HA Law Associates

HA Law Associates Advocate
Attorney
Tax practitioner
We built our reputation upon our strong legal knowledge. holding grip and success in field.

We improve your legal Coverage
your Right our Responsibility

⚖️ قانونی آگاہی | لیز (Lease) اور سب لیز (Sub-Lease) میں فرق❓ نئے خریدار اکثر لیز اور سب لیز میں الجھ جاتے ہیں — آئیے آس...
28/01/2026

⚖️ قانونی آگاہی | لیز (Lease) اور سب لیز (Sub-Lease) میں فرق

❓ نئے خریدار اکثر لیز اور سب لیز میں الجھ جاتے ہیں — آئیے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں۔

📌 لیز (Lease) کیا ہے؟
لیز وہ دستاویز ہے جس کے ذریعے حکومت (Government) کسی فرد یا ہاؤسنگ سوسائٹی کو عموماً 99 سال کے لیے زمین دیتی ہے۔
یہ زمین کی اصل اور بنیادی ملکیت (Master Title) ہوتی ہے۔

📌 سب لیز (Sub-Lease) کیا ہے؟
جب کوئی بلڈر یا ڈیولپر اسی لیز شدہ زمین پر فلیٹس یا چھوٹے یونٹس بنا کر فروخت کرتا ہے، تو وہ اصل لیز کا ایک حصہ خریدار کے نام منتقل کرتا ہے، جسے سب لیز کہا جاتا ہے۔

✅ اہم چیک پوائنٹ (بہت ضروری):
اگر آپ فلیٹ خرید رہے ہیں تو:
❌ صرف Sale Deed کافی نہیں
✅ رجسٹرار آفس سے رجسٹرڈ Sub-Lease ہونا لازمی ہے

بغیر رجسٹرڈ سب لیز کے آپ قانونی مالک نہیں کہلائیں گے، چاہے پوری رقم ادا کر چکے ہوں۔

⚠️ قانونی خطرہ:
غیر رجسٹرڈ سب لیز کی صورت میں:
▪ ملکیت متنازع ہو سکتی ہے
▪ فلیٹ فروخت یا بینک فنانس میں مسئلہ آ سکتا ہے
▪ عدالت میں کمزور کیس بنتا ہے

🧾 سبق:
“رجسٹریشن کے بغیر ملکیت صرف ایک دعویٰ ہے۔”

📢 مزید قانونی آگاہی کے لیے فالو کریں





بہن کا حصہ (Sister's Inheritance)کیس اسٹڈی:والد کے انتقال کے بعد بھائیوں نے بہنوں کو کہا: "ہم تمہیں شادی پر جہیز دے چکے ...
26/01/2026

بہن کا حصہ (Sister's Inheritance)
کیس اسٹڈی:
والد کے انتقال کے بعد بھائیوں نے بہنوں کو کہا: "ہم تمہیں شادی پر جہیز دے چکے ہیں، اب جائیداد میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، یہ دستبرداری (NOC) پر سائن کر دو۔"
ایک بہن نے سائن کرنے سے انکار کر دیا اور عدالت چلی گئی۔
قانونی فیصلہ:
عدالت نے تاریخی فیصلہ دیا:
• جہیز: جہیز وراثت کا متبادل نہیں ہے۔
• دستبرداری: اگر بہنوں سے دباؤ میں آ کر یا "شرم و حیا" میں سائن کروائے گئے ہوں، تو وہ باطل ہیں۔
• عدالت نے بھائیوں کو حکم دیا کہ وہ بہن کو اس کا شرعی اور قانونی حصہ (پراپرٹی کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے) ادا کریں۔
سبق:
"بہن کا حصہ کھانا آگ کا انگارہ نگلنا ہے۔ انہیں خوشی سے دیں، ورنہ قانون چھین کر دے گا۔"
📢 مزید کیسز کے لیے فالو کریں

⚖️ قانونی آگاہی | رجسٹری سے پہلے فرد / سرچ سرٹیفکیٹ کیوں ضروری ہے؟❓ کیا جائیداد کی رجسٹری سے پہلے فرد یا سرچ سرٹیفکیٹ نک...
25/01/2026

⚖️ قانونی آگاہی | رجسٹری سے پہلے فرد / سرچ سرٹیفکیٹ کیوں ضروری ہے؟

❓ کیا جائیداد کی رجسٹری سے پہلے فرد یا سرچ سرٹیفکیٹ نکالنا لازم ہے؟
✅ جی ہاں! یہ قانونی طور پر انتہائی ضروری ہے۔

📌 اہم قانونی وجوہات:
1️⃣ ملکیت کی تصدیق
فرد / سرچ سرٹیفکیٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فروخت کنندہ جائیداد کا حقیقی اور قانونی مالک ہے۔

2️⃣ مقدمات اور پابندیوں کی جانچ
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جائیداد پر کوئی مقدمہ، رہن، اٹیچمنٹ یا حکومتی پابندی تو موجود نہیں۔

3️⃣ دھوکہ دہی سے تحفظ
بغیر فرد یا سرچ سرٹیفکیٹ رجسٹری کرانا خریدار کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے اور بعد میں رجسٹری کالعدم بھی قرار دی جا سکتی ہے۔

4️⃣ قانونی تقاضا
رجسٹری سے قبل سب رجسٹرار آفس میں اکثر سرچ رپورٹ طلب کی جاتی ہے تاکہ لین دین شفاف ہو۔

⚠️ اہم نکتہ:
غیر تصدیق شدہ جائیداد کی رجسٹری خریدار کو بھاری مالی اور قانونی نقصان میں ڈال سکتی ہے۔

🧾 سبق:
“رجسٹری سے پہلے فرد یا سرچ سرٹیفکیٹ — احتیاط نہیں، قانونی ضرورت ہے۔”

📢 مزید قانونی آگاہی کے لیے فالو کریں






لیگل الرٹ 🚨 موضوع: جانشینی سرٹیفکیٹ (Succession Certificate) والد کے انتقال کے بعد بینک اکاؤنٹ یا شیئرز کیسے ملیں گے؟ قا...
24/01/2026

لیگل الرٹ 🚨
موضوع:
جانشینی سرٹیفکیٹ (Succession Certificate) والد کے انتقال کے بعد بینک اکاؤنٹ یا شیئرز کیسے ملیں گے؟ قانون (Succession Act 1925) کے مطابق، اگر مرحوم نے بینک میں رقم، گاڑی یا شیئرز چھوڑے ہیں تو ورثاء کو عدالت یا نادرا سے جانشینی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ جانشینی سرٹیفکیٹ اور لیٹر آف ایڈمنسٹریشن میں فرق ہے، جہاں جائیداد کے لیے لیٹر آف ایڈمنسٹریشن ہوتا ہے وہیں منقولہ جائیداد کے لیے جانشینی سرٹیفکیٹ ہوتا ہے۔ نادرا اب 15 دن کے اندر یہ سرٹیفکیٹ جاری کر دیتا ہے، بشرطیکہ تمام ورثاء اس پر متفق ہوں۔ مرحوم کے بینک اکاؤنٹ کو استعمال کرنے کے لیے اے ٹی ایم کارڈ کا استعمال جرم ہے، قانونی طریقہ جانشینی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہے۔

⚖️ قانونی آگاہی | رہائشی کرایہ داری ایکٹ (Sindh Rented Premises Ordinance 1979)❓ کیا مالک مکان کرایہ دار کو صرف زبانی نو...
23/01/2026

⚖️ قانونی آگاہی | رہائشی کرایہ داری ایکٹ (Sindh Rented Premises Ordinance 1979)

❓ کیا مالک مکان کرایہ دار کو صرف زبانی نوٹس پر نکال سکتا ہے؟
❌ نہیں! قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔

📌 قانونی نکات مختصراً:
1️⃣ تحریری نوٹس لازمی ہے
مالک مکان کو کرایہ دار کو نکالنے کے لیے قانونی وجہ (مثلاً: کرایہ ڈیفالٹ یا ذاتی ضرورت) کے ساتھ تحریری نوٹس دینا ضروری ہے۔

2️⃣ بجلی یا پانی بند کرنا جرم ہے
کرایہ دار کو تنگ کرنے کے لیے بجلی یا پانی کا کنکشن کاٹنا غیر قانونی ہے۔
ایسی صورت میں کرایہ دار رینٹ کنٹرولر سے اسٹے آرڈر حاصل کر سکتا ہے۔

3️⃣ پگڑی کا خاتمہ
نئے قانون کے تحت پگڑی کا تصور ختم ہو چکا ہے۔
اب صرف ایڈوانس اور سیکیورٹی ڈپازٹ قابلِ قبول ہیں۔

🧾 سبق:
“کرایہ دار کو بے عزت کر کے نکالنا مہنگا پڑ سکتا ہے — قانونی طریقہ اختیار کریں، تحریری نوٹس بھیجیں۔”

📢 مزید قانونی آگاہی اور رہنمائی کے لیے ہمارا پیج فالو کریں
HA Law Associates






12/10/2025

کورٹ میرج: قانون، مذہب اور معاشرت کے درمیان ایک متوازن مکالمہ

محبت انسان کو بے خوفی سکھاتی ہے،
یہ روایات سے بغاوت پر آمادہ کر دیتی ہے۔

سول میرج یا عدالتی شادی (Court Marriage) ایک ایسا نکاح ہے جو کسی سرکاری اہلکار کے ذریعے انجام پاتا ہے، رجسٹر کیا جاتا ہے اور قانونی حیثیت اختیار کرتا ہے۔ یہ شادی مکمل طور پر سیکولر بھی ہو سکتی ہے یا کسی ایسے مذہبی ادارے کے ذریعے بھی انجام دی جا سکتی ہے جسے ریاست تسلیم کرتی ہو۔ بیشتر ممالک میں شادی کی قانونی شرائط کو مذہبی تقاضوں سے علیحدہ بیان کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں عدالتی شادی کا مقصد مرد و عورت کے درمیان ایک قانونی اور باضابطہ رشتہ قائم کرنا ہوتا ہے، جو کسی مجسٹریٹ یا نکاح رجسٹرار کی موجودگی میں ان کے دائمی عہد کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ طریقہ اکثر اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب فریقین کو والدین یا خاندان سے شادی کی اجازت حاصل کرنے میں دشواری ہو، یا وہ روایتی شادی سے بچنا چاہتے ہوں۔ یہ ایک آسان، کم خرچ اور قانونی تحفظ فراہم کرنے والا ذریعہ بھی بن گیا ہے۔

یہ وضاحت ضروری ہے کہ پاکستان میں کسی قانون، آرڈیننس، قاعدے یا شیڈول میں "کورٹ میرج" کی اصطلاح باقاعدہ طور پر موجود نہیں۔ یہ دراصل وہ شادیاں ہیں جو قانونی معاونت سے انجام پاتی ہیں اور عدالت سے قانونی تحفظ حاصل کرتی ہیں۔ بعض اوقات اسے "وکیل میرج" بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ عمل عمومی طور پر عدالت کے احاطے میں وکیل کے دفتر میں مکمل ہوتا ہے، اور بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ولی کے بغیر نکاح کا تصور پیش کرتی ہے۔

پاکستان میں عدالتی شادی قانونی طور پر قابلِ نفاذ ہے۔ عدالت بالغ افراد کے اس حق کی محافظ ہے کہ وہ قانون کے تحت آزادانہ طور پر نکاح کر سکیں۔ اس کے بعد کمپیوٹرائزڈ میرج سرٹیفکیٹ نادرا (NADRA) کے ذریعے جاری کیا جاتا ہے۔

آئینِ پاکستان 1973 کا آرٹیکل 35 ریاست کو خاندان، ماں، بچے اور عورت کے تحفظ کا پابند بناتا ہے۔ اسی طرح، آرٹیکل 9 زندگی اور آزادی کا، اور آرٹیکل 14 انسانی وقار اور نجی زندگی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 20 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل اور اس کی تبلیغ کا حق دیتا ہے، جس میں اپنی مرضی سے نکاح کا اختیار بھی شامل ہے، بشرطیکہ وہ مذہبی اصولوں سے متصادم نہ ہو۔

پاکستان میں شادی سے متعلق کئی قوانین موجود ہیں جیسے مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961، اور چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ۔ ان کے تحت بالغ افراد مخالف جنس سے نکاح کرنے میں آزاد ہیں۔

پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اس کا آئین کہتا ہے کہ کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا۔ اس بنیاد پر بعض اوقات کورٹ میرج کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ تاہم، اگر نکاح اسلامی اصولوں کے مطابق انجام دیا گیا ہو تو اس کی قانونی اور شرعی حیثیت مسلم ہوتی ہے۔

اسلام میں نکاح کی صحت کے لیے چند بنیادی شرائط لازم ہیں: دونوں فریقین کی رضامندی، دو مرد گواہوں کی موجودگی، اور مہر کی وضاحت۔ جب یہ شرائط پوری ہوں، تو عدالت میں انجام دی گئی شادی بھی شرعی تصور کی جا سکتی ہے۔

مسلم فیملی لاز انڈیکس مختلف مسلم ممالک کے فیملی قوانین کو انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے تناظر میں پرکھتا ہے۔
معاشرتی لحاظ سے، پاکستان میں ولی کے بغیر شادی کو عمومی طور پر قبول نہیں کیا جاتا۔ ایسے جوڑوں کو خاندانی مخالفت، سماجی دباؤ، اور بعض اوقات تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ مذہبی تعلیم، خاندانی مکالمہ، بین النسلی فاصلوں میں کمی، عوامی شعور اور قانونی تحفظات فراہم کیے جائیں۔

عالمی سطح پر، بیشتر ممالک سول میرج کو تسلیم کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے بیشتر رکن ممالک نے شادی کے اندراج سے متعلق کنونشنز کی توثیق کی ہے۔ بیلجیم، نیدرلینڈز، اور ترکی میں سول میرج کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور مذہبی تقاریب اختیاری ہوتی ہیں۔ ترکی میں سول میرج لازمی ہے جبکہ مذہبی تقریب ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے برخلاف، سعودی عرب، ایران، قطر، لبنان اور اسرائیل جیسے ممالک میں تمام شادیاں مذہبی اداروں کے ذریعے ہی انجام دی جاتی ہیں۔
انسانی حقوق کے نکتۂ نظر سے شادی کرنا ایک بنیادی انسانی حق ہے، جس میں آزادانہ اور مکمل رضا مندی شامل ہو۔ ریاست کا فرض ہے کہ نکاح میں مساوی حقوق کی ضمانت دے اور طلاق تک رسائی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔ مذہبی یا روایتی قوانین کو انسانی حقوق کے تقاضوں سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔
آخر میں، ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین، علما، اور قانونی ادارے ایک ایسا مکالمہ شروع کریں جو محبت، اختیار اور روایت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کی بات سنیں، اور نوجوانوں کو چاہیے کہ جذبات سے زیادہ عقل و تدبر سے کام لیں۔

12/10/2025

کورٹ میرج
کیا ایک بالغ عورت اور ایک بالغ مرد کے درمیان کورٹ میں شادی کرنا بھاگنا سمجھا جاتا ہے؟ کیا ہر بالغ شخص کو اپنی شریک حیات کا انتخاب خود کرنے کا حق ہے؟ معاشرے میں عورت کے لیے کیا یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کرے تو اسے بھاگنا نہ کہا جائے؟

23/02/2025

‏اپنے عہدے ، دولت اور طاقت پر غرور ہونے لگے تو صاحب مٹی سے پوچھنا آج کل سکندر کہاں ہے !!!!

22/02/2025

How to read Jamabandi
جمعبندی پڑھنے کا طریقہ

جمبندی ریونیو کے ریکارڈ کا سب سے اہم دستاویز ہے. یہ مختلف ناموں کے ذریعے مختلف علاقوں میں فرد، پارچا یا بہت سے مختلف ناموں کے نام سے جانا جاتا ہے، لیکن عام نام جمعمندی ہے. یہ سمجھا جاتا ہے کہ جمعبندی پڑھنے والے محکمہ مال کے اہلکارکا کام اور عام عوام کے علم سے بہت دور ایک خاص کام ہے. یہ بھی غلط ہے کہ جمعبندی پڑھنے یا ریونیو( محکمہ مال ) کا ریکارڈ حاصل کرنے کے بارے میں علم حاصل کرنے سے صرف ریونیو کے اہلکار خاص طور پر پٹواری یا کانگوہ تک محدود ہوتا ہے .

لیکن موجودہ حالات میں جب کوئی جائیداد خریدنے اور فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، باقاعدگی سے یا کبھی کبھار بنیاد پر زراعت کی زمین، قرض یا متحرک جائیداد پر قرض حاصل کرتا ہو یا کسی قرض / کریڈٹ کی کسی ضمانت کی پیشکش کی جائے یا کم مدت میں کام کرنے والے دارالحکومت قرض، درمیانے درجے کے قرض یا طویل مدتی قرض، ہر شخص کو آمدنی کے ریکارڈ کا بنیادی علم ہونا چاہئے. اس سے نہ صرف قرض دہندہ کے سرمایہ کار پر اعتماد کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے بلکہ اسے دھوکہ، غلطی یا کسی دوسرے قانونی سازش سے بھی بچانے میں بھی مدد ملتی ہے.

جمعبندی پر واپس آ رہا ہوں، یہ ریکارڈ بہت سی چیزوں کا اظہار کرتا ہے. ملکیت اور قبضہ جامابندی نے قسم کی زمین، اس کے انعقاد کی حیثیت، پودے ، اس پر تعمیر کی نوعیت، مالک کی نوعیت، زمین کی جگہ، اس کے ٹکڑے ٹکڑے کی قسم اور بہت سارے دوسری چیزیں.

عام طور پر جمابندی 12 (بارہ) کالم ہے. ہر کالم میں منفرد معلومات دکھاتی ہے. کچھ کالموں میں معلومات بہت اہم ہے اور کچھ کالم میں یہ کم اہمیت کا حامل ہے.
جامابندی کے سب سے اوپر پر حدبست نمبر (یہ آمدنی گاؤں کی حد ہے)، جامابندی کا سال ہے (عموما جامابندی ریکارڈ ہر چار برس کے بعد بنایا جاتا ہے) گاؤں، تحصیل اور ضلع کا نام ذکر کیا جاتا ہے.

جمعبندی کے پہلے کالم کھیوٹ نمبر ہے. یہ مالک کے مالک / مالکان کا مخصوس نمبر ہے. یہ سیاہ سیاہی سے لکھا جاتا ہے. یہ نمبر اگلے جامابندی میں تبدیل ہوتا ہے. اس کالم میں بعض اوقات ریڈ سیاہی سے لکھا جاتا ہے ، یہ صرف حوالہ کے لئے ذکر کردہ آخری جامہندی کا کھوت نمبر ہوتا ہے. ایک اصطلاح MIN کبھی کبھی ذکر کیا جاتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے کھیوٹ نمبر کا حصہ جس میں مزید حصوں میں تقسیم ہوتا ہے. کالم 4 میں تفصیل کی تفصیل بیان کی گئی ہے یا پھر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کالم نمبر 4 میں درج کردہ مالکان ایک کھیوٹ کی تفصیل ہیں جو کالم نمبر 1 میں بیان کی گئی ہے.

جامابندی کا دوسرا کالم کھتونی نمبر ہے. یہ مالک کے قبضہ یا کاشتکاروں کی تعداد ہے. کاشتکار یا قبضے کی وضاحت کا ذکر کالم نمبر 5 میں ہے. ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کالم نمبر 5 میں بیان کردہ کسان یا کاشتکار قابض ہیں وہ کھتونی نمبر ہیں جو کالم نمبر 2 میں بیان کی گئی ہیں.

کالم نمبر 3 پٹی میں، طرف یا نمبردار ذکر کیا جاتا ہے. یہ کالم زمین کی واقع ہونے کی جگہ یا حدود اربع کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لئے ہے. بہت سے گاؤں میں خاص طور پر قوم کے ذریعےپٹی ظاہر کی جاتی ہے، لہذا پٹی کا نام ان کی قوم کے مطابق ہے. کبھی کبھی اس حدود اربع کے ذریعے اس کی نشاندہی کی جاتی ہے، لیکن واحد مقصد یہ ہے کہ زمین کا مقام/location پتا چلے.

کالم نمبر 4 میں زمین کے مالکان کی تفصیل بیان کی گئی ہے. اس کا ذکر مالک کے نام سے اپنے والد اور دادا کی طرف لکھا جاتا ہے. دادا باپ کا نام مالک کے شناخت کو یقینی بنانے کے لۓ لیا جاتا ہے، اسی نام کا کوئی ہمنام اسی گاؤں میں مختلف شخص کی ہوسکتی ہے. کالم نمبر 1 میں کھیوٹ نمبر کے طور پر ملکیت نمبر کا ذکر کیا جاتا ہے. جب مالک کسی کو اپنایا جاتا ہے تو اصطلاح "میتانا" کا استعمال کیا جاتا ہے. اگر زمین پنچائت / ٹرسٹ / وکف بورڈ / شمولیت (چاک /گاؤں /کلی والوں کے عام حقوق) کے نام پر ہے تو اس کا نام اس کالم میں ذکر کیا جاتا ہے. بعض معاملات میں جب ماضی میں فروخت کی گئی / منتقلی / تحفے کی گئی تھی تو اس کالم میں یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے. اگر موجودہ جامابندی کی مدت میں منتقلی کی جاتی ہے تو اس کا اندراج کالم نمبر 12 (ریمارکس کالم) میں ہوتا ہے تو پھر کالم نمبر 12 میں تفصیل حتمی ہے، اور کالم نمبر 4 کے داخلے میں کوئی وزن نہیں ہوتا. اس کالم نمبر 12 کی تفصیل کے بارے میں بعد میں تبادلہ خیال کیا جائے گا.

کالم نمبر 5 میں قابض یا کاشتکار کا تفصیل بیان کیا گیا ہے. اگر پچھلے کالم میں ذکر کردہ مالکان زمین کے قبضے یا کاشتکار بھی ہیں تو "خودکاشت ، یا مقبوضہ مالکان ". اگر یہ معاملہ نہیں ہے تو پھر اصطلاح "غیر موروثی " جس کا مطلب ہے کہ عارضی غیر مجاز ملکیت یا پھر "کچی مجراہی" کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے. اگر یہ "غیر دخیل کار" ہے تو یہ مستقل غیر مجاز ملکیت ہے. کبھی کبھی ان کا قبضہ جان بوجھ کے cealling ایکٹ کے تحت آنے سے بچنے کے لئے کارکنوں کو (جس کی وجہ سے SIRIs حصہ دار کہا جاتا ہے) کو دیا جاتا ہے. لیکن ملکیت ایسے معاملات میں واضح نہیں ہوتی ہے.

کالم نمبر 6 میں نام چاہ وغیرہ ذکر کیا گیا ہے جو بالکل اہم نہیں ہے.
کالم نمبر 7 نمبر خسرہ میں ذکر کیا گیا ہے. یہ جامابندی کا اہم کالم ہے. نمبر خسرہ زمین کی موجودگی کی تعداد ہے، جس میں تمام جامابندی میں رہتا ہے. میں

Jamabandi is the most important document of revenue record. It is known by different name like fard, parcha or many other different names in different areas, but most common name is JAMABANDI. It is believed that reading of jamabandi is a very specialized task of revenue officials and far away from the knowledge of general masses. It is also misappropriated that reading of jamabandi or acquiring the knowledge of revenue record is only limited to revenue official especially patwari or kango and other do not have any need for it.

But in present circumstance when everybody who is involved in buying and selling property, agricultural land on regular or occasional basis, getting loan on movable or immovable property or offering any guarantee of any loan/ credit whether short term working capital loan, medium term loan or long term loan, everybody should have a basic knowledge of revenue record. It not only helps to boost the confidence of investor of borrower but also save him from fraud, misappropriation or any other litigation.

Coming back to jamabandi, this record expresses a lot of things. Instead of showing the ownership and possession, jamabandi also gives knowledge about type of land, its holding status, source of irrigation if cultivated, the type of structure built on it, the nature of owner, location of land, its fragmentation type and a lots of other things.

In general a Jamabandi is having 12 (twelve) columns. Each column depicts unique information. The information in some columns is very very important and in some column it is of less importance.
On the top of jamabandi the information like Hadbast number (it is the number of boundary of revenue village), year of jamabandi (generally jamabandi is made after every four years) name of village, tehsil and district are mentioned.

The first column of jamanadi is the Khewat number or number khewat. It is the number of owner/owners of land. It is written by black ink. This number is subject to change in next jamabandi. Sometimes a number in red ink is mentioned in this column, it is the number of khewat in last jamabandi mentioned for reference only. A term MIN is mentioned sometimes, it means the part of whole khewat number which is divided into parts. The detail description of khewat number is mentioned in column 4 or we can say that the owners mentioned in column number 4 are having one khewat number which is mentioned in column number 1.

The second column of jamabandi is Khatauni Number or Number Khatauni. It is the number of possessioner or cultivator of land. The description of cultivator or possessioner is mentioned in column number 5. We can say that the cultivator or possessioners mentioned in column number 5 are having khatuani number which is mentioned in column number 2.

In column number 3 Patti, Taraf or numberdar are mentioned. This column is ment for providing the information about physical location of land. In many villages particular cast is living in patti, hence the name of patti is mentioned as per their cast. Sometimes the location is identified through its numberdar, but the only objective is to find the location of land.

In column number 4 the detail of owners of land is mentioned. It is mentioned by writing the name of owner his/ her father and grandfather. Upto grandfather is taken to ensure the identity of owner, as same name can be of different person in same village. The number of ownership is mentioned in column number 1 as khewat number. When the owner is adopted one then the term “MATVANA” is used. If the land is in name of panchayat/ trust/ wakf board/ shamlat (common rights of villagers) then their name is mentioned in this column. In some cases when the land was sold/ transferred/ gifted in last jamabandi, it is also mentioned in this column. If the transfer is made in current jamabandi period then its entry is made in column number 12 (remarks column) then the description in column number 12 is final, and entry of column number 4 carries no weight. It will be discussed in detail in column number 12 description.

In column number 5 the detail of possessioner or cultivator is mentioned. If the owners mentioned in previous column are also the possessioner or cultivator of land then the term “ Khudkast (kast means cultivation) va Makboja Malkan “ is mentioned. If it is not the case then the term “Gair Marusi” means temporary unauthorized possessioner as “Kache Mujahire” is mentioned. If it is “Gair Dakhildaar” then it is permanent unauthorized possessioner. Sometimes these possessions are given intentionally to the workers (called as SIRIs) to avoid to come under land ceiling act. But the title is not clear in such cases.

In column number 6 Naam chah etc is mentioned which is not at all important.
In column number 7 number khasra is mentioned. This is the important column of jamabandi. Number Khasra is the number of land holding, which remain same in all the jamabandi. If it is divided in parts it is written as khasra number 1/1, ½ when khasra number is divided in two parts. When khasra number 1/1 is again divided in two parts then it will become 1/1/1 and 1/1/2 and so on. It must be remembered that khasra number will never be changed. If the measurement is in kanal marla system then first murrabha number/ mushkeel number/ rectangle number is written in red ink underlined by two straight parallel lines then khasra numbers are written in black ink. In case of bigha- biswa system only khasra numbers are written with black ink. There is no murrabha number in bigha biswa system. Total number of khasras are mentioned in the end as kittas. E.g. if there are 15 khasras in one khewat then at end total kitta are mentioned as 15.

In column number 8 the area of each khasra is mentioned. Mostly the maximum area is 8 kanal 0 marlas (means one acre). But when the land is not cultivated or hill or desert. Then total area is mentioned in one khasra also which may exceed one acre. Type of land is also mentioned below the area of khasra. If it is not cultivated or some building is constructed over it then “gair mumkin” is written, when irrigated by wells then “Chai” is written, when irrigated by canal, then “Nehri” or “abbi” is written, when it is rainfed then “Barani” is written. In some areas the direction of this piece of land is also mentioned here like “Charda” is written for east direction (rising side of sun) “neevan” for west side, “Pahar” for north side (Himalaya side) and “Dariya” for south side. Sometime type of cultivation is also mentioned like “Bagicha” ( orchard), “Poplar”, Sarkanda or Munji is also written in this column. The total of areas is made at the end of khatuni and then Khewat. It must be noted that total of Kita and area should tally at end of each Khatuani and total of Khatuani should tally at end of Khewat. The khasra and area are not changed in next or previous jamabandi, as the area of land remains constant.

In column number 9, 10 and 11 the detail of lagan etc are mentioned but not important for transaction motive, but its importance may vary from area to area.

Column number 12 is most crucial column in jamabandi. It is a remarks column and any entry made in this column may change the status of owernership or possession of land. The entry in this column is made through red ink and every entry is having one specific reference number or intkaal number or rapat number. All entries pertaining to sale purchase or any other type of transaction in current jamabandi period is mentioned in this column. In next jamabandi these entries are transferred to khewat or khatunai column of jamabandi. The common practice of entry in this column is like “ Baruae rapat or intkaal number (reference number), date, wallon (by) tranferrer name Bahak or bae (sold)/ rehan (pledge means given possession)/ aadrehan (without possession)/ Hiba (gift deed)/vasihiat (will) etc. khasra number (so and so) kul (total) kita and area banam (in name of) buyer, bank etc. for amount (such and such) kar diya hai (have done it). These are followed by signature of patwari or revenue officer.

At last the patwari/ revenue officer give the undertaking as “Tasdik kiya jata hai ki Nakal Mutabik Asal hai” means certify as true copy. Sometime also mention about the fee paid by the applicant for this copy. Now a days computer generated attested copies are also available. But in some area these are very lengthy and unable to understand.

But the patwari record is the actual and lasted updated record available. It is recommended that while purchasing any land it should be ensured that its entry has been made in records of concerned patwari and is advisable to keep a copy of your transaction entry in your records.

It is a general practice that after the registry is made in sub registrar office, its entry will be made in intkaal registar and the copy of intkaal is issued, its entry is then made in rognamcha (daily diary) of patwari. Then patwari make this entry in jamabani. Until then the entry is made in jamabandi of patwari, the chances of double sale of property, double mortgage of same land to different banks, double charge over same property and occurrence of other fraudulent activity may be there. Hence red ink entry of mutation should be ensured in jamabandi of patwari. In the case of double entry on same property the then the right of person having first entry is the first.

Sometime when the land is dispersed in different khasras and mutation has been made then only the detail of mutation or rapat is mentioned in main khewat where the area is maximum and only the mutation and rapat number is mentioned in rest khewats. In this case it is advisable to check the complete details of mutation or rapat of that number when the khasra in question is in process of purchase or transfer. Ignoring the number may cause severe consequences in future and drag the property in dispute.

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when HA Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share