Lord’s Advocacy

Lord’s Advocacy السلام عليك يا أبا عبدالله الحسين ع
(1)

معذرت کے ساتھگولڈ میڈل لے کر بھی اگر ہارورڈ کے طریقہ کار کو خود نہیں سمجھ سکی مرحومہ  تو اس مظلوم کے ساتھ ساتھ اس تعلیمی...
11/10/2026

معذرت کے ساتھ

گولڈ میڈل لے کر بھی اگر ہارورڈ کے طریقہ کار کو خود نہیں سمجھ سکی مرحومہ تو اس مظلوم کے ساتھ ساتھ اس تعلیمی نظام نے بھی اس درخت سے لٹک کر خود کشی کر لی ہے۔

08/09/2026

اب کے ہم بچھڑے شاید
صوبوں میں ملیں

بیٹیوں کو تعلیم اور اعتماد دیں۔ دنیا کا مقابلہ کرنا اور جینا سکھائیں۔ اس کو اتنا مضبوط بنائیں کہ وہ دنیا سے مقابلہ بھی ک...
01/09/2026

بیٹیوں کو تعلیم اور اعتماد دیں۔ دنیا کا مقابلہ کرنا اور جینا سکھائیں۔ اس کو اتنا مضبوط بنائیں کہ وہ دنیا سے مقابلہ بھی کرسکے اور اپنی زندگی عزت وقار اور خود اعتمادی کے ساتھ جی بھی سکے♥️

کیونکہ ایک تعلیم یافتہ اور با اعتماد بیٹی صرف اپنا نہیں پوری نسل کا مستقبل سنوارتی ہے

زمین کی اصل ملکیت اور فراڈ کا فیصلہ ریونیو افسر نہیں، سول کورٹ کرے گی — سپریم کورٹ کا اہم قانونی اصول!سپریم کورٹ نے زمین...
30/08/2026

زمین کی اصل ملکیت اور فراڈ کا فیصلہ ریونیو افسر نہیں، سول کورٹ کرے گی — سپریم کورٹ کا اہم قانونی اصول!

سپریم کورٹ نے زمین کے تنازعات میں ریونیو اتھارٹی اور سول کورٹ کے دائرۂ اختیار کی اہم وضاحت کر دی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ ریونیو حکام زمین کے ریکارڈ، انتقال اور ریونیو اندراجات سے متعلق کارروائی تو کرسکتے ہیں، لیکن کسی فریق کی اصل ملکیت، ٹائٹل یا فراڈ کے پیچیدہ اور حتمی تنازعے کا فیصلہ کرنا ان کے دائرۂ اختیار میں نہیں۔

اگر کسی انتقال، ریونیو ریکارڈ یا دستاویز کو فراڈ، جعل سازی، ملی بھگت یا غلط بیانی کی بنیاد پر چیلنج کیا جائے اور اس کے نتیجے میں فریقین کے ملکیتی حقوق یا ٹائٹل کا تعین ضروری ہو، تو ایسا تنازعہ سول کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ریونیو اتھارٹی کا دائرۂ اختیار کہاں تک ہے؟

عدالت نے واضح کیا کہ ریونیو حکام کا بنیادی کام ریونیو ریکارڈ، انتقالات اور Record of Rights کو برقرار رکھنا اور ان سے متعلق قانونی کارروائی کرنا ہے۔

ریونیو افسر کا فیصلہ عمومی طور پر ریونیو ریکارڈ کی حد تک ہوتا ہے اور محض انتقال درج ہونے سے کسی شخص کے حقِ ملکیت کا حتمی اور ناقابلِ تنسیخ فیصلہ نہیں ہوجاتا۔

ملکیت اور ٹائٹل کا حتمی فیصلہ کس کا اختیار ہے؟

جہاں تنازعہ کا اصل سوال یہ ہو کہ:

▪️ اصل مالک کون ہے؟
▪️ کسی شخص کا ملکیت کا دعویٰ درست ہے یا نہیں؟
▪️ کوئی دستاویز یا انتقال فراڈ کے ذریعے حاصل کیا گیا؟
▪️ فریقین کے درمیان ملی بھگت یا غلط بیانی ہوئی؟
▪️ کسی رجسٹرڈ دستاویز کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

تو ایسے سوالات کے حتمی تعین کے لیے شہادت، دستاویزات اور مکمل ٹرائل کی ضرورت ہوسکتی ہے، جو بنیادی طور پر سول کورٹ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔

دفعہ 172 ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ — کیا سول کورٹ کا راستہ بند ہے؟

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ دفعہ 172 کو اس طرح نہیں پڑھا جاسکتا کہ ہر قسم کے زمین یا ملکیت کے تنازعے میں سول کورٹ کا اختیار ختم ہوجائے۔

سول کورٹ کا دائرۂ اختیار صرف ان معاملات میں محدود ہوگا جو قانون کے تحت واضح طور پر ریونیو اتھارٹیز کے exclusive jurisdiction میں آتے ہوں۔

لہٰذا اگر مقدمے کا بنیادی تنازعہ ملکیت، ٹائٹل یا فراڈ کے تعین سے متعلق ہو تو صرف یہ حقیقت کہ ریونیو ریکارڈ میں کوئی انتقال درج ہے یا ریونیو افسر نے کوئی فیصلہ دیا ہے، سول کورٹ کے اختیار کو ختم نہیں کرتی۔

ریونیو اندراج ملکیت کا حتمی ثبوت نہیں

یہ فیصلہ زمین کے مالکان کے لیے ایک اہم قانونی اصول واضح کرتا ہے کہ انتقال یا ریونیو ریکارڈ میں اندراج بذاتِ خود ملکیت کے حق کا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جاسکتا۔

اگر کوئی فریق یہ مؤقف اختیار کرے کہ ایسا اندراج فراڈ، غلط بیانی یا غیر قانونی طریقے سے حاصل کیا گیا ہے اور اس بنیاد پر ملکیتی حق متاثر ہورہا ہے، تو متعلقہ فریق سول کورٹ سے مناسب قانونی ریلیف حاصل کرسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کا اہم پیغام

ریونیو افسر ریکارڈ درست کرسکتا ہے، لیکن جہاں اصل تنازعہ ملکیت، ٹائٹل یا فراڈ کا ہو وہاں حتمی فیصلہ سول کورٹ کرے گی۔

محض ریونیو اتھارٹی کے کسی سابقہ حکم کی موجودگی فریق کو سول کورٹ سے رجوع کرنے سے نہیں روک سکتی، خصوصاً جب تنازعہ بنیادی طور پر ملکیتی حقوق اور فراڈ کے تعین سے متعلق ہو۔

“ Know your rights. Seek lawful remedies. __Lords advocacy “ ⚖️

کمسن  آیزل کے مبینہ زی ادت ی اور ق ت ل کے کیس میں پولیس نے گرفتار ملزم منان کو عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے مزید تفت...
28/08/2026

کمسن آیزل کے مبینہ زی ادت ی اور ق ت ل کے کیس میں پولیس نے گرفتار ملزم منان کو عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے مزید تفتیش کے لیے ملزم کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کی عمر جانچنے کے لیے کیے گئے Ossification/Age Test میں عمر تقریباً 17 سے 18 سال کے درمیان سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب DNA ٹیسٹ کی رپورٹس تاحال موصول نہیں ہوئیں۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اور کمسن بچی کے DNA نتائج کا انتظار ہے، جو کیس کی تفتیش میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مقدمہ ڈیفنس پولیس اسٹیشن میں PPC کی دفعات 375 اور 302 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
عدالت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ملزم کو تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کی رپورٹ کے ساتھ دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

“ Know your rights. Seek lawful remedies. __Lords advocacy “ ⚖️


27/08/2026

ٹرائل شروع ہونے سے پہلے مجسٹریٹ investigation کرتا ہے یا inquiry ؟

26/08/2026
25/08/2026

پہلے مولوی کہتا تھا لاؤڈ سپیکر پہ شیطان بولتا ہے یہ حرام ہے تب ہم نہی تھے مانتے
اب ہم کہتے ہیں لاؤڈ سپیکر پہ شیطان بولتا ہے اب مولوی نہی مانتا😒

(مشتاق یوسفی)

“ Know your rights. Seek lawful remedies. __Lords advocacy “ ⚖️
24/08/2026

“ Know your rights. Seek lawful remedies. __Lords advocacy “ ⚖️

Address

Kamalia

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lord’s Advocacy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share