Hafiz Shan Kharal Adv

Hafiz Shan Kharal Adv CIVIL-CRIMINAL-CUSTOMS-FAMILY-TAX-RENT-FBR-NADRA-SECP-LEGAL DRAFTING..

23/09/2025

2025 PLD Pesh. 97
Section on 12(2), Order IX rule 13 CPC.
Once the defendant appeared in the suit, filed written statement and thereafter absented which resulted into ex-parte decree, filed an application for setting aside ex-parte decree under order IX rule 13 CPC, application was dismissed, he could not file an application under section 12(2) CPC.

Syed Lehazullah Vs Housing Director through Housing Director General and another

25/08/2025

قانونِ معاہدہ 1872 کی دفعہ 10 کے تحت زبانی معاہدہ قابلِ لاگو ہے۔زبانی معاہدے کی صورت میں واضح اور مطمئن کردہ شہادت کا ہونا ضروری ہے

PLD 2018 sindh 414

23/08/2025

ٹیکس کی ادائیگی میں چھوٹ

رہائشی جائیداد کی DC ویلیو 50 لاکھ روپے سے کم ہونے کی صورت میں ٹیکس لاگو نہ ہوگا ۔

بیوه / مطلقہ / نابالغ یتیم / ا پانچ جو مذکورہ جائیداد کی / کا مالک / مالکہ ہے اسے مبلغ - 12,150 روپے سالانہ ٹیکس کی حد تک معافی ہے۔ باقی ماندہ ٹیکس قابل ادائیگی ہے۔

بیوه مطلقه نا بالغ یتیم / پانچ شخص مذکورہ جائیداد میں حصہ دار ہو تو اسے اپنے حصے کی حد تک ٹیکس کی معافی حاصل ہوگی جس کی زیادہ سے زیادہ حد - 12,150 روپے سالانہ ہو گی

وفاقی / صوبائی ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہونے کی صورت میں ایک کنال کی حد تک ذاتی | رہائشی گھر کا ٹیکس یا گھر کی جزوی طور پر کرایہ داری کی صورت میں رہائشی حصہ کی حد تک پراپرٹی ٹیکس کی معافی حاصل ہے۔

۔ آپ کی جائیداد او پر بیان کی گئ کیٹگری میں پائی جاتی ہے تو آپ ٹیکس کی معافی کے لیے درخواست بمعہ دستاویزی ثبوت متعلقہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر یا پورٹل کے ذریعے جمع کروا سکتے ہیں۔

کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے 1035 پر رابطہ کریں۔

پراپرٹی ٹیکس کی از خود تشخیص

تمام شہری اپنی جائیداد کے پراپرٹی ٹیکس کی از خود تشخیص محکمانہ پورٹل کے ذریعے کر سکتے ہیں۔

www.excise.punjab.gov.pk

23/08/2025

نشہ آور اشیاء کے کنٹرول ایکٹ 1997 کے تحت ملزم کے صرف وہی اثاثہ جات ضبط کیے جا سکتے ہیں جوکہ ملزم نے منشیات کی تجارت سے حاصل کیے ہوں
PLJ 2018 SC 713

18/08/2025

پاکستان کی سپریم کورٹ نے 45 سال بعد سپریم کورٹ رولز 1980 کو منسوخ کر کے سپریم کورٹ رولز 2025 نافذ کر دیے ہیں، جو 6 اگست 2025 سے مؤثر ہیں۔ یہ نئے رولز عدالتی کارروائیوں میں شفافیت، کارکردگی، اور ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ذیل میں رولز 1980 اور رولز 2025 کا تقابلی جائزہ اور نئے رولز کی اہم خصوصیات پیش کی جا رہی ہیں:
تقابلی جائزہ: رولز 1980 بمقابلہ رولز 2025
پہلو
رولز 1980
رولز 2025
اپیل دائر کرنے کی مدت
فوجداری اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کے لیے مدت 30 دن تھی۔
فوجداری اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کی مدت بڑھا کر 60 دن کر دی گئی ہے۔
نظرثانی درخواست کی مدت
واضح طور پر مدت کا ذکر نہیں تھا، یا پرانے طریقہ کار پر عمل ہوتا تھا۔
نظرثانی درخواست کی مدت 30 دن مقرر کی گئی ہے۔ درخواست گزار کو فوری طور پر دوسرے فریق کو نوٹس دینا لازم ہے۔
رجسٹرار اعتراضات پر اپیل
اعتراضات کے خلاف اپیل کی مدت واضح نہیں تھی یا روایتی طریقہ کار پر انحصار تھا۔
رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل 14 دن کے اندر دائر کرنا لازمی ہے۔
نظرثانی درخواست کے تقاضے
نئے شواہد یا دستاویزات کے لیے مخصوص تقاضوں کا ذکر نہیں تھا۔
نظرثانی درخواست کے ساتھ فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی لازمی ہے۔ نئے شواہد پر مبنی درخواستوں کے لیے مصدقہ دستاویزات اور حلف نامہ درکار ہے۔
غیر سنجیدہ درخواستوں پر جرمانہ
غیر سنجیدہ یا پریشان کن درخواستوں کے لیے جرمانے کا کوئی واضح نظام نہیں تھا۔
غیر سنجیدہ یا پریشان کن نظرثانی درخواست پر وکیل یا فریق پر 25,000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
نظرثانی درخواست کی سماعت
واضح طور پر بینچ کے تعین کا ذکر نہیں تھا۔
نظرثانی درخواست وہی بنچ سنے گا جس نے فیصلہ دیا تھا۔ اگر جج ریٹائر یا مستعفی ہو جائے تو باقی ججز سماعت کریں گے۔
جیل درخواستوں پر فیس
جیل درخواستوں پر فیس کے بارے میں واضح ہدایات نہیں تھیں۔
جیل درخواستوں پر کوئی کورٹ فیس نہیں لی جائے گی۔
کورٹ فیس
فیس کا ڈھانچہ پرانا تھا اور ڈیجیٹلائزیشن کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
نیا کورٹ فیس چارٹ جاری کیا گیا ہے، مثلاً: سی پی ایل اے/سول اپیل کی فیس 2500 روپے، آئینی درخواست کی فیس 2500 روپے، سول ریویو کی فیس 1250 روپے، سیکیورٹی چالان کی فیس 50,000 روپے، انٹرا کورٹ اپیل کی فیس 5000 روپے، وغیرہ۔
ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت
ڈیجیٹلائزیشن یا آٹومیشن پر زور نہیں تھا۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کیس مینجمنٹ اور آٹومیشن کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔
رولز کی تیاری
پرانے رولز 1980 میں بنائے گئے تھے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں تھے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ہدایت پر جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی نے ججز، سپریم کورٹ آفس، بار کونسلز، اور وکلاء ایسوسی ایشنز سے تجاویز لے کر رولز تیار کیے۔
نئے رولز 2025 کی اہم خصوصیات
مدت میں اضافہ:
فوجداری اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کی مدت 30 دن سے بڑھا کر 60 دن کر دی گئی ہے، جو درخواست گزاروں کو زیادہ وقت فراہم کرتی ہے۔
رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل کی مدت 14 دن مقرر کی گئی ہے۔
نظرثانی درخواستوں کے تقاضے:
نظرثانی درخواست کے ساتھ فیصلے یا حکم کی تصدیق شدہ کاپی لازمی ہے۔
نئے شواہد پر مبنی درخواستوں کے لیے مصدقہ دستاویزات اور حلف نامہ درکار ہے۔
درخواست پر دستخط کرنے والے وکیل یا فریق کو نظرثانی کی بنیاد مختصر طور پر بیان کرنا ہوگا۔
غیر سنجیدہ درخواستوں پر جرمانہ:
غیر سنجیدہ یا پریشان کن نظرثانی درخواستوں پر وکیل یا فریق پر 25,000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جو عدالتی نظام کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد دے گا۔
نظرثانی کی سماعت کا طریقہ کار:
نظرثانی کی درخواست وہی بنچ سنے گا جس نے فیصلہ دیا تھا۔ اگر جج ریٹائر یا مستعفی ہو جائے تو باقی ججز سماعت کریں گے۔
جیل درخواستوں پر فیس معافی:
جیل درخواستوں پر کوئی کورٹ فیس نہیں لی جائے گی، جو قیدیوں کے لیے انصاف تک رسائی کو آسان بناتی ہے۔
نیا کورٹ فیس چارٹ:
نیا فیس چارٹ 6 اگست 2025 سے نافذ العمل ہے، جس میں شامل ہے:
سی پی ایل اے/سول اپیل کی فیس: 2500 روپے
آئینی درخواست کی فیس: 2500 روپے
سول ریویو کی فیس: 1250 روپے
سیکیورٹی چالان کی فیس: 50,000 روپے
انٹرا کورٹ اپیل کی فیس: 5000 روپے
پاور آف اٹارنی، کیویٹ، کنسائز اسٹیٹمنٹ کی فیس: 500 روپے
حلف نامہ کی فیس: 500 روپے
درخواست فیس: 100 روپے
ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت:
نئے رولز میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کیس مینجمنٹ کو بہتر بنانے اور آٹومیشن کے ذریعے انتظامی کاموں کو تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس سے عدالتی کارروائیوں میں تاخیر کم ہوگی اور عوام کے لیے عدالتی معلومات تک رسائی بہتر ہوگی۔
چیف جسٹس کی صوابدیدی اختیارات:
اگر کسی شق پر عمل درآمد میں مشکل پیش آئے تو چیف جسٹس کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر حکم جاری کر سکتے ہیں، جو رولز سے متصادم نہ ہو۔
رولز کی تیاری کا عمل:
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی، جس میں جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان، اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے۔ کمیٹی نے ججز، سپریم کورٹ آفس، بار کونسلز، اور وکلاء ایسوسی ایشنز سے تجاویز طلب کیں۔
اہم فرق اور فوائد
زیادہ لچک: اپیلوں کی مدت بڑھانے سے درخواست گزاروں کو زیادہ وقت ملے گا، جو انصاف تک رسائی کو بہتر بنائے گا۔
شفافیت اور جوابدہی: غیر سنجیدہ درخواستوں پر جرمانہ اور نظرثانی کے سخت تقاضوں سے عدالتی نظام کے غلط استعمال کو روکا جائے گا۔
ڈیجیٹلائزیشن: جدید تقاضوں کے مطابق آٹومیشن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال عدالتی کارروائیوں کو تیز اور شفاف بنائے گا۔
جیل درخواستوں کی سہولت: فیس معافی سے قیدیوں کے لیے انصاف تک رسائی آسان ہوگی۔
نتیجہ
سپریم کورٹ رولز 2025 پرانے رولز 1980 کے مقابلے میں زیادہ منظم، شفاف، اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔ یہ رولز عدالتی کارروائیوں میں کارکردگی، شفافیت، اور انصاف کی فوری فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن پر زور دینے سے عدالتی نظام جدید خطوط پر استوار ہوگا، جبکہ جرمانوں اور سخت تقاضوں سے غیر ضروری مقدمات کی روک تھام ہوگی۔

18/08/2025

2025 YLR 1237

(لاہور ہائی کورٹ)۔

یہ فیصلہ Section 12(2) CPC (دھوکہ دہی، جعلسازی یا بدنیتی سے حاصل کیے گئے فیصلے کو چیلنج کرنے کی درخواست) کے بارے میں ہے۔

---

⚖️ کیس کا پس منظر

ٹرائل کورٹ نے ایک Ex-parte decree (یکطرفہ ڈگری) جاری کیا۔

مخالف فریق نے S.12(2) CPC کے تحت درخواست دائر کی، کہ فیصلہ فراڈ، ملی بھگت اور غلط بیانی پر مبنی ہے۔

ٹرائل کورٹ نے درخواست کو بغیر شواہد ریکارڈ کیے اور بغیر Issues فریم کیے Summarily (خلاصہ وار) مسترد کر دیا۔

ریویژنل کورٹ نے بھی مداخلت نہیں کی۔

لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ غلطی ہے اور معاملہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھیج دیا تاکہ وہ باقاعدہ Issues فریم کرے، گواہوں کو سن لے اور پھر فیصلہ کرے۔

---

📌 عدالتی مشاہدات (Court’s Observations)

1. Procedural Defect in Ex-parte Decree

ٹرائل کورٹ نے تسلیم کیا کہ Ex-parte ڈگری میں طریقہ کار کی کمی تھی، لیکن خود بھی درست طریقہ اختیار نہیں کیا۔

2. Serious Allegations of Fraud & Collusion

جب دھوکہ دہی، جعلسازی اور ملی بھگت جیسے سنگین الزامات ہوں تو کیس کو صرف کاغذی کارروائی کی بنیاد پر نہیں نمٹایا جا سکتا۔

3. Need for Proper Trial

Issues فریم کرنے اور شہادت ریکارڈ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں فریقین کو مکمل موقع ملے۔

4. Judicial Integrity

اگر عدالت Summarily درخواست مسترد کرے اور شواہد نہ لے تو یہ انصاف کے عمل کی شفافیت کو متاثر کرتا ہے۔

5. Remand to Trial Court

عدالت نے کیس واپس ٹرائل کورٹ کو بھیج دیا کہ وہ تمام ضروری فریقین کو شامل کرے، Issues فریم کرے، شواہد ریکارڈ کرے اور قانون کے مطابق فیصلہ دے۔

---

📖 عدالتی اصول (Legal Principles)

1. Ex-parte decree اگر Fraud یا Misrepresentation پر مبنی ہو تو S.12(2) CPC کے تحت Challenge ہو سکتا ہے۔

2. Summary disposal صرف تب ممکن ہے جب کیس بالکل واضح ہو؛ دھوکہ دہی کے سنگین الزامات پر لازمی ہے کہ Evidence لی جائے۔

3. Issues framing اور Evidence recording لازمی ہیں تاکہ Natural Justice کے تقاضے پورے ہوں۔

4. Procedural lapses (طریقہ کار کی خلاف ورزی) خود بخود عدالت کے فیصلے کو مشکوک بنا دیتے ہیں۔

5. High Court under Article 199 Constitution مداخلت کر سکتی ہے اگر نچلی عدالت Procedural Fairness کی خلاف ورزی کرے۔

2025 YLR 1237
----S. 12(2)---Constitution of Pakistan, Art. 199----Ex-parte decree, setting aside of---Serious allegations of fraud, collusion and misrepresentation---Procedural defect, identification of---Non-framing of issues---Summary disposal of application under S. 12(2) C.P.C. by the Trial Court and non-interference by the revisional court---Held, that Trial Court correctly identified the procedural defect in the ex-parte judgment and decree, but failed to adopt the proper procedure while deciding the application under S.12(2) C.P.C.---Respondents had disclosed serious allegations of fraud, collusion and misrepresentation culminating in the said judgment and decree, thus, summary disposal of the application was not justified---Trial Court should have framed necessary issues and record evidence of the parties, particularly as the ex-parte judgment and decree had also been passed without recording evidence and such a procedural lapse undermined the integrity of the judicial process and warranted a more detailed inquiry---Trial Court erred in law by summarily disposing of the application under S.12(2) C.P.C., as the allegations raised by the respondents required adherence to procedural requirements to ensure a just and fair adjudication---Constitutional petition was allowed, in circumstances and the matter was remanded to the Trial Court with a direction to allow the relevant parties to become a necessary part, frame proper issues, allow them to lead evidence and then decide the application under S. 12(2), C.P.C. afresh in accordance with law. [Lahore]1237

08/08/2025

اگر دو ملزمان کو ایک ہی الزام کے تحت سزا ہوئی ہے اور ایک ملزم اپیل میں بری ہو جاتا ہے تو دوسرا بھی بریت کا حقدار ہے چاہے اس نے اپیل دائر نہ بھی کی ہو۔
2018 SCMR 344

08/08/2025

Document s---Photocopy---Scope---Photocopy of any Document cannot be exhibited and read in evidence except as a secondary evidence---In absence of any evidence with regard to loss of any Document , photocopy of the same, even if taken on record and exhibited without any objection, would not qualify the Document as admissible in evidence.
2025 MLD 1165

There is an Exception to the same

if the original document is in possession of the other party and they fail to appear and thus are prooceded as ex-parte

Then under Sec 76(b) read with sec 77 of QSO [There are 7-8 Conditions]

i) if that document purports to be a notice itself (it may be exibited)

ii) if that document proves the relationship between the parties (it can be exhibited)

08/08/2025

Big News from the Federal Judicial Academy!
Judicial Induction Crash Course – 2025

The Federal Judicial Academy, Islamabad is excited to unveil the Judicial Induction Crash Course–2025 — a flagship initiative under the national reform agenda:
“Development of Talent Pool for Induction in Judiciary.”

This intensive crash course is designed to prepare and equip judicial aspirants with the knowledge, skills, and confidence required to excel in judicial induction exams.

Apply online now and be among the first to secure your seat in this exclusive opportunity!
Link: https://fja.gov.pk/course2025/

08/08/2025

پراپرٹی خریدنے والوں کے لیے زبردست موقع اب آپ کو یکم اکتوبر کا انتظار کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں۔ جیسے ہی آپ 2025 کا انکم ٹیکس ریٹرن فائل کریں گے، آپ کا نام فوراً لیٹ فائلر کی بجائے ایکٹو فائلرز کی لسٹ میں شامل ہو جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ پراپرٹی خریدتے وقت کم ٹیکس ادا کر سکیں گے، چاہے ابھی اگست ہی کیوں نہ ہو۔

پہلے بہت سے لوگ صرف اس لیے پراپرٹی نہیں خرید رہے تھے کیونکہ وہ فائلر نہیں تھے اور سوچ رہے تھے کہ یکم اکتوبر کے بعد جب وہ ایکٹو فائلر بنیں گے تو ٹیکس بچائیں گے۔ اب ایسا بالکل بھی نہیں ہے! اب نہ اورسیز ہونے کا سرٹیفکیٹ چاہیے، نہ اضافی ٹیکس دینے کا ڈر، نہ ہی لمبی پروسیسنگ کا انتظار۔ بس آج ہی اپنا ریٹرن فائل کریں، اسٹیٹس اپڈیٹ کریں، اور فائلر بن کر پراپرٹی کی خریداری کریں — وہ بھی کم ٹیکس کے ساتھ
0307 6030730
Hafiz Shan Kharal Adv
Akram Sheikh Law Associates

Address

Office No 6, 2nd Floor , Mehmood Plaza, AK Fazal-Ul-Haq Rd Blue Area , Islambad
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 12:00

Telephone

+923076030730

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hafiz Shan Kharal Adv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Hafiz Shan Kharal Adv:

Shortcuts

Share