Sahibzada Abu Hurera Khanzada Advocate

Sahibzada Abu Hurera Khanzada Advocate Advocate Sahibzada Abu Hurera Khanzada is a dedicated Legal Professional Lawyer. Social activist | Voice for justice.

Known for his commitment to the rule of law, constitutional rights, and public services.

قلندرِ لاہوری، حکیمُ الامت حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری۔کی محمد ﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیںی...
06/08/2026

قلندرِ لاہوری، حکیمُ الامت حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری۔
کی محمد ﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں۔
عشقِ رسول ﷺ ہی ایمان کی جان، عزت کی پہچان اور کامیابی کا راستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اقبالؒ کے پیغامِ خودی، عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور خدمتِ دین پر ثابت قدم رکھے۔
#حاضری #اقبال #لاہور

04/08/2026

✨ عرسِ مبارک حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ ✨
گنج بخش فیضِ عالم، مظہرِ نورِ خدا
ناقصاں را پیرِ کامل، کاملاں را رہنما
تمام عاشقانِ اولیاء کو حضرت سیدنا علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے سالانہ عرسِ مبارک کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اولیائے کرام کی محبت، ان کی تعلیمات پر عمل اور ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤲
صاحبزادہ علامہ ابو ہریرہ خانزادہ ایڈووکیٹ

🖤 10 محرم الحرام — یومِ عاشوراء 🖤شاہ است حسینؑ، بادشاہ است حسینؑدین است حسینؑ، دین پناہ است حسینؑسرداد نہ داد دست در دست...
25/06/2026

🖤 10 محرم الحرام — یومِ عاشوراء 🖤

شاہ است حسینؑ، بادشاہ است حسینؑ
دین است حسینؑ، دین پناہ است حسینؑ
سرداد نہ داد دست در دستِ یزید
حقّا کہ بنائے لا اِلٰہ است حسینؑ

نواسۂ رسول ﷺ، امامِ عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق، صبر، وفا اور دینِ اسلام کی سربلندی کا پیغام دیتی رہے گی۔

کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کے لیے ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے صدقے ہمیں دین پر ثابت قدمی اور حق بات کہنے اور اس پر عمل کرنے کی عطا فرمائیں،اور ہماری خطاؤں کو معاف فرمائیں ،
اور ہمیں عشقِ اہلِ بیتِ اطہارؓ نصیب فرمائیں ۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم 🤲

#10محرم

ؑ
#کربلا



#اسلام
#حق









16/06/2026

*یوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ*

تحریر کار : صاحبزادہ علامہ ابو ہریرہ خانزادہ ایڈووکیٹ

جب ہم تاریخِ اسلام کے کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک ایسی عظیم شخصیت ہمارے سامنے آتی ہے جس کی زندگی عدل، شجاعت، تقویٰ، بصیرت اور خدمتِ دین کا بے مثال نمونہ ہے۔ وہ شخصیت امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ہے، جنہیں رسول اللہ ﷺ نے متعدد فضائل سے نوازا اور جن کی عظمت پر قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے اقوال بھی شاہد ہیں۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ خوش نصیب صحابی ہیں جن کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کو قوت اور عزت حاصل ہوئی۔ آپؓ کے اسلام لانے کے بعد مسلمانوں نے پہلی مرتبہ اعلانیہ طور پر بیت اللہ میں عبادت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کے مقام و مرتبہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! شیطان جب عمر کو کسی راستے پر چلتے دیکھتا ہے تو وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔" (صحیح بخاری: 3683، صحیح مسلم: 2396)۔ یہ فضیلت حضرت عمرؓ کے ایمان، تقویٰ اور روحانی قوت کا واضح ثبوت ہے۔
حضرت عمرؓ کی فراست اور دینی بصیرت کا یہ عالم تھا کہ متعدد مواقع پر ان کی رائے کے مطابق وحی نازل ہوئی۔ خود حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ تین معاملات میں میرے رب نے میری رائے کے موافق قرآن نازل فرمایا۔ (صحیح بخاری: 4483، صحیح مسلم: 2399)۔ یہ اعزاز اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی سوچ اور فہم دین کس قدر قرآن و سنت کے قریب تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ کی جنت میں بلند منزلت کی بھی خبر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی اور وہاں ایک محل دیکھا، جب پوچھا گیا کہ یہ کس کا ہے تو جواب ملا کہ یہ عمر بن خطاب کا ہے۔ (صحیح بخاری: 3680، صحیح مسلم: 2394)۔ یہ بشارت اس عظیم صحابی کی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبولیت اور بلندیٔ درجات کی دلیل ہے۔
حضرت عمرؓ کے فضائل میں ایک عظیم فضیلت یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "پہلی امتوں میں محدَّث لوگ ہوتے تھے، اگر میری امت میں کوئی محدَّث ہے تو وہ عمر ہیں۔" (صحیح بخاری: 3689، صحیح مسلم: 2398)۔ محدَّث اس شخص کو کہتے ہیں جس کے دل میں اللہ تعالیٰ حق بات ڈال دے اور جس کی رائے اکثر حق کے مطابق ہو۔
حضرت عمرؓ کی شان صرف رسول اللہ ﷺ کی احادیث سے ہی ثابت نہیں بلکہ اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے اقوال بھی ان کی عظمت کے گواہ ہیں۔ جب حضرت عمرؓ کی وفات ہوئی تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: "اللہ عمر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنے بعد آنے والوں کو تھکا دیا۔" پھر فرمایا: "میں نے رسول اللہ ﷺ کو بارہا یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں، ابوبکر اور عمر گئے، میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے، اور میں، ابوبکر اور عمر نکلے۔" (صحیح بخاری: 3677)۔ اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا مقام کس قدر بلند تھا۔
ایک اور صحیح روایت میں حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓ کے جسدِ مبارک کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: "میں نے آپ کے بعد کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑا جس کے اعمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرنا مجھے عمر سے زیادہ محبوب ہو۔" (صحیح بخاری: 3685)۔ یہ الفاظ حضرت علیؓ کی زبان سے حضرت عمرؓ کے حق میں عظیم ترین خراجِ تحسین ہیں۔
اہلِ بیت اور حضرت عمرؓ کے باہمی تعلقات کی ایک روشن مثال حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عمرؓ سے ہے۔ یہ رشتہ اس بات کی عملی دلیل ہے کہ اہلِ بیتِ اطہار اور حضرت عمرؓ کے درمیان محبت، اعتماد اور احترام کا مضبوط تعلق موجود تھا۔
حضرت عمرؓ کی خلافت اسلامی تاریخ کا سنہرا دور شمار ہوتی ہے۔ آپؓ کے دور میں بیت المقدس فتح ہوا، عراق اور شام اسلامی سلطنت کا حصہ بنے، بیت المال کا منظم نظام قائم ہوا، عدالتی اور انتظامی ڈھانچے مضبوط ہوئے اور رعایا کے حقوق کے تحفظ کی ایسی مثالیں قائم ہوئیں جنہیں آج بھی دنیا کے بہترین نظامِ حکومت میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپؓ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے، یتیموں اور بیواؤں کے حالات معلوم کرتے اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ کی شہادت کی خبر بھی اپنی حیاتِ مبارکہ میں دے دی تھی۔ احد پہاڑ پر کھڑے ہو کر آپ ﷺ نے فرمایا: "ٹھہر جا احد! تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔" (صحیح بخاری: 3675)۔ ان دو شہیدوں سے مراد حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ تھے۔
بالآخر 23 ہجری میں نمازِ فجر کے دوران ایک مجوسی غلام ابولؤلؤ فیروز نے آپؓ پر قاتلانہ حملہ کیا۔ چند دن بعد یکم محرم الحرام کو یہ عظیم خلیفہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو وہ اعزاز عطا فرمایا جو دنیا کے چند خوش نصیب انسانوں کو نصیب ہوا کہ آپؓ کو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں روضۂ مبارک میں دفن کیا گیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ عزت و عظمت کا راستہ ایمان، عدل، تقویٰ اور حق پر ثابت قدمی میں ہے۔ ان کی شہادت صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک پیغام ہے کہ جب تک عدلِ فاروقی، شجاعتِ فاروقی اور غیرتِ فاروقی زندہ رہے گی، امت کا وقار بھی زندہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ۔

ؓ ؓ

گزشتہ شب ایک اہم X Space میں "اسلام کی توہین: منظم اسلاموفوبک ایجنڈا یا منافع بخش انڈسٹری؟" کے موضوع پر اپنے خیالات پیش ...
13/06/2026

گزشتہ شب ایک اہم X Space میں "اسلام کی توہین: منظم اسلاموفوبک ایجنڈا یا منافع بخش انڈسٹری؟" کے موضوع پر اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع ملا۔

گفتگو میں اسلاموفوبیا، آزادیِ اظہار کی حدود، مذہبی احترام اور مقدسات کے تحفظ کے قانونی و سماجی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

آپ کی آراء کا انتظار رہے گا۔

آج رات 10 بجے اس اہم موضوع پر بطور اسپیکر شریک ہوں گا:"اسلام کی توہین: منظم اسلاموفوبک ایجنڈا یا منافع بخش انڈسٹری؟"اگر ...
13/06/2026

آج رات 10 بجے اس اہم موضوع پر بطور اسپیکر شریک ہوں گا:

"اسلام کی توہین: منظم اسلاموفوبک ایجنڈا یا منافع بخش انڈسٹری؟"

اگر آپ آزادیِ اظہار، مذہبی احترام اور اسلاموفوبیا کے قانونی و سماجی پہلوؤں کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ضرور شامل ہوں۔

محسنِ پاکستان مرحوم ڈاکٹر عبد القدیر خان کو سلام 🇵🇰28 مئی کا دن صرف یومِ تکبیر نہیں بلکہ اُس عظیم محسن کو خراجِ عقیدت پی...
28/05/2026

محسنِ پاکستان مرحوم ڈاکٹر عبد القدیر خان کو سلام 🇵🇰

28 مئی کا دن صرف یومِ تکبیر نہیں بلکہ اُس عظیم محسن کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن بھی ہے جس نے اپنی ذہانت، محنت اور حب الوطنی سے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان وہ نام ہیں جنہوں نے قوم کو سر اُٹھا کر جینے کا حوصلہ دیا اور پاکستان کو عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔

چاغی کے پہاڑ آج بھی اُس تکبیر کی گواہی دیتے ہیں جس نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ یہ کامیابی صرف ایٹمی دھماکوں کی نہیں تھی بلکہ ایک ایسے محبِ وطن کی جدوجہد کا نتیجہ تھی جس نے اپنی زندگی پاکستان کے دفاع کے لئے وقف کردی۔

قوم اپنے محسن کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان ہمیشہ پاکستانی عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے اور پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ آمین۔

محسنِ پاکستان زندہ باد 🇵🇰
پاکستان پائندہ باد 🇵🇰

Sahibzada Abu Hurera Khanzada Advocate

🌙 *Eid ul Adha Mubarak* 🌙May Allah Almighty accept our sacrifices, prayers, and sincere devotion on this blessed occasio...
27/05/2026

🌙 *Eid ul Adha Mubarak* 🌙
May Allah Almighty accept our sacrifices, prayers, and sincere devotion on this blessed occasion of Eid ul Adha.
This sacred day teaches us the spirit of faith, obedience, and sacrifice shown by Hazrat Ibrahim Alayhis Salam (علیہ السلام) and Hazrat Ismail Alayhis Salam (علیہ السلام).
Eid ul Adha is a symbol of true Islamic values and the unity of the Muslim Ummah.
According to the Constitution of Pakistan, Qadianis are declared non-Muslims under Article 260(3); therefore, Islamic rituals such as Qurbani represent the beliefs and traditions of the Muslim community.

May Allah protect Pakistan and strengthen the unity of the Muslim Ummah. Ameen ❤️

Best Wishes From:
*Sahibzada Abu Hurera Khanzada Advocate*























#عیدالاضحی

#قربانی


#اسلام
#پاکستان

🌙✨ عید الاضحیٰ مبارک ✨🌙صاحبزادہ ابو ہریرہ خانزادہ ایڈووکیٹ کی جانب سےتمام اہلِ اسلام کو عید الاضحیٰ کی خوشیاں مبارک۔ 🤲ال...
26/05/2026

🌙✨ عید الاضحیٰ مبارک ✨🌙
صاحبزادہ ابو ہریرہ خانزادہ ایڈووکیٹ کی جانب سے
تمام اہلِ اسلام کو عید الاضحیٰ کی خوشیاں مبارک۔ 🤲
اللہ تعالیٰ ہماری قربانی، عبادات اور دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،
اور ہم سب کی زندگیوں میں خوشیاں، برکت، صحت اور کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین ❤️
قربانی ہمیں ایثار، محبت اور اللہ کی رضا کے لیے ہر چیز قربان کرنے کا درس دیتی ہے۔ 🕋🐐






















#عیدالاضحی

#قربانی


#اسلام
#پاکستان

Address

Islamabad G 10/4
Islamabad
44120

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sahibzada Abu Hurera Khanzada Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share