Health Care Pharmaceutical Consultants Since 2011

Health Care Pharmaceutical Consultants Since 2011 Legal services relating to Pharmaceutical, Health Care, Drugs Court matters all over Paksitan

30/10/2025
29/10/2025

میرا اشرف چوہدری پہ اعتراض کرنا بہت لوگوں کو برا لگا ہے لیکن میں نے ان جیسے لوگوں کی وجہ سے اپنے سامنے لوگوں کو مرتے دیکھا ہے، ان کی زندگی برباد ہوتے دیکھی ہے۔ میں کیسے نہ ایسے شخص پہ انگلی اٹھاؤں؟

ظاہری باتوں سے ہٹ کر جب آپ کسی بھی شے کا گہرائی میں معائنہ کرتے ہیں تو آپ پہ بہت سی حقیقتیں کھلتی ہیں۔ سب سے پہلے شوگر کو سمجھیے۔

ہم کوئی بھی چیز کھائیں تو ہمارے جسم میں اس کی توڑ پھوڑ ہوتی ہے اور اس میں موجود شوگر ہمارے خون میں جا کر وہاں شوگر کی مقدار بڑھا دیتی ہے۔ ہمارے جسم میں انسیولین بنتی ہے اور خون سے شوگر کو لے کر جسم کے مختلف حصوں میں سٹور کر دیتی ہے۔ اگر انسیولین نہ بنے، کام نہ کر پائے تو شوگر کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ یا اگر بہت عرصے تک بدپرہیزی کرتے رہیں تو مسلسل خون میں بڑھا ہوا شوگر کا لیول آپ کو اس مرض کا شکار کر سکتا ہے۔

اسے ٹائپ ٹو ذیابیطس کہتے ہیں۔ شوگر کی دوسری قسم جسے ٹائپ ون کہا جاتا ہے جسم میں انسیولین کے نہ بننے سے ہوتی ہے۔ ٹائپ ٹو کو غذا اور ورزش کے اندر تبدیلی لا کر شروع میں بہت آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ٹائپ ون کے لیے انسیولین کے علاوہ کوئی حل ہی نہیں ہوتا۔ اشرف چوہدری کا یہ دعویٰ کہ شوگرکے لیے انسیولین کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، جھوٹا ہے۔ سب علاج کرنے والوں کو مافیا کہنا گمراہ کن ہے کیونکہ ٹائپ ون میں انسیولین نہ لیں تو زندگی نہیں بچتی۔

ٹائپ ٹو کے لیے کسی بھی ماہر غذائیت سے نسخہ بنوائیے اور اس پہ سختی سے عمل کیجیے، آپ کو ادویات کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اتنی سی بات کے لیے آپ کو بیس پچیس ہزار لگا کر کسی کورس کو جوائن کرنے کی ضرورت نہیں۔

لیکن یہ کہنا کہ شوگر کا علاج دوائی نہیں ، غذا ہے اور اس کے لیے میرا پچیس ہزار کا کورس جوائن کریں، آپ کو لوٹنے کا بہانہ ہی ہے۔
اور عوام کو لوٹنے کے لیے پھر شوگر کے باقی ہر علاج کو فریب قرار دینا، اپنا شکار گھیرنے کے لیے اسے باقی سب سے متنفر کرنا سیدھی سادی گمراہی ہے۔

یہ سادہ سی بات بچہ بچہ جانتا ہے کہ شوگر کی بیماری کا غذا کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ اس لیے اگر شوگر سے بچنا ہے یا اس کو ابتدائی طور پہ کنٹرول کرنا ہے تو اپنی غذا کو ٹھیک رکھنا ہو گا۔ دوسری چیز ورزش ہے، جو آپ کے خون میں موجود اضافی شوگر کو استعمال میں لانے کا باعث بنتی ہے۔ آپ غذا اور ورزش کا خیال رکھیے اور بچے رہیے۔

ہر ڈاکٹر ، ہر معالج شوگر کے ہر مریض کو پہلی بات ہی یہ کہتا ہے کہ اپنی غذا پہ دھیان دیں، ورزش کرنا شروع کریں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں پچیس ہزار کا کورس خرید کر تو غذا پہ دھیان دیا جا سکتا ہے، مفت کے ملے مشورے پہ نہیں دیا جا سکتا۔

پھر اس فاتح کا یہ دعویٰ کہ شوگر کا علاج ممکن ہے ، جھوٹا دعویٰ ہے۔ علاج اور احتیاط میں فرق ہوتا ہے، اگر آپ یہ فرق نہیں سمجھتے تو آپ اس سے لٹنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔ اگر آپ شوگر کے مرض کا شکار ہو چکے ہیں تو جب تک آپ غذا اور ورزش کا دھیان رکھیں گے، آپ کی شوگر کنٹرول رہے گی ، جب بے احتیاطی کریں گے پھر بگڑ جائے گی۔ اسے مسلسل احتیاط سے قابو میں رکھا جاتا ہے، اسے علاج نہیں کہا جاتا۔

اس کے بعد سمجھنے والی بات یہ ہے کہ شوگر کے ہر مریض کا مرض ایک درجے پہ نہیں ہوتا۔ کوئی صرف ان احتیاطی تدابیر سے شوگر کنٹرول کر سکتا ہے اور کسی کا مرض اتنا آگے بڑھ چکا ہوتا ہے کہ دوائی لینے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ سب مریضوں کو ایک صف میں نہیں کھڑا کیا جا سکتا۔ ایسا کرنے والا بددیانت ہو گا۔

اب وہ مریض جن کا مرض بگڑا ہوا ہے ، انھیں بھی اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اپنے کورس میں رکھ کر ان کا مرض مزید بگاڑنا تباہ کن ہے۔ انھیں دوائیوں سے متنفر کرنا ان کی جان کے ساتھ کھیلنا ہے۔

یاد رہے شوگر کے مریض کا مرض بگڑے تو اسے جسمانی طور پہ کوئی زیادہ مسئلہ نہیں بنتا لیکن خون میں شوگر کی بڑھی ہوئی مقدار مسلسل اس کے گردے، دل ، آنکھیں، خون کی شریانیں ، سب کو نقصان پہنچاتی رہتی ہے اور جب جسم میں مسائل بننا شروع ہو جاتے ہیں تب اتنا نقصان ہو چکا ہوتا ہے کہ علاج کر کے بھی تلافی نہیں ہوتی۔

اس لیے یہ طے کرنا کہ کس مریض کو کب صرف غذائی تبدیلی کی ضرورت ہے اور کب باقاعدہ علاج کی ، انتہائی ضروری ہے۔ جو یہ نہیں کرتا وہ لوگوں کو گمراہ کر کے ان کا نقصان ہی کر رہا ہے۔

یہ فاتح صاحب خود کہتے ہیں کہ میں کوئی ماہر غذائیت نہیں، کوئی ڈاکٹر نہیں تو پھر یہ ان کے علم کو چیلنج کر کے انھیں غلط کہنے کا جواز ہی کیسے رکھتے ہیں۔ پھر ان کے کورس لینے کے بجائے کسی ماہر غذائیت سے کھانے کی ترتیب بنوانے اور اس پہ عمل کرنے پہ ہی کیوں اکتفا نہ کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ میں نے اٹھارہ سال دوائی کھائی اور پھر تین دن میں میری شوگر ٹھیک ہو گئی ، یہ سراسر جھوٹا دعویٰ ہے۔ ہمارے پیچیدہ جسمانی نظام کے متعلق رکھنے والا کوئی بھی انسان اس دعویٰ کے جھوٹا ہونے میں کوئی شک نہیں رکھتا۔

لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن مختصر یہ کہ شوگر ایک باقاعدہ بیماری ہے۔ اس کا علاج اس کے ماہرین سے کروانا چاہیے۔ غذائی احتیاط ضرور کریں اور اس کا مشورہ کسی باتوں کے غازی سے نہیں کسی ماہر غذائیت سے لیں۔ اس کے متعلق غلط بیانیہ پھیلانے والا، علاج کرنے والوں کو مافیا کہہ کر عام عوام کو ان سے متنفر کرنے والا لوگوں کو گمراہ ہی کر رہا ہے اور اس گمراہی کا شکار لوگ بروقت علاج نہ کروا کے اپنا جو نقصان کریں گے، اس کا ذمہ دار یہی شخص ہوگا، اس لیے اس کی باتوں سے بچنا اور بچانا ہی ہر کسی کی ذمہ داری ہے۔

۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نوید خالد تارڑ ۔۔۔۔۔

27/10/2025

ہمارے ہاں عموما چینی کو برا
جبکہ شکر گڑ شہد کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔
چلیں آج ان سب کی نیوٹریشن ویلیو دیکھتے ہیں
اور دیکھتے ہیں کہ ہمارے لئے سب سے بہتر کیا ہے۔
چلیں چینی سے شروع کرتے ہیں
فیس بک اور باقی سوشل میڈیا پر چینی کو کوکین سے برا اور زہر بتایا جاتا ہے۔
سب سے زیادہ ہر جگہ چینی ہی استعمال ہوتی ہے
بہت ہی زیادہ پراسیس ہوا ایک میٹھا جو گنے سے ہی بنتا ہے
اس کا گلائمکس انڈیکس 65 سے 70 تک ہوتا ہے۔
کیلوریز کی بات کریں تو 390 کیلوریز ایک سو گرام چینی سے ہمیں ملتی ہیں
کوئی خاص نیوٹریشن یا منرلز نہیں۔ بس اچانک سے پیور انرجی بوسٹ

2- شکر یا گڑ
جو لوگ چینی کو ولن بناتے ہیں وہی شکر یا گڑ کو مہان سمجھتے ہیں اور اسے ہیلتھی سمجھتے ہیں
اس میں بہت ہی کم مقدار میں آئرن اور پوٹاشیم پایا جاتا ہے۔
اگر گلائسمکس انڈیکس کی بات کریں تو 70 سے 84 تک جاتا ہے۔ یعنی یہ چینی سے کہیں زیادہ بلڈ شوگر کو سپائک دیتا ہے۔
اگر کیلوریز کی بات کریں تو 380 کیلوریز 100 گرام شکر سے ملتی ہیں
اور رہی بات پراسیس کی تو بہت سے لوگ اسے گورا چٹا کرنے کے لئے نہ جانے کیا کیا ملاتے ہیں۔ اس کا درست ڈیٹا بھی موجود نہیں۔

3- شہد
میرا اور آپ سب کا پسندیدہ
حکیموں کے نزدیک یہ بلاشک و شبہ شوگر کے مریض کھا سکتے ہیں۔
لیکن ہم اسے بھی چیک کرتے ہیں
مکھی نے ہی پراسیس کیا
بہت شاندار اینٹی آکسیڈین
پیٹ کے لئے بہت شاندار چیز

گلائمیکس انڈیکس 45-69 تک

کیلوریز کی بات کریں تو 240 سے 330 تک ایک سو گرام میں
شہد کی قسم کے حساب سے کیلوریز ہوتی ہیں
4- کھجور
ایک مکمل پھل
زیرو پراسیس
آئرن اور فائبر سے بھرپور
انتڑیوں کے لئے شاندار
گلائمیکس انڈیکس صرف 40-55 تک
کھجور کی قسم کے حساب سے ہی انڈیکس ہوتا ہے۔
اگر کیلوریز کی بات کریں تو 315 کیلوریز / سو گرام
تو اس ساری تفصیل کا اگر نچوڑ نکالیں تو چینی چھوڑ کے باقی چیزیں استعمال کرنے سے آپ کی کیلوریز کو کچھ خاص فرق پڑنے والا نہیں۔ نہ ہی چینی ولن اور باقی چیزیں دوست ہوں گی۔
لیکن ایک بہتر چوائس شہد اور کھجور ہو سکتی ہے پر وہ بھی لمٹ میں رہ کے۔
یعنی ایک دن میں تین کھجوریں ہی کافی ہیں۔
اگر چینی استعمال کرنی ہو تو بھی سارے دن میں دو چمچ کافی ہیں

چلیں اب بات کرتے ہیں کہ اگر شوگر کے مریض ہیں اور میٹھا نہیں چھوڑ سکتے تو سٹیو یا یا پھر مونک فروٹ پاؤڈر کے استعمال کا
اٹیویا وور مونک فروٹ دونوں ہی زیرو کیلوریز ہیں
آٹو یا چینی سے دو سو گنا میٹھا ہوتا ہے۔
جہاں چینی کا ایک چمچ درکار ہوتا ہے وہیں سٹو یا کی ایک چٹکی کافی رہتی ہے
لیکن اس میں ایک برائی ہے کہ یہ بعد میں کڑواہٹ لاتا ہے
پاؤڈر استعمال کریں یا پتے۔ مرضی آپ کی
وہیں مونک فروٹ کی بات کریں تو یہ تین سو گنا تک زیادہ مٹھاس دیتا ہے۔
اور استعمال کے بعد بھی مٹھاس بحرحال موجود رہتی ہے
یہ سویٹنر کے طور پر استعمال کئے جا سکتے ہیں
لیکن اگر شوگر نہیں ہے تو آپ چینی بھی گزارے لائق استعمال کر سکتے ہیں۔
WHO کے مطابق آپ اپنی روز کی کیلوریز کا دس فیصد چینی سے لے سکتے ہیں
لیکن میرے خیال سے اس سے بھی تھوڑا کم ہی استعمال کریں تو بہتر ہے۔ تاکہ کیلوریز کا پورشن بچ سکے۔
جو سویٹنر آپ کے استعمال نہیں کرنے ان کے نام
Sucralose
یہ ڈائٹ پیپسی میں استعمال ہوتا ہے۔
ہمارے پیٹ کے اچھے بیکٹیریا کی موت کی وجہ بن سکتا ہے۔
Aspartame
یہ ڈائٹ کوک میں استعمال ہوتا ہے
یا پھر پیپسی میکس میں بھی یہی ہوتا ہے
Acesulfame-k
یہ کوک زیرو میں موجود ہوتا ہے اور کچھ انرجی ڈرنکس جو شوگر فری کے نام پر مارکیٹ میں موجود ہیں
Saccharin-
یہ بھی کافی قسم کے میٹھے شوگر فری کیکس میں استعمال ہوتا ہے
Neotame
یہ بھی لو کیلوریز بیکری اور ڈیرے آئسکریم وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔
اس لئے یاد رکھیں ہر شوگر فری کا مطلب ہیلتھی نہیں ہے
یہ پوسٹ اپنے ان دوستوں کے ساتھ شئیر کریں جو چینی سے تو پرہیز کرتے ہیں لیکن چینی سے بچتے ہوئے خطرناک کیمیکل استعمال کرتے ہیں

17/10/2025
13/10/2025
14/09/2025

برطانیہ میں تعینات ایک پاکستانی ڈاکٹر نے مریض کو بیہوش کرنے کے بعد آپریشن تھیٹر چھوڑ کر نرس کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرتے ہوئے پکڑا گیا۔

مزید پڑھیں:https://dialoguepakistan.com/ur/world/brtnyh-myn-pkhstny-ddkhttr-apryshn-khy-dwrn-mryd-khw-chhwrr-khr-nrs-sy-sykhs-khrt-pkhrr-gy

پاکستان میں بدلتے سیاسی حالات، عالمی ، دلچسپ اور دیگر خبروں کیلیے ڈائیلاگ پاکستان کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں 👇

https://whatsapp.com/channel/0029Vaft3QLK5cDF5z7HmD2T

*x

09/08/2025

Address

Bayer Health Care
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Health Care Pharmaceutical Consultants Since 2011 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Health Care Pharmaceutical Consultants Since 2011:

Share