Mahr Ismail Adv

Mahr Ismail Adv A professional lawyer /advocate of high court, 19 years experience of civil, criminal, Family matters

07/10/2024
12/04/2023

I have reached 500 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉

جناب چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ اسلام آباد سے سرٹیفکیٹ لیتے ہوئے
24/01/2023

جناب چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ اسلام آباد سے سرٹیفکیٹ لیتے ہوئے

اسلام و علیکمرمضان المبارک کی آمد مبارک ۔۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ھے جس نے ھمیں یہ ماہ مبارک عطا کیا کہ ھماری تمام ...
02/04/2022

اسلام و علیکم

رمضان المبارک کی آمد مبارک ۔۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ھے جس نے ھمیں یہ ماہ مبارک عطا کیا کہ ھماری تمام غلطیوں کوتاہیوں کو درگرز فرماۓ ، گناہوں کو معاف فرماۓ ، جو کسی بھی عارضے میں مبتلا ھیں جسمانی یا روحانی انکو شفاۓ کاملہ عاجلہ عطا فرماۓ،
دین و دنیا کا رزق اور عزتوں سے نوازے۔
ہر شر اور حاسد سے محفوظ فرماۓ۔
اپنی ، خالصتاً اپنی عبادت کی توفیق عطا فرمائے ۔ ہر قسم کی نظر بد سے محفوظ فرماۓ۔۔

آمین یا رب العالمین

18/12/2020

• 👈 *ﺍﻣﯿﺮ ﮐﻮﻥ؟* 👉

6 ﻣﺎﮦ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﻓﺎﺋﯿﻮ ﺍﺳﭩﺎﺭ ﮨﻮﭨﻞ ﮐﮯ ﻣﯿﻨﺠﺮ
ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺳﺮ !...
ﺍﯾﮏ ﮐﭗ ﺩﻭﺩﮪ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﮐﯿﺎ؟
ﻣﯿﻨﺠﺮ!
ﮨﺎﮞ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ،
ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ، ﺩﮮ ﺩﻭ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﻮ ﭘﮑﻨﮏ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﺱ ﮨﻮﭨﻞ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﯼ ﺗﮭﯽ، ﺍﮔﻠﯽ ﺻﺒﺢ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮕﯽ، ﮔﺎﮌﯼ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭨﻮﭨﯽ ﭘﮭﻮﭨﯽ ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﯼ ﻭﺍﻟﯽ ﭼﺎﺋﮯ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺭﻭﮐﺎ ﮔﯿﺎ، ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﮐﻮ ﺷﺎﻧﺖ ﮐﯿﺎ ...!
ﺩﻭﺩﮪ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﻣﺎﻟﮏ ﺑﻮﻻ .. "
ﺑﯿﭩﯽ !...
...

ﺍﮔﺮ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮐﮯ لئے ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﺩﻭﺩﮪ ﻟﯿﺘﯽ ﺟﺎﺅ، ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﮔﮭﻮﻡ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ!
ﺍﻣﯿﺮ ﮐﻮﻥ؟ ...
ﻓﺎﺋﯿﻮ ﺍﺳﭩﺎﺭ ﮨﻮﭨﻞ ﻭﺍﻻ ﯾﺎ ﭨﻮﭨﯽ ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﯼ ﻭﺍﻻ ؟

_ﻣﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ لئے،_
_ﭘﺮ ﻭﻗﺖ ﺑﯿﺖ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﺎﻏﺬ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ،_

_ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﭘﯿﺴﮧ ﮐﻤﺎ ﮐﺮ ؟؟_
_ﻧﮧ ﮐﻔﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺐ ﮨﮯ ، ﻧﺎ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻤﺎﺭﯼ...!_

16/10/2020

*قدرت کی ڈسٹری بیوشن*
پروفیسرصاحب، آپکے کتنے بچے ہیں؟ میں نے کہا ’’تین‘‘۔
انہوں نے پھرپوچھا’’انکی عمریں کیاہیں؟میں نے جوا ب دیا ’’نوسال،سات سال اورتین سال‘‘۔
یہ سن کر انہوں نے کہا ’’ پھر تو یقیناآپ یونیورسٹی سے واپسی پر ان کے لیے کچھ نہ کچھ لے کرجاتے ہوں گے؟‘‘ میرے اثبات میں جواب دینے پر انہوں نے پھر استفسار کیا ’’آپ ان چیزوں کو ان میں کیسے تقسیم کرتے ہیں؟
میں نے کہا ’’میرا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں اور چونکہ بیٹا بڑا ہے اس لیے میں اپنی لائی ہوئی تمام چیزیں اس کے حوالے کر دیتا ہوں اوراس سے کہتا ہوں کہ انہیں آپس میں بانٹ لو‘‘۔
یہ سن کر انہوں نے فرمایا ’’پروفیسرصاحب،اگر آپ کو کسی دن یہ پتا چلے کہ آپکاصاحبزادہ آپکی لائی ہوئی چیزیںآپکی ہدایت کے مطابق تقسیم نہیں کرتا یا انہیں بانٹنے میں انصاف سے کام نہیں لیتاتوآپ کیا کریں گے؟
میں نے ہنستے ہوئے کہا’’ اگرکبھی ایسا ہوا تو ا سکا حل تو بہت آسان ہے، میں اگلی بار اس کو صرف اسی کا حصہ دوں گا اور بیٹیوں کا حصہ انہیں خود الگ سے دے دیاکروں گا‘‘۔
یہ سن کر ان کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ ابھری اور انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس بھرتے ہوے کہا’’پروفیسر صاحب! آپکی اس بات میں وہی فلسفہ کارفرما ہے جسکی بنیاد پر اللہ پاک نے اپنی عنایات تقسیم کرنے کا فارمولا طے کر رکھا ہے
۔اللہ پاک آپ کوجو رزق اور نعمتیں عطا فرماتا ہے وہ صرف اور صرف آپ کے لئے نہیں ہوتیں‘ ان میں بہت سے لوگوں کا حصہ ہوتا ہے اور جب تک آپ وہ حصہ ان حقداروں تک پوری ایمانداری اور انصاف سے پہنچاتے رہتے ہیں ‘آپ کو وہ حصہ اسی تناسب سے ملتا رہتا ہے اور آپ بھی دنیا کی نظرمیں مالدار‘ سیٹھ‘ جاگیردار اورسرمایہ دار بنے رہتے ہیں۔لیکن جب اس تقسیم میں کوتاہی یا بداعتدالی ہوتی ہے تو اللہ پاک آپ کو صرف آپکے حصے تک محدود کر دیتا ہے اور اس ریل پیل سے محروم کر دیتا ہے۔
پھر وہ رب کریم وہ رزق یا تو ان لوگوں تک براہ راست پہنچانا شروع کر دیتا ہے
یا اس رزق کی تقسیم کیلئے کوئی نیا ’’ڈسٹری بیوٹر‘‘مقرر کر دیتا ہے اور دنیایہ سمجھتی ہے کہ یہ سیٹھ دیوالیہ ہو گیا
ہے۔ اسی دوران یہ باتیں بھی سننے میں آتی ہیں کہ فلاں کے بیٹے پر اللہ کا بہت کرم ہے‘ دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے‘ دنوں میں کروڑ پتی ہو گیا ہے۔ یہ وہی شخص ہوتا ہے جسے رب کریم نے آپ کو ہٹا کر آپکی جگہ نیا ’’ڈسٹری بیوٹر‘‘ مقرر کر دیا ہوتا ہے‘‘۔
دیکھا جائے تو اللہ کی تقسیم کا یہ معاملہ صرف رزق تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس میں عزت ‘ سکون‘ امن اور آسانیاں بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر عزت کا معاملہ بڑا خاص الخاص ہے اور اس کو بہت اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ پاک عزت کے معاملے میں بہت حساس ہے۔ ہم نے اللہ کی دی ہوئی عزت کو اپنی ذاتی کمائی سمجھ لیا ہے۔ہم اس گمان میں مبتلا ہیں کہ اس عزت کے ہم بلا شرکت غیر مالک ہیں۔یہ ساری کی ساری ہماری ذاتی میراث اور ہماری اہلیت اور صلاحیتوں کا ثمر ہے۔حالانکہ ایسا قطعاََ نہیں ہے۔۔
آپ اپنے گردواطراف میں نظردوڑائیں تو آپ کو بے چین‘ بے سکون اور ہیجانی کیفیت مین مبتلا لوگوں کا ہجوم نظر آئے گا۔بد قسمتی سے ہم من حیث القوم بھی انہی کیفیات کا شکار ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟باقی اقوام عالم کے مقابلے میں ہم اتنے محروم کیوں ہیں؟ کیا یہ ہماری بداعمالیوں اور گناہوں کا نتیجہ ہے یا کوئی اور معاملہ ہے؟
ہم نے رب کی دی ہوئی عزت سے لوگوں کا حصہ نکالنا چھوڑ دیا ہے اوراس طرح عزت کی ترسیل میں کمی واقع ہو گئی ہے‘ ہم نے اپنے رب کی دی گئی آسانیوں کو بانٹنا چھوڑ دیا ہے اور وہ آسانیاں بھی ہم سے چھن رہی ہیں
ہم اپنے غریب ہمسائے کے مجرم ہیں‘ اس غریب بچی کے مجرم ہیں جس کی شادی کا کل خرچ ہمارے بچے کی سالانہ پاکٹ منی کے برابر ہے۔ ان طعنوں میں برابر کے شریک جرم ہیں جووہ تمام عمر کم جہیز لانے پر سہتی ہے۔ہم اس بیمار بچے کے مجرم ہیں جس کے علاج کا خرچ ہمارے گھر میں کھڑی بہت سی گاڑیوں میں سے کسی ایک کی قیمت میں ہو سکتا ہے۔ ہم اس عرضی خواں کے مجرم ہیں جو قرض لیکر دور دراز کے گاؤں سے ہمارے دفتر اس غلط وقت پہنچتا ہے جب ہم اپنے کسی عزیز یا دوست سے گپ شپ میں مصروف ہوتے ہیں اور وہ اگلے دن کیلئے ٹال دیا جاتا ہے۔ ہم اس گھریلو ملازمہ کے مجرم ہیں جس کا بیٹا ہمارے گھر کھڑی ٹوٹی سائیکل‘ پرانے کپڑوں اور جوتوں کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جنہیں ہم استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو دینے کی ہمت رکھتے ہیں۔
اس اجتماعی بے چینی‘ بے سکونی‘بے برکتی اور ہیجان سے نکلنے کا بس ایک ہی راستہ ہے۔
ہمیں اپنے روزمرہ کے رویوں کو بدلنا ہوگا‘
ہمیں یہ سمجھنا پڑے گاکہ مخلوق کی عزت دراصل اسکے خالق کی عزت اور مخلوق سے پیار دراصل اس کے خالق سے پیار ہے۔ کیا ہم ان اقوام کا مقابلہ کر سکتے ہیں جہاں انسان تو انسان ‘ جانور بھی اپنے حصے کی عزت‘ پیار اور سہولیات کا حصہ پوری ایمانداری اوردھڑلے سے وصول کرتا ہے۔ جب ہم پیار کی جگہ نفرت‘ عزت کی جگہ حقارت اور بخشش کی بجائے محرومیوں کا بیوپار کریں گے تو پھر ہمیں یقین کر لینا چاہیئے کہ وہ خالق دو جہاں جلد یا بدیر ہمیں ہٹا کر کوئی نیا ’’ڈسٹری بیوٹر‘‘ مقرر کر دے گا۔

25/02/2020

Address

Kot Addu

Telephone

03336002315

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mahr Ismail Adv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Mahr Ismail Adv:

Share