Words & Worlds by Dr. Shah Altaf

Words & Worlds by Dr. Shah Altaf Exploring literature, law and society through words and ideas. Thoughtful commentary on current affairs, literature, culture, law and contemporary issues.

08/08/2026

طوے پنیالہ میں منی منی کوٹ ۔بچوں کا محبوب مشغلہ

04/08/2026

چې قانع د زمانې په خشک و تر یم
که مې پېژنې بادشاه د بحر و بر یم

نه مې تخت نه مې افسر نه مې سپاه شته
په تسخیر د درست جهان ختلے نمر یم

په درون کښې مې پراته دي ډېر ګنجونه
په معنا کښې لکه کان د سیم و زر یم

د طالع په سود او زیان مې نظر نشته
سر تر پایه درست وجود واړه هنر یم

که مې لاس لکه دریاب خالي لیدے شي
د ټټر دننه ډک په دُر ګوهر یم

که مې حلق له تندې وچ شي په همت کې
پروادار کله د حوض د کوثر یم

لا یو شور راځنې لاړ نه وي بل راشي
مګر زه پیدا په ورځ د شور و شر یم

که لوئي مې د اسمان سره سیالي کا
په پستۍ تر تورو خاورو نه بتر یم

په سپین والي که مې زړۀ تر واؤرې سپین دے
په تور والي د دوزخ د اور شرر یم

څوک مې پرې مۀ وزه د قهر تر کمرو
که په حکم په سکون لکه تور غر یم

وباطن وته مې ګوره که دانا ئې
په ظاهر صورت که هر څو محقر یم

د حاتم غوندې مې خېل و حشم نشته
په عطا که له حاتمه برابر یم

سخاوت مې په تقلید په رسم نه دے
زۀ له ځایه د سخي بابا پسر یم

نه دا یو غېب زما نۀ دا ډېر هنره
چې بهرام زما پسر زۀ ئې پدر یم

په وګړي مې خبرې د مردۍ شي
په همت کښې په هر لوري نامور یم

د یاقوت د اوبو غم نشته له اُوره
که دا یم د زمانې پۀ اُور کښې در یم

خپل پردي سره ډېر حلم هم ښۀ نۀ دے
زۀ دا هسې درمانده په در ګذر یم

څوک دې هيڅ ګمان په ما د روغو نۀ کا
چې په ملک کښې لېوني دي زۀ ئې سر یم

لا پردي راسره بر ګړندے وکا
زۀ د خپلو په سلام کله په چر یم

زېست روزګار مې د دې خلقه سره نۀ شي
زۀ خوشحال له واړه خلقه مرور یم

(خوشحال بابا کلیات مخ ۲۲۵/۲۲۶ )

26/07/2026

ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﺳﺎﺕ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﮨﯿﮟ
ﺟﻨﮑﮯ ﻧﺎﻡ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ :
1 ۔ ﻧﻔﺲ ﺍﻣﺎﺭﮦ
2 ۔ ﻧﻔﺲ ﻟﻮﺍﻣﮧ
3 ۔ ﻧﻔﺲ ﻣﻠﮭﻤﮧ
4 ۔ ﻧﻔﺲ ﻣﻄﻤﺌﻨﮧ
5 ۔ ﻧﻔﺲ ﺭﺍﺿﯿﮧ
6 ۔ ﻧﻔﺲ ﻣﺮﺿﯿﮧ
7 ۔ ﻧﻔﺲ ﮐﺎﻣﻠﮧ

* ﻧﻔﺲ ﺍﻣﺎﺭﮦ ﭘﮩﻼ ﻧﻔﺲ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺎﺋﻞﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﺭﻏﺒﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔
ﺭﯾﺎﺿﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺎﮨﺪﮦ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﻏﻠﺒﮧ ﮐﻮ ﮐﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺟﺐﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﻔﺲ ﺍﻣﺎﺭﮦ ﮐﮯ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﺍﻣﮧ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺭ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﻮ ﺑﺎﻃﻨﯽ ﻃﻮﺭﭘﺮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ

* ﺟﺐ ﻧﻔﺲ ﻟﻮﺍﻣﮧ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺴﯽﮔﻨﺎﮦ ﯾﺎ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﮐﺎ ﺍﺭﺗﮑﺎﺏ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﻔﺲ ﺍﺳﮯ ﻓﻮﺭﯼﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺳﺨﺖ ﻣﻼﻣﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﻟﻮﺍﻣﮧ ﯾﻌﻨﯽ
ﺳﺨﺖ ﻣﻼﻣﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﮨﮯ :
ﻭَﻟَﺎ ﺍُﻗْﺴِﻢُ ﺑِﺎﻟﻨَّﻔْﺲِ ﺍﻟﻠَّﻮَّﺍﻣَﺔِ O
’’ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺲ ﻟﻮﺍﻣﮧ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ‘‘
ﺍﻟﻘﻴﺎﻣﺔ، 75 : 2

* ﺗﯿﺴﺮﺍ ﻧﻔﺲ ﻧﻔﺲ ﻣﻠﮩﻤﮧ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﺑﻨﺪﮦ ﻣﻠﮩﻤﮧ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺍﺧﻠﯽ ﻧﻮﺭ ﮐﮯ ﻓﯿﺾ ﺳﮯ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﻃﺒﻌﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﮑﯽ ﺍﻭﺭﺗﻘﻮﯼ ﮐﯽ ﺭﻏﺒﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ

* ﭼﻮﺗﮭﺎ ﻧﻔﺲ ﻣﻄﻤﺌﻨﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﺮﯼ
ﺧﺼﻠﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭘﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﻑ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﻟﺖ ﺳﮑﻮﻥ ﻭﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﻧﻔﺲ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺍﻟﻮﮨﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻘﺪﺭ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﮑﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ :
ﻳَﺎ ﺃَﻳَّﺘُﻬَﺎ ﺍﻟﻨَّﻔْﺲُ ﺍﻟْﻤُﻄْﻤَﺌِﻨَّﺔOُ ﺍﺭْﺟِﻌِﻲ ﺇِﻟَﻰ ﺭَﺑِّﻚِ .
’’ ﺍﮮ ﻧﻔﺲ ﻣﻄﻤﺌﻨﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﻮﭦ ﺁ۔‘‘
ﺍﻟﻔﺠﺮ، : 89 27، 28
ﯾﮧ ﻧﻔﺲ ﻣﻄﻤﺌﻨﮧ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻧﻔﺲ ﮨﮯ ﯾﮩﯽ ﻭﻻﯾﺖ ﺻﻐﺮﯼٰ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ
ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
* ﻧﻔﺲ ﺭﺍﺿﯿﮧ،
* ﻣﺮﺿﯿﮧ
* ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻣﻠﮧ
ﯾﮧ ﺳﺐ ﮨﯽ ﻧﻔﺲﻣﻄﻤﺌﻨﮧ ﮐﯽ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺣﺎﻟﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺻﻔﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﻨﺪﮦ ﮨﺮ ﺣﺎﻝﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺍﻥ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ
ﮨﮯ۔
28 ﺍﺭْﺟِﻌِﻲ ﺇِﻟَﻰ ﺭَﺑِّﻚِ ﺭَﺍﺿِﻴَﺔً ﻣَّﺮْﺿِﻴَّﺔً O
ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭦ ﺁﮐﮧ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﺎﻃﺎﻟﺐ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﻮﺏ ﺑﮭﯽ ‏(ﮔﻮﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺿﺎﺗﯿﺮﯼ ﻣﻄﻠﻮﺏ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﯼ ﺭﺿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻄﻠﻮﺏ )o

29 ﻓَﺎﺩْﺧُﻠِﻲ ﻓِﻲ ﻋِﺒَﺎﺩِﻱ O
ﭘﺲ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ‏(ﮐﺎﻣﻞ‏) ﺑﻨﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮ ﺟﺎ o

30 ﻭَﺍﺩْﺧُﻠِﻲ ﺟَﻨَّﺘِﻲ O
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﻨﺖِ ‏( ﻗﺮﺑﺖ ﻭ ﺩﯾﺪﺍﺭ ‏) ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﺟﺎ o
ﺍﻟﻔﺠﺮ، : 89 28

21/07/2026

چیف جسٹس یحیی آفریدی سربراہی میں لاء اینڈ جسٹس کمیشن اجلاس میں بڑا فیصلہ
ملک میں انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان کے قیام کا فیصلہ
لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان نے انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کی سفارش کر دی
چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت لا اینڈ جسٹس کمیشن کا 49واں اجلاس منعقد
اجلاس میں اٹارنی جنرل پاکستان، ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، سیکرٹری وزارتِ قانون و انصاف اور کمیشن کے ارکان نے شرکت کی

وفاقی وزیر قانون و انصاف نے خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی

لا اینڈ جسٹس کمیشن نے انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان کے قیام کی سفارش وفاقی حکومت کو بھجوا دی

انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان کے قیام کے لیے آئین میں نئے آرٹیکل 212A شامل کرنے کی تجویز

مجوزہ انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان ایک آزاد وفاقی اعلیٰ عدالت ہوگی

مجوزہ عدالت بین الاقوامی تجارتی تنازعات کے فوری اور مؤثر حل کے لیے قائم کی جائے گی

مجوزہ عدالت ثالثی ایوارڈز کے مؤثر نفاذ کو بھی مضبوط بنائے گی

انٹرنیشنل کمرشل کورٹ تجارتی قوانین میں یکسانیت اور پیش گوئی کی صلاحیت کو فروغ دے گی

مجوزہ عدالت سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گی

مجوزہ عدالت پاکستان کو بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام بنانے میں معاون ہوگی

لا اینڈ جسٹس کمیشن نے آئینی ترمیم کی سفارش وفاقی حکومت کو قانون سازی کے لیے ارسال کرنے کا فیصلہ کیا

تجویز کا مقصد پاکستان کے تجارتی نظامِ انصاف کو عالمی بہترین روایات سے ہم آہنگ کرنا ہے

اصلاحات کا مقصد پائیدار معاشی ترقی اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار قانونی ماحول فراہم کرنا ہے

لا اینڈ جسٹس کمیشن نے Banking Companies Ordinance, 1962 کی دفعہ 3A(1A) میں ترمیم کی بھی منظوری دی

کمیشن نے بینکنگ محتسب کا دائرۂ اختیار مائیکرو فنانس بینکوں اور اداروں کے صارفین تک بڑھانے کی سفارش کی

مجوزہ اصلاحات سے لاکھوں مائیکرو فنانس صارفین کو مؤثر، کم خرچ اور آسان شکایات کے ازالے کا نظام میسر آئے گا

اصلاحات سے صارفین کے تحفظ اور مالیاتی شمولیت کو فروغ ملے گا

اصلاحات سے مالیاتی شعبے پر عوامی اعتماد مزید مضبوط ہوگا

بینکنگ محتسب سے متعلق مجوزہ ترمیم بھی قانون سازی کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوا دی گئی

لا اینڈ جسٹس کمیشن نے جدید، مؤثر اور جوابدہ نظامِ انصاف کے ذریعے پاکستان کی معاشی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا

کمیشن نے تجارتی اعتماد اور صارفین کے تحفظ کے فروغ کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا

21/07/2026

ہم پاکستان کے سیاسی نظام پر ہنستے ہیں
یہاں برطانیہ میں آج چار برسوں میں پانچواں وزیراعظم حلف اٹھا رہا ہے،

سوشلسٹ اور انتہائی بائیں بازو کے روایتی سوٹ کے بجائے کالی ٹی شرٹ اور جینز پہننے والے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم جہاں سر کیئر اسٹارمر کی جگہ سنبھال رہے ہیں، جنہیں لیبر پارٹی کے اندرونی بغاوت کے باعث استعفیٰ دینا پڑا۔ وہیں برنہم کے پہلے بڑے فیصلوں میں اپنی ہی پارٹی کے وزیراعظم اسٹارمر کے اقدامات یعنی کہ ڈیجیٹل آئی ڈیز کا خاتمہ اور مصنوعی ذہانت (AI) کی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں شامل ہیں۔
وہ وزیراعظم کے دفتر کو ڈاؤننگ اسٹریٹ سے مانچسٹر منتقل کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں، جس سے لندن کے دیرینہ حکومتی و انتظامی ڈھانچے کو شدید دھچکا پہنچے گا، اور پوری برطانوی اسٹیبلشمنٹ ہل کے رہ گئی ہے، جبکہ متعدد سرکاری افسران کو بھی مانچسٹر منتقل ہونے کے لیے کہا جا رہا ہے جس پر بیوروکریسی میں سخت بے چینی ہے کہ صدیوں کے رائج شدہ لندن کے نظام کو کیسے دو حصوں میں بانٹ دیا جائے۔
اپوزیشن لیڈر کیمی بیڈناک پہلے ہی اس سارے عمل کو افراتفری کا موسم گرما کہہ چکی ہے
اب دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے؟

09/07/2026

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے شاہ حسن خیل میں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ 4 سے 5 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مزید تفصیلات اور سرکاری تصدیق موصول ہوتے ہی اپڈیٹ جاری کی جائے گی۔

تازہ اطلاع | شاہ حسن خیل

ابتدائی اطلاعات کے مطابق شاہ حسن خیل میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں درج ذیل افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں:

• نقیب
• طاہر
• زبیر
• شیر نواز
• ہدایت اللہ

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل دے اور زخمیوں کو جلد از جلد مکمل صحت عطا فرمائے۔ آمین۔

نوٹ: یہ معلومات ابتدائی اطلاعات پر مبنی ہیں۔ سرکاری تصدیق یا مزید مستند معلومات موصول ہونے پر اپڈیٹ جاری کی جائے گی۔

05/07/2026

برصغیر میں سلسلہ قادریہ کے اولین پیشوا شیخ مخدوم عبدالرشید حقانی رحمۃ اللہ علیہ

پروفیسر ڈاکٹر محمد حسین آزاد

مرتب : مخدومزادہ مجتبیٰ محمد ہاشمی

مخدوم عبدالرشید حقانی رحمۃ اللہ علیہ برصغیر میں سلسلہ قادریہ کے بانی و اولین مبلغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ شیخ احمد غوث کے فرزند تھے اور ایک روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ والد کے حکم پر آپ ملتان تشریف لائے اور ایک مدرسہ قائم کیا جو بعد میں "مدرسہ بہائیہ" کے نام سے معروف ہوا اور عالم اسلام کی عظیم دینی درسگاہ بن گیا۔ سفر حج کے دوران آپ نے مکہ و مدینہ میں قیام فرمایا، جہاں کمال الدین یمانی جیسے جلیل القدر علما سے استفادہ کیا اور خدمت کعبہ کی سعادت حاصل کی۔ مدینہ منورہ میں روحانی الہام کے ذریعے آپ کو شاہِ ہمدان کی خدمت میں حاضر ہونے کا حکم ملا، جہاں آپ سیدا میر علی ہمدانی، جو شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے محبوب خلیفہ تھے، کے ہاتھ پر بیعت کی اور قادریہ خلافت کی چادر عطا ہوئی۔
ملتان واپسی پر آپ نے ایک روحانی و علمی بستی آباد کی جو اولیا، علما، فقہاء اور مفکرین کی آماجگاہ بن گئی۔ قطب الاقطاب کے لقب سے معروف، آپ نے روحانیت کے ساتھ سماجی و معاشی اصلاحات بھی نافذ کیں۔ آپ نے زراعت کو فروغ دیا، نہریں نکلوا ئیں، کنویں کھدوائے، ہسپتال اور تعلیمی مراکز قائم کیے۔ تعلیم، صحت اور اخلاقی تربیت کو مربوط کیا اور صنفی مساوات، اقلیتوں کی شمولیت اور بین الثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ آپ کی اصلاحات نے خانقاہی نظام میں معاشی استحکام اور تہذیبی احیاء بیدار کی، جس کے اثرات آج تک قائم ہیں۔
مخدوم عبدالرشید حقانی رحمۃ اللہ علیہ نسباً قریشی، مذہباً حنفی اور مشرباً قادری تھے۔ آپ کے آباء عرب کے سردار تھے۔ آپ کا شجرہ نسب قریش عرب کے بالاتفاق حاکم اور سردار قصی بن کلاب سے ملتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قصی اولین عرب سردار تھے جنہوں نے بنی بکر اور بنو خزاعہ کو بزور شمشیر نکال کر مکہ کی سربراہی حاصل کی۔ منتشر قریش قبائل کو یکجا کرکے مکہ المکرمہ میں آباد کیا اور مجمع کہلائے۔ اپنے خاندان کے مکانات کعبۃ اللہ کے ارد گرد تعمیر کیے۔ بیت اللہ کی تولیت، حجابہ، سقایہ، رفادہ، دارالندوہ اور لواء کے جملہ امور اور شہر مکہ کے مکمل اختیارات آپ کو حاصل تھے۔ (1) ابن سعد نے بحوالہ حضرت مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ لکھا ہے کہ مکہ کے جملہ قریشی قبائل آپ کے گرد جمع ہوگئے اور قریش کہلانے لگے۔ (2)
ابن جریر طبری جو روایت، عبد الملک بن مروان کی کتاب میں لاۓ ہیں کہ انھوں نے جبیر بن مطعم سے قریش کے بارےمیں استفسار کیا تو انھوں نے کہا کہ جب منتشر قریش قبائل حرم کعبہ میں جمع ہوئے تو اس اجتماع کو تقرش کا نام دیا گیا اور یہ کام قصی نے انجام دیا۔
اور قصی ہی اولین قریشی سردار کہلائے اور عرب قوم نے بالاتفاق آپ کی سیادت و حاکمیت کو صدق دل سے تسلیم کیا۔ (3)
سیدنا عبدالمطلب سے جب قریش کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا مجھے یہ علم تو نہیں کہ قریش نام کب پڑا البتہ میں نے یہ ضرور سنا ہے کہ قصی کو عرب لوگ قریش کہا کرتے تھے اور اس سے قبل قریش نام نہیں پڑا تھا۔ (4)
قصی نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جدید اصلاحات نافذ کیں۔ دارالندوہ کے نام سے ایک پارلیمنٹ قائم کرکے شورائی نظام متعارف کرایا جس کے ذریعے تمام فیصلے مشاورت سے کیے جاتے۔ عرب کے قریش قبائل اپنے معاملات سردار قصی کے علم میں لاتے اور ان کے احکامات کی پیروی کرتے۔ قصی کی وفات کے بعد بھی ان کی اصلاحات اور قائم کردہ شورائی نظام جاری رہا یہاں تک کہ پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد ﷺ نے بھی ان کے بعض اقدامات کو برقرار رکھا۔ (5) حضرت سید جلال بخاری مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ اپنے مرشد کریم شاہ رکن الدین عالم قریشی رحمۃ اللہ علیہ کا نسب نامہ پڑھتے تو فخریہ انداز میں فرماتے کہ میرے شیخ طریقت کا خاندان عرب کے سرداروں اور شرفاء کا خاندان ہے اور قریش عرب کے ممتاز و افضل سردار ہیں۔ (6)
احمد بن یحییٰ بلاذری (م 279ھ) نے لکھا ہے کہ مجھے خشرم بن مالک کی اولاد میں سے کسی نے بتایا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے الجبال (خوارزم) بطور جاگیر حضرت عبدالرحمن کو عطا فرمایا تھا۔ اس جاگیر میں رہائش بنو امیہ کے آخری حکمران مروان ثانی کے زمانے میں رکھی۔ عبدالرحمن اور ان کی اولاد تو مکہ میں ہی مقیم رہی لیکن کچھ عرصہ بعد عبدالرحیم بن عبدالرحمن کے بیٹے امیر تاج الدین المطرف جب مسند نشین ہوئے تو آخری حکمران مروان ثانی الحمار (م 132ھ) نے ان سے جبر بیعت لینا چاہی لیکن وہ ٹالتے رہے کیونکہ وہ ابراہیم بن محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس سے بیعت کر چکے تھے۔ جب ابراہیم بن محمد عباسی بنو امیہ کے ہاتھوں مارے گئے (7) تو امیر تاج الدین مکہ چھوڑ کر خراسان اپنی جاگیر "الجبال" آگئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ابو مسلم خراسان میں عباسیوں کا علم بلند کر چکے تھے اور ان کا طوطی بول رہا تھا۔ (8) امیر تاج الدین المطرف کی اولاد نے بقیہ وقت اپنی جاگیر "الجبال" میں گزارا یہ اس وقت کی بات ہے جب ابو مسلم خراسان میں عباسیوں کا علم بلند کر چکے تھے اور ان کا طوطی بول رہا تھا (8) امیر تاج الدین المطرف کی اولاد نے بقیہ وقت اپنی جاگیر" الجبال "میں گزارا یہاں تک کہ آپ کے خاندان کے سلطان حسین محمود غزنوی کے لشکر کے ہمراہ دریائے سندھ کے کنارے کوٹ کروڑ آ کر آباد ہو گئے۔ سلطان حسین کے بیٹے قاضی شمس الدین علی لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ (9)
منبع البرکات کی روایت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس خاندان کے سلطان حسین سب سے پہلے یہاں تشریف لائے لیکن مولانا حامد بن فضل اللہ جمالی اور مفتی غلام سرور قادری کی تحقیق کے مطابق اس خاندان کے اولین فرد کمال الدین ابوبکر علی قریشی ہیں جو مکہ سے خوارزم اور وہاں سے کوٹ کروڑ آئے۔ (10)
اس اشکال کی تطبیق یوں کی جا سکتی ہے کہ ممکن ہے کہ امیر تاج الدین المطرف کی اولاد سندھ میں آکر قیام پذیر ہو گئی ہو اور سلطان محمود غزنوی کے سندھ پر حملہ آور ہونے کے وقت حضرت مخدوم عبدالرشید حقانی کے جد امجد کمال الدین علی شاہ سلطان کے ہمراہ آئے ہوں اور کوٹ کروڑ انہیں قضاء کے عہدے پر فائز کر دیا گیا۔ یہ بات درست ہے کہ حضرت کمال الدین ابوبکر علی کوٹ کروڑ کے قاضی رہے۔ ان کے بعد جلال الدین اور ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے شیخ ابوبکر قاضی مقرر ہوئے اور تادمِ آخر اس منصب پر کام کرتے رہے۔ شیخ کمال الدین ابوبکر کے دو صاحبزادے محمد غوث اور احمد غوث ہوئے۔ حضرت بہاء الدین زکریا کی ولادت 566ھ میں وجیہ الدین محمد غوث کے ہاں ہوئی۔ آپ کی والدہ سید حسام الدین ترمذی مخدوم کوٹ کروڑ کی صاحبزادی بی بی فاطمہ تھیں۔
حضرت مخدوم عبدالرشید حقانی کمال الدین ابوبکر کے دوسرے بیٹے احمد غوث کے گھر 569ھ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت احمد غوث کو مزید اولاد مخدوم عبدالرحمٰن، مخدوم طاہر عرف بگاشیر، مخدوم شیخ سادھن، مخدوم موسیٰ نواب، مخدوم راول دریا عرف ڈھیڈ الال،مخدوم فقیر علی عرف ملاں فقیر ہوئے۔ (11)
مولانا نور محمد فریادی نے اولین پانچ بیٹوں کا نام لکھا ہے۔ آخری دو بیٹوں کا نام ان کی کتاب میں موجود نہیں۔ حضرت بہاء الدین زکریا کے والد مکرم شیخ وجیہ الدین محمد غوث 577ھ میں وصال فرما گئے۔ ان کی وفات کے بعد تمام ذمہ داری حضرت مخدوم عبدالرشید حقانی کے والد مکرم احمد غوث پر آن پڑی۔ ابو محمد زکریا اور مخدوم عبدالرشید حقانی دونوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ شیخ احمد غوث نے ادا کیا۔ حضرت بہاء الدین زکریا نے تحصیل علم کی خاطر خراسان، ہرات اور بخارا کا سفر اختیار کیا۔ آپ کی عدم موجودگی میں گھر کے تمام معاملات آپ کے سپرد تھے۔ آپ کے والد شیخ احمد غوث نے آپ کی شادی بہاء الدین زکریا کی ہمشیرہ بی بی کمال خاتون سے کر دی۔ ان کے بطن سے شیخ ابوبکر اور شیخ محمد پیدا ہوئے۔ مخدوم ابوبکر کی زیادہ اولاد دنیا پور میں سکونت پذیر ہے۔ مخدوم محمد کی اولاد مخدوم رشید میں آباد ہے۔ مخدوم حسن کی اولاد کہروڑ پکا اور مخدوم صدرالدین ایوب قتال کی اولاد کا زیادہ حصہ مخدوم رشید اور تھوڑا حصہ میلسی میں رہائش پذیر ہے۔ (12)
آپ اپنے اہل و عیال سمیت کوٹ کروڑ سے ملتان آگئے اور پرہلاد مندر کے ساتھ جہاں حضرت بہاء الدین زکریا کا مزار ہے یہاں درسگاہ قائم کرکے تدریس کا آغاز کیا جو بعد مدرسہ بہاء الدین کے نام سے پورے عالم اسلام میں مشہور ہو گیا اور دنیا بھر سے طلب علم کے لیے لوگ آنے لگے۔ آپ قرآن و حدیث، تفسیر اور فقہ و تصوف سمیت تمام علوم پڑھانے لگے۔ علم مناظرہ بطور خاص پڑھاتے۔ ایک روز آپ کسی مسئلے میں بحث و تمحیص میں مصروف رہے اور تھکاوٹ کی بنا پر آپ کی آنکھ لگ گئی۔ آپ کے والد مکرم نے عالم غنودگی میں فرمایا "کل تمہارے چچا زاد بھائی ابو محمد زکریا واپس پہنچ جائیں گے۔ تم اپنی ہمشیرہ کا نکاح ان سے کر دینا اور خود حرمین شریفین چلے جانا۔ حضرت بہاء الدین زکریا بغداد میں اپنے شیخ طریقت شیخ الشیوخ شہاب الدین عمر سہروردی کی خدمت میں تھے۔ آپ کے مرشد کریم نے آپ کو فرمایا کہ ملتان جاؤ اور اسے اپنا مسکن بنا کر مخلوقِ خدا کو فیض پہنچاؤ۔ آپ نے اپنے مرشد کریم کے حکم پر وہاں سے ملتان کے لیے چل پڑے۔ (13)
جب حضرت بہاء الدین زکریا ملتان پہنچے تو مخدوم عبدالرشید حقانی نے آپ کا پُرتپاک استقبال کیا۔ اپنے والد مکرم کی فرمان کےمطابق اپنی ہمشیرہ کا نکاح حضرت بہاء الدین زکریا سے کرنے کے بعد تمام ذمہ داریاں ان کے حوالے کیں اور اجازت لے کر حرمین شریفین عازمِ سفر ہوئے۔ کمال الدین یمنی کی صحبت میں وقت گزارتے اور ان سے علوم سیکھتے۔ سالہا سال حرمین شریفین میں عبادت و ریاضت اور بیت اللہ کی مجاوری میں گزارنے کے بعد واپس ملتان لوٹے۔ شیخ الاسلام حضرت بہاء الدین زکریا نے آپ کا محبت سے استقبال کیا۔ آپ کے ساتھ مسند پر بٹھایا اور تمام معاملات آپ کے علم میں لا کر آدھی حصے کی جائیداد اور زمینیں آپ کے حوالے کر دی۔ آپ نے سب جائیداد غریبوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کر دی۔ دامن جھاڑ کر اٹھے اور دریائے راوی کے کنارے خس و خاشاک کی جھونپڑی بنا کر وہاں اللہ کی یاد میں مصروف ہو گئے۔
شیخ الاسلام حضرت بہاء الدین زکریا آپ کے پاس جاتے اور فرماتے کہ تمہارے اتنے سارے اہل و عیال ہیں وہ کیا کریں گے اور کہاں جائیں گے۔ آپ نے سب کچھ بانٹ دیا ہے یہ کہاں سر چھپائیں گے۔ آپ نے فرمایا "میں نے کچھ زمین خرید لی ہے۔ ان شاء اللہ وہاں گزر بسر ہو جائے گا۔ اپنے زہد و ورع، جود و سخا، صدق و صفا اور عدل و انصاف جیسے اوصاف حمیدہ کی وجہ سے حقانی کے لقب سے شہرت اختیار کی۔ اولاد علی گیلانی کے بقول آپ نے تین سال اپنے مرشد کی خدمت میں گزارے اور انہی کے حکم پر وہاں سے ملتان آئے اور اپنے اہل و عیال اور عزیز و اقارب کو لے کر اپنی زمین پر پہنچے جو آپ نے تاج دین مڑل سے خریدی تھی۔ وہاں رہائش کے لیے مکانات بنائے اور زمین اپنے اہل و عیال اور متوسلین اور عزیز و اقارب میں بانٹ دی تاکہ وہ اسے کاشت کر کے گزر اوقات کر سکیں اور خود ایک حجرہ بنا کر اس میں رہنے لگے۔ یہ جگہ آپ کے نام سے موسوم ہو کر مخدوم رشید کہلانے لگی۔ جاوید ہاشمی نے اپنی کتاب میں ایک منفرد بات کہی ہے کہ حضرت مخدوم عبد الرشید حقانی کا آباد کردہ یہ قصبہ پاکستان کے عام قصبوں کی مانند ہے۔ یہاں نہ کوئی جاگیر دار رہتا ہے اور نہ ہی کسی وڈیرے کا یہاں کوئی ڈیرہ ہے۔ اس قصبے کو آباد ہوئے ہزار برس گزر چکے ہیں لیکن کہ شاید ہی یہاں کوئی قتل ہوا ہو یا ازدواجی زندگی میں کوئی طلاق ہوئی ہو۔ (14)
مخدوم عبدالرشید حقانی نے پہلی شادی کے بعد دوسرا نکاح ناصر الدین محمود کی بیٹی سے تیسرا رائے لونا کی دختر سے اور چوتھا نکاح مڑل قوم میں کیا۔ پہلی شادی سے مخدوم ابو بکر اور مخدوم محمد ہوئے۔ ناصر الدین محمود کی صاحبزادی کے بطن سے مخدوم حسن اور رائے لونا کی بیٹی سے مخدوم صدر الدین قتال رحمۃ اللہ علیہ ہوئے۔ آپ کے پوتے حضرت ایوب قتال رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ دنیا پور سے جانب مشرق 5 کلومیٹر کے فاصلے پر دو کوٹھ روڈ پر واقع ہے۔ مخدوم حسن کی خانقاہ کہروڑ پکا میں ہے۔ مخدوم ابو بکر اور مخدوم محمد اپنے والد مکرم کے ساتھ مخدوم رشید مدفون ہیں۔ حضرت مخدوم عبدالرشید حقانی کی قبر انور پہلے کچی تھی اور آپ کی خواہش بھی یہی تھی کہ میری قبر کچی رہے لیکن اب آپ کے تصرف سے منفرد طرزِ تعمیر کا عالیشان روضہ تعمیر ہو چکا ہے۔ مزار کے ساتھ ہی جانب مشرق مسجد ہے جو عالم اسلام میں اس طرزِ تعمیر کی اولین پانچ گنبدوں والی مسجد ہے۔ (15)
حضرت مخدوم عبدالرشید حقانی کی نسبت بیعت بھی کاملین میں زیر بحث رہی ہے۔ آپ کے چچا زاد بھائی نے شیخ الشیوخ شہاب الدین عمر سہروردی کے سلسلے میں بیعت کی اور آپ قادریہ سلسلے میں کیونکر بیعت ہوئے؟ دوسرا یہ کہ خاندان اور اوراد و اسباق میں شاہ ہمدان سید علی ہمدانی کا نام پڑھا جاتا ہے اور عام حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کشمیر والے سید علی ہمدانی ہیں جبکہ امیر کبیر سید علی ہمدانی کی ولادت 713ھ میں اور وصال 786ھ میں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مخدوم عبدالرشید حقانی (569-669ھ) کے وصال کے 45 برس بعد آپ پیدا ہوئے۔ دوسری اہم بات یہ ہے امیر کبیر سید علی ہمدانی کا قادریہ سلسلہ بھی نہیں رکھتے تھے۔ تو یقیناً یہ کوئی اور سید علی ہمدانی ہے جو قادریہ سلسلہ بھی رکھتا ہے اور مخدوم عبدالرشید کا معاصر بھی ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے سلسلہ قادریہ، اس کے بانی اور خلفاء کا تعارف ضروری ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ ممکن ہے ان میں کوئی سید علی ہمدانی ہو جس سے آپ نے بیعت کی ہو۔
سلسلہ قادریہ کے بانی سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی، قطب ربانی، شہباز لامکانی (470-561ھ) ہیں۔ آپ حسنی حسینی نجیب الطرفین سید تھے۔ 488ھ میں مستظہر باللہ کے عہد (487-512ھ) میں تحصیل علم کی خاطر اسلام کے مرکز بغداد پہنچے اور اسی سال امام غزالی بغداد سے کوچ کر گئے۔ (16) وقت تبحر علماء سے اکتساب فیض کیا جن میں ابوالوفاء علی بن عقیل (م 513ھ)، محفوظ الکوزانی، ابوالحسن بن قاضی ابویعلی، اور قاضی ابوسعید المخرمی (م 513ھ) سے فقہ سیکھی۔ (17)
علم حدیث محمد بن حسن باقلانی ابوسعید محمد بن عبدالکریم ابوالغنائم محمد بن علی بن میمون الفرسی، ابوبکر احمد بن مظفر، جعفر بن احمد بن حسین القاری السراج مصنف مصارع العشاق ابوالقاسم علی بن احمد بن بنان الکرخی، ابوطالب عبدالقادر بن محمد بن یوسف، عبدالرحمن بن احمد ابوبرکات ہبتہ اللہ ابن المبارک ابوالعز محمد بن المختار، ابوغالب احمد ابو عبداللہ یحییٰ، ابوالحسن بن مبارک، ابومنشور عبدالرحمن اور ابوالابوبکر طلحہ سے پڑھی۔ (19) علم ادب و باطن کی تعلیم ابوزکریا یحییٰ بن علی التبریزی (20) اور شیخ ابویعقوب یوسف بن ایوب الہمدانی متوفی 535ھ سے حاصل کی۔ (21) اور اس کی تکمیل حضرت ابوسعید المخرمی کے دستِ اقدس پر عملی بیعت کرنے پر ہوئی ۔ (22)
شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے آپ کی بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ نے فرمایا "میں گیارہ برس ایک برج میں خلوت نشین رہا۔ میرے طویل قیام کی وجہ سے لوگوں نے اسے برج عجمی کہنا شروع کر دیا۔ میں نے اپنے معبودِ حقیقی سے عہد کیا کہ اس وقت تک کچھ نہیں کھاؤں گا جب تک مجھے کھلایا پلایا نہ جائے۔ پھر ایسا ہوا کہ ایک شخص آیا اور میرے سامنے کھانا رکھ کر چلا گیا۔ میں اپنے عہد کی بنا پر اس کھانے کو ہاتھ نہ لگایا۔ اس کے بعد حضرت ابوسعید المخرمی ادھر آئے اور مجھے اپنے ساتھ باب ازج اپنے مدرسے میں آنے کا کہا لیکن میں نہ گیا۔ بالآخر حضرت خضر تشریف لائے اور مجھے ان کے پاس جانے کے لیے کہا تو میں ان کے پاس چلا گیا۔ انھوں نے مجھے کھلایا پلایا اور خرقہ پہنایا۔ (23) سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ طریقت مولانا جامی نے نفحات الانس میں شجرہ طریقت ابوبکر شبلی تک لکھا ہے۔ علامہ یحییٰ التاذفی نے مکمل لکھا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں
"ابو محمد القادر جیلی ابوسعید المخرمی ابوالحسن علی محمد القرشی ابوالفرح الطروسی عبدالواحد تمیمی ابوبکر شبلی ابوالقاسم جنید بغدادی سری سقطی معروف کرخی داؤد طائی حبیب حسن بصری امیر المومنین علی بن ابی طالب۔ (24)
آپ کے شیخ طریقت حضرت ابوسعید المخرمی نے اپنا مدرسہ آپ کے حوالے کر دیا۔ 521ھ میں آپ نے وعظ کا آغاز کیا۔ 528ھ میں تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران اپنے مدرسے میں ایک رباط قائم کی جس میں آپ اپنے مریدین کی تربیت فرماتے اور انھیں سلوک کی منازل طے کراتے۔ سلوک و تربیت کے وہ قواعد و ضوابط جنھیں شیخ جیلانی محبوب سبحانی نے معین فرمایا وہ درحقیقت سلسلہ قادریہ کی بنیاد بنے۔ (25) مدرسہ قادریہ میں یہ قائم رباط اس عہد میں ایک عظیم خانقاہ کا درجہ رکھتی تھی۔ اس خانقاہ میں آپ اپنے عقیدت مندوں کو قادریہ سلسلے میں بیعت کرتے، ان کی تربیت فرماتے اور انھیں خرقہ پہناتے تھے۔ سلسلہ قادریہ میں بیعت کا مطلب یہ ہوتا کہ مرید نے اپنا ارادہ اور اپنی تمام خواہشات کو اپنے شیخ طریقت کے حوالے کر دیا ہے۔ (26)
سلسلہ قائم کرتے وقت شیخ جیلانی نے فرمایا کہ اس طریقے کی بنیاد وہ رکھ رہا ہوں جس پر نبی کریم ﷺ ان کے صحابہ اور تابعین رہے۔ (27) میری خواہش اگرچہ یہ تھی کہ میں گوشہ نشینی کی زندگی بسر کروں اور صحراؤں میں تنہا ہوں۔ نہ مجھے کوئی دیکھے اور نہ ہی میں کسی کو دیکھوں لیکن مشیت ایزدی یہ تھی کہ میرے ذریعے اللہ کی مخلوق کو فیض پہنچے۔ (28)
قادریہ سلسلے کی اساس اطاعت اللہ، اطاعت رسول اللہ اور خدمت مخلوق اللہ پر مبنی ہے۔ قادریہ سلسلے کے یہ تینوں اساسی اصول ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور لازم و ملزوم ہیں۔ اللہ کی اطاعت کے بعد اللہ کے رسول کی اطاعت کو لازم سمجھا جاتا ہے اور ان دونوں کی تکمیل خدمت مخلوق کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ بانی سلسلہ فرماتے ہیں کہ پاک ہے وہ ذات جس نے میرے دل میں مخلوق کی خیر خواہی اور اس کی خدمت کا بیج بویا اور اسے میری زندگی کا مقصد بنا دیا۔ میں اللہ کی مخلوق کی خدمت والا ناصح ہوں اور اس پر کسی قسم کی اجرت کا خواہش مند نہیں ہوں۔ اس کا بدلہ میرے بے نیاز رب کے پاس ہے جو مجھے مل چکا ہے۔ (29)
قادریہ سلسلے کو باقی سلاسل تصوف پر ایسے ہی فضیلت حاصل ہے جیسے سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی کو اولیاء پر ہے۔ قادریہ سلسلے کے متعلق یہ بات زبان زد خواص و عام تھی کہ اس کے دامنِ کرم سے وابستہ مرید سے افضل کوئی نہیں ہو سکتا اور اس سے نسبت رکھنے والا جنتی ہے۔ (30) کیونکہ اس میں انوارِ الٰہی کی چمک ہے۔ (31) سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی خود فرماتے ہیں کہ ہمارے ایک انڈے کی قیمت تو مقرر ہے لیکن چوزے کی کوئی قیمت نہیں لگ سکتا۔ ہر مشکل وقت میں میری اعانت کے لیے ایک ایسا یونٹ تیار رہتا ہے جس کا کوئی مدمقابل نہیں اور زمین کے ہر خطے میں ایک ایسا گھوڑا جس پر کوئی سبقت حاصل نہیں اور ہر لشکر میں ایک ایسا سردار مقرر ہے جس کے حکم سے کسی کو سرتابی کی مجال نہیں اور ہر عہد میں ایک ایسا حکمران متعین ہے جسے کوئی معزول نہیں کر سکتا (32) اور مالکِ لم یزل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے "لا یموت احد منہم الا علی توبۃ" کہ میرا کوئی مرید توبہ کیے بغیر نہیں مرے گا۔ (33)
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ شیخ جیلانی کے یہ اقوال سلسلہ قادریہ کی مقبولیت کا باعث بنے۔ لیکن ابوالحسن ندوی نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی باکمال شخصیت کے سبب آپ کا جاری کردہ طریقہ قادریہ آپ کی زندگی میں ہی دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچ چکا تھا اور لاکھوں افراد آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہو چکے تھے۔ (34) قادریہ سلسلے کی ترویج و اشاعت میں آپ کی اولاد اور خلفاء کا کردار بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ آپ کی اولاد میں سے سیدنا عیسیٰ شام اور وہاں سے مصر تشریف لے گئے اور وہاں جا کر سلسلہ قادریہ کی تعلیمات کو فروغ دیا اور 573ھ میں وفات پا کر وہیں مدفون ہوئے۔ (35) سید ابراہیم بغداد سے واسط آگئے اور وہاں سلسلہ قادریہ کو روشناس کرایا۔ آپ کی اولاد نے ہسپانیہ اور مراکش میں قادریہ سلسلے کو فروغ دیا۔ (36)
سید ابوبکر عبدالعزیز بغداد سے جبال قیام پذیر ہو گئے اور یہاں قادریہ ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ بے مثل خطیب اور مجاہد تھے۔ اپنی خطابت کی اثر انگیزی سے مجاہدین بھرتی کرتے اور صلاح الدین ایوبی کے پاس بھیجتے۔ عسقلان کے معرکے میں خود بھی شریک ہوئے ۔ 602ھ میں وفات پا کر جبال میں مدفون ہوئے۔ آپ کی اولاد میں سے شیخ شرشیق، اور ان کے بیٹوں نے جبال کے علاوہ دمشق اور مصر میں قادریہ تعلیمات کی اشاعت میں بھرپور کردار ادا کیا۔ سندھ میں بھی آپ کی اولاد کی تبلیغ سے کثیر لوگ فیض یاب ہوئے۔ (37)
سیدنا عبدالرزاق بن شیخ عبدالقادر جیلانی بغداد کے حافظ حدیث اور اپنے عہد کے بہت بڑے شیخ طریقت تھے۔ آپ کی اولاد نے مصر، شام اور حماہ میں سلسلہ قادریہ کو فروغ دیا۔ آپ کی اولاد کی برصغیر میں بھی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ (38) سید موسیٰ نے شہر دمشق میں مقیم ہو کر فیضِ قادریہ کو عام کیا۔ 618 میں وفات پا کر جبل قاسیون میں مدفون ہوئے۔ (39)
آپ کے بڑے بیٹے سیدنا عبدالوہاب (522-593ھ) آپ کے وصال کے بعد مسند نشین ہوئے۔ بغداد اور مضافات میں قادریہ ترویج اور صوفیانہ روایات کے فروغ میں آپ نے بہت زیادہ جہد کی۔ ناصر الدین اللہ عباسی کے عہد حکومت میں مظلوموں کی داد رسی کے مٹکے کے سربراہ بھی رہے۔ آپ کے صاحبزادے سید عبدالسلام حرمین شریفین کے متولی اور غلافِ کعبۃ اللہ کے نگران رہے۔ مکتہ المکرمہ میں سلسلہ قادریہ کو متعارف کرانے میں آپ کا کردار لائق تحسین ہے۔ (40)
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی رحمہ اللہ کے خلفاء بے شمار تھے۔ ان میں شیخ قضیت البان الموصلی رحمہ اللہ (م 507ھ)، عدی بن مسافر (م 55ھ) شیخ عثمان بن مرزوق (م 564ھ) شیخ علی بن الہیتی (م 564ھ) سید احمد المعروف سلطان سخی سرور (م 577ھ) سید احمد رفاعی (م 587ھ)، شیخ حیات بن قیس الحرانی (م 581ھ)، شیخ صالح ابو عبداللہ بن محمد (م 599ھ)، شیخ یونس قصار، شیخ محمد الاولانی المعرف بہ ابن القائد، شیخ ابو محمد عبداللہ جبائی (605ھ)، شیخ عمر بن مسعود (م 608ھ)، شیخ خلیفہ بن موسیٰ النہر الملکی اور سید علی بن یوسف ہمدانی قابلِ ذکر ہیں۔ مؤخر الذکر سید علی ہمدانی کو ان کے والد مکرم شیخ یوسف ہمدانی نے سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کے حوالے کیا اور انہیں سلسلہ قادریہ میں بیعت کرایا۔ گزشتہ اوائل سطور میں شیخ ابویعقوب یوسف بن ایوب الہمدانی متوفی 535ھ کا نام سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کے اساتذہ میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ علم ادب کی تعلیم آپ نے شیخ یوسف ہمدانی سے حاصل کی۔ (41)
علامہ شطوفی اور یحییٰ التاذفی نے آپ شیخ یوسف ہمدانی کو علماء و مشائخ کا سردار اور خراسان کا قطب تحریر کیا ہے۔(42) سید یوسف ہمدانی شیخ حماد بن مسلم الدباس کے معاصر اور دوست تھے۔ آپ نے باقاعدہ تعلیم تو حاصل نہ کی لیکن آپ کو علم لدنی حاصل تھا۔ بے شمار علماء و مشائخ نے آپ سے روحانی فیض حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے علوم و معارف کے دروازے آپ پر کھول دیے تھے۔ جس کے سبب وہ مشائخ عظام کے پیشوا بن گئے۔(43) ایک بار سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ملنے کے لیے گئے تو انھوں نے دیکھتے ہی اپنے ساتھ بیٹھے ہم نشینوں سے کہا "قَدَمِی ہٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللہِ"۔ ایک دن اس نوجوان کا قدم جملہ اولیاء کی گردن پر ہوگا اور یہ بات بامر ربی وہ اعلانیہ فرمائیں گے اور ان کے زمانے میں موجود تمام اولیاء ان کے اس فرمان کے آگے سر تسلیم خم کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی طفیل ان سب کے مراتب بلند فرمائے گا۔ (44)سید یوسف ہمدانی ایک بار شیخ حماد الدباس کے ہمراہ بغداد تشریف لائے۔ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی کو معلوم ہوا تو آپ انھیں ملنے کے لیے سرائے تشریف لے گئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے دیکھ کر وہ کھڑے ہو گئے اور مجھے اپنے ساتھ پہلو میں بٹھایا۔ مجھ سے میرے احوال پوچھے اور سن کر میری تمام مشکلات کو حل کر دیا۔ اس کے بعد مجھے مخاطب ہو کر فرمایا اے عبدالقادر! تم لوگوں کو وعظ کیوں نہیں کرتے؟ میں نے کہا عجمی ہوں اور میں بغداد کے فصحاء کے سامنے کیسے وعظ کر سکتا ہوں۔ آپ نے مجھے فرمایا اب تم فقہ و نحو اور تفسیر و حدیث حفظ کر چکے ہو۔ میں تمہارے اندر ایک ایسی جڑ دیکھ رہا ہوں جو عنقریب کھجور بننے والی ہے۔(45,)
سیدنا شیخ جیلانی اور شیخ یوسف ہمدانی کی گفتگو سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ ملاقات 521ھ کے لگ بھگ ہوئی کیونکہ اسی سال آپ نے وعظ کا آغاز کیا۔ گمان غالب ہے کہ شیخ یوسف ہمدانی نے شیخ جیلانی میں ولایت کے آثار دیکھ کر ہی اپنے بیٹے کو ان کے حوالے کیا۔ مولانا جامی نے لکھا ہے کہ شیخ یوسف ہمدانی شیخ عبدالقادر جیلانی کے اساتذہ میں سے تھے۔ شیخ بوعلی فارمدی سے نسبت طریقت رکھتے تھے آپ خراسان کے شہر مرو میں مقیم تھے۔ مرو سے ہرات آگئے اور وہاں قیام پذیر ہونے کا ارادہ کیا لیکن اپنے ارادت مندوں کے اصرار پر دوبارہ واپس مرو آگئے۔ کچھ عرصہ بعد ہرات جاتے ہوئے راستے میں ہی وصال فرما گئے اور مرو میں ہی مدفون ہوئے۔(46)
اولاد علی گیلانی نے لکھا ہے کہ سلسلہ قادریہ میں بیعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر کی۔ کمال الدین یمنی اور دیگر کاملین تصوف سے باطنی علوم سے فیضیاب ہوئے، فریضہ حج ادا کرنے کے بعد مکہ میں قیام پذیر ہوئے۔ جب شہرِ نبی پہنچے تو بارگاہِ رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر نسبت بیعت کی عرضی پیش کی۔ تین سال بعد ارشاد ہوا کہ ہمدان کے سید علی کی خدمت میں جاؤ اور ان کے دامن سے وابستہ ہو جاؤ۔ آپ نے حکم پاتے ہی واپسی کا سفر اختیار کیا اور ان کے دستِ اقدس پر بیعت کرکے سلسلہ قادریہ میں داخل ہو گئے۔ آپ کا سلسلہ طریقت سید علی ہمدانی بن ابویعقوب یوسف ہمدانی کی وساطت سے سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی سے اس طرح جاملتا ہے:
مخدوم عبدالرشید حقانی علی بن یوسف ہمدانی ابومحمد عبدالقادر جیلی ابوسعید المخرمی ابوالحسن علی محمد القرشی ابوالفرح الطروسی عبد الواحد تمیمی ابوبکر شبلی ابوالقاسم جنید بغدادی سری سقطی معروف کرخی داؤد طائی حبیب حسن بصری علی بن ابی طالب۔ (47)
بیعت کے بعد تین سال اپنے مرشد کریم کی خدمت میں رہے اور اس کے بعد ان کے ارشاد پر واپس ملتان تشریف لائے۔ یہاں پہنچ کر سکونت پذیر ہو گئے۔ برصغیر میں قادریہ سلسلے کی ترویج و اشاعت اولین نام آپ کا آتا ہے۔ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کے ایک واسطے سے (سید علی ہمدانی سے) پہلے قادریہ شیخ طریقت ہیں جنہوں نے قادریہ سلسلے کی ترویج و ترسیخ میں جدوجہد کی۔ سیدنا عبدالسلام (548-611ھ) جب بیت اللہ شریف کے نگران اور متولی تھے تو ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سندھ تک سیر و سیاحت کرتے ہوئے آئے اور واپس چلے گئے۔ (48) حضرت مخدوم عبدالرشید کا سن پیدائش اگرچہ 569ھ ہے۔ 600ھ کے لگ بھگ آپ رسول اللہ ﷺ کے حکم پر سید علی ہمدانی کے دستِ اقدس پر بیعت ہو کر سلسلہ قادریہ میں خرقہ خلافت لے چکے تھے۔
تین سال اگرچہ اپنے مرشد کریم کی خدمت میں رہے اور ان کے فرمان پر یہاں تشریف لائے جہاں آج آپ کا مزار ہے۔ بعض حضرات نے جو یہ لکھا ہے کہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری اور شہاب الدین غوری کے ساتھ اسی زمانے میں یہاں پہنچے، قرین قیاس نہیں کیونکہ خواجہ معین الدین اجمیری میں 588ھ میں اجمیری آئے۔ (49) اور ان کی دعوت پر ہی شہاب الدین غوری نے لشکر کشی کی تھی۔ (50)
خواجہ معین الدین جب قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ اور بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے ہمراہ ملتان آئے تو اس وقت شیخ الاسلام بہاء الدین زکریا رحمتہ اللہ علیہ ملتان اور آپ مخدوم رشید مسند نشین تھے۔ شیخ عثمان مروندی لعل شہباز قلندر، شیخ سعدی، صوفی حمید الدین ناگوری، جلال الدین تبریزی سمیت تبحر علماء اور شیوخ طریقت آپ کے معاصرین میں سے تھے۔ شیخ الاسلام بہاء الدین زکریا اور بابا فرید کے ساتھ آپ کی علمی اور روحانی مکالمت رہتی۔ شیخ الاسلام فرمایا کرتے کہ علمِ معرفت میں آپ کا مقام بہت بلند ہے۔
بابا فرید مسعود گنج شکر اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں کہ ایک روز میں میرے بھائی مخدوم عبدالرشید حقانی اکٹھے بیٹھے ہوئے کہ مجاہدے کا ذکر چل نکلا۔ مخدوم عبدالرشید نے فرمایا میرا چھوٹے سے چھوٹے مجاہدہ یہ ہے کہ تین سال ہوئے ہیں کہ میں نے ایک گھونٹ پانی سے ہر سات دنوں کے بعد روزہ افطار کیا ہے۔ اسی طرح ان تین سالوں میں ایک پیالہ پانی پیا اور جو کا آٹا کھایا ہے۔ اس عرصہ میں میں ہمیشہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور مشاہدے میں رہا ہوں اور میں نے کسی قسم کا ضعف محسوس نہیں کیا۔ بابا فرید سے ہی منقول ہے کہ ایک بار برادرم بہاء الدین زکریا اور فقیر (بابا فرید) بیٹھے ہوئے تھے کہ مخدوم عبدالرشید حقانی کے مجاہدے اور عبادت و ریاضت کا ذکر چل نکلا۔
برادرم بہاء الدین نے کہا "میرے بھائی مخدوم عبدالرشید کا مقام قربِ الٰہی میں اس قدر بلند ہے کہ ہمیں ان کی برابری کا یارا نہیں۔ ان کا رُواں رُواں یادِ الٰہی میں سرشار رہتا ہے۔ ولایت کے جس مقام پر وہ فائز ہیں ہم وہاں تک نہیں پہنچ سکتے۔
درس و تدریس اور وعظ و نصیحت کے لیے مدرسہ، مریدین کی تربیت کے لیے خانقاہ قائم کی اور مسجد تعمیر کرائی۔ شب و روز تدریس میں گزارتے۔ صاحبِ و کشف و کرامات اور مستجاب الدعوات تھے۔ کرامات کا ظہور آپ سے بہت زیادہ ہوتا۔ مخدوم رشید میں ایک کنواں کھدوایا اور فرمایا جو اس کا پانی پئے گا شفا ہوگی۔ یہ کنواں صدیوں سے آپ کی زندہ کرامت ہے۔ سارا سال بند رہتا ہے۔ عرس کے موقع پر کھولا جاتا ہے۔ لوگ اس کا پانی پیتے ہیں، نہاتے ہیں اور بیمار شفا پاتے ہیں۔ عرس کی تقریب کو بھی یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ پورا مہینہ جاری رہتی ہے آپ کی یہ کرامت بھی زبان زدِ خاص و عام ہے کہ آپ نے اپنے پیچھے نماز پڑھنے والوں کو حافظ قرآن کر دیا۔ (51) اپنے مریدین کی روحانی تربیت فرماتے۔ قادریہ اسباق تعلیم کرتے اور ان کی استعداد کے مطابق انھیں سلوک کی منازل طے کراتے۔ انھیں فرماتے کہ ہر کام اور ہر حال کتاب و سنت کو سامنے رکھو۔ غور و فکر اور تدبر سے اس کا مطالعہ کرو۔ شریعت ظاہری علمِ اوامر و نواہی اور شرعی احکام ہیں۔ شریعت کا باطنی علم طریقت ہے۔ طریقت کا باطنی علم علمِ معرفت ہے اور علمِ معرفت کا باطنی علم حقیقت ہے۔ ان ارکانِ خمسہ کو سمجھو اور انہی کو اپنا دستورِ عمل بناؤ تاکہ قلو قیل اور ہوا و ہوس کے دھوکے سے بچ جاؤ۔ یاد رکھو قادریہ سلسلے کے بانی شیخ عبدالقادر جیلانی نے اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ساتھ اللہ کی مخلوق کی خدمت کو بھی لازم ٹھہرایا ہے۔ قلتِ طعام، قلتِ کلام اور قلتِ نوم ہمارا شیوہ ہے۔ بھوک پیاس، خاموشی، بیداری، خلوت نشینی اور ذکرِ الٰہی ہمارے طریقے کی اساس ہے۔
ہمارے سلسلے کے پانچ ظاہری اور پانچ باطنی ارکان ہیں۔ ظاہری ارکان میں سب سے پہلا رکن اپنے مرشدِ کریم اپنے مرشد کریم سمیت پیروں کی محبت خدمت ہے۔ دوم کامل پیر سے بیعت کرنا اور خرقہ ارادت پہننا ہے۔ سوم خلوت نشین ہو کر ذکر و فکر اور عبات کرنا ہے، چہارم پیروں کی محبت میں تربیت پانا اور سلوک کی منازل طے کرنا ہے پانچواں رکن جود و سخا اور ایثار میں پہل کرنا ہے۔ باطنی ارکان میں سب سے پہلے علم کا حصول یعنی احکام شریعت و طریقت کا جاننا۔ دوسرا اخلاص و صدق کے ساتھ اس پر عمل کرنا۔ تیسرا باطن میں حال پیدا کرنا۔ چوتھا دل کے تمام تک رسائی حاصل کرنا اور پانچواں اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا ہے۔ جب تک قادری سالک میں یہ اوصاف یکجا نہیں ہوں گے وہ صوفی نہیں بن سکے گا (52) قادریہ اور اوراد و اسباق میں اذکار و اشغال، میں ذکرِ جہری، ذکرِ خفی، مراقبہ و مجاہدہ، توکل، حسنِ اخلاق، صبر و شکر اور رضا کی تلقین کے ذریعے سالک کے اخلاق کی تہذیب کی جاتی ہے۔ صدق و صفا اور اخلاص و عمل کو سامنے رکھا جاتا ہے زہد و تصوف اور عبادت و ریاضت کو اطمینانِ قلب کا وسیلہ سمجھا جاتا ہے اور رزقِ حلال کو ان سب کا رہنما بنایا جاتا ہے۔
قادری مرید حق، صدق اور عدل پر عمل پیرا رہتا ہے۔ حق کو عقل پر، صدق کو دلوں پر اور عدل کو اعضا پر لاگو کرتا ہے۔ جب وہ ایسا کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو آئینہ بنا دیتا ہے اور وہ اس میں دنیا و آخرت کے عجائب ملاحظہ کرتا ہے۔ آپ اپنے مریدین کو فرماتے کہ ملا قات میں ادب کو ملحوظ رکھنا۔ خانقاہ کے آداب بجالانا، اللہ کے بندوں کے حقوق کی محافظت کرنا قادری مسند نشین کی امتیازی خصوصیات ہیں ادت مریدین کی تربیت کا لازمی جزو ہیں۔ قادریہ مسند نشین کے لیے بھی ان خصائل سے متصف ہونا ضروری ہے۔ اگر وہ ان اوصاف کا حامل ہے تو وہ مسند خلافت پر متمکن ہو سکتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی دو خصلتیں یعنی ستار و غفار ہونا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو خصلتیں یعنی شفیق رفیق ہونا۔ دو حضرت ابوبکر صدیق کی یعنی صادق و متصدق ہونا۔ دو حضرت عمر کی اوامر و نواہی کی پابندی کرن۔ دو حضرت عثمان کی بھوکوں کو کھانا کھلانا اور رات کو عبادت اور دو سیدنا علی کی عالم و شجاع ہونا۔ (53) روحانی تربیت کے ساتھ معاشرتی اور سماجی خدمات میں بھی آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ اپنے مدرسے اور تربیت گاہ کے ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ معیشت کے استحکام کے لیے ورکشاپس، ہوزری، ووکیشنل انسٹیٹیوٹ اور تربیت گاہیں تعمیر کرائیں۔ خواتین کی تعلیم کو ضروری سمجھا۔
تعلیم اور ہنر سکھانے کیلئے آپ نے ووکیشنل انسٹیٹیوٹ بنائے ان تربیت گاہوں میں ہنر اور لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا اور ان کیلئے الگ ادارہ قائم کیا جس بچوں کے علاوہ تمام عمر کی عورتوں کو دین کی بنیادی تعلیم کے ساتھ لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا اور اس کے ساتھ انہیں خانہ داری بھی سکھائی جاتی۔ خواتین کے اس شعبے کی نگرانی آپ کی ازواج کرتیں۔ آپ کی پہلی بیوی جو کہ حضرت بہاء الدین زکریا کی ہمشیرہ تھیں، وہ خواتین کے اس شعبے کی نگرانی کرتیں۔ اور بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کے ساتھ قرآن حفظ کراتیں اور ہنر بھی سکھاتی۔ آپ کی بیوی شاہ پور میں ادارہ قائم کیا وہاں وہ بچوں اور خواتین کو پڑھاتی تھیں۔ تعلیم کے ساتھ لوگوں کو ہنر سکھاتے اور آلات و اوزار خود فراہم کرتے تاکہ وہ اہل و عیال کو رزقِ حلال کھلا سکیں اور فکرِ معاش سے بھی دور رہیں۔ کاروبار اور تجارت پر لوگوں کو آمادہ کرتے اور اس مقصد کے لیے سرمایہ خود فراہم کرتے۔ زمین داروں اور کاشت کاروں کی زراعت کے لیے زرعی آلات اور آبی ذرائع فراہم کیے۔ آبپاشی کے لیے نہری پانی کا بندوبست کیا۔ نہری پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے دریائے راوی سے چھوٹی نہر یعنی راجباہ اور کنویں کھدوائے۔
سیلاب کی روک تھام اور عوام کو بچانے کے لیے بھی منصوبے بنائے۔ کاشتکاروں کو مالی امداد دیتے۔ زرعی اصلاحات میں ہاتھ بٹاتے۔ فصلیں کاشت کرنے والوں کی سنتے اور ان کی ضروریات کو پورا کرتے۔ اپنے لوگوں کی غمی خوشی میں شامل ہوتے اور ان کے مابین تنازعات طے کرتے۔ تبلیغ کے لیے وفود بھی بھیجتے اور انہیں زادِ راہ اپنی جیب سے دیتے۔ تبلیغ پر بھیجنے سے پہلے انہیں اس مقام کی زبان، کلچر اور تاریخ پڑھاتے اور انہیں تلقین فرماتے کہ وہاں جا کر لوگوں سے ان کے مزاج اور استعداد کے مطابق گفتگو کرنا۔ اپنا لہجہ نرم رکھنا اور اخلاق و ادب کو ملحوظ رکھنا۔ مبلغین کی ہر طرح کی تربیت فرماتے اور انہیں ضروری علوم تعلیم کرنے کے بعد روانہ فرماتے۔ (منبع البرکات میں موجود ہے)
آپ نے ساکنینِ قصبہ کے علاج معالجہ کے لیے طبی امداد کا ضروری بندوبست کیا۔ فزیکل حوصلہ افزائی کے ساتھ نفسیاتی علاج بھی کرتے اور ان کی روحانی و اخلاقی تربیت بھی فرماتے۔ بچوں کے ساتھ مردوزن کو بھی قرآن اور لکھنا پڑھنا سکھاتے اور سب کو کاروبار پر لگاتے اور انہیں روزی کمانے کی تلقین کرتے اور حوصلہ افزائی بھی فرماتے۔ ابتدائی بنیادی اور مریدین اور مسافروں کے قیام و طعام کے لیے لنگر خانہ اور سرائے تعمیر کرائی۔ بلا امتیاز سب لوگ لنگر سے کھاتے اور بعض اوقات آپ خود لنگر تقسیم کرتے۔ لنگر کا سارا خرچہ آپ کی زرعی زمین سے ہوتا۔ مسافروں کے آرام و قیام کرتے کا انتظام و انصرام خود ملاحظہ فرماتے اور دن رات سرائے کے دروازے کھلے رہتے۔ (54)
آپ کا خاندان بہت بڑا ہے اور سب کے سب بھائی ولایت کے درجے پر فائز تھے۔ آپ خود کثیر اولاد تھے۔ سید اولاد علی گیلانی اس خاندان کے 1938 تک کے حالات و واقعات اور حضرت مخدوم عبدالرشید حقانی کی اولاد شجرہ نسب تحریر کیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ وہ کن اضلاع میں سکونت پذیر ہے۔ ملتان، میلسی، کہروڑ پکا، کبیر والا، دنیا پور، جلال پور، مظفر گڑھ، مظفر گڑھ، بستی سحر، میاں چنوں، کوٹ ادو، کروڑ لعل عیسن، لیہ، خوشاب، چکوال، جوہر آباد، بھیروی، جہلم اور بھکر سمیت پاکستان کے اکثر اضلاع میں آپ کی اولاد موجود ہے۔ بعض اہم شخصیات کا ذکر بھی کیا ہے جیسا کے حضرت عمر جی سلطان ہیں جو مخدوم حقانی رحمۃ اللہ علیہ کے ساڑھے تین سو سال بعد گیارہویں پشت میں ہوئے، اپنے عہد کے ولی کامل تھے۔ سلطان عبدالحکیم قادری انہی سے فیضیاب ہوئے۔ اسی طرح مخدوم جند وڈہ روحانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔ ان کی کرامات تواتر کو پہنچی ہوئی تھیں۔ (55)





ٰ_محمد_ہاشمی






Address

Constitution Avenue
Islamabad
44000

Telephone

+923467859004

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Words & Worlds by Dr. Shah Altaf posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Words & Worlds by Dr. Shah Altaf:

Shortcuts

Share

Category