذبات کو بنیادی معیار نہ بنایا جائے۔
اگر صرف برادری معیار ہے تو پھر امیدوار کو انسان بننے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
اور اگر صرف پیسہ معیار ہے تو پھر الیکشن کمیشن کے بجائے بینکوں کو امیدوار نامزد کرنے چاہییں!
ہمیں ایسے نمائندے چاہییں جو صرف اسمبلی میں تقریریں نہ کریں بلکہ عوام کے مسائل کی نبض کو سمجھیں؛ جو گلی کے گڑھے سے لے کر قومی معیشت تک، مقامی سیوریج سے لے کر قومی پالیسی تک، ہر سطح کے مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھیں۔
جو اقتدار میں ہوں تو مغرور نہ ہوں، اپوزیشن میں ہوں تو غائب نہ ہوں، اور الیکشن کے دنوں میں ہی نہیں بلکہ پورے پانچ سال عوام کے درمیان موجود رہیں۔
آخر میں ایک سادہ سا سیاسی نسخہ
اگلی بار ووٹ دیتے ہوئے پہلے امیدوار سے اس کا جھنڈا ذہن سے اتار کر اسے انسان سمجھ کر دیکھیں۔
پھر اس کا:
کردار دیکھیں،
ماضی دیکھیں،
نیک نیتی دیکھیں،
کارکردگی دیکھیں،
عوام سے تعلق دیکھیں،
ملک و قوم سے ہمدردی دیکھیں،
اور پھر اس کی سیاسی جماعت دیکھیں۔
پرانے کو صرف پرانا ہونے کی وجہ سے دوبارہ موقع نہ دیں اور نئے کو صرف نیا ہونے کی وجہ سے فرشتہ نہ سمجھیں۔
پرانے کا اسکور کارڈ دیکھیں، نئے کا ہوم ورک دیکھیں!
اور اگر دونوں میں سے کوئی امیدوار ان امتحانوں میں کامیاب ہو جائے تو پھر بے شک اسے ووٹ دیں۔
ورنہ صرف یہ سوچ کر ووٹ نہ دیں کہ:
"اپنا بندہ ہے!"
ملک کو اب صرف اپنے بندے نہیں،
اپنے کردار کے بندے چاہییں۔
کیونکہ ووٹ محبت نامہ نہیں، پانچ سالہ عوامی پاور آف اٹارنی ہے۔
اور شاید ہمیں اب سیاست کا یہ اصول طے کر لینا چاہیے:
"پہلے بندہ دیکھو، پھر جھنڈا؛
پہلے کردار دیکھو، پھر جماعت؛
اور سب سے آخر میں یہ دیکھو کہ وہ تمہارا ہے یا نہیں۔
کیونکہ اچھا نمائندہ وہ نہیں جو صرف ہمارا کام کروا دے؛
اچھا نمائندہ وہ ہے جو ایسا نظام بنانے کی کوشش کرے جس میں ہر عام آدمی کا کام، سفارش کے بغیر، عزت کے ساتھ ہو سکے۔
شاید اسی دن ہماری سیاست نعروں، برادریوں، جھنڈوں اور ذاتی وفاداریوں سے نکل کر کردار، کارکردگی، دیانت اور خدمت کے میرٹ پر آ جائے گی۔
اور پھر ممکن ہے سیاست دان بھی پہلی مرتبہ سوچیں:
"عوام نے اس بار جھنڈا نہیں، ہمارا حساب کتاب دیکھنا ہے!"🙏🙏

میلادِ مصطفیٰ ﷺ — ایک دن کی خوشی نہیں، پوری زندگی کا عہدِ وفا 💖💖💖💖ربیعُ الاول کی آمد اہلِ محبت کے لیے کسی نعمت سے کم نہی...
22/08/2026

میلادِ مصطفیٰ ﷺ — ایک دن کی خوشی نہیں، پوری زندگی کا عہدِ وفا 💖💖💖💖
ربیعُ الاول کی آمد اہلِ محبت کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں فخرِ موجودات، رحمتِ عالم، محبوبِ خدا، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔ ہم اہلِ سنت ہیں، میلادِ مصطفیٰ ﷺ کو محبت، عقیدت اور خوشی کے ساتھ منانے والے ہیں؛ ہمارے لیے یہ دن اور یہ مہینہ خوشیوں، درود و سلام، محافلِ میلاد، جلوسوں، چراغاں اور ذکرِ رسول ﷺ سے آراستہ ہونا یقیناً باعثِ سعادت ہے۔
ہم میلادِ مصطفیٰ ﷺ کو اپنی محبت، عقیدت اور ایمان افروز خوشیوں کا حسین ترین اظہار سمجھتے ہیں، البتہ ہماری خواہش ہے کہ اس خوشی اور نسبت کی روشنی صرف ربیعُ الاول تک محدود نہ رہے بلکہ ہماری پوری زندگی کو منور کرتی رہے۔
یہ خوشی صرف ایک دن کی کیوں ہو؟
یہ چراغاں صرف ایک ماہ تک کیوں رہے؟
یہ درود و سلام صرف ربیعُ الاول کی محافل تک کیوں محدود ہو؟
جس محبوب ﷺ کی آمد سے کائنات کو رحمت، انسانیت کو ہدایت اور زندگی کو مقصد ملا، اُن کی محبت تو ہماری پوری زندگی، ہر لمحے اور ہر سانس میں جلوہ گر ہونی چاہیے۔
وہ ہستی ﷺ جن کے بارے میں اہلِ محبت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے محبوب ﷺ کا نور پیدا فرمایا؛ جب کچھ نہ تھا تو اُس نورِ محمدی ﷺ کا تذکرہ تھا، اور پھر اسی محبوب ﷺ کی نسبت سے یہ کائنات سجائی گئی۔ وہ ﷺ جو رحمت للعالمین بنا کر تشریف لائے، جن کی آمد نے انسان کو انسانیت کا شعور دیا، جنہوں نے زندگی گزارنے کا مکمل ضابطۂ حیات عطا فرمایا—اُن کی ولادت کی خوشی کو ایک دن یا ایک مہینے کی حدود میں کیسے سمیٹا جا سکتا ہے؟
لہٰذا عید میلاد النبی ﷺ منانا ہماری خوشی ہے، ہماری عقیدت ہے، ہماری نسبت ہے اور ہمارے عشق کا اظہار ہے؛ مگر اس خوشی کا کمال یہ ہے کہ ربیعُ الاول گزر جائے تو بھی ہمارے گھروں میں سیرت کی روشنی باقی رہے، محفل ختم ہو جائے تو بھی درود کی خوشبو باقی رہے، جلوس اختتام پذیر ہو جائے تو بھی ہمارے کردار میں سنتِ رسول ﷺ زندہ رہے۔
میلاد کا اصل حسن صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے شہروں کو چراغاں سے روشن کریں؛ بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے دلوں، اپنے گھروں، اپنے معاملات اور اپنے کردار کو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے روشن کریں۔
ہم ریلیاں نکالیں، جلوس سجائیں، محافل منعقد کریں، نعتیں پڑھیں، درود و سلام کی صدائیں بلند کریں—یہ سب محبت کے حسین مظاہر ہیں اور ان مظاہر کو پوری عقیدت و احتشام کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ جس نبی ﷺ کی ولادت کی خوشی منا رہے ہیں، کیا ہماری زندگی بھی اُن کے اسوۂ حسنہ کی عکاس ہے؟
اگر ہم سچ بولیں، وعدہ نبھائیں، امانت میں خیانت نہ کریں، کمزور پر رحم کریں، مخالف کے ساتھ بھی عدل کریں، والدین، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کریں، معاملات میں دیانت اختیار کریں اور انسانیت کے ساتھ حسنِ سلوک کریں تو یہی تو میلاد کی خوشی کا دائمی تسلسل ہے۔
اس موقع پر ہمارے محترم علماء، مشائخ، ائمہ، خطباء اور دینی مفکرین کی ذمہ داری بھی غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ میلاد کمیٹی کا حصہ بننا، تقریبات کی نگرانی کرنا اور محافل کے انتظام میں کردار ادا کرنا یقیناً باعثِ احترام ہے، لیکن یہ ذمہ داری کا اختتام نہیں، آغاز ہے۔
ہماری مذہبی قیادت اگر میلاد کے پلیٹ فارم کو صرف ایک ماہ کی تقریبات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے سیرتِ رسول ﷺ کو سال بھر زندہ رکھنے کی تحریک بنا دے تو اس کے اثرات نسلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
میلاد کمیٹیوں کو صرف جلوسوں اور محافل کے منتظمین نہیں، بلکہ سیرت کے سفیر بننا چاہیے۔ علماء اپنے کردار سے یہ پیغام دیں کہ محبتِ رسول ﷺ کا سب سے حسین تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے محبوب ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں۔
میلاد ایک دن نہیں، ایک احساس ہے۔
میلاد ایک مہینہ نہیں، ایک مسلسل نسبت ہے۔
میلاد صرف محفل نہیں، ایک عہد ہے۔
اور محبتِ رسول ﷺ صرف الفاظ نہیں، زندگی کا طرزِ عمل ہے۔
ربیعُ الاول ہمیں خوشیاں منانے سے نہیں روکتا، بلکہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ان خوشیوں کو دائمی بنا دو۔
چراغاں ضرور کرو، مگر دل بھی روشن کرو۔
محفل ضرور سجاؤ، مگر کردار بھی سجاؤ۔
جلوس ضرور نکالو، مگر اپنی زندگی کو بھی اُس راستے پر چلاؤ جس راستے کے امام محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔
کیونکہ ہماری خوشی کا مرکز وہ ذاتِ اقدس ﷺ ہے جن کے لیے کائنات کی تخلیق کا ذکر اہلِ محبت کی زبانوں پر ہے؛ جن کی آمد سے پہلے دنیا تاریکی میں تھی اور جن کی تشریف آوری نے انسانیت کو ہدایت کی روشنی عطا فرمائی۔
پس آؤ! ربیعُ الاول کو پوری عقیدت سے منائیں، عید میلاد النبی ﷺ کو پورے جوش و احتشام سے منائیں، درود و سلام کی صدائیں بلند کریں—مگر پھر اس محبت کو ربیعُ الاول کے اختتام پر رخصت نہ کریں۔
اسے اپنے ساتھ لے کر چلیں؛ اپنے گھر تک، اپنے بازار تک، اپنے دفتر تک، اپنی عدالت تک، اپنے معاملات تک، اپنے اخلاق تک—اور اپنی پوری زندگی تک۔
یہی میلاد کی خوشی کا دوام ہے، یہی محبت کا تقاضا ہے، اور یہی اُس محبوبِ خدا ﷺ سے ہماری نسبت کا سب سے خوبصورت اظہار ہے۔
راقم : خواجہ وسیم عمران ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

بخدمت جناب الیاس ادریس صاحبانچارج، سیف سٹی پروجیکٹ، کوٹ ادوموضوع: سیف سٹی کیمروں کی تنصیب، ای-چالان اور عوامی سہولت کے ح...
20/08/2026

بخدمت جناب الیاس ادریس صاحب
انچارج، سیف سٹی پروجیکٹ، کوٹ ادو
موضوع: سیف سٹی کیمروں کی تنصیب، ای-چالان اور عوامی سہولت کے حوالے سے گزارشات
جنابِ عالی!
قبل ازیں محترم ڈپٹی کمشنر کوٹ ادو صاحب کو تحریر کردہ خط میں سیف سٹی پروجیکٹ کے حوالے سے عوامی سطح پر موجود تحفظات، خصوصاً Fine/Enforcement Cameras کی لوکیشن، اندرونِ آبادی ان کے نفاذ اور مقامی ٹریفک کے مسائل کے بارے میں تفصیلی گزارشات پیش کی جا چکی ہیں، تاہم تاحال آپ کے ادارے کی جانب سے اس بابت کوئی خاطر خواہ جواب یا عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
میری رائے میں آپ کی ذمہ داری محض سیف سٹی نظام کو آپریشنل رکھنا نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر coordination کے ذریعے اسے مزید بہتر، مؤثر، عوام دوست اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ بنانا بھی ہے۔ جہاں نظام میں کوئی technical یا planning deficiency سامنے آئے، وہاں اس کے تدارک کے لیے متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرانا بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
اسی تناظر میں منشی موڑ پر نصب Fine/Enforcement Camera کے حوالے سے شہریوں کی جانب سے متعدد اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔ میری مؤدبانہ تجویز ہے کہ اس مقام پر Security/Surveillance Camera ضرور موجود رہے، کیونکہ شہری تحفظ کے نقطۂ نظر سے اس مقام کی monitoring اہم ہے، تاہم Fine/Enforcement Camera کو طارق چوک روڈ پر ملز کے قریب کسی موزوں مقام پر relocate کرنے پر غور کیا جائے۔
اس سے Fine Camera کی enforcement بنیادی طور پر شہر میں داخل ہونے اور شہر سے باہر جانے والی بیرونی/Through Traffic پر مرکوز ہو سکے گی، جبکہ اندرونِ شہر رہنے والے شہری جو اپنے گھروں سے بازار، مسجد، سکول، کالج، دفتر یا دیگر روزمرہ ضروریات کے لیے مختصر فاصلے پر سفر کرتے ہیں، انہیں غیر ضروری automatic challaning کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
اسی اصول کے تحت شہر میں Security Cameras زیادہ سے زیادہ مناسب مقامات پر نصب کیے جانے چاہئیں، جبکہ Fine Cameras کی placement باقاعدہ traffic planning، road safety اور شہری آبادی کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے۔
مزید برآں، سوشل میڈیا پر سیف سٹی اور ای-چالان کے حوالے سے گردش کرنے والی غلط، جعلی یا گمراہ کن معلومات کے تدارک کے لیے بھی مؤثر monitoring اور official clarification کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں میں غیر ضروری انتشار پیدا نہ ہو۔
لہٰذا گزارش ہے کہ مذکورہ۔ نکات پر technical اور administrative review کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کے ساتھ coordination کے ذریعے مناسب عملی اقدام کیا جائے اور خصوصاً منشی موڑ کے Fine Camera کی location کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔
مقصد قانون کے نفاذ کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے بہتر planning، عوامی سہولت اور زمینی حقائق کے مطابق مؤثر بنانا ہے۔
درخواست گزار:
خواجہ وسیم عمران ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کشمیر لا چیمبر ،89نیو جوڈیشل کمپلیکس کوٹ ادو

😍😍😍😂😂😂💖ایک قدیمی تاریخی گلی کی رودادارے والی مسجد، جی ٹی روڈ سے شروع ہو کر بھلا ہوئی چوک کو عبور کرتی ہوئی مختلف سمتوں ک...
20/08/2026

😍😍😍😂😂😂💖ایک قدیمی تاریخی گلی کی روداد
ارے والی مسجد، جی ٹی روڈ سے شروع ہو کر بھلا ہوئی چوک کو عبور کرتی ہوئی مختلف سمتوں کو فیض یاب کرتی ایک ’’عظیم شاہراہ‘‘
محترم ڈپٹی کمشنر صاحب، اسسٹنٹ کمشنر صاحب اور میونسپل کمیٹی کوٹ ادو!

آج دل نے چاہا کہ شہر کی بڑی بڑی شاہراہوں، چمکتی سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں کو کچھ دیر کے لیے چھوڑ کر ایک ایسی گلی کی روداد بھی عرض کی جائے جس نے انگریزوں کے دور سے لے کر قیامِ پاکستان، مختلف حکومتوں، مختلف بلدیاتی ادوار اور بالآخر کوٹ ادو کے ضلع بننے تک نہ جانے کتنے زمانے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔
یہ گلی ارے والی مسجد، جی ٹی روڈ سے شروع ہوتی ہے، بھلا ہوئی چوک کو عبور کرتی ہوئی مختلف سمتوں میں اپنی فیض یابی بچھاتی رواں دواں ہے اور کئی علاقوں کو آپس میں ملانے کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔🌎
یعنی رقبے کے اعتبار سے تو بمشکل سات فٹ چوڑی گلی ہے، لیکن خدمات کے اعتبار سے شاید پورے شہر کی کئی شاہراہوں پر بھاری ہے۔ شہر کے معززین، افسرانِ بالا، وکلاء، اساتذہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان اور عام شہری روزانہ اس کے سینے پر سے گزر کر اپنی منزلوں تک پہنچتے ہیں۔
بس ایک معمولی سی خامی ہے:
گلی نے سب کو منزل تک پہنچایا، مگر خود آج تک اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکی!
ترقیاتی بجٹ اور گلی کی قسمت
یہ بھی بڑی عجیب داستان ہے کہ سالہا سال سے شہر میں ترقیاتی بجٹ آتے رہے، منصوبے بنتے رہے، سڑکیں بنتی رہیں، گلیاں سنورتی رہیں، مگر اس تاریخی گلی کے نصیب میں ترقی کے نام پر اب تک صرف دو عظیم الشان مواقع آئے۔
پہلی مرتبہ اسے سادہ اینٹوں کا لباس پہنایا گیا۔
دوسری مرتبہ ٹف ٹائل کا شاہانہ جوڑا نصیب ہوا۔

اور پھر شاید فائل پر لکھ دیا گیا:
’’اب یہ گلی آئندہ کئی نسلوں کے لیے مکمل ہے۔‘‘
چنانچہ ٹف ٹائل نے بھی شاید یہ سوچ کر خود کو تاریخی ورثہ سمجھ لیا کہ اب اسے مرمت کی ضرورت نہیں، صرف تاریخ کا حصہ بننے کی ضرورت ہے!
آج وہی ٹف ٹائل جگہ جگہ سے ٹوٹی، اکھڑی، دھنسی اور شکستہ حالت میں موجود ہے۔ بعض مقامات پر گلی کی شکست و ریخت کو چھپانے کے لیے بے ہنگم اور بے ترتیب بڑی بڑی سلیبیں رکھ دی گئی ہیں۔
ان سلیبوں کے اتار چڑھاؤ اور عجیب و غریب اونچ نیچ کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شہری کسی گلی میں نہیں بلکہ پتھریلے میدان، پہاڑی ٹریک یا کسی ایڈونچر ٹورازم کے مقام پر پیدل سفر کر رہا ہو۔
راہگیر قدم رکھنے سے پہلے گلی کو دیکھتا ہے، پھر اپنے پاؤں کو دیکھتا ہے، پھر آسمان کی طرف دیکھ کر شاید یہ دعا کرتا ہے:

’’یا اللہ! اگلا قدم بھی اسی ٹانگ کے ساتھ اٹھے جس کے ساتھ پہلا اٹھایا تھا۔‘‘
سیوریج کا بھی اپنا نظامِ حکومت ہے
گلی کے کناروں پر سیوریج نالیاں بھی موجود ہیں، اگرچہ ان کی حالت دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ نالیاں ہیں یا کسی قدیمی تہذیب کے آثار۔
کہیں ٹوٹی ہوئی، کہیں بند، کہیں مٹی اور کچرے سے اٹی ہوئی اور کہیں گندا پانی یوں ابلتا دکھائی دیتا ہے جیسے انتظامیہ نے گلی میں قدرتی چشمہ دریافت کر لیا ہو۔
اور جب نالیاں بند ہوتی ہیں تو گلی کا منظر مزید دلکش ہو جاتا ہے۔
پیدل چلنے والوں کے لیے گلی، بچوں کے لیے تالاب اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے غیر اعلانیہ واٹر کراسنگ!
بارش ہو یا نالی بند ہو، شہریوں کو یہ سہولت ہر حال میں دستیاب ہے۔
ضلع بننے کے بعد بھی گلی وہیں کی وہیں
محترم افسران!🙏
کوٹ ادو کو ضلع بنے بھی خاصا عرصہ گزر چکا ہے۔ اب تو انتظامیہ کا دائرہ بھی وسیع ہے، ادارے بھی موجود ہیں، افسران بھی موجود ہیں اور ترقیاتی بجٹ بھی۔
بس معلوم نہیں یہ گلی کس دفتر کی حدود میں آتی ہے!
اگر تقریباً سات فٹ چوڑی، مگر تاریخی، مصروف اور شہر کے مختلف حصوں کو جوڑنے والی یہ گلی بھی اپنی بنیادی حالت درست کروانے کے لیے ترستی رہے تو ایک عام شہری معصومیت سے یہ سوال ضرور پوچھے گا:
اگر انتظامیہ اس ننھی سی گلی کو نہیں سنبھال سکتی تو پورا ضلع آخر کس حوصلے سے سنبھال رہی ہے؟
ہمیں میگا پراجیکٹ نہیں چاہیے!
ہم انتظامیہ سے کوئی موٹر وے نہیں مانگتے۔
فلائی اوور بھی نہیں چاہیے۔
انڈر پاس کی بھی فرمائش نہیں۔

بس اتنی سی درخواست ہے کہ اس گلی کو انسانوں کے چلنے کے قابل بنا دیا جائے۔
اگر سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ میٹالک روڈ ہے تو اسے موقع پر بھی میٹالک روڈ بنا دیا جائے۔
اگر ٹف ٹائل ہے تو ٹوٹی ٹف ٹائل درست کر دی جائے۔
اگر نالیاں ہیں تو انہیں صاف اور رواں کر دیا جائے۔
اور اگر ترقیاتی بجٹ میں اس گلی کا بھی کوئی حصہ آتا رہا ہے تو خدا کے لیے کبھی اس حصے کو گلی تک پہنچنے کا راستہ بھی بتا دیا جائے!

ایک تجویز: گلی کو تمغۂ امتیاز دے دیا جائے!
اگر یہ سب کچھ بھی ممکن نہیں تو پھر ایک نہایت معقول اور آسان حل موجود ہے۔
اس گلی کو ’’قدیمی تاریخی ورثہ‘‘ قرار دے دیا جائے۔
ایک خوبصورت تختی لگائی جائے، جس پر لکھا ہو:
«’’یہ تاریخی گلی انگریزوں کے دور سے آج تک ہر حکومت، ہر بجٹ، ہر وعدے اور ہر ترقیاتی دور کی خاموش گواہ ہے۔
اسے دو مرتبہ تعمیر و تزئین کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔
موجودہ حالت میں یہ شہریوں کو پیدل چلنے کے ساتھ ساتھ ایڈونچر ٹورازم کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے۔
مزید ترقی آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ ہے۔‘‘»
اور اگر ممکن ہو تو اس تاریخی گلی کو تمغۂ امتیاز بھی عطا فرما دیا جائے۔
کم از کم اس بہانے گلی کے مکین اور راہگیر فخر سے کہہ سکیں گے:
’’ہم تمغۂ امتیاز والی گلی میں رہتے ہیں!‘‘
آخر میں ایک چھوٹی سی التجا💖🙏
محترم ڈپٹی کمشنر صاحب، اسسٹنٹ کمشنر صاحب اور میونسپل کمیٹی کوٹ ادو سے مؤدبانہ مگر قدرے شرمندہ شرمندہ سی گزارش ہے کہ کسی دن سرکاری گاڑی کے شیشے کے پیچھے سے نہیں، بلکہ چند منٹ پیدل چل کر اس گلی کا معائنہ فرما لیجیے۔
یقین کیجیے، کسی سروے، رپورٹ یا اجلاس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ٹوٹی ٹف ٹائل خود رپورٹ پیش کرے گی،
بے ترتیب سلیبیں خود نقشہ دکھائیں گی،
نالیاں خود اپنی داستان سنائیں گی،
اور ابلتا پانی خود شکایت درج کرا دے گا۔
ہماری درخواست صرف اتنی ہے کہ اس قدیمی گلی کو اس کے تاریخی ہونے کی سزا نہ دی جائے۔
اس نے صدیوں سے شہر کو راستہ دیا ہے، اب انتظامیہ بھی اس کے لیے ایک راستہ نکال دے۔
تاکہ گلی کے مکین سکون سے چل سکیں، راہگیر اطمینان سے گزر سکیں، بزرگ اپنے قدم سنبھال سکیں اور موٹر سائیکل سوار ہر موڑ پر اپنی قسمت آزمانے سے بچ سکیں۔
آخر یہ بھی کوٹ ادو ہی کی گلی ہے؛
اسے بھی کبھی ’’ترقی‘‘ دیکھنے کا حق ہے!
راقم:
خواجہ وسیم عمران ایڈووکیٹ
کشمیر لاء چیمبر، نیو جوڈیشل کمپلیکس، کوٹ ادو
موبائل نمبر: 03008811791

Address

Kot Addu
Kot Addu
34050

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when khawaja wasim imran Adv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share