14/01/2026
ایک پروفیشنل وکیل کے بنیادی اصول۔
1. آئے ہوئے کلائنٹ سے مہذب طریقے سے بات کریں اس سے کیس کی مطابق مکمل فیس طے کریں جس میں کوئی ہڈن چارجز نہ ہوں۔
2. فیس طے ہونے کی صورت میں اس سے پہلے وکالت نامہ سائن کرائیں اور طے شدہ فیس کا 50 فیصد وصول کرتے ہوئے اس کے کیس کو پورے دھیان سے سنیں اور بولتے ہوئے پوائنٹس نوٹ کریں، باقی فیس کا دورانیہ چھ ماہ کا رکھ لیں تاکہ کلائنٹ معاشی طور پر تکلیف میں نہ ائے۔
3. کیس داخل کرتے ہوئے اسکے مکمل قوائف کے ساتھ کیس بنا کر داخل کریں، خیال رکھیں کہ وہ کسی قانون قانونی نقطہ نظر سے ہٹ نہ ہو رہا ہو۔
4. اپنے کلائنٹ کو کھانا چائے وغیرہ اپنے پیسوں سے کھلائیں بصورت دیگر اپ اپنی پروفیشنل فیس کھو سکتے ہیں۔
5. اپنے کلائنٹ کے ساتھ کبھی سفر نہ کریں اور اپنی سواری پر سفر کو ترجیح دیں۔
(کیونکہ گولیاں جب چلتی ھیں تو گولی کی آنکھ نہیں ھوتی)
6. اپ کا کام صرف کیس میں محنت کرنا اور جج کے سامنے اپنے کلائنٹ کی جنگ لڑنا ہے عدالتی فیصلے کی بابت پہلے سے پیشنگوئی ہرگز نہ کریں۔
7. کلائنٹ کے معاملات کی بابت تھانے کبھی نہ جائیں اور نہ ہی تھانے جانا وکیل کا کام ہے صرف عدالتی امور کی حد تک کلائنٹ کے معاملات کو دیکھیں، کورٹ کا آرڈر کے کر خود تھانے پہنچ جانا وکیل کا کام نہیں کیونکہ عدالت آرڈر اسی دن کورٹ محرر کے ذریعے تھانہ کو پہنچادیتی ھے۔ جس پر عمل کرنا تھانہ کی ذمہ داری ہے اگر اسٹیشن ہاؤس افیسر اس پر عمل نہیں کرتا تو اس پہ توہین عدالت کی جا سکتی ہے یا اسے عدالت میں پیش کروایا جا سکتا ہے۔ اس لیے بیلف، منشی یا کورٹ محرر نہ بنے وکیل بنے اور اپنی عزت کروائیں۔
8. کیس چاہے اپ ہار جائیں مگر اپ نے اگر سائل کا کیس محنت سے لڑا ہوا تو اپ ذہنی طور پر پرسکون رہیں گے۔
9. اپنے سے سینیئر وکلا اور مخالف وکیل کی عزت اور جونئیر وکلاء سے شفقت سے پیش آئیں۔
10. عدالت اور جج کا احترام ایک پروفیشنل وکیل کی اولین ترجیح ہوتی ہے، لحاظہ بے وجہ ججز سے نہ الجھیں، اگر جج مس کنڈکٹ کررہا ھے تو اس کے خلاف چیف جسٹس کو بذریعہ میمبر انسپیکشن ٹیم۔2 کے پاس تحریری شکایت بمعہ حلف نامہ لگائیں، جس میں مس کنڈکٹ کی وجہ،اس کے ثبوت درخواست کے ساتھ متصل کرئیں۔ بے وجہ ججز کو ھدف تنقید یا اپنی غلطی, کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے نہ عدالت کو موروز الزام ٹھہرائیں نا جج کے خلاف جھوٹی درخواست دے کر ججز کا مورال ڈاؤن کریں۔ کیونکہ فیصلے خود بولتے ھیں۔ کہ وہ انصاف پر مبنی ھیں یا ناقص العقلی، ناقص العلمی یا بدنیتی پر مبنی ھیں۔