20/05/2026
پاکستانی خاندانی نظام اور ساتھ رہنے والے بچوں کی خاموش قربانیاں
پاکستانی خاندانی نظام ہمیشہ سے محبت، احترام، برداشت اور قربانی کی بنیاد پر قائم رہا ہے۔ ایک ہی چھت تلے کئی نسلوں کا رہنا ہماری تہذیب کا حسن سمجھا جاتا تھا۔ والدین بڑھاپے میں اپنے بچوں کے سہارے کو اپنی سب سے بڑی دولت مانتے تھے۔ مگر وقت کے ساتھ خاندانی رویّے تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ آج اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جو بیٹا اور بہو والدین یا ساس سسر کے ساتھ رہتے ہیں، وہی سب سے زیادہ تنقید، شکایات اور الزامات کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ دور رہنے والے بچے اکثر “فرمانبردار”، “مصروف” یا “بہت اچھے” سمجھے جاتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ قربت کے ساتھ توقعات بڑھ جاتی ہیں۔ جو بہو روزانہ گھر کے کام، بزرگوں کی خدمت، مہمانوں کی تواضع اور خاندان کی ذمہ داری نبھاتی ہے، اس کی چھوٹی سی غلطی بھی بڑا مسئلہ بنا دی جاتی ہے۔ اسی طرح وہ بیٹا جو اپنے والدین کے اخراجات، علاج اور روزمرہ معاملات سنبھالتا ہے، اکثر یہ سننے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ “تم بدل گئے ہو” یا “پہلے جیسے نہیں رہے”۔ دوسری طرف وہ اولاد جو فاصلے پر رہتی ہے، کبھی کبھار فون کر لے یا چند رسمی ملاقاتیں کر لے تو اسے مثالی سمجھ لیا جاتا ہے۔
پاکستانی خاندانوں میں اکثر غلط فہمیاں اسی وقت جنم لیتی ہیں جب موازنہ شروع ہو جاتا ہے۔ “دوسرا بیٹا زیادہ خیال رکھتا ہے”، “دوسری بہو زیادہ اچھی ہے”، یا “وہ دور رہ کر بھی عزت دیتا ہے” جیسے جملے گھر کے ماحول کو زہر آلود کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ روزانہ ساتھ رہنا آسان نہیں ہوتا۔ ہر انسان کی اپنی تھکن، پریشانیاں اور جذبات ہوتے ہیں۔ مسلسل ذمہ داری انسان کو ذہنی دباؤ کا شکار بھی بنا دیتی ہے، مگر ہمارے معاشرے میں اس قربانی کو کم ہی سراہا جاتا ہے۔
بعض اوقات دور رہنے والے افراد خاندان میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کا سبب بھی بنتے ہیں۔ وہ محدود معلومات یا یک طرفہ باتیں سن کر فیصلے کرتے ہیں، جبکہ اصل حالات سے ناواقف ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھر میں رہنے والے افراد کو ہی قصوروار سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی رویّہ خاندانوں میں فاصلے، دل آزاری اور نفرت پیدا کرتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی خاندانی نظام میں انصاف، احساس اور قدردانی کو فروغ دیا جائے۔ جو بچے والدین کے ساتھ رہتے ہیں، ان کی قربانیوں کو سمجھا جائے۔ بہو کو صرف ذمہ داریوں کا بوجھ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے عزت، اعتماد اور محبت دی جائے۔ اسی طرح بیٹے پر صرف فرائض نہ ڈالے جائیں بلکہ اس کے جذبات اور مشکلات کو بھی محسوس کیا جائے۔
مضبوط خاندان وہی ہوتے ہیں جہاں قربانی دینے والوں کو الزام نہیں بلکہ عزت دی جاتی ہے، اور جہاں دور یا قریب رہنے کے
بجائے رشتوں کی سچائی اور خلوص کو اہمیت دی جاتی ہے۔
Natasha Sethi
Advocate High Court