29/07/2026
کرپٹو کرنسی (USDT/P2P) اور ضمانت قبل از گرفتاری پر لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
صرف P2P ٹرانزیکشن یا بینک اکاؤنٹ میں رقم آنے سے کوئی شخص مجرم نہیں بن جاتا
کیس کی تفصیلات
عدالت: لاہور ہائی کورٹ
کیس نمبر: Criminal Misc. No. 1974-B of 2026
جج: مسٹر جسٹس طارق سلیم شیخ
نوعیت مقدمہ: ضمانت قبل از گرفتاری (Pre-Arrest Bail)
نتیجہ: درخواست منظور، عبوری ضمانت برقرار (Confirmed)
مقدمے کا پس منظر
شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ ایک آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے کرپٹو کرنسی (USDT) کی P2P ٹریڈنگ کے دوران اس کے ساتھ فراڈ ہوا، اس کے اکاؤنٹس منجمد ہوئے اور مختلف افراد کے بینک اکاؤنٹس میں رقوم منتقل ہوئیں۔ ایف آئی آر میں درخواست گزاروں پر الزام لگایا گیا کہ وہ اس فراڈ کا حصہ ہیں کیونکہ ان کے اکاؤنٹس میں رقم وصول ہوئی۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ صرف P2P Merchants تھے، جو پاکستانی روپے وصول کرکے اس کے بدلے USDT منتقل کرتے تھے۔ ان کا کسی فراڈ، دھوکہ دہی، جعلی دستاویز، جعلی الیکٹرانک ریکارڈ یا شکایت کنندہ کے اکاؤنٹ منجمد کرانے سے کوئی تعلق نہیں۔
عدالت کے اہم مشاہدات
عدالت نے قرار دیا کہ صرف کسی شخص کے بینک اکاؤنٹ میں رقم آ جانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ فراڈ میں شریک ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ استغاثہ یہ دکھانے میں ناکام رہا کہ درخواست گزاروں نے:
کسی کو دھوکہ دیا؛
جعلی دستاویز یا جعلا الیکٹرانک ریکارڈ بنایا؛
کمپیوٹر ڈیٹا میں ردوبدل کیا؛
یا شکایت کنندہ کو نقصان پہنچانے کے لیے کسی سازش میں حصہ لیا۔
عدالت نے مزید کہا کہ تفتیشی ادارے کو ہر ملزم کا کردار الگ الگ ثابت کرنا ہوگا، کیونکہ فوجداری ذمہ داری ہمیشہ انفرادی (Individual Criminal Liability) ہوتی ہے۔
عدالت نے PPC کے بارے میں کیا کہا؟
عدالت نے قرار دیا کہ:
دفعہ 468 PPC (Cheating کے لیے Forgery)
دفعہ 471 PPC (جعلی دستاویز کو اصلی ظاہر کرکے استعمال کرنا)
اسی وقت لاگو ہوں گی جب کوئی جعلی دستاویز یا جعلا الیکٹرانک ریکارڈ موجود ہو۔
اس مقدمے میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا، اس لیے یہ دفعات ابتدائی طور پر درخواست گزاروں پر لاگو نہیں ہوتیں۔
عدالت نے PECA کے بارے میں کیا کہا؟
عدالت نے PECA کی دفعات 13 اور 14 کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا:
Section 13 PECA
صرف اس وقت لاگو ہوگی جب کوئی شخص الیکٹرانک ڈیٹا میں ردوبدل کرکے جعلی یا غیر مستند ڈیٹا تیار کرے تاکہ اسے اصلی سمجھا جائے۔
Section 14 PECA
اس وقت لاگو ہوگی جب کسی شخص نے بدنیتی سے الیکٹرانک نظام استعمال کرکے دھوکہ دیا ہو یا ناجائز فائدہ حاصل کیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ:
صرف USDT ٹرانسفر، آن لائن ٹریڈنگ یا P2P لین دین سے یہ دفعات خود بخود لاگو نہیں ہوتیں۔
عدالت نے FERA کے بارے میں کیا کہا؟
استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ USDT غیر ملکی کرنسی کے مترادف ہے، اس لیے FERA لاگو ہوتی ہے۔
عدالت نے یہ مؤقف قبول نہیں کیا اور قرار دیا کہ:
صرف اس وجہ سے کہ USDT کی قیمت امریکی ڈالر سے منسلک ہے، اسے Foreign Currency یا Foreign Exchange قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ قانون کے تحت ممنوعہ Foreign Exchange Transaction ہوئی ہے، FERA کی دفعات لاگو نہیں ہوں گی۔
عدالت نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ کیوں دیا؟
عدالت نے Internet and Mobile Association of India v. Reserve Bank of India (2020) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ورچوئل کرنسی کو محض اس لیے Currency نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ادائیگی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
اگر قانون اسے Currency قرار نہ دے تو عدالت بھی اسے خود Currency قرار نہیں دے سکتی۔
عدالت نے جسمانی ریمانڈ کے بارے میں کیا کہا؟
عدالت نے کہا کہ:
درخواست گزار پہلے ہی تفتیش میں شامل ہو چکے ہیں؛
تمام بینک ریکارڈ، الیکٹرانک ریکارڈ اور دستاویزات تفتیشی ادارے کے پاس موجود ہیں یا حاصل کیے جا سکتے ہیں؛
درخواست گزاروں نے عبوری ضمانت کا غلط استعمال بھی نہیں کیا۔
لہٰذا ان کی Custodial Interrogation (جسمانی حراست میں تفتیش) کی ضرورت ثابت نہیں ہوئی۔
عدالت کے مقرر کردہ Golden Principles
صرف بینک اکاؤنٹ میں رقم وصول ہونا جرم ثابت نہیں کرتا۔
صرف P2P یا USDT ٹرانزیکشن جرم نہیں۔
فوجداری ذمہ داری ہمیشہ انفرادی ہوتی ہے۔
ہر ملزم کا کردار الگ الگ ثابت کرنا ضروری ہے۔
PECA کی دفعات لگانے کے لیے الیکٹرانک فراڈ یا جعلی ڈیٹا کا واضح ثبوت ضروری ہے۔
PPC کی دفعات 468 اور 471 صرف جعلی دستاویز یا جعلی الیکٹرانک ریکارڈ کی موجودگی میں لاگو ہوں گی۔
USDT کو خودکار طور پر Foreign Currency یا Foreign Exchange قرار نہیں دیا جا سکتا۔
صرف شبہ یا قیاس کی بنیاد پر گرفتاری یا مقدمہ آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔
اگر ملزم تفتیش میں تعاون کرے اور جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہ ہو تو ضمانت قبل از گرفتاری دی جا سکتی ہے۔
ضمانت کے مرحلے پر عدالت صرف یہ دیکھتی ہے کہ Prima Facie جرم بنتا ہے یا نہیں، حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ ثبوت کی بنیاد پر کرے گی۔
حتمی فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر درخواست گزاروں کے خلاف PPC، PECA اور FERA کی متعلقہ دفعات Prima Facie ثابت نہیں ہوتیں۔ درخواست گزار تفتیش میں شامل رہے، عبوری ضمانت کا غلط استعمال بھی ثابت نہیں ہوا، اس لیے عدالت نے ضمانت قبل از گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے ہر درخواست گزار کو 10 لاکھ روپے کے مچلکے اور اسی مالیت کا ایک ضامن جمع کرانے کا حکم دیا۔
یہ فیصلہ کرپٹو کرنسی، USDT/P2P ٹریڈنگ، PECA، FERA اور ضمانت قبل از گرفتاری کے حوالے سے ایک اہم نظیر ہے، کیونکہ عدالت نے واضح کیا کہ صرف بینک ٹرانزیکشن یا کرپٹو لین دین کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ جرم کے ہر قانونی عنصر کا ابتدائی ثبوت موجود ہونا ضروری ہے۔