R & AP Advocates & Legal Consultants

R & AP Advocates & Legal Consultants R & AP Advocates & Legal Consultants is committed to justice with integrity.

We are specialized in Civil, Criminal, Family, Corporate & Constitutional matters, offering trusted legal advice, strong representation & client-focused solutions.

Supreme Court Principle | PLD 2026 Supreme Court 42The Hon'ble Supreme Court has reaffirmed that where the prosecution f...
23/07/2026

Supreme Court Principle | PLD 2026 Supreme Court 42
The Hon'ble Supreme Court has reaffirmed that where the prosecution fails to present complete links in the chain of evidence such as the recovery of the murder weapon or a positive forensic report the prosecution's case becomes doubtful, and the accused is entitled to the benefit of doubt.
The criminal justice system requires proof beyond reasonable doubt. Conviction cannot be based on assumptions or incomplete evidence.
📚 Reference: PLD 2026 Supreme Court 42
R & AP Advocates & Legal Consultants

SupremeCourt

23/07/2026

2025 SCMR 841

The dower deed which is more than thirty years old claimed to have presumption of genuineness but that presumption is always rebuttable by the party questioning genuineness thereof. Indeed the unsuspicious character of a document, its proper custody and other circumstances are the foundation to raise presumption of its ex*****on, however, if prima-facie, the dispute to its ex*****on and proper custody is raised then it becomes the duty of the court to determine the question of its genuineness. The presumption is thus discretionary and not mandatory in terms of the case of Allah Ditta v. Aimna Bibi (2011 SCMR 1483). The presumption of correctness of a document available under the Qanun-e-Shahadat Order, 1984 in respect of thirty years old document, subject to above, is only in respect of a signature and every other part thereof in handwriting of a particular person. Rest of the contents which are not in the handwriting would then become the subject matter of proof. The other aspect of the matter which germane to the requirement of law is that the subject document should be produced by person having proper custody in terms of Article 100 of the Qanun-e-Shahadat Order, 1984. Production of document purported or proved to be thirty years old from “proper custody” was the condition precedent; until and unless such condition is met, no presumption as to the signature, contents or any part of such document to be duly executed/attested, would arise. Indeed the subject document was produced by scriber who, for the purposes of the present controversy does not have a proper custody.

2025 SCMR 841

R & AP Advocates & Legal Consultants

Section 302, Pakistan Penal Code  Punishment for Qatl-i-Amd (Intentional Murder)Section 302 of the Pakistan Penal Code p...
19/07/2026

Section 302, Pakistan Penal Code Punishment for Qatl-i-Amd (Intentional Murder)

Section 302 of the Pakistan Penal Code prescribes the punishment for Qatl-i-Amd (intentional murder), subject to the provisions of the relevant chapter.
The law provides that a person who commits Qatl-i-Amd may be:
⚖️ (a) Punished with death as Qisas.
⚖️ (b) Punished with death or imprisonment for life as Ta'zir, depending on the facts and circumstances of the case where the proof required under Section 304 is not available.
⚖️ (c) Punished with imprisonment of either description for a term extending up to twenty-five years, where, according to the Injunctions of Islam, the punishment of Qisas is not applicable.
Important: Every criminal case is decided on its own facts, evidence, and the applicable law. This post is intended for legal awareness and educational purposes only and should not be treated as legal advice.

R & AP Advocates & Legal Consultants
📍 Karachi, Pakistan
📞 0333-2221890
📧 [email protected]



کیا ناقابلِ ضمانت مقدمات میں ضمانت ممکن ہےجی ہاں، بعض حالات میں ممکن ہے۔پاکستانی قانون کے مطابق ہر ناقابلِ ضمانت جرم میں...
18/07/2026

کیا ناقابلِ ضمانت مقدمات میں ضمانت ممکن ہے

جی ہاں، بعض حالات میں ممکن ہے۔

پاکستانی قانون کے مطابق ہر ناقابلِ ضمانت جرم میں ضمانت ناممکن نہیں ہوتی۔ عدالت ہر مقدمے کے حقائق، شواہد اور قانون کی روشنی میں فیصلہ کرتی ہے۔

اہم نکات

✔ صرف "ناقابلِ ضمانت" لکھا ہونا ضمانت سے مکمل محرومی نہیں۔

✔ اگر مزید تفتیش (Further Inquiry) کی گنجائش ہو تو عدالت ضمانت دے سکتی ہے۔

✔ بیماری، عمر، خواتین یا دیگر غیر معمولی حالات بھی بعض مقدمات میں اہم ہو سکتے ہیں۔

✔ ہر مقدمہ اپنے حقائق اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر الگ فیصلہ کیا جاتا ہے۔

> یاد رکھیں: عدالت کا فیصلہ ہر کیس کے مخصوص حالات اور قابلِ اطلاق قانون پر منحصر ہوتا ہے۔ کسی ایک اصول کا اطلاق ہر مقدمے پر یکساں نہیں ہوتا۔

R & AP Advocates & Legal Consultants

قانونی رہنمائی اور مؤثر نمائندگی کے لیے رابطہ کریں۔

📞 0333-2221890
✉ [email protected]
📍 Karachi, Pakistan

-حقائق، شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق دیکھا جاتا ہے۔

مزید قانونی معلومات کے لیے ہمارا صفحہ فالو کریں۔



16/07/2026

ایک کاغذ... اور ایک فیصلہ جس نے پورا کیس پلٹ دی

عدالت میں ایک "قرارداد نامہ" پیش کیا گیا۔
گواہی کے نام پر بس دستخط تھے۔
نہ گواہوں کے مکمل کوائف، نہ شناختی کارڈ نمبر، نہ پتہ۔

مدعا علیہ کے وکیل نے کہا: "جناب، یہ دستاویز قابلِ اعتبار نہیں ہے"
مقابل وکیل نے کہا: "یہی ثبوت ہے"

کیس سپریم کورٹ تک پہنچا۔

اور سپریم کورٹ نے تاریخ ساز فیصلہ سنایا: PLD 2026 Supreme Court 42

"جس قرارداد نامے پر گواہوں کے مکمل کوائف، مثلاً شناختی کارڈ نمبر اور پتہ درج نہ ہوں، وہ مشکوک اور ناقابلِ اعتماد دستاویز ہو سکتی ہ

یعنی قانون یہ کہتا ہے:
ثبوت صرف کاغذ کا نام نہیں۔ ثبوت کی جانچ شفافیت، تفصیل اور سچائی سے ہوتی ہے۔
اگر بنیاد ہی کمزور ہو، تو عمارت نہیں کھڑی ہو سکتی۔
قانون کی روح یہی ہے - ہر لفظ، ہر دستخط، ہر تفصیل معنی رکھتی ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا کسی دستاویز پر صرف دستخط کافی ہونے چاہییں؟
کمنٹ میں اپنی رائے دیں 👇

R & AP Advocates & Legal Consultants








16/07/2026

کیا 1990 میں بھرتی ہو کر بعد میں بحال ہونے والے ملازم کی سینیارٹی ضائع ہو جائے گی؟

ایک ملازم تھا۔
1990 میں وہ سرکاری ملازمت میں بھرتی ہوا۔ قسمت نے ساتھ نہ دیا اور کسی وجہ سے نوکری چلی گئی۔
لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ عدالت گیا، لڑا، اور بالآخر بحال ہو گیا۔

اب جب بحالی ہوئی تو سوال یہ اٹھا:
"اس کی سینیارٹی کس تاریخ سے شمار ہوگی؟ بحالی کی تاریخ سے؟ یا پہلی بھرتی کی تاریخ سے؟"

ادارے نے کہا: "بحالی کی تاریخ سے"
ملازم نے کہا: "نہیں، میری سروس تو 1990 سے شروع ہوئی تھی"

معاملہ سپریم کورٹ تک گیا۔

اور سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا:2026 SC 404 سینیارٹی کا تعین کل مدت ملازمت (Total Length of Service) کی بنیاد پر ہوتا ہے"

یعنی اگر آپ کو بعد میں بحال کیا گیا ہے، تو آپ کی سینیارٹی پہلی تقرری کی تاریخ سے ہی شمار ہوگی۔ آپ کے سال ضائع نہیں ہوں گے۔

قانون یہی کہتا ہے: انصاف صرف فیصلے میں نہیں، خدمت کے ہر سال کی قدر میں بھی ہے۔

کیا آپ بھی سینیارٹی یا سروس کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں؟
قانونی مشورے کے لیے رابطہ کریں۔
📞 R & AP Advocates & Legal Consultants




سپریم کورٹ نے بچوں کے خرچہ (Maintenance) میں سالانہ اضافے کا طریقہ واضح کر دیااگر عدالتی ڈگری میں صرف یہ لکھا ہو کہ ہر س...
16/07/2026

سپریم کورٹ نے بچوں کے خرچہ (Maintenance) میں سالانہ اضافے کا طریقہ واضح کر دیا

اگر عدالتی ڈگری میں صرف یہ لکھا ہو کہ ہر سال 20 فیصد اضافہ ہوگا لیکن یہ نہ بتایا گیا ہو کہ اضافہ سادہ (Simple) ہوگا یا مرکب (Compound)، تو کیا ایگزیکیوٹنگ کورٹ خود کمپاؤنڈ اضافہ لگا سکتی ہے؟

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس اہم قانونی سوال کا جواب دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نہیں۔

عدالت نے قرار دیا:

🔹 اگر ڈگری کمپاؤنڈ اضافے کا واضح طور پر ذکر نہیں کرتی تو اضافہ سادہ بنیاد (Simple Basis) پر ہوگا۔

🔹 ہر سال 20 فیصد اضافہ اصل مقررہ رقم پر شمار کیا جائے گا، نہ کہ گزشتہ سال بڑھی ہوئی رقم پر۔

🔹 ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو ڈگری میں نئی شرائط شامل کرنے یا اس میں تبدیلی کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

🔹 اگر کمپاؤنڈ اضافہ مقصود ہو تو اسے ڈگری میں واضح الفاظ میں لکھنا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت کی کہ آئندہ فیملی کورٹس Maintenance کی ڈگریوں میں واضح کریں کہ سالانہ اضافہ Simple Basis پر ہوگا یا Compound Basis پر، تاکہ بعد میں غیر ضروری مقدمات سے بچا جا سکے۔

محمد وقار واثی بنام مسز عنبر عابد و دیگر

Civil Petition No. 3204 of 2022

سپریم کورٹ آف پاکستان







#خرچہ

لاہور ہائی کورٹ کا ایک انتہائی اہم قانونی فیصلہ ہے جو کہ مجسٹریٹ کے اختیارات اور چالان (رپورٹ زیر دفعہ 173 ضابطہ فوجداری...
16/07/2026

لاہور ہائی کورٹ کا ایک انتہائی اہم قانونی فیصلہ ہے جو کہ مجسٹریٹ کے اختیارات اور چالان (رپورٹ زیر دفعہ 173 ضابطہ فوجداری) موصول ہونے پر اس کے طریقہ کار کی وضاحت کرتا ہے۔
اس فیصلے میں موجود بنیادی قانونی نکات (Legal Propositions)درج ذیل ہیں:

1. لفظ "Release" (رہا کرنا) اور "Discharge" (ڈسچارج/بری کرنا) میں قانونی فرق
عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ چالان موصول ہونے پر ٹرائل شروع ہونے سے پہلے کسی ملزم کے خلاف کارروائی ختم کرنے کے لیے ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) میں لفظ "Release" (رہا کرنا) کا کوئی وجود نہیں ہے۔
Discharge (ڈسچارج):

دفعہ 173(3) کے تحت اگر مجسٹریٹ پولیس کی اس رائے سے متفق ہو کہ ملزم کے خلاف کافی ثبوت نہیں ہیں، تو وہ ملزم کو "ڈسچارج" (خارج) کرتا ہے۔
Release (رہا کرنا یہ لفظ عام طور پر اس ملزم کے لیے استعمال ہوتا ہے جو پولیس یا عدالتی تحویل (Custody) میں ہو اور اسے آزاد کرنے کا حکم دیا جائے۔
* **قانونی حیثیت:** عدالت نے کہا کہ یہ محض الفاظ کا ہیر پھیر نہیں ہے، بلکہ یہ مجسٹریٹ کے دائرہ اختیار (Jurisdiction) کی جڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ درست قانونی طریقہ ملزم کو "ڈسچارج" کرنا ہے، "رہا" کرنا نہیں۔
2. دفعہ 173 کی رپورٹ (چالان) پر مجسٹریٹ کے اختیارات کی حد
جب پولیس تفتیش مکمل کر کے چالان عدالت میں پیش کرتی ہے، تو اس مرحلے پر مجسٹریٹ کا کام صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کیا ملزم کو طلب کرنے کے لیے بادی النظر (Prima Facie) میں کافی مواد موجود ہے یا نہیں؟
شہادت کا تفصیلی جائزہ ممنوع: مجسٹریٹ سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ اس ابتدائی مرحلے پر گواہوں کے بیانات یا ثبوتوں کا باریک بینی سے جائزہ (Meticulous Appraisal) لے یا کیس کے میرٹس (خوبیوں اور خامیوں) پر فیصلہ صادر کرے۔
حقائق کے تنازعات کا فیصلہ ٹرائل میں ہوگا درج ذیل سوالات کا فیصلہ تفصیلی مقدمے (Regular Trial) کے دوران فریقین کو ثبوت پیش کرنے کا موقع دینے کے بعد ہونا چاہیے، نہ کہ چالان کے مرحلے پر:
امانت (Trust) دینے کی کوئی تحریری دستاویز یا معاہدہ موجود ہے یا نہیں۔
گاڑی کی ملکیت کے کاغذات شکایت کنندہ کے نام پر ہیں یا نہیں۔
شکایت کنندہ (Complainant) کی کوئی بدنیتی (Mala fide) شامل ہے یا نہیں۔

3. ابتدائی مرحلے پر مفصل یا جامع فیصلہ دینے کی ممانعت

معزز عدالت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ (Safdar Ali v. Zafar Iqbal - 2002 SCMR 63) کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ:
> علاقہ مجسٹریٹ سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ کیس کے ابتدائی مرحلے پر ایک جامع یا مفصل حکم نامہ (Exhaustive Order) جاری کرے، کیونکہ وہ اس وقت پورے مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں کر رہا ہوتا۔ لہٰذا، اس کے لیے ہر اس پہلو پر تفصیلی بحث کرنا ضروری نہیں ہے جو ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
>
خلاصہ
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا، کیونکہ انہوں نے ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ہی کیس کے حقائق اور ثبوتوں کا فیصلہ خود ہی کر دیا۔ چنانچہ ہائی کورٹ نے مجسٹریٹ کا فیصلہ کالعدم (Set-aside) قرار دے کر ٹرائل کورٹ کو @قانون کے مطابق باقاعدہ ٹرائل چلانے کا حکم دیا۔
R & AP Advocates & Legal Consultants

R & AP Advocates & Legal Consultants
📍 Karachi | Criminal • Civil • Family • Banking Law





14/07/2026

غیر تعزیری جرم میں مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی — بعد میں تعزیری دفعات شامل کرنے سے ابتدائی غیر قانونی کارروائی قانونی نہیں بنتی

لاہور ہائیکورٹ، ملتان بینچ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی معاملے میں ابتدائی طور پر صرف غیر تعزیری (Non-Cognizable) جرم بنتا ہو تو پولیس کو نہ صرف ایف آئی آر درج کرنے بلکہ تفتیش شروع کرنے کے لیے بھی دفعہ 155(2) ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.) کے تحت مجاز مجسٹریٹ کی پیشگی اجازت حاصل کرنا لازمی ہے۔ اگر یہ قانونی تقاضا پورا نہ کیا جائے تو ایسی ایف آئی آر ابتدا ہی سے غیر قانونی تصور ہوگی۔

عدالت نے واضح کیا کہ کسی ایف آئی آر کی قانونی حیثیت کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ ایف آئی آر درج ہونے کے وقت اس میں کیا الزامات اور کون سی دفعات موجود تھیں۔ اگر بعد میں دورانِ تفتیش پولیس نئی تعزیری دفعات، مثلاً دھوکہ دہی یا جعلسازی، شامل کر دے تو اس سے ابتدائی غیر قانونی کارروائی قانونی نہیں بن جاتی۔ قانون کسی ایسی کارروائی کو، جو ابتدا ہی سے اختیار کے بغیر کی گئی ہو، بعد کے اقدامات کی بنیاد پر درست قرار نہیں دیتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ مسیحی پرسنل لا یا Christian Marriage Act, 1872 کے تحت دوسری شادی یا ازدواجی حیثیت چھپانے کا ہر معاملہ خود بخود تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 494 یا جعلسازی و دھوکہ دہی کے جرائم میں تبدیل نہیں ہو جاتا۔ اگر دھوکہ دہی (Cheating) یا جعلسازی (Forgery) کا الزام لگایا جائے تو اس کے لیے قانون میں مقررہ تمام عناصر، مثلاً کسی شخص کو دھوکے سے جائیداد، مالی فائدہ یا قانونی حق سے محروم کرنا، واضح طور پر موجود ہونا ضروری ہے۔ صرف جعلی میرج سرٹیفکیٹ کا الزام یا ازدواجی حیثیت چھپانے کا دعویٰ، ان جرائم کے قیام کے لیے کافی نہیں۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ گھریلو یا ازدواجی تنازع کے دوران غصے میں دی گئی ہر دھمکی مجرمانہ دھمکی (Criminal Intimidation) نہیں ہوتی۔ اس جرم کے لیے ضروری ہے کہ دھمکی کا مقصد واقعی خوف پیدا کرنا یا متاثرہ شخص کو غیر قانونی طور پر کسی کام پر مجبور کرنا ثابت ہو۔ محض جذباتی ماحول میں کہے گئے سخت الفاظ، اگر ان کے ساتھ قانونی تقاضے پورے نہ ہوں، تو دفعہ 503 یا 506 تعزیراتِ پاکستان کا جرم نہیں بنتے۔

ان تمام قانونی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ چونکہ ابتدائی طور پر درج کی گئی ایف آئی آر صرف ایک غیر تعزیری جرم پر مبنی تھی اور مجسٹریٹ کی اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی، اس لیے پولیس کے پاس ایف آئی آر درج کرنے اور تفتیش شروع کرنے کا قانونی اختیار موجود نہیں تھا۔ بعد ازاں شامل کی گئی تعزیری دفعات اس بنیادی قانونی نقص کو دور نہیں کر سکتیں۔ لہٰذا عدالت نے ایف آئی آر کو کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست منظور کر لی۔

📍Ratio Decidendi (اصولی قانونی نکتہ):

کسی ایف آئی آر کی قانونی حیثیت کا تعین اس وقت موجود حقائق اور دفعات کی بنیاد پر کیا جائے گا جب وہ درج کی گئی ہو۔ اگر ایف آئی آر صرف غیر تعزیری جرم کے متعلق ہو تو دفعہ 155(2) ضابطۂ فوجداری کے تحت مجسٹریٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر پولیس نہ ایف آئی آر درج کر سکتی ہے اور نہ ہی تفتیش شروع کر سکتی ہے۔ ایسی غیر قانونی کارروائی کو بعد میں تعزیری دفعات شامل کر کے یا دورانِ تفتیش نئی قانونی رائے اختیار کر کے درست نہیں بنایا جا سکتا، خصوصاً جب معاملہ عدالت کے سامنے قبل از اخذِ سماعت (pre-cognizance stage) چیلنج کیا گیا ہو۔

ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن روکنے سے متعلق  ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ..................  ہائیکورٹ نے ایک اہم اور اصولی فیصلہ ...
14/07/2026

ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن روکنے سے متعلق ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ..................
ہائیکورٹ نے ایک اہم اور اصولی فیصلہ دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ محض آڈٹ اعتراض، انکوائری، ایف آئی آر یا غیر ثابت شدہ الزامات کی بنیاد پر کسی ریٹائرڈ ملازم کی پنشن، گریجویٹی اور دیگر ریٹائرمنٹ فوائد نہیں روکے جا سکتے۔

عدالت نے زرعی ترقیاتی بینک (ZTBL) کی اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ:

✅ پنشن کوئی خیرات یا سرکاری مہربانی نہیں بلکہ ملازم کا قانونی اور حاصل شدہ حق (Vested Right) ہے، جو برسوں کی ایماندارانہ سرکاری خدمت کے بعد حاصل ہوتا ہے۔

✅ صرف آڈٹ اعتراض (Audit Objection) کسی ملازم کی ذمہ داری یا قصور کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا۔ جب تک قانون کے مطابق باقاعدہ کارروائی مکمل نہ ہو، پنشن روکنا غیر قانونی ہے۔

✅ اگر کسی ملازم کے خلاف ایف آئی آر درج ہو لیکن تفتیش میں وہ بے گناہ قرار پائے، تو اس کی پنشن مزید روکنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔

✅ ریٹائرمنٹ فوائد روکنے سے پہلے متعلقہ ملازم کو مکمل قانونی موقع سماعت (Due Process) دینا لازمی ہے، بصورت دیگر ایسی کارروائی قانون کے خلاف ہوگی۔

✅ عدالت نے قرار دیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن اور دیگر واجبات کی بروقت ادائیگی ریاست اور ادارے کی قانونی ذمہ داری ہے، کیونکہ یہی ریٹائرڈ ملازم اور اس کے خاندان کی معاشی زندگی کا بنیادی سہارا ہوتے ہیں۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے دوبارہ یہ اصول دہرایا کہ:

"پنشن ملازم کا قانونی حق ہے، اسے بلاجواز یا غیر معینہ مدت تک روکا نہیں جا سکتا۔"

یہ فیصلہ ان تمام سرکاری ملازمین کے لیے ایک مضبوط قانونی نظیر ہے جن کی پنشن، گریجویٹی، جی پی فنڈ یا دیگر ریٹائرمنٹ واجبات محض آڈٹ اعتراضات، انکوائریوں یا غیر حتمی الزامات کی بنیاد پر روکے گئے ہیں۔











Address

Office No 803 Third Floor, Sharjah Trade Center New Challi
Karachi
74400

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 21:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when R & AP Advocates & Legal Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share