Karachi Legal Consultants

Karachi Legal Consultants Legal Research Academy Welcome to our page its an educational free platform so please follow our page and also like this page. THANKS

23/03/2025
Different Case Laws on civil criminal family etc
23/03/2025

Different Case Laws on civil criminal family etc

Grandson is entitled to receive inherited share from the property of his grandfather.مسلم فیملی لاء آرڈینینس کی دفعہ 4 ک...
26/01/2025

Grandson is entitled to receive inherited share from the property of his grandfather.
مسلم فیملی لاء آرڈینینس کی دفعہ 4 کے تحت اگر بیٹا والد کی وفات سے قبل وفات پاجائے تو متوفی بیٹے کی اولاد ایسے ھی دادے کی وراثت میں حصہ دار ھے جیسے کہ بیٹا زندہ ھو اور اسکا باپ وفات پا جائے بالفاظ دیگر دادے کی وراثت میں پوتا پوتی حصہ داران ھیں۔ لیکن اس قانون کا اطلاق 1961 سے قبل وفات پانے والے بیٹوں کے مقدمات پر نہ ھوتا ھے۔
PLD 2012 SC 217
2002 CLC 819
2006 MLD 286
1992 SCMR 82



03/01/2025

دفعہ 144 کا مکمل اور تفصیلی جائزہ:

دفعہ 144 پاکستان کے ضابطہ فوجداری کا ایک اہم قانون ہے، جو حکومت کو مختلف حالات میں عوامی سلامتی اور امن و امان کے تحفظ کے لیے مخصوص پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اس دفعہ کو خاص حالات میں نافذ کیا جاتا ہے، جیسے کسی علاقے میں امن و امان کا مسئلہ ہو یا پھر عوام کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو۔

دفعہ 144 کا پس منظر:

دفعہ 144 پاکستان کے ضابطہ فوجداری (Criminal Procedure Code) کی ایک قانونی دفعہ ہے جو برطانوی نوآبادیاتی دور میں متعارف کرائی گئی تھی۔ اس قانون کا بنیادی مقصد ہنگامی حالات میں امن و امان کو برقرار رکھنا اور عوامی سلامتی کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کا اختیار دینا تھا۔ برطانوی حکومت نے یہ دفعہ 1861 میں نافذ کی تاکہ ہندوستان میں بڑھتی ہوئی آزادی کی تحریکوں کو روک سکے اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر کے عوامی بغاوت یا احتجاج کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔

انگریز حکومت کے دور میں یہ دفعہ اکثر ان علاقوں میں نافذ کی جاتی تھی جہاں حکومت کو خدشہ ہوتا کہ عوام کی جانب سے مزاحمت یا احتجاج ہونے والا ہے۔ چونکہ آزادی کی تحریکوں اور سیاسی جلسوں کے ذریعے برطانوی حکومت کے خلاف عوامی شعور بیدار ہو رہا تھا، لہٰذا دفعہ 144 کو استعمال کر کے بڑے عوامی اجتماعات کو روکا جاتا اور کسی بھی قسم کی مزاحمت کو دبایا جاتا تھا۔

آج بھی یہ قانون پاکستان، انڈیا اور دیگر ممالک میں استعمال ہوتا ہے، بالخصوص اس وقت جب حکومت کو لگتا ہے کہ حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔

دفعہ 144 کیا ہے؟

دفعہ 144 کے تحت ضلعی یا صوبائی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ مخصوص علاقوں میں عوامی اجتماع، جلسے، جلوس یا کسی بھی قسم کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر سکے جو امن و امان کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ اس کے ذریعے حکومت کو حالات کے مطابق کارروائی کرنے اور عوامی سلامتی کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کا حق ملتا ہے۔

دفعہ 144 کب نافذ کی جاتی ہے؟

دفعہ 144 اس وقت نافذ کی جاتی ہے جب حکومت کو یہ اندیشہ ہو کہ کسی علاقے میں امن و امان خراب ہو سکتا ہے یا پھر کوئی ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جس سے عوام کی جان و مال کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو۔ اس کا نفاذ کسی ہنگامی صورتحال، احتجاج، ہڑتال، قدرتی آفات، دہشت گردی کے خطرے یا عوامی اجتماع کو قابو میں رکھنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر:

احتجاجوں یا ہڑتالوں کے دوران عوام کے اجتماع پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

ڈبل سواری پر پابندی عوامی امن و امان کے لیے نافذ کی جا سکتی ہے۔

کورونا وائرس کی وبا کے دوران اسکول، مارکیٹس اور اجتماعات پر پابندیاں لگائی گئیں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

دفعہ 144 کون نافذ کرتا ہے؟

اس دفعہ کو نافذ کرنے کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہوتا ہے، جبکہ ضلعی سطح پر ضلعی انتظامیہ جیسے ضلعی ناظم یا ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) بھی اسے نافذ کر سکتے ہیں۔ اگر کسی ضلع میں ضلعی ناظم موجود نہیں ہے، تو ڈی سی کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی حدود میں دفعہ 144 نافذ کرے۔

قانون کے مطابق، دفعہ 144 کو کسی بھی علاقے میں زیادہ سے زیادہ دو ماہ کے لیے نافذ کیا جا سکتا ہے، تاہم اگر صورتحال زیادہ سنگین ہو تو اس مدت کو بڑھا کر دو ماہ سے زیادہ بھی کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ صوبائی حکومت اس کی منظوری دے۔

دفعہ 144 کے دوران کون سی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں؟

دفعہ 144 کے تحت مختلف قسم کی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں، جو حالات کے مطابق ہوتی ہیں۔ ان میں شامل ہو سکتی ہیں:

1. عوامی اجتماعات پر پابندی: کسی علاقے میں 4 یا زیادہ افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے تاکہ امن و امان قائم رہے۔

2. جلسے، جلوسوں اور احتجاجوں پر پابندی: عوامی مقامات پر احتجاجی جلوسوں اور جلسوں پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

3. ڈبل سواری پر پابندی: بعض اوقات امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ڈبل سواری پر بھی پابندی لگائی جاتی ہے، خاص طور پر بڑے شہروں میں۔

4. کاروباری سرگرمیوں پر پابندی: کچھ ہنگامی حالات میں کاروبار، مارکیٹس، اسکولز یا دیگر تجارتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

5. فضائی آلودگی کے خلاف اقدامات: فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے مثلاً کوڑا کرکٹ جلانے یا اینٹوں کے بھٹے چلانے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

6. پتنگ بازی پر پابندی: بعض مخصوص اوقات جیسے بسنت کے سیزن میں پتنگ بازی کے دوران حادثات کے خدشے کے پیش نظر، پتنگ بازی پر بھی دفعہ 144 کے تحت پابندی لگائی جاتی ہے۔

دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی سزا:

اگر کوئی شخص دفعہ 144 کے تحت لگائی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔ اس دفعہ کے تحت خلاف ورزی کرنے والے کو ایک ماہ سے چھ ماہ تک قید یا جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

دفعہ 144 کی اہمیت:

دفعہ 144 کا مقصد ہنگامی حالات میں حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کا اختیار دینا ہے تاکہ عوامی سلامتی اور امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔ اگرچہ یہ قانون آزادی کی تحریکوں کو دبانے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر آج کے دور میں اسے مختلف نوعیت کے حالات میں امن و امان کی بحالی اور عوامی جان و مال کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

دفعہ 144 کا غلط استعمال:

اگرچہ دفعہ 144 عوامی سلامتی کے لیے ضروری قانون ہے، لیکن بعض اوقات اس کا ناجائز استعمال بھی ہوتا ہے۔ جیسے کہ حکومتوں کی جانب سے اسے پرامن احتجاجوں کو روکنے یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو کہ عوامی حقوق کے خلاف ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ صرف ایمرجنسی حالات میں کیا جائے اور اس کا مقصد عوام کے جان و مال کا تحفظ ہو، نہ کہ ان کے حقوق کو محدود کرنا۔

خلاصہ:

دفعہ 144 ایک اہم قانونی دفعہ ہے جو حکومت کو ایمرجنسی حالات میں عوامی سلامتی کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی اجازت دیتی ہے۔ اس کا نفاذ امن و امان برقرار رکھنے، جان و مال کے تحفظ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس کے استعمال میں اعتدال اور شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ عوامی حقوق متاثر نہ ہوں۔

03/01/2025

ریمانڈ __Remand
ریمانڈ کے لفظی معنی ”واپس بھجوانا“ ہے۔ یعنی مجسٹریٹ کی عدالت سے مقدمہ میں نامزد پیش کردہ ملزم کو واپس حوالات بھیجنا. اصل میں پولیس کے تشدد کی وجہ سے یہ اصطلاح بہت خطر ناک سمجھی جاتی ہےجو کافی حد تک صحیح ہے۔
جب کوئی شخص کسی بھی جرم میں گرفتار ہوتا ہے تو پولیس اس کو چوبیس گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے پاس پیش کرنے کی پابند ہوتی ہے اور مزید عرصے کے لئے زیر حراست رکھنا مطلوب ہو تو پولیس مجسٹریٹ سے تحریری حکم حاصل کرتی ہے اس درخواست کو ریمانڈ کی درخواست کہتے ہیں۔
اگر پولیس24 گھنٹے کے اندر ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کرتی اور مزید مناسب حکم حاصل نہیں کرتی تو چوبیس گھنٹے سے بعد کی حراست غیر قانونی شمار ہوگی۔
عام طور پر ریمانڈ کی درخواست علاقہ مجسٹریٹ کو دی جاتی ہے تاہم ناگزیر صورت میں ریمانڈ کی درخواست کسی بھی مقامی مجسٹریٹ کو دی جا سکتی ہے۔ مجسٹریٹ جس کے روبرو کسی ملزم کو بغرض ریمانڈ پیش کیا جائے زیادہ سے زیادہ پندرہ دن کا ریمانڈ دیتا ہے۔ ہائی کورٹ رولز میں بھی ریمانڈ کے متعلق احکامات اور ہدایات دی گئی ہیں۔ ریمانڈ کی درخواستوں میں قانون یہ ہے کہ مجسٹریٹ کو ملزم کے وکیل یا اسکے رشتہ داروں کو یہ حق دینا چاہئے کہ اگر وہ ریمانڈ کے خلاف ملزم کی طرف سے عذر پیش کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں۔ ہائی کورٹ کے قواعد میں درج ہے کہ مجسٹریٹ کو لازم ہے کہ وہ ملزم کو وکیل رکھنے کا موقع دے تاکہ وہ وکیل ریمانڈ کے خلاف عذر پیش کر سکے۔
مجسٹریٹ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ آیا ملزم کا پولیس کے قبضہ میں دیا جانا ضروری ہے یا نہیں۔اگر مجسٹریٹ محسوس کرے کہ ملزم کو پولیس کی حراست میں مزید رکھنا ضروری نہیں ہے تو وہ ریمانڈ کا حکم صادر کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔

(بحوالہ PLD 1979 Lah 587)
وہ ملزم جس کے خلاف مقدمہ زیر تجویز ہو ریمانڈ پر صرف پولیس اسٹیشن میں رکھا جا سکتا ہے کسی اور جگہ نہیں ورنہ یہ اقدام غیر قانونی ہوگا۔ریمانڈ کے لئے ضروری ہے کہ ملزم کو مجسٹریٹ کے روبرو حاضر کیا جائے۔ مجسٹریٹ کا خود مقامنظر بندی تک جانا غیر قانونی ہے۔
ملزم کے رشتہ داروں کو دوران ریمانڈملزم کو کھانا یا لباس مہیا کرنے سے بھی منع نہیں کیا جا سکتا۔
اب آتے ہیں ریمانڈ کی اقسام کی جانب تو جناب بنیادی طور پر ریمانڈ دو طرح کا ہوتا ہے۔

✍️1۔ جسمانی ریمانڈ (Physical Remand)

✍️2.جوڈیشل ریمانڈ (Judicial Remand)

◾جسمانی ریمانڈ کا مطلب یہ ہے کہ گرفتار شدہ ملزم تھانہ میں ہی زیر حراست رہتا ہے۔ مجسٹریٹ اگر اس نتیجے پر پہنچے کہ پولیس کو بر آمدگی وغیرہ یا کسی اور مقصد کے لئے ملزم کی بنفسہ ضرورت ہے تو وہ ملزم کا جسمانی ریمانڈ وقتاً فوقتاً پولیس افسران کو دیتا رہے گا۔ لیکن اس ریمانڈ کی مجموعہ تعداد پندرہ دن سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اس جسمانی ریمانڈ کی وجہ بھی باقاعدہ درج کی جائے گی
اس جسمانی ریمانڈ کا مطلب ویسے ہماری عام عوام میں پولیس کا ملزم پر تشدد ہی سمجھا جاتا ہے حالانکہ قانون کا یہ منشا ہر گز نہ ہے۔
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ تفتیش کا مطلب مار پٹائی کے سوا ہمارے ملک میں اور کچھ نہیں ہے۔ پولیس جس طرح دوران ریمانڈ ملزم کے ساتھ سلوک کرتی ہے وہ مہذب قوموں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس رویے کی بناء پر پولیس کو خوف اور نفرت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گرفتار شدہ شخص کے دوست، رشتہ دار صرف اس بات کے لئے پولیس کو بھاری رقوم بطور بطوررشوت دیتے ہیں کہ وہ ملزم کا جسمانی ریمانڈ نہ لے بلکہ جوڈیشل ریمانڈ لے اور مدعی پارٹی پولیس کو بھاری رقم اسی لئے دیتی ہے کہ وہ دوران ریمانڈ ملزم پر جسمانی تشدد کرے۔
گرفتار ملزم پر اگر دوران حراست تشدد کیا گیا ہے تو علاقہ مجسٹریٹ سے میڈیکل کرانے کا حکم حاصل کیا جا سکتا ہے تاکہ پولیس کی طرف سے کیا گیا تشدد ثابت ہونے پر پولیس کے خلاف کاروائی کی جا سکے۔
اب آتے ہیں جوڈیشل ریمانڈ کی جانب

◾2۔ جوڈیشل ریمانڈ (Judicial Remand)
جوڈیشل ریمانڈ کا مطلب ملزم کو سیدھا جیل بھجوانا ہوتا ہے۔ اگر پولیس آفیسر استدعا کرے کہ تفتیش مقدمہ مکمل ہے یا مزید تفتیش کی ضرورت نہیں ہے تو مجسٹریٹ ملزم کو عدالتی ریمانڈ(Judicial Remand) پر جیل بھجوا سکتا ہے۔
ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر تفتیشی افست مزید ریمانڈ جسمانی کی استدعا کرے تو مجسٹریٹ مزید ریمانڈ جسمانی(Physical Remand) کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوا سکتا ہے۔ اس کے لئے مجسٹریٹ چند امور کو مد نظر رکھے گا۔

1۔ مجسٹریٹ اگر مناسب سمجھے کہ تفتیش مقدمہ مکمل ہے۔

2۔ مجسٹریٹ اگر مناسب سمجھے کہ مزید تفتیش کی غرض سے جسمانی ریمانڈ دینا مناسب نہیں ہے۔

3۔ ملزم کے خلاف بظاہر کوئی مقدمہ نہ بنتا ہو۔

جسمانی ریمانڈ سے متعلق ہائی کورٹ کی ہدایات یہ ہیں کہ اسے بہت ہچکچاہٹ کے ساتھ منظور کرنا چاہئے اور تھوڑے تھوڑے دن کے لئے کرنا چاہئے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 167 اس بابت تفصیل فراہم کرتی ہے۔ عام لوگ چونکہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ریمانڈ کی منظوری اور نا منظوری پولیس کی مرضی پر منحصر ہے اسلئے کوئی بھی ریمانڈ کے مرحلہ پر کسی وکیل سے رجوع نہیں کرتا۔ پولیس کے ٹاؤٹوں سے کام چلایا جاتا ہے حالانکہ ریمانڈ کے مرحلہ پر وکیل بحث کرکے مندرجہ ذیل قسم کے احکام حاصل کر سکتا ہے۔
1۔ جسمانی ریمانڈ کی بجائے جوڈیشل ریمانڈ کیا جائے۔
2۔ ملزم کی ضمانت لے لی جائے۔
3۔ ملزم کے خلاف ثبوت نہیں ہے اسکو رہا کر دیا جائے.
وکیل یہ عذر بھی لے سکتا ہے کہ جسمانی ریمانڈ کم دنوں کا دیا جائے۔
یہ بھی عام مشاہدہ ہے کہ گرفتار شدہ لوگوں کے وارث اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ریمانڈ کے متعلق معاملات میں وکیل کوئی دخل نہیں دے سکتا اسی لئے وہ پولیس کے دلالوں کو ہزاروں روپے صرف اتنی سی رعایت کے لئے دے دیتے ہیں کہ جسمانی ریمانڈ نہ لیا جائے۔ سادہ لوح لوگوں کی غلط فہمی اور قانون سے لاعلمی کی وجہ سے پولیس کے لئے کرپشن کے کئی دروازے کھل جاتے ہیں۔ اس بابت تدارک کے لئے وکلاء اور عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

◾غیر قانونی ریمانڈ
عدالت کو ریمانڈ دینے کی وجوہات اپنے حکم میں لکھنا ہوتی ہیں۔اسکا بہترین حل یہ ہے کہ آپ جوعذر پیش کرنا چاہتے ہیں وہ تحریری درخواست کے زریعے ریمانڈ کے وقت پیش کردیں۔ کوئی بھی جوڈیشل مجسٹریٹ ان عذرکو نہ تو پھاڑے گا اور نہ ان کو نظر انداز کرے گا یعنی حکم میں اگر ان کا ذکر نہ کرے گا تب بھی قابل مواخذہ ہوگا اور اگر عذرکی تردید میں بھی کچھ نہیں لکھے گا تب بھی جوابدہ ہوگا۔ ہائی کورٹ کو بڑی سختی کے ساتھ ایسے مجسٹریٹ صاحبان کی گرفت کرنی چاہئے جو ہائی کورٹ کے قواعد و ہدایات اور سکرول کو نظر انداز کریں۔ اب قانون میں ترمیم کرکے یہ حکم بھی ہو چکا ہے کہ ہر ریمانڈ کی نقل سیشن جج صاحب کو بھیجی جائے۔
ہائی کورٹ کو یہ واضح ہدایات ہیں کہ سیشن ججز صاحبان پر لازم ہے کہ وہ ناجائز قسم کے احکام ریمانڈ سے متعلق ہائی کورٹ کو رپورٹ بھجوائیں۔ بہر حال جب بھی کوئی متاثرہ فریق محسوس کرے کہ مجسٹریٹ صاحب نے ریمانڈ منظور کرتے ہوئے قانون کے مطابق عمل نہیں کیا تو فوراً اس کی نقل لے کر سیشن عدالت میں نگرانی دائر کر سکتے ہیں۔ اگچہ ایسی نگرانی کوئی زیادہ فائدہ مند نہیں ہوگی لیکن مجسٹریٹ صاحب سے حکم ریمانڈ کی بابت جواب طلبی ہو سکتی ہے۔
ایسے کئی فیصلے ہیں جن میں صرف ریمانڈ کے خلاف ہدایات دینے پر مجسٹریٹ صاحب کی جوابدہی ہوئی۔ اگر ایسی صور ت درپیش ہو تو براہ راست ہائی کورٹ میں بھی درخواست زیر دفعہ 491 ض۔ف دی جا سکتی ہے کہ ریمانڈ ہائی کورٹ کی ہدایات کے خلاف منظور کیا گیا ہے اسلئے حراست ملزم ناجائز اور نامناسب ہے۔ ایسی صورت میں ملزم زیر ریمانڈ کو رہا کردیا جائے گا۔
491 ضابطہ فوجداری Illegal Custody اورImproper Custody دونوں صورتوں میں ہائی کورٹ مداخلت کرتی ہے۔جب ریمانڈ جوڈیشل کی بجائے جسمانی دیا گیا ہو تو اسے Illegal نہ سہی Improper Custody کہا جا سکتا ہے اور491 ضابطہ فوجداری چونکہ سستا قانونی حربہ ہے اس سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ ریمانڈ کے دوران بھی ملزم کو قانوناً یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ اس کے دوست احباب اور وکیل اس سے ملاقات کریں اور اس کوقانون کے مطابق صحیح مشورہ دیں۔ملزم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ: Accused is the Favourite Child of Law اسلئے یہ تمام سہولیات قانون کے مطابق ملزم کو ملنی چاہئیں۔
قانونی تقاضہ یہ ہے کہ ملزم کو تھانے کی عمارت میں رکھا جائے۔ کئی تھانیدار تشدد کرنے کے لئے پرائیویٹ مکان حاصل کرکے ملزموں کو ایسے پرائیویٹ مکانوں میں رکھتے ہیں جو سراسر غیر قانونی ہے۔اس کے علاوہ ان کو بھی جن کی گرفتاری ریکارڈ میں موجود نہیں ہوتی انہیں بھی ایسے ٹارچر سیلز میں رکھا جاتا ہے۔ لہذاایسے مکانوں پر چھاپہ ڈلواکر تھانیدار کے خلاف پرچہ درج کروایا جا سکتا ہے۔
سی آئی اے کا دفتر تھانہ نہیں ہوتا،اسی طرح کرائم برانچ کا دفتر بھی تھانہ نہیں ہوتا اسلئے ملزمان کو سی آئی اے کے دفتر میں رکھنا خلاف قانون سمجھا جائے گا۔
منطقی طور پر یہ بات سمجھ لینی آسان ہے کہ جب قانون نے ملزم کو یہ حق دیا ہے کہ وہ گرفتاری کے بعد اپنے گھر سے بستر اور کپڑے منگوا سکتا ہے، دوست احباب اور وکلاء سے ملا قات کر سکتا ہے تو یہ سب قانونی حقوق ایسی حالت میں کیونکر پورے ہونگے جب ملزم کو کسی خفیہ مقام پر پابند رکھا جائے۔
(ہائی کورٹ کے بیلف 491 ضابطہ فوجداری کی درخواستوں پر چھاپہ مارتے ہیں تو سب سے پہلے وہ روزنامچہ قابو کرتے ہیں جہاں رپٹ گرفتاری عموماً لکھی ہوئی نہیں ہوتی بلکہ تھانیدار بیلف کے چھاپے کے بعد کسی مقدمے کی ضمنی میں گرفتاری کا ذکر کر دیتا ہے۔تھانے کے روز نامچے کا رجسٹر سب سے زیادہ قابل اعتبار ریکارڈ ہوتا ہےاس میں ردو بدل آسان نہیں ہوتا)

03/01/2025

Detailed Judgment on Alternate Dispute Resolution.

Conclusions;

i) Mediation ensures justice through dialogue and resolves backlogs.

ii) Mediation restores relationships and reflects cultural realities.

iii) Courts should prioritise mediation over litigation.

iv) Legal frameworks support mediation as effective ADR.
v) Ratifying the Singapore Convention will enhance justice efficiency.

03/01/2025

*Adv Azaz Ul Haq ⚖️*

`1- Under Section 169 Cr.P.C., an accused can be released by the police if:`
A) The trial has started
*B) The evidence is deficient*
C) The evidence is insufficient
D) The case is forwarded to the High Court

`2- What happens after the police release an accused under Section 169 Cr.P.C.?`
A) The accused is free permanently
B) The accused has no further obligations
*C) The accused must execute a bond and may be recalled by the Magistrate*
D) The case is finished without further action

`3-Which section empowers a Magistrate to release an accused if there is no complaint during proceedings?`

A) Section 63 Cr.P.C.
B) Section 245 Cr.P.C.
*C) Section 249 Cr.P.C.*
D) Section 173 Cr.P.C.

`4-Under which section can a Magistrate discharge an accused person at the remand stage if found innocent?`

A) Section 249 Cr.P.C.
*B) Section 63 Cr.P.C.*
C) Section 173 Cr.P.C.
D) Section 167 Cr.P.C.

`5-The classification of an FIR as "B Class" means:`

A) The FIR is true but the accused is untraced
*B) The FIR is maliciously false*
C) The FIR is neither true nor false
D) The FIR is cognizable by the police

(Follow legal insight channel on what's app for more)

`6-A Magistrate can discharge an accused in a murder case under which circumstances?`

A) Only with prior sanction from the Sessions Judge
B) Never, since it is triable by the Sessions Court
*C) If he has the power to take cognizance*
D) Only with permission from the High Court

`7-Under which section can an accused person apply to the Magistrate for discharge?`

A) Section 63 Cr.P.C.
B) Section 169 Cr.P.C.
*C) Section 439-A Cr.P.C.*
D) Section 245 Cr.P.C.

`8-Once the police submit a challan under Section 173 Cr.P.C., which of the following is true?`

A) Section 169 Cr.P.C. can still be invoked
*B) Section 169 Cr.P.C. cannot be invoked anymore*
C) The case is automatically dismissed
D) The accused must be acquitted

`9-Transit (Safri) Remand is governed by which section?`

*A) Section 86 Cr.P.C.*
B) Section 344 Cr.P.C.
C) Section 167 Cr.P.C.
D) Section 561-A Cr.P.C.

`10-In which case can a High Court quash an FIR under its inherent powers?`

*A) Section 561-A Cr.P.C.*
B) Section 167 Cr.P.C.
C) Section 63 Cr.P.C.
D) Section 344 Cr.P.C.

*Adv Azaz Ul Haq ⚖️*

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Karachi Legal Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category