Mian Law Associates

Mian Law Associates Justice For All, Humanity Above All.

18/01/2026

Kinds of Challan:

1. Complete challan مکمل چلان

2. Interim challan عبوری چلان

3. Supplementary challan تتیمہ چلان

4. Untraced challan عدم پتہ چلان

5. Abated challan ساقط چلان

In Detail.

پولیس چالان کیا ہے چالان کے کتنے اقسام ہیں چالان کی آئینی وقانونی حیثیت واہمیت کیا ہے

There are certain kinds of challan or Report of 173 of CrPC. (2003 PCr.LJ 1282)

1: Complete challan :
It is a kind of challan which is completed within 14 days with all legal requirements.

2: Incomplete challan :
A kind which cannot be completed within 14 days. For example 2 accused are arrested but the remaining 2 are proclaimed offender.

3: Interim challan :
It is kind in which report is not completed with 14 days and on request of investigation officer 3 grace days allowed and total days become 17.

4: Untraced challan:
A kind of report in which accused not be trace or remain unknown or mostly a cases in which accused are unknown or not nominated in case.

5: Abate challan :
It is a kind of report in which the accused declared dead or they died.

(2003 PCrLJ 1282)

18/01/2026

*سول پریکٹیشنرز کے لیے ایک بہترین تفصیلی جائزہ سیکشن 9 CPC....*
سیکشن 9 آف دی سول پروسیجر کوڈ (CPC) سول عدالتوں کے دائرہ اختیار (jurisdiction) سے متعلق ہے۔ یہ سیکشن ان اصولوں کی وضاحت کرتا ہے جن کی بنیاد پر سول عدالتیں کسی مقدمے کی سماعت کر سکتی ہیں۔ اس پر مکمل جامع نوٹس ہر پہلو سے درج ذیل ہیں:

سیکشن 9 سی پی سی: متن

The courts shall have jurisdiction to try all suits of a civil nature excepting suits of which their cognizance is either expressly or impliedly barred."
اہم نکات:
دائرہ کار کا اصول (General Rule of Jurisdiction):

سول عدالتیں ان تمام مقدمات کی سماعت کر سکتی ہیں جو "سول نوعیت" (civil nature) کے ہوں۔
صرف وہی مقدمے خارج ہیں جنہیں کسی مخصوص قانون کے تحت ممنوع قرار دیا گیا ہو۔
سول نوعیت کے مقدمے:

ایسے مقدمے جن کا تعلق نجی حقوق (private rights) اور واجبات (obligations) سے ہو، جیسے:
جائیداد کے تنازعات
کنٹریکٹ کے مسائل
خاندان کے معاملات (وراثت، تقسیم)
سول نوعیت کے مقدمے میں کسی فریق کو انصاف کے لیے عدالت میں آنے کا حق ہوتا ہے۔
بارڈ مقدمات (Barred Suits):

دو قسم کے بارڈ مقدمات:
ایکسپریس بارڈ (Expressly Barred): قانون واضح طور پر ان مقدمات کی سماعت سے روکتا ہے، جیسے:
ٹیکس معاملات جن کے لیے ٹربیونلز مقرر ہیں۔
فوجی معاملات جو عدالتِ مارشل کے دائرے میں آتے ہیں۔
امپلائیڈ بارڈ (Impliedly Barred): ایسے مقدمات جو کسی مخصوص قانون کے دائرہ کار میں آتے ہیں یا پبلک پالیسی کے خلاف ہوں، جیسے:
مذہبی رسوم یا عقائد پر مبنی مقدمات۔
اصولی حدود:

اگر سول نوعیت کے مقدمے کو کوئی مخصوص فورم تفویض کیا گیا ہے، تو سول عدالتوں کا دائرہ کار محدود ہو جاتا ہے۔
عدالت کا دائرہ کار تبھی روکا جا سکتا ہے جب واضح قانون یا مخصوص حالات موجود ہوں۔
اہم عدالتی نظائر (Case Laws):
مہاراجہ دھیرجہ کرشنا سنگھ کیس:
عدالت نے وضاحت کی کہ کسی تنازع کے "سول نوعیت" ہونے کا فیصلہ اس کے حقائق پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ اس کے دعوے پر۔
موٹس موہن لال کیس:
عدالت نے کہا کہ اگر مقدمہ کسی کے قانونی حق کو متاثر کرتا ہے، تو وہ سول نوعیت کا ہے۔
عبدالغنی و دیگر بنام فضل الرحیم
اس مقدمے میں وضاحت کی گئی کہ "ایکسپریس بارڈ" اور "امپلائیڈ بارڈ" کا اطلاق کن حالات میں ہوگا۔
اہم پہلو:
1. سیکشن 9 کا مقصد:
افراد کو انصاف فراہم کرنا اور ان کے قانونی حقوق کا تحفظ کرنا۔
عدالت کے دائرہ کار کو وسیع کرنا تاکہ انصاف تک رسائی ممکن ہو۔
2. سیکشن 9 اور خصوصی قوانین:
بعض معاملات میں، خصوصی قوانین کے تحت خصوصی ٹربیونلز قائم کیے جاتے ہیں، جیسے:
لیبر قوانین کے تحت لیبر کورٹ۔
ٹیکس قوانین کے تحت ٹیکس ٹربیونلز۔
ان معاملات میں سول عدالتیں مداخلت نہیں کر سکتیں۔
3. ریلیف کی نوعیت:
اگر مقدمہ ریلیف طلب کرتا ہے جو قانون کے مطابق ہو، تو عدالت اسے سن سکتی ہے۔
غیر قانونی یا پبلک پالیسی کے خلاف ریلیف سول عدالتیں فراہم نہیں کر سکتیں۔
4. متوازی عدالتی نظام:
سیکشن 9 خصوصی اور عمومی عدالتی دائرہ کار کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔
خلاصہ:
سیکشن 9 سی پی سی سول عدالتوں کے دائرہ کار کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
یہ قانون واضح کرتا ہے کہ تمام سول نوعیت کے مقدمے سول عدالت کے دائرہ کار میں آتے ہیں، جب تک کہ انہیں کسی قانون کے تحت ممنوع نہ کیا گیا ہو۔
عدالت کو مقدمے کے سول نوعیت کے ہونے کا تعین کرنے کے لیے حقائق اور حالات کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔
یہ سیکشن انصاف کی فراہمی میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور قانونی نظام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے...

01/01/2026

حکومت پنجاب کا بہت ہی بڑا فیصلہ *پٹواریوں سے بڑے بڑے اختیارات واپس لے لیے گئے
پٹواری سے بیع کی فرد۔انتقال کا اختیار بورڈ آف ریونیو نے واپس لے لیا اب پٹواری کے پاس صرف ریکوری گرداوری اور عدالت میں ریکارڈ فراہم کرنا باقی رہ گیا
نئے طریقہ کار کے تحت سائل اراضی ریکارڈ سنٹر یا ای سہولت مرکز سے فرد بیع وصول کرے گا بعد ازاں اشٹام فروش سے باقاعدہ رجسٹری تحریر کروائے گا اور تحصیلدار کے پاس سائل اپنی تمام تر دستاویزات پیش کرے گا اور تحصیلدار ایک دن کے اندر اس رجسٹری کو پاس کرے گا گواہان کی ضرورت نہ ہے
゚viralfbreelsfypシ゚viral

For more Details...Contact: 0300 4820549
07/12/2025

For more Details...
Contact: 0300 4820549

Address

Kasur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mian Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share