Legal consultancy online

Legal consultancy online we are available for legal consultancy
family and civil matter dealing also Tax matter dealing

 #“Family | NADRA | Property LawLegal awareness only – not legal adviceKarachi📲 WhatsApp available"
22/01/2026

#“Family | NADRA | Property Law
Legal awareness only – not legal advice
Karachi
📲 WhatsApp available
"

( Family Law)❓ کیا آپ کو معلوم ہے؟پاکستانی قانون اور اسلام کے مطابقبیوی نان و نفقہ، حق مہر اور جہیز کی واپسی کی حقدار ہے...
22/01/2026

( Family Law)
❓ کیا آپ کو معلوم ہے؟
پاکستانی قانون اور اسلام کے مطابق
بیوی نان و نفقہ، حق مہر اور جہیز کی واپسی کی حقدار ہے۔
بہت سی خواتین لاعلمی کی وجہ سے اپنا حق نہیں لے پاتیں۔
قانون آپ کو خاموش رہنے پر مجبور نہیں کرتا!
✔ نان نفقہ کیس
✔ خلع و طلاق
✔ حق مہر اور سونا
✔ فیملی کورٹس کا مکمل طریقہ
📩 مفت ابتدائی قانونی رہنمائی کے لیے انباکس کریں
📞 WhatsApp #03242168867 پر رابطہ کریں




عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے میں تاخیر = آپکو حق سے محرومی کر سکتا ⚖ہر مقدمہ، اپیل اور دعویٰ وقت کی ایک حد کے اندر دائر کرن...
21/01/2026

عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے میں تاخیر = آپکو حق سے محرومی کر سکتا ⚖
ہر مقدمہ، اپیل اور دعویٰ وقت کی ایک حد کے اندر دائر کرنا لازم ہوتا ہے۔

📌 چند نہایت اہم قانونی وقت جس کے اندر آپکو عدالت جانا ہوتا -

🔹 سول (دیوانی) اپیل (ڈسٹرکٹ کورٹ) — 30 دن
🔹 ہائی کورٹ میں پہلی اپیل — 90 دن
🔹 ہائی کورٹ میں دوسری اپیل — 60 دن
🔹 ریویژن (Revision) — 90 دن

💰 رقم کی وصولی / معاہدے کی خلاف ورزی — 3 سال
🏠 غیر منقولہ جائیداد کا قبضہ — 12 سال
📜 ڈگری کی تکمیل (Ex*****on) — 12 سال

📝 تحریری جواب (Written Statement)
عدالتی سمن کے بعد:
➡️ 30 دن (زیادہ سے زیادہ 90 دن تک توسیع)

🚗 موٹر ایکسیڈنٹ کلیم
❗ کوئی مخصوص حد نہیں، مگر تاخیر کیس کو کمزور کر سکتی ہے

⚠️ چیک ڈس آنر (سیکشن 138)
📨 قانونی نوٹس — 30 دن کے اندر
📄 مقدمہ — نوٹس کی 15 دن کی مدت ختم ہونے کے بعد 30 دن میں

📢 یاد رکھیں:
قانون مدد ضرور دیتا ہے، مگر سوئے ہوئے شخص کو نہیں جگاتا۔
وقت گزر جائے تو مضبوط سے مضبوط کیس بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

"حق مہر" کے موضوع پر ایک تفصیلی اور معلوماتی بلاگ، جو اسلامی تعلیمات اور پاکستانی قوانین کے اہم پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔...
18/01/2026

"حق مہر" کے موضوع پر ایک تفصیلی اور معلوماتی بلاگ، جو اسلامی تعلیمات اور پاکستانی قوانین کے اہم پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔
حق مہر: اسلامی تعلیمات اور پاکستانی قانون کی روشنی میں ایک جامع گائیڈ
مسلم معاشرے میں نکاح صرف دو افراد کا ملاپ نہیں بلکہ ایک مضبوط سماجی اور قانونی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کا ایک لازمی حصہ "حق مہر" ہے، جسے اکثر لوگ محض ایک رسم سمجھتے ہیں یا اس کی اہمیت سے غافل رہتے ہیں۔ اس بلاگ میں ہم حق مہر کی شرعی حیثیت اور پاکستانی قانون میں اس کے تحفظ کے بارے میں تفصیل سے بات کریں گے۔
حق مہر کیا ہے؟
حق مہر وہ رقم یا مال ہے جو نکاح کے وقت شوہر اپنی بیوی کو اعزاز کے طور پر ادا کرنے کا عہد کرتا ہے۔ یہ عورت کا وہ مالی حق ہے جو اسے اسلام نے تحفظ فراہم کرنے اور اس کی معاشی خود مختاری کے لیے عطا کیا ہے۔
1. اسلامی نقطہ نظر
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے ادا کرو۔" (سورۃ النساء: 4)
اسلام میں حق مہر کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد مقرر نہیں ہے، بلکہ یہ شوہر کی حیثیت اور دونوں خاندانوں کی باہمی رضامندی سے طے پاتا ہے۔ یہ بیوی کی ملکیت ہے اور اس پر اس کے والدین یا شوہر کا کوئی حق نہیں۔
2. حق مہر کی اقسام
پاکستانی قانون اور شریعت میں مہر کی دو بڑی اقسام رائج ہیں:
مہرِ معجل (Prompt Mahr): یہ وہ مہر ہے جو نکاح کے فوراً بعد یا بیوی کے مطالبہ کرنے پر فوراً ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔ بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ جب تک مہر معجل ادا نہ کیا جائے، وہ رخصتی سے انکار کر سکتی ہے۔
مہرِ مؤجل (Deferred Mahr): یہ وہ مہر ہے جس کی ادائیگی کے لیے ایک خاص وقت مقرر کیا جاتا ہے، جیسے کہ طلاق یا شوہر کی وفات کی صورت میں۔ تاہم، میاں بیوی باہمی رضامندی سے اسے زندگی میں کبھی بھی ادا کر سکتے ہیں۔
3. پاکستانی قانون اور نکاح نامہ
پاکستان میں 'مسلم فیملی لا آرڈیننس 1961' کے تحت نکاح نامے میں حق مہر کی تفصیلات درج کرنا لازمی ہے۔ نکاح نامے کے درج ذیل کالمز انتہائی اہمیت کے حامل ہیں:
کالم نمبر 13: یہاں مہر کی کل رقم درج کی جاتی ہے۔
کالم نمبر 14: یہاں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ مہر 'معجل' ہے یا 'مؤجل'۔ اگر یہ خانہ خالی چھوڑ دیا جائے تو عدالت عام طور پر اسے 'معجل' (یعنی فوراً واجب الادا) تصور کرتی ہے۔
کالم نمبر 15 اور 16: اگر مہر میں نقد رقم کے بجائے کوئی جائیداد (گھر، زمین یا سونا) دی گئی ہے تو اس کی تفصیل یہاں درج ہوتی ہے۔
اہم قانونی نکتہ: سپریم کورٹ آف پاکستان کے متعدد فیصلوں کے مطابق، اگر نکاح نامے کے کالم میں کوئی جائیداد مہر کے طور پر لکھی گئی ہے، تو بیوی اس کی قانونی مالک بن جاتی ہے۔ اس کے لیے الگ سے رجسٹری کروانا ضروری نہیں، نکاح نامہ خود ایک ملکیتی سند کی حیثیت رکھتا ہے۔
4. طلاق اور خلع کی صورت میں مہر
طلاق کی صورت میں: اگر شوہر طلاق دیتا ہے تو اسے طے شدہ مہر ہر صورت میں ادا کرنا ہوگا، چاہے وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
خلع کی صورت میں: اگر بیوی عدالت کے ذریعے خلع لیتی ہے، تو عام طور پر اسے اپنا مہر (یا اس کا کچھ حصہ) چھوڑنا پڑتا ہے۔ تاہم، اگر بیوی شوہر کے تشدد یا حقوق کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر خلع لے رہی ہو، تو عدالت شوہر کو مہر کی واپسی سے روک سکتی ہے۔
5. عام غلط فہمیاں اور ان کا ازالہ
"مہر صرف طلاق کی صورت میں ملتا ہے": یہ غلط ہے۔ اگر مہر 'معجل' ہے تو بیوی نکاح کے اگلے ہی دن اس کا مطالبہ کر سکتی ہے۔
"شوہر کی وفات پر مہر ختم ہو جاتا ہے": بالکل نہیں! مہر شوہر پر ایک "قرض" ہے۔ اگر شوہر وفات پا جائے تو اس کے ترکے (وراثت) میں سے سب سے پہلے اس کا قرض یعنی حق مہر ادا کیا جائے گا، اس کے بعد وراثت تقسیم ہوگی۔
"معاف کر دینا": اکثر رواج ہے کہ دلہن سے پہلی رات مہر معاف کروا لیا جاتا ہے۔ قانونی طور پر اس کی کوئی اہمیت نہیں جب تک کہ بیوی اپنی مرضی سے، بغیر کسی دباؤ کے تحریری طور پر اسے معاف نہ کرے۔
نتیجہ
حق مہر عورت کو دیا گیا ایک ایسا قانونی اور شرعی تحفظ ہے جو اسے مشکل حالات میں معاشی سہارا فراہم کرتا ہے۔ نکاح کے وقت نکاح نامے کے تمام کالمز، خاص طور پر حق مہر سے متعلقہ حصوں کو غور سے پڑھنا اور صحیح معلومات درج کرنا نہایت ضروری ہے۔
اگر آپ کا حق مہر ادا نہیں کیا جا رہا، تو آپ پاکستان کی فیملی کورٹس سے رجوع کر سکتے ہیں، جہاں ان کیسز کا فیصلہ ترجیحی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔
اگر آپ کو یہ بلاگ پسند آیا ہو یا آپ کا کوئی سوال ہو، تو نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں!

18/01/2026
14/01/2026

ایک پروفیشنل وکیل کے بنیادی اصول۔

1. آئے ہوئے کلائنٹ سے مہذب طریقے سے بات کریں اس سے کیس کی مطابق مکمل فیس طے کریں جس میں کوئی ہڈن چارجز نہ ہوں۔

2. فیس طے ہونے کی صورت میں اس سے پہلے وکالت نامہ سائن کرائیں اور طے شدہ فیس کا 50 فیصد وصول کرتے ہوئے اس کے کیس کو پورے دھیان سے سنیں اور بولتے ہوئے پوائنٹس نوٹ کریں، باقی فیس کا دورانیہ چھ ماہ کا رکھ لیں تاکہ کلائنٹ معاشی طور پر تکلیف میں نہ ائے۔

3. کیس داخل کرتے ہوئے اسکے مکمل قوائف کے ساتھ کیس بنا کر داخل کریں، خیال رکھیں کہ وہ کسی قانون قانونی نقطہ نظر سے ہٹ نہ ہو رہا ہو۔

4. اپنے کلائنٹ کو کھانا چائے وغیرہ اپنے پیسوں سے کھلائیں بصورت دیگر اپ اپنی پروفیشنل فیس کھو سکتے ہیں۔

5. اپنے کلائنٹ کے ساتھ کبھی سفر نہ کریں اور اپنی سواری پر سفر کو ترجیح دیں۔
(کیونکہ گولیاں جب چلتی ھیں تو گولی کی آنکھ نہیں ھوتی)

6. اپ کا کام صرف کیس میں محنت کرنا اور جج کے سامنے اپنے کلائنٹ کی جنگ لڑنا ہے عدالتی فیصلے کی بابت پہلے سے پیشنگوئی ہرگز نہ کریں۔

7. کلائنٹ کے معاملات کی بابت تھانے کبھی نہ جائیں اور نہ ہی تھانے جانا وکیل کا کام ہے صرف عدالتی امور کی حد تک کلائنٹ کے معاملات کو دیکھیں، کورٹ کا آرڈر کے کر خود تھانے پہنچ جانا وکیل کا کام نہیں کیونکہ عدالت آرڈر اسی دن کورٹ محرر کے ذریعے تھانہ کو پہنچادیتی ھے۔ جس پر عمل کرنا تھانہ کی ذمہ داری ہے اگر اسٹیشن ہاؤس افیسر اس پر عمل نہیں کرتا تو اس پہ توہین عدالت کی جا سکتی ہے یا اسے عدالت میں پیش کروایا جا سکتا ہے۔ اس لیے بیلف، منشی یا کورٹ محرر نہ بنے وکیل بنے اور اپنی عزت کروائیں۔

8. کیس چاہے اپ ہار جائیں مگر اپ نے اگر سائل کا کیس محنت سے لڑا ہوا تو اپ ذہنی طور پر پرسکون رہیں گے۔

9. اپنے سے سینیئر وکلا اور مخالف وکیل کی عزت اور جونئیر وکلاء سے شفقت سے پیش آئیں۔

10. عدالت اور جج کا احترام ایک پروفیشنل وکیل کی اولین ترجیح ہوتی ہے، لحاظہ بے وجہ ججز سے نہ الجھیں، اگر جج مس کنڈکٹ کررہا ھے تو اس کے خلاف چیف جسٹس کو بذریعہ میمبر انسپیکشن ٹیم۔2 کے پاس تحریری شکایت بمعہ حلف نامہ لگائیں، جس میں مس کنڈکٹ کی وجہ،اس کے ثبوت درخواست کے ساتھ متصل کرئیں۔ بے وجہ ججز کو ھدف تنقید یا اپنی غلطی, کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے نہ عدالت کو موروز الزام ٹھہرائیں نا جج کے خلاف جھوٹی درخواست دے کر ججز کا مورال ڈاؤن کریں۔ کیونکہ فیصلے خود بولتے ھیں۔ کہ وہ انصاف پر مبنی ھیں یا ناقص العقلی، ناقص العلمی یا بدنیتی پر مبنی ھیں۔

26/12/2025

پاکستان میں ٹیکس کی اہمیت اور طریقۂ کار
ٹیکس کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی ٹیکس ادا کرنا نہ صرف ایک قانونی ذمہ داری ہے بلکہ ایک قومی فریضہ بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ٹیکس سے متعلق آگاہی کی کمی پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے ملک کو مالی مشکلات کا سامنا

ٹیکس کیا ہے؟
ٹیکس وہ رقم ہے جو حکومت شہریوں سے ان کی آمدن، کاروبار، جائیداد یا اشیاء و خدمات پر وصول کرتی ہے، تاکہ ملک کے انتظامی امور، ترقیاتی منصوبے، تعلیم، صحت، دفاع اور دیگر عوامی سہولیات فراہم کی جا سکیں

۔
پاکستان میں ٹیکس کی اہمیت
پاکستان میں ٹیکس کی اہمیت درج ذیل وجوہات کی بنا پر بہت زیادہ ہے:
1.قومی ترقی اور انفراسٹرکچر کی بہتری
2.تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے منصوبے
ملک کو قرضوں پر انحصار سے بچانا
3.معاشی استحکام اور روزگار کے مواقع
4.قانون کی بالادستی اور شفاف نظام
جب شہری ٹیکس ادا کرتے ہیں تو حکومت عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے قابل ہوتی ہے
۔
پاکستان میں ٹیکس کی اقسام
پاکستان میں عام طور پر درج ذیل ٹیکس رائج ہیں:
انکم ٹیکس: تنخواہ دار اور کاروباری افراد کی آمدن پر
سیلز ٹیکس: اشیاء اور خدمات پر
ایڈوانس ٹیکس: مختلف لین دین پر پیشگی وصولی
ودہولڈنگ ٹیکس: بینک، موبائل، بجلی، جائیداد وغیرہ پر
پاکستان میں ٹیکس ادا کرنے کا طریقۂ کار
پاکستان میں ٹیکس کا نظام فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)
کے تحت چلتا ہے۔

مرحلہ 1: این ٹی این (NTN) رجسٹریش

سب سے پہلے FBR کی ویب سائٹ پر جا کر اپنا نیشنل ٹیکس نمبر حاصل کیا جاتا ہے۔
مرحلہ 2: آمدن کی تفصیل دینا
سالانہ آمدن، اثاثہ جات اور اخراجات کی مکمل معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
مرحلہ 3: انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنا
ہر سال مقررہ تاریخ تک آن لائن ریٹرن فائل کیا جاتا ہے۔
مرحلہ 4: ٹیکس کی ادائیگی
بینک یا آن لائن نظام کے ذریعے واجب الادا ٹیکس جمع کروایا جاتا ہے۔

ٹیکس نہ دینے کے نقصانات
جرمانے اور قانونی کارروائی
نام نان فائلر کی فہرست میں شامل ہونا
جائیداد اور گاڑی پر زیادہ ٹیکس
بینک اور کاروباری سہولیات میں مشکلات
ٹیکس دہندہ بننے کے فوائد
قانونی تحفظ
کم ٹیکس کی شرح
کاروباری اعتبار میں اضافہ
قومی خدمت کا احساس

نتیجہ
ٹیکس دینا صرف حکومت کی مدد نہیں بلکہ اپنے ملک کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ اگر ہر صاحبِ حیثیت شہری ایمانداری سے ٹیکس ادا کرے تو پاکستان معاشی طور پر مضبوط اور خود مختار بن سکتا ہے۔

Address

City Court Karachi
Karachi
75100

Opening Hours

Monday 17:00 - 21:00
Tuesday 17:00 - 21:00
Wednesday 17:00 - 21:00
Thursday 17:00 - 21:00
Friday 17:00 - 21:00
Saturday 17:00 - 21:00

Telephone

+923242168867

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal consultancy online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Legal consultancy online:

Share