01/03/2026
مسلم امہ کو اتحاد کی ضرورت ہے، جنگ کی نہیں۔
آج مسلم دنیا میں تقسیم بڑھ رہی ہے۔جیسا کہ دونوں پڑوسی اسلامی ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعات، دہشت گردی کے دلخراش واقعات اور عالیہ جنگ اس شکن کو مزید ذیادہ کر رہی ہے ۔اسی طرح ایران, اسرائیل, اور امریکہ کے درمیان جوہری ہتھیاروں پر کشیدگی، اور خلیجی خطے میں عدم استحکام مسلم اتحاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے عالیہ حملہ نے جلتی پر تیل کا کردار ادا کیا ۔اس کی جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے اتحادی عرب مسلم ممالک بالخصوص سعودی عرب ،بحرین ، متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی دفاعی تنصیبات پر جوابی کارروائی کی ہے جو کہ امت مسلمہ کے لئے ایک المیہ ہے کہ ایک اللہ ،رسول اور قرآن مجید کے ماننے والے آپس میں حالت جنگ میں ہیں ۔
اسلام اتحاد اور امن کا درس دیتا ہے۔ فرقہ واریت دہشتگردی کی ممانعت کرتا ہے ہر شخص کی جان مال اور عزت و آبرو کی حرمت کا حکم دیتا ہے۔ آپس میں سیاسی تنازعات اور مسائل کوسیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی تلقین کرتا ہے ۔ لیکن اس وقت امت مسلمہ ان احکامات سے منحرف ہو کر اپنے ہی مسلمان بھائی کے خلاف لڑ رہی ہے یہ جنگیں اور سیاسی رقابتیں امت کو کمزور کرتی ہیں
اسلامی تعاون تنظیم کے لیے یہ حالات لمحہ فکریہ ہیں ۔مسلم قیادت کا یہ امتحان ہےکہ وہ اسلامی ممالک کے درمیان امن وامان کو بحال کرنے اور تنازات کو حل کرنے میں مضبوط کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ جنگیں ختم ہوں اور مسلم ممالک میں اتحاد قائم ہو۔
حقیقی حل جنگ نہیں، بلکہ مکالمہ، اقتصادی تعاون اور مشترکہ مفاد میں کام کرنا ہے۔ یہی مسلم امہ کی طاقت ہے۔
*تحریر: ایڈووکیٹ نازاللہ خان*