Adv Fareed Behleem

Adv Fareed Behleem Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Adv Fareed Behleem, Criminal lawyer, Ms: 68 First Floor, Moosa Tower, Kala Board, Shahra E Faisal Road, Karachi.

17/09/2026
15/09/2026
کراچی کا مقدمہ: تاریخ نہیں، انتظامی ضرورت کا سوالسندھ کی پانچ ہزار سالہ تاریخ اپنی جگہ قابلِ احترام ہے، مگر آج کے انتظام...
13/09/2026

کراچی کا مقدمہ: تاریخ نہیں، انتظامی ضرورت کا سوال

سندھ کی پانچ ہزار سالہ تاریخ اپنی جگہ قابلِ احترام ہے، مگر آج کے انتظامی مسائل کا فیصلہ صرف قدیم تاریخ کے حوالوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ قدیم تہذیبوں، وادیٔ سندھ اور سپت سندھو کے تاریخی و تہذیبی دائرے کے بارے میں مختلف علمی آرا موجود ہیں؛ اس لیے کسی مخصوص قدیم جغرافیے کو موجودہ صوبائی سرحدوں کے ساتھ براہِ راست منسلک کرنا محتاط تاریخی تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔

اصل سوال آج کا ہے: کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ موجودہ آبادی اور شہری ضروریات کے لیے کافی ہے؟

کراچی خود انتظامی تبدیلیوں کی مثال ہے

کراچی کی موجودہ انتظامی ساخت ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہی۔ مختلف ادوار میں کراچی کے اضلاع، بلدیاتی اداروں اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں۔

2001ء کے سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس نے کراچی کے لیے سٹی ڈسٹرکٹ کا تصور متعارف کرایا اور انتظامی و بلدیاتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی۔ اس قانون میں خود یہ اصول موجود تھا کہ شہری آبادی، معیشت اور موجودہ انتظامی و بلدیاتی انفراسٹرکچر کی ناکافی صلاحیت کی صورت میں انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

بعد کے برسوں میں کراچی کے ضلعی ڈھانچے میں دوبارہ تبدیلیاں ہوئیں۔ ملیر ضلع کی انتظامی حیثیت بھی مختلف ادوار میں تبدیل ہوئی اور بعد ازاں دوبارہ بحال ہوئی۔

آج سرکاری انتظامی ریکارڈ کے مطابق کراچی ڈویژن سات اضلاع پر مشتمل ہے:

1. کراچی جنوبی
2. کراچی شرقی
3. کراچی غربی
4. کراچی وسطی
5. کورنگی
6. ملیر
7. کیماڑی

کمشنر کراچی کے مطابق کراچی ڈویژن کا رقبہ تقریباً 3,527 مربع کلومیٹر ہے اور اسے سات اضلاع اور 31 سب ڈویژنز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پھر سوال صرف صوبے کا کیوں؟

اگر بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضرورت کے باعث ایک کراچی کو مختلف اضلاع میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، اگر نئے ضلع بن سکتے ہیں، اگر نئی عدالتیں قائم ہوسکتی ہیں، اگر سب ڈویژن اور تحصیلیں تبدیل ہوسکتی ہیں، تو پھر مستقبل میں بڑے انتظامی یونٹس کے قیام پر اصولی بحث کو ناقابلِ قبول کیوں سمجھا جائے؟

ضلع انتظامی ضرورت کے تحت بنتا ہے، تو صوبہ بھی آئینی اور انتظامی ضرورت کے تحت تشکیل پا سکتا ہے۔

اس کا فیصلہ جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ آئین، قانون، آبادی، جغرافیہ، معاشی استعداد، انتظامی سہولت اور عوامی رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

کراچی بار بھی اسی انتظامی منطق کی ایک مثال ہے

کراچی کے سات انتظامی اضلاع موجود ہیں، لیکن وکلاء کی نمائندگی کے حوالے سے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا اتنے بڑے اور مختلف انتظامی علاقوں کے وکلاء کے لیے ایک ہی مرکزی بار کا ڈھانچہ سب کے مسائل کو یکساں طور پر مؤثر انداز میں حل کرسکتا ہے؟

یہاں بھی اصول وہی ہونا چاہیے:

جس طرح انتظامیہ عوام کی سہولت کے لیے تقسیم ہوتی ہے، اسی طرح نمائندگی کا نظام بھی متعلقہ طبقے کی سہولت اور مؤثر نمائندگی کے مطابق ہونا چاہیے۔

اگر کراچی کے ہر ضلع کے اپنے انتظامی مسائل، عدالتیں، پولیس، ریونیو اور دیگر سرکاری ادارے ہیں تو وکلاء کے مسائل بھی لازماً ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ اس لیے ہر ضلع کی بار کو الگ شناخت، منتخب باڈی اور اپنے وسائل و انتظامی معاملات کے ساتھ منظم کرنے کی بحث ایک قابلِ غور انتظامی و نمائندگی کا مسئلہ ہے۔

اصل مطالبہ وسائل اور اختیار کی منصفانہ تقسیم ہے

نئے انتظامی یونٹ کا مقصد کسی زبان، قوم یا ثقافت کے خلاف ہونا نہیں چاہیے۔ نہ ہی کسی موجودہ شناخت کو ختم کرنا اس کا مقصد ہونا چاہیے۔

اصل مقصد ہونا چاہیے:

اختیار عوام کے قریب، وسائل منصفانہ، نمائندگی مؤثر اور انتظامیہ جواب دہ۔

کراچی کی آبادی، شہری مسائل اور معاشی اہمیت اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ یہاں انتظامی اختیارات، بلدیاتی ذمہ داریوں اور مالی وسائل کی تقسیم پر سنجیدہ بحث کی جائے۔

ہمیں یہ فیصلہ جذبات سے نہیں بلکہ ایک سادہ اصول سے کرنا چاہیے:

جو انتظامی ڈھانچہ عوام کو بہتر خدمت دے، وہی بہتر انتظامی ڈھانچہ ہے۔

پانچ ہزار سالہ تاریخ ہمارے لیے قابلِ احترام تاریخی ورثہ ہے؛ لیکن آج کے کراچی کے پانی، ٹرانسپورٹ، صفائی، تعلیم، صحت، زمین، روزگار، امن و امان اور شہری منصوبہ بندی کے مسائل پانچ ہزار سال پرانے نقشے سے حل نہیں ہوں گے۔

ان مسائل کے لیے آج کی آبادی، آج کا جغرافیہ اور آج کی انتظامی ضرورت سامنے رکھنا ہوگی۔

پاکستان ایک ملک ہے؛ صوبے اور انتظامی یونٹس حکمرانی کے ذرائع ہیں۔

لہٰذا نئے انتظامی یونٹس کی بحث کو پاکستان توڑنے یا کسی قوم کی شناخت مٹانے کے بجائے بہتر حکمرانی، منصفانہ وسائل اور عوامی سہولت کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

تاریخ کا احترام اپنی جگہ، مگر مستقبل کی منصوبہ بندی موجودہ حقیقتوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ تحریر ایڈووکیٹ ھائی کورٹ فرید خان بہلم

My Facebook friends list has reached its maximum limit.If you would like to stay connected with me and see my posts, ple...
13/09/2026

My Facebook friends list has reached its maximum limit.
If you would like to stay connected with me and see my posts, please Follow me.

Thank you for your continued love, support, and encouragement. ❤️

12/09/2026

کراچی بار کی تنظیمِ نو — وقت کا تقاضا

کراچی کی موجودہ بار کا انتظامی ڈھانچہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ جہاں پورے پاکستان اور صوبہ سندھ میں ہر ضلع کی اپنی علیحدہ بار موجود ہے، وہاں کراچی کے متعدد اضلاع پر مشتمل ایک ہی بار کا نظام قائم ہے۔ اس صورتِ حال کے باعث مختلف اضلاع کے وکلاء کو اپنی مخصوص ضلعی ضروریات اور مسائل کے لیے مؤثر اور براہِ راست نمائندگی میسر نہیں آتی۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ آئندہ کراچی بار کے انتخابات 2026–2027 میں ہر ضلع کی علیحدہ بار کا انتخاب کرایا جائے۔

ضلع ملیر کی اپنی بار کے قیام کی طرح ضلع وسطی، ضلع شرقی، ضلع غربی، ضلع جنوبی، ضلع کورنگی اور ضلع کیماڑی کی بھی الگ الگ بارز قائم کی جائیں اور انہیں ان کی متعلقہ ضلعی حدود میں منظم کیا جائے۔

جن اضلاع میں تاحال بار کی مستقل عمارت دستیاب نہیں، وہاں سٹی کورٹ کے اندر ہی علیحدہ بار کا انتظام کیا جا سکتا ہے، تاکہ عمارت کی عدم دستیابی وکلاء کے بنیادی حقِ نمائندگی میں رکاوٹ نہ بنے۔

ہر ضلع کی اپنی ووٹنگ، صدر، جنرل سیکریٹری اور مکمل منتخب باڈی ہو، جو اپنے ضلع کے وکلاء کے مسائل، فلاح و بہبود اور پیشہ ورانہ امور کی ذمہ دار ہو۔

یہ مطالبہ کسی فرد، گروہ یا موجودہ عہدیداران کے خلاف نہیں، بلکہ شفاف نمائندگی، بہتر انتظام، مؤثر احتساب اور کراچی کے وکلاء کے وسیع تر مفاد میں ایک اصولی اور اصلاحی تجویز ہے۔

ایک شہر — منظم ضلعی بارز — مؤثر نمائندگی

کراچی لائرز ایکشن کمیٹی کراچی
ایڈووکیٹ ھائ کورٹ فرید خان بہلم

09/09/2026

⚖️ کراچی کے وکلاء کا دیرینہ اور اہم مطالبہ: سٹی کورٹ کے پانچوں اضلاع کے لیے علیحدہ بار ایسوسی ایشن کا قیام! ⚖️
سٹی کورٹ کراچی میں پانچ ضلاعی عدالتیں (جنوبی، شرقی، غربی، وسطی، اور دیگر ضلاعی عدالتیں) ایک ہی احاطے میں کام کر رہی ہیں، لیکن ان تمام اضلاع کی نمائندگی کے لیے صرف ایک ہی بار ایسوسی ایشن، ایک ہی صدر اور ایک ہی جنرل سیکرٹری موجود ہے۔
وکلاء کے حقوق، مسائل کے حل اور بہتر انتظامی امور کے لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انتظامی ضرورت کے مطابق ہر ضلع کی الگ بار اور نمائندہ باڈی ہونی چاہیے۔
اس مطالبے کے اہم فوائد:
🔹 بہتر انتظام و انصرام: اضلاع کی سطح پر بار علیحدہ ہونے سے ہر ضلع کے وکلاء کے مسائل، عدالتوں کے امور اور انتظامی معاملات کو زیادہ توجہ اور باریک بینی سے حل کیا جا سکتا ہے۔
🔹 وکلاء کی مساوی نمائندگی: جب ہر ضلع کا اپنا صدر اور باڈی ہوگی تو جونیئر اور سینئر وکلاء کے مسائل مقامی بنیادوں پر جلد حل ہوں گے اور قیادت کے مواقع بھی زیادہ سے زیادہ وکلاء کو ملیں گے۔
🔹 عدالتی کارروائی میں آسانی: ضلاعی سطح پر بار کا قائم ہونا سائلین اور وکلاء دونوں کے لیے بینچ اور بار کے تعلقات کو مزید مضبوط اور فعال بنانے کا سبب بنے گا۔
سندھ بار کونسل اور تمام متعلقہ باڈیز کے سامنے یہ تجویز کراچی کی قانونی برادری کے ڈھانچے کو جدید اور انتظامی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

کراچی لائرز ایکشن کمیٹی

Address

Ms: 68 First Floor, Moosa Tower, Kala Board, Shahra E Faisal Road
Karachi
75350

Opening Hours

Monday 17:30 - 22:30
Tuesday 17:30 - 22:30
Wednesday 17:30 - 22:30
Thursday 17:30 - 22:30
Saturday 17:30 - 22:30
Sunday 17:30 - 22:30

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Fareed Behleem posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share