22/07/2026
لاہور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ خلع کی ڈگری دائر کرنے سے بیوی کا حق مہر خودکار طور پر ختم نہیں ہوتا، شوہر کی طرف سے ظلم ثابت ہونے پر بیوی حق مہر کی حقدار ہوگی،جسٹس محسن اختر کیانی نے شوہر کی درخواست مسترد کرتےہوئے فیملی کورٹ کافیصلہ برقرار رکھا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ جسمانی ، ذہنی، جذبانی، زبانی اور معاشی تشدد بھی ظلم کے زمرے میں آتا ہے،درخواست گزار نے 18مارچ 2022میں ایک لاکھ روپے حق مہر مقرر کرکے نکاح کیاتھا۔
حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ خاتون نے خلع، عدت کے نان نفقہ اور حق مہر کی وصولی کیلئے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا، خاتون کا موقف تھا کہ حق مہر کا مطالبہ کرنے پر شوہر نے تشدد شروع کردیا،فیملی کورٹ نے نکاح ختم کرتے ہوئے بیوی کو50فیصد حق مہر دینے کاحکم دیا،ٹرائل کورٹ نے بھی درخواست گزار کی اپیل ناقابل سماعت قرار دےدی تھی،درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ بیوی کی قابل اعتماد گواہی ظلم ثابت کرنے کیلئے کافی ہو سکتی ہے،میڈیکل رپورٹ یا ایف آئی آر نہ ہونے سے ظلم کا دعویٰ مسترد نہیں کیا جا سکتا، خرچہ نہ دینا، والدین سے رقم مانگنا اور گھر سے نکال دینا بھی ظلم میں شامل ہو سکتا ہے،فیملی کورٹ ہر مقدمے کے حقائق دیکھ کر حق مہر کا الگ فیصلہ کرے گی۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ظلم ثابت ہونے پر حق مہر نہ کم کیا جا سکتا ہے اور نہ تقسیم ، بیوی کی واضح رضا مندی کے بغیر عدالت خلع کی ڈگری نہیں دے سکتی، فیملی کورٹ حق مہر سے متعلق ہر فیصلے کی وجوہات ریکارڈ پر لانے کی پابند ہوگی، عدالت نے متعدد ہدایت کے ساتھ درخواست خارج کردی۔