06/03/2026
ایک مرتبہ اخبار میں یہ لرزہ خیز خبر نظر سے گزری کہ کسی علاقے میں ایک شخص کو دشمنوں نے قتل کر کے لاش نہر میں بہا دی۔ کئی روز بعد جب لاش ملی، تو قریبی بستی کے مکینوں نے اسے 'لاوارث' سمجھ کر تدفین کا فیصلہ کیا۔ مسجد سے اعلان کیا گیا کہ ایک مسافر کی میت ملی ہے جس کے کفن دفن کے لیے چندہ درکار ہے۔ تقریباً آدھے گھنٹے تک مسجد سے مسلسل صدائیں بلند ہوتی رہیں، تب کہیں جا کر کفن کی رقم جمع ہوئی اور اسے سپردِ خاک کیا گیا۔
کچھ عرصہ بعد جب کیس کی حقیقت کھلی تو انکشاف ہوا کہ وہ شخص اپنے علاقے کا نامور زمیندار تھا۔ اس کے چار کڑیل جوان بیٹے تھے، بارہ مربع پر محیط اس کے باغات تھے اور بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے موجود تھے۔ اس بدنصیب نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا ہو گا کہ جس کے پاس دنیا کی ہر آسائش موجود ہے، ایک دن اس کے کفن کے لیے آدھا گھنٹہ لوگوں کے سامنے جھولی پھیلانی پڑے گی۔"
سچ ہے کہ یہ دنیا عبرت کی جگہ ہے۔ لوگ عمر بھر ظلم و ستم کرنے میں گزار دیتے ہیں یا پھر پیسہ جمع کرنے کی سوچ میں لگا دیتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ مرنا بھی ہے۔ اور کس حال میں مرنا ہے، یہ تو ہمارا دماغ ہمیں سوچنے ہی نہیں دیتا۔
اللہ ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#زائپس #