Adv Fareed Behleem

Adv Fareed Behleem Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Adv Fareed Behleem, Criminal lawyer, Ms: 68 First Floor, Moosa Tower, Kala Board, Shahra E Faisal Road, Karachi.

18/08/2026
18/08/2026

*⚖️ ایف آئی آر ختم کروانے کا مکمل قانونی طریقہ کار - ایک جامع قانونی رہنمائی ⚖️*

*تحریر: ارون پرساد
*ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، ممبر سندھ بار کونسل*

---

*تمہید: مسئلے کی سنگینی*

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں "ایف آئی آر کلچر" کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے۔ کاروباری دشمنی، ذاتی رنجش، زمین کا تنازعہ یا محض دباؤ ڈالنے کے لیے جھوٹی اور فرضی کہانیوں کی بنیاد پر تھانے میں ایف آئی آر درج کروا دی جاتی ہے۔

اس کا مقصد انصاف حاصل کرنا نہیں بلکہ مخالف فریق کو تھانے کچہری کے چکر لگوانا، مالی و سماجی طور پر بدنام کرنا اور ذہنی اذیت دینا ہوتا ہے۔

لیکن یہ جان لینا ضروری ہے کہ *پاکستان کا قانون اس معاملے میں بالکل خاموش نہیں ہے*۔ ہمارے قانون میں جھوٹے مقدمات کا سدِباب کرنے کے لیے واضح اور مؤثر طریقہ کار موجود ہے۔

اس تفصیلی مضمون میں ہم مرحلہ وار جانیں گے کہ اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز کسی جھوٹے یا بے بنیاد مقدمے میں پھنس گیا ہے تو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے وہ اپنی جان کیسے چھڑا سکتا ہے۔

---

*حصہ اول: ایف آئی آر کیا ہے اور اسے چیلنج کیوں کیا جا سکتا ہے؟*

*ایف آئی آر - First Information Report* ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت تھانے میں درج ہونے والی وہ پہلی اطلاع ہے جس سے کسی قابلِ دست اندازی جرم کا آغاز ہوتا ہے۔

لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے متعدد فیصلوں میں قرار دیا ہے کہ *"ایف آئی آر مقدس نہیں ہے"*۔ اگر ایف آئی آر خود بدنیتی، جھوٹ اور قانون کے غلط استعمال پر مبنی ہو تو عدالت اسے شروع میں ہی ختم کر سکتی ہے۔

*ایف آئی آر کب "جھوٹی" اور "قابلِ تنسیخ" سمجھی جاتی ہے؟*
1. *بدنیتی Malafide*: جب مقدمہ ذاتی دشمنی یا ہراساں کرنے کے لیے درج کروایا گیا ہو۔
2. *تاخیر Delay*: بغیر کسی معقول وجہ کے واقعہ کے کئی دن بعد ایف آئی آر درج کروانا۔
3. *قانونی تقاضے پورے نہ ہونا*: واقعہ میں کوئی جرم ہی نہ بنتا ہو۔ مثلا سول تنازعہ کو فوجداری رنگ دینا۔
4. *ثبوت کا فقدان*: ایف آئی آر میں لکھی گئی کہانی کا کوئی سر پیر ہی نہ ہو۔

---

*حصہ دوم: ایف آئی آر ختم کروانے کے 4 قانونی راستے*

قانون نے مختلف مراحل کے لیے مختلف راستے دیے ہیں۔ مقدمہ جس مرحلے پر ہے اس کے مطابق درخواست دی جاتی ہے۔

*راستہ نمبر 1: چالان پیش ہونے سے پہلے - ہائی کورٹ کا اختیار | دفعہ 561-A ض ف اور آرٹیکل 199 آئین*

یہ سب سے طاقتور اور جلدی والا طریقہ ہے۔ جیسے ہی آپ کو پتہ چلے کہ آپ کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج ہو گئی ہے اور ابھی پولیس تفتیش کر رہی ہے، چالان عدالت میں پیش نہیں ہوا، تو فوراً ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔

*قانونی بنیاد:*
1. *دفعہ 561-A ضابطہ فوجداری*: یہ ہائی کورٹ کو "Inherent Powers" دیتی ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور عدالت کے عمل کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کوئی بھی حکم جاری کر سکتی ہے۔
2. *آرٹیکل 199 آئین پاکستان*: ہائی کورٹ کسی بھی سرکاری عمل کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر سکتی ہے۔

*کب استعمال کریں؟*
جب ایف آئی آر میں کوئی جرم ہی نہ بنتا ہو۔ جب الزامات بالکل جھوٹے اور ناقابلِ یقین ہوں۔ جب ایف آئی آر محض ہراساں کرنے کے لیے ہو۔

*اہم کیس لاز:*
- *PLD 2005 SC 530*: سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر ایف آئی آر کے متن سے ہی جرم ثابت نہ ہو تو ہائی کورٹ اسے 561-A کے تحت ختم کر سکتی ہے۔
- *2024 SCMR 205*: ڈیجیٹل ثبوت کے بغیر صرف فوٹو/ویڈیو پر ایف آئی آر کو ہائی کورٹ نے ختم کیا۔

*طریقہ کار*: اپنے وکیل کے ذریعے متعلقہ ہائی کورٹ میں "Criminal Miscellaneous Application U/S 561-A CrPC" دائر کریں۔ اس کے ساتھ ایف آئی آر کی کاپی، شواہد اور حلف نامہ لگائیں۔

*راستہ نمبر 2: ٹرائل کے دوران - مجسٹریٹ کی عدالت | دفعہ 249-A ض ف*

اگر پولیس تفتیش کے بعد چالان عدالت میں پیش کر چکی ہے اور ٹرائل شروع ہو گیا ہے، تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

*دفعہ 249-A ضابطہ فوجداری* مجسٹریٹ کو اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی بھی مرحلے پر اگر یہ سمجھے کہ ملزم کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور اسے سزا کا کوئی امکان نہیں ہے، تو وہ ملزم کو فوری طور پر بری کر سکتی ہے۔

*کب فائدہ مند ہے؟*
چھوٹے مقدمات، قابلِ صلح جرائم، یا جہاں استغاثہ کے گواہ عدالت میں آ کر بیان سے مکر جائیں۔

*راستہ نمبر 3: ٹرائل کے دوران - سیشن کورٹ | دفعہ 265-K ض ف*

سنگین جرائم جیسے قتل، ڈکیتی وغیرہ سیشن کورٹ میں چلتے ہیں۔

*دفعہ 265-K ضابطہ فوجداری* سیشن جج کو اختیار دیتی ہے کہ چارج فریم ہونے کے بعد اور گواہوں کے بیانات سے پہلے ہی اگر کیس میں کوئی جان نہ ہو تو وہ ملزم کو بری کر دے۔

یہ دفعہ "Further Inquiry" کے اصول پر کام کرتی ہے۔ اگر کیس میں شک کی گنجائش ہے تو عدالت ملزم کو ٹرائل کی اذیت سے بچا لیتی ہے۔

*راستہ نمبر 4: پولیس کا اپنا اختیار | پولیس رولز 1934 - رول 24.7*

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پولیس کے پاس بھی اختیار ہے۔

*پولیس رولز 1934 کے رول 24.7* کے تحت اگر ایس ایس پی یا ڈی آئی جی کی سطح کا افسر تفتیش کے دوران اس نتیجے پر پہنچے کہ ایف آئی آر جھوٹی، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہے تو وہ اعلیٰ افسران کی منظوری سے اسے "Class C" میں ڈال کر منسوخ کر سکتا ہے۔

*اہم*: اس کے لیے ٹھوس شواہد دینا ہوں گے کہ الزامات جھوٹے ہیں۔ یہ راستہ اس وقت بہتر ہے جب آپ کے پاس شروع میں ہی ثبوت موجود ہوں۔

---

*حصہ سوم: جھوٹی ایف آئی آر درج کروانے والے کے خلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے؟*

قانون صرف ملزم کو بچانے کی بات نہیں کرتا بلکہ جھوٹ بولنے والے کو سزا بھی دیتا ہے۔

1. *دفعہ 182 تعزیرات پاکستان PPC*: جو شخص سرکاری افسر کو جھوٹی اطلاع دے کر اسے تکلیف میں ڈالے، اسے 6 ماہ قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
2. *دفعہ 193 PPC*: عدالت میں جھوٹی گواہی دینے کی سزا 7 سال تک قید ہے۔
3. *دفعہ 211 PPC*: کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے جھوٹا فوجداری مقدمہ درج کروانا - 7 سال تک قید۔
4. *ہتک عزت کا دعویٰ*: آپ سول عدالت میں ہرجانے کا دعویٰ بھی دائر کر سکتے ہیں۔

---

*حصہ چہارم: عملی اقدامات - آپ کو کیا کرنا چاہیے؟*

اگر آپ جھوٹے مقدمے کا شکار ہیں تو یہ 5 قدم فوراً اٹھائیں:

1. *گھبرائیں نہیں*: قانونی راستہ موجود ہے۔
2. *فوراً وکیل سے رابطہ کریں*: وقت بہت اہم ہے۔ چالان سے پہلے 561-A زیادہ مؤثر ہے۔
3. *شواہد اکٹھے کریں*: کال ریکارڈ، واٹس ایپ چیٹ، گواہ، CCTV فوٹیج۔ 2024 SCMR 205 کے بعد فرانزک ثبوت بہت اہم ہیں۔
4. *ضمانت کروائیں*: گرفتاری سے بچنے کے لیے فوری ضمانت قبل از گرفتاری دائر کریں۔
5. *جوابی کارروائی*: بریت کے بعد جھوٹا مقدمہ درج کروانے والے کے خلاف 182 اور 211 PPC کے تحت کارروائی کریں۔

---

*نتیجہ: قانون آپ کے ساتھ ہے*

یاد رکھیں، *"انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار ہے"* لیکن *"جھوٹے مقدمے، انصاف کا قتل ہیں"*۔

ہمارا عدالتی نظام جھوٹے مقدمات کو ختم کرنے کے لیے مکمل طور پر لیس ہے۔ بس ضرورت ہے قانونی حقوق سے آگاہی کی اور وقت پر صحیح قانونی قدم اٹھانے کی۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے تو خاموش نہ بیٹھیں۔ قانون کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔

*"قانون سے لاعلمی عذر نہیں، لیکن قانون سے آگاہی نجات ہے"*

---

*ڈسکلیمر*: یہ معلومات صرف قانونی آگاہی کے لیے ہیں۔ ہر کیس کے حقائق مختلف ہوتے ہیں۔ کوئی بھی قانونی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے وکیل سے مشورہ ضرور کریں۔

* *

15/08/2026

Watch, follow, and discover more trending content.

08/08/2026

Address

Ms: 68 First Floor, Moosa Tower, Kala Board, Shahra E Faisal Road
Karachi
75350

Opening Hours

Monday 17:30 - 22:30
Tuesday 17:30 - 22:30
Wednesday 17:30 - 22:30
Thursday 17:30 - 22:30
Saturday 17:30 - 22:30
Sunday 17:30 - 22:30

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Fareed Behleem posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share