Tooba's Law Desk

Tooba's Law Desk I deal with criminal, family, and civil cases.

جادو، کالا جادو، تعویذ گنڈے، ٹونے ٹوٹکے وغیرہ پر قانونی پابندی ل, ایسا کام کرنے والے ،بیچنے والے افراد کو سزا  ہوگی ۔نیا...
21/09/2025

جادو، کالا جادو، تعویذ گنڈے، ٹونے ٹوٹکے وغیرہ پر قانونی پابندی ل, ایسا کام کرنے والے ،بیچنے والے افراد کو سزا ہوگی ۔

نیا سیکشن 297A شامل کیا گیا ہے

297A:
جادو، ٹونا، ٹوٹکا، سحر، کالا جادو کی ممانعت

• جو شخص جادو، کالا جادو، سفلی عمل، یا اس قسم کی کوئی سروس دیتا ہے، یا اس کو روحانی علاج یا کاؤنسلنگ کے نام پر پیش کرتا ہے، اس کو سزا دی جائے گی۔

• سزا:
• قید: کم از کم 6 ماہ اور زیادہ سے زیادہ 7 سال۔
• جرمانہ: زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے۔

ضابطہ فوجداری (CrPC) میں تبدیلی

اس جرم کو ضابطہ فوجداری کی شیڈول II میں شامل کیا گیا ہے:
• یہ جرم ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) ہوگا۔
• اس میں وارنٹ گرفتاری جاری ہوگا۔
• کیس کی سماعت سیشن کورٹ کرے گی۔

خلاصہ

سادہ لفظوں میں یہ قانون کہتا ہے کہ:
• اب پاکستان میں جادو ٹونا، کالا جادو، اور ٹونے ٹوٹکے کو جرم قرار دے دیا جائے گا۔
• اس میں ملوث شخص کو 6 ماہ سے 7 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔
• یہ جرم ناقابلِ ضمانت ہوگا اور سیشن کورٹ میں چلے گا۔
• لیکن اگر کوئی شخص وزارتِ مذہبی امور سے لائسنس لے کر روحانی مشاورت کرتا ہے تو اس پر یہ قانون لاگو نہیں ہوگا

Writ of Prohibition کو اردو میں "رُکوانے کا حکم" کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا عدالتی حکم ہے جو اعلیٰ عدالت (High Court یا Su...
13/09/2025

Writ of Prohibition کو اردو میں "رُکوانے کا حکم" کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا عدالتی حکم ہے جو اعلیٰ عدالت (High Court یا Supreme Court) کسی نچلی عدالت یا ٹربیونل کو اس وقت جاری کرتی ہے جب وہ اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے یا قانون کے برعکس کوئی کارروائی کرنے لگے۔ اس writ کا مقصد یہ ہے کہ ماتحت عدالتیں یا ٹربیونلز صرف وہی مقدمات سنیں اور فیصلے کریں جو اُن کے قانونی دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اگر کوئی نچلی عدالت ایسا کام کرنے لگے جو اُس کے اختیار سے باہر ہو یا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہو تو اعلیٰ عدالت فوراً Writ of Prohibition جاری کر کے اُس کارروائی کو روک دیتی ہے۔ پاکستان میں یہ writ بھی آئین 1973 کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی جا سکتی ہے۔ مختصراً، Writ of Prohibition ایک ایسا مؤثر قانونی ذریعہ ہے جس سے اعلیٰ عدالتیں ماتحت عدالتوں کو اُن کی حدود میں رکھتی ہیں اور غیر قانونی یا بلاجواز کارروائی سے عوام کو بچاتی ہیں۔

Writ of Certiorari کو اردو میں رِٹ برائے نظرِ ثانی یا نظرِ ثانی کا حکم کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا عدالتی حکم ہے جس کے ذریع...
13/09/2025

Writ of Certiorari کو اردو میں رِٹ برائے نظرِ ثانی یا نظرِ ثانی کا حکم کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا عدالتی حکم ہے جس کے ذریعے اعلیٰ عدالت (High Court یا Supreme Court) کسی نچلی عدالت یا ٹربیونل کے فیصلے کو منگوا کر اس کا جائزہ لیتی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ فیصلہ قانون کے مطابق دیا گیا ہے یا اُس عدالت/اتھارٹی نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ماتحت عدالت یا ٹربیونل نے غیر قانونی طریقے سے فیصلہ دیا ہے، یا انصاف کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے، تو اعلیٰ عدالت اس فیصلے کو کالعدم (غیر مؤثر) قرار دے دیتی ہے۔ پاکستان میں یہ writ بھی آئین 1973 کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی جاتی ہے۔ مختصراً، Writ of Certiorari ایک ایسا مؤثر قانونی طریقہ ہے جس کے ذریعے اعلیٰ عدالتیں ماتحت عدالتوں اور ٹربیونلز کو اُن کی قانونی حدود میں رکھتی ہیں اور عوام کے حق میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتی ہیں۔

Writ of Quo Warranto کو اردو میں "کس اختیار سے؟" یا "اختیارات کی جانچ کا حکم" کہا جاتا ہے۔ یہ رِٹ اس وقت جاری کی جاتی ہے...
13/09/2025

Writ of Quo Warranto کو اردو میں "کس اختیار سے؟" یا "اختیارات کی جانچ کا حکم" کہا جاتا ہے۔ یہ رِٹ اس وقت جاری کی جاتی ہے جب کوئی شخص کسی ایسے عوامی عہدے یا سرکاری منصب پر فائز ہو جس پر وہ قانون کے مطابق تعینات ہونے کا حق دار نہ ہو۔ اس رِٹ کا مقصد یہ ہے کہ عوامی عہدے صرف اُنہی افراد کے پاس رہیں جو قانونی طور پر اہل ہوں اور جن کی تقرری قانون کے مطابق کی گئی ہو۔ عدالت اس writ کے ذریعے متعلقہ شخص سے پوچھتی ہے کہ وہ کس قانونی اختیار یا بنیاد پر اس عہدے پر بیٹھا ہوا ہے۔ اگر وہ شخص اپنے تقرر کا جواز پیش نہ کر سکے یا یہ ثابت ہو جائے کہ اُس کی تقرری غیر قانونی ہے تو عدالت اُسے اُس منصب سے ہٹا دیتی ہے۔ پاکستان میں یہ writ بھی آئین 1973 کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی جا سکتی ہے۔ مختصراً، Writ of Quo Warranto عوامی عہدوں پر ناجائز یا غیر قانونی قبضہ ختم کرانے کا ایک مؤثر قانونی ذریعہ ہے تاکہ حکومتی اور سرکاری اداروں میں شفافیت اور قانون کی بالادستی قائم رہے۔

Writ of Mandamus کو اردو میں حکم نامہ برائے انجامِ کار کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا عدالتی حکم ہے جو عدالت کسی سرکاری افس...
13/09/2025

Writ of Mandamus کو اردو میں حکم نامہ برائے انجامِ کار کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا عدالتی حکم ہے جو عدالت کسی سرکاری افسر، ادارے یا اتھارٹی کو دیتی ہے تاکہ وہ اپنی قانونی ذمہ داری یا فرض پورا کرے جو وہ دانستہ طور پر ادا نہیں کر رہا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ عوام کے حقوق متاثر نہ ہوں اور سرکاری ادارے اپنی قانونی حدود میں رہ کر اپنے فرائض سرانجام دیں۔ یہ writ صرف اُس وقت جاری کی جاتی ہے جب کوئی سرکاری افسر یا ادارہ اپنی قانونی ذمہ داری ادا کرنے سے انکار کرے یا ٹال مٹول کرے۔ پاکستان میں یہ writ آئین 1973 کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کے ذریعے دائر کی جاتی ہے۔ عدالت جب محسوس کرے کہ متعلقہ اتھارٹی اپنی قانونی ذمہ داری ادا نہیں کر رہی تو وہ حکم نامہ جاری کرتی ہے اور اُس ادارے یا افسر کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کرے۔ مختصراً، Writ of Mandamus عوام کو یہ تحفظ فراہم کرتی ہے کہ کوئی بھی سرکاری افسر یا ادارہ اپنے فرائض میں کوتاہی نہ کرے اور شہری اپنے قانونی اور آئینی حقوق سے محروم نہ رہیں۔

حبسِ بے جا کی رِٹ (Writ of Habeas Corpus) جس کا مطلب ہے “جسم کو عدالت کے سامنے پیش کرو” ایک بنیادی قانونی چارہ جوئی ہے ج...
13/09/2025

حبسِ بے جا کی رِٹ (Writ of Habeas Corpus) جس کا مطلب ہے “جسم کو عدالت کے سامنے پیش کرو” ایک بنیادی قانونی چارہ جوئی ہے جو کسی شخص کی غیر قانونی قید یا حراست ختم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، پاکستان میں یہ رِٹ آئین 1973 کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی جا سکتی ہے اور اس کا مقصد صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا کسی شخص کی حراست قانونی ہے یا غیر قانونی، اگر کوئی شخص پولیس، کسی ادارے یا کسی فرد کے قبضے میں غیر قانونی طور پر رکھا گیا ہو تو اس کے اہل خانہ یا کوئی شہری عدالتِ عالیہ یا عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کر سکتا ہے، عدالت فوری طور پر متعلقہ حکام کو حکم دیتی ہے کہ اس شخص کو عدالت کے روبرو پیش کیا جائے اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ قید غیر قانونی ہے تو عدالت فوری رہائی کا حکم دیتی ہے، لیکن اگر حراست کسی قانونی حکم یا عدالتی کارروائی کے تحت ہو تو اس رِٹ کے ذریعے رہائی نہیں دی جاتی، یوں یہ رِٹ فرد کے بنیادی حقِ آزادی کے تحفظ اور کسی بھی غیر قانونی قید یا حراست کو ختم کرنے کا سب سے تیز اور مؤثر قانونی ذریعہ ہے۔

سوال:جيڪڏهن ڪو ماڻهو NADRA ۾ نئي CNIC يا Smart Card لاءِ درخواست ڏئي، پر NADRA ان تي عمل نه ڪري يا ڊگهو وقت گذري وڃي ته ...
12/09/2025

سوال:
جيڪڏهن ڪو ماڻهو NADRA ۾ نئي CNIC يا Smart Card لاءِ درخواست ڏئي، پر NADRA ان تي عمل نه ڪري يا ڊگهو وقت گذري وڃي ته پوءِ ڇا ڪجي؟

جواب:
تازو سنڌ هاءِ ڪورٽ فيصلو ڏنو ته اهڙيون شڪايتون سڌو عدالت ۾ آڻڻ بدران Wafaqi Mohtasib (وفاقي محتسب) وٽ ڪجن. وفاقي محتسب NADRA لاءِ خاص طور تي هڪ Grievance Commissioner مقرر ڪيو آهي، جيڪو عوام جي شڪايتون ٻڌي ٿو ۽ NADRA کي حڪم ڏئي ٿو ته جلد مسئلو حل ڪري.

سڌو عدالت وڃڻ کان اڳ ضروري آهي ته محتسب جو رستو اختيار ڪيو وڃي.

C.P. No. D-4412 of 2025, High Court of Sindh, Karachi.

سائبر کرائم ( CYBER CRIME)پاکستان میں سائبر کرائم کے متعلق قوانین بنیادی طور پر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (...
11/09/2025

سائبر کرائم ( CYBER CRIME)

پاکستان میں سائبر کرائم کے متعلق قوانین بنیادی طور پر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (PECA 2016) کے تحت آتے ہیں۔ اس قانون کے ذریعے ان جرائم کو قابو کیا جاتا ہے جو کمپیوٹر، موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ اس قانون کے مطابق کسی دوسرے کے کمپیوٹر، موبائل یا ای میل میں بلا اجازت داخل ہونا جرم ہے، جس کی سزا تین سال قید یا دس لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح سائبر دہشتگردی، یعنی الیکٹرانک ذرائع سے خوف و ہراس پھیلانا، ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا یا نفرت انگیز مواد پھیلانا، چودہ سال قید اور پچاس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا رکھتا ہے۔ آن لائن فراڈ، جعلی ویب سائٹس، فشنگ یا شناختی معلومات چوری کرنے پر سات سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ سائبر ہراسگی اور بلیک میلنگ، جعلی پروفائلز بنانا، کسی کی تصاویر یا ویڈیوز بغیر اجازت پھیلانا تین سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کا باعث بن سکتا ہے۔

اس کے علاوہ، کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹی یا نقصان دہ معلومات شائع کرنا، یعنی سائبر ڈیفیمیشن، بھی تین سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کا باعث ہے۔ بچوں کی فحش مواد (چائلڈ پورنوگرافی) کو تیار کرنا، تقسیم کرنا یا شیئر کرنا سات سال قید اور پچاس لاکھ روپے تک جرمانے کے زمرے میں آتا ہے۔ ریاست، افواج یا عوامی افسران کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلانا بھی تین سال قید اور جرمانے کا موجب ہے۔ جبکہ حکومتی ڈیٹا بیس، بینکنگ سسٹمز یا کمیونیکیشن نیٹ ورکس پر حملہ کرنے والے افراد کو سات سے دس سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

ان جرائم کی شکایت درج کرانے کے لیے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ہیلپ لائن 1991، ای میل ([email protected]) یا قریبی ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل آفس سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

اسلام اور پاکستانی قانون کے مطابق بیٹی، بہن یا ماں کو وراثت میں حق نہ دینا جرم ہے۔📢 اگر آپ کو جائیداد میں سے حق نہیں ملا...
10/09/2025

اسلام اور پاکستانی قانون کے مطابق بیٹی، بہن یا ماں کو وراثت میں حق نہ دینا جرم ہے۔

📢 اگر آپ کو جائیداد میں سے حق نہیں ملا تو آپ قانونی چارہ جوئی کر سکتی ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں!

📩 قانونی معاونت کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔"

0314-6415490

Address

City Court Karachi
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tooba's Law Desk posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share