07/04/2025
بلاسفیمی ہو رہی کہ نہیں؟
اس کو بزنس کا نام کیوں دیا جا رہا ھے؟
اس کے پیچھے اصل کہانی کیا ھے؟
کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے؟
ایک متووسط طریق پر زندگی گزار رہا وکیل راو رحیم ، جس پر کچہری میں بیس سال گزارنے کے باوجود کوئ دیگر کرپشن کے الزامات نہ ہیں اس کو ایسے پیش کیا جا رہا ہے جیسے وہ کوئ ڈان ہو اور اس وقت تک ارب پتی بن چکا ہے۔۔۔۔
میری راے پڑھنے سے پہلے یہاں ایک حدیث کا ذکر مناسب ہو گا
ایک ایسی حدیث یہاں غالب آتی ہے کہ جو کہ زمانے کے فتنوں اور حق و باطل کے درمیان تمیز ختم ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“يأتي على الناس سنوات خدّاعات، يُصدَّق فيها الكاذب، ويُكذَّب فيها الصادق، ويؤتمن فيها الخائن، ويُخوَّن فيها الأمين، وينطق فيها الرويبضة.”
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 4036)
ترجمہ:
“لوگوں پر دھوکہ دینے والے سال آئیں گے، اس میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا، اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار سمجھا جائے گا، اور امانت دار کو خائن، اور ‘رویبضہ’ بولے گا۔”
صحابہ کرامؓ نے پوچھا: “رویبضہ کون ہے؟”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “وہ حقیر و بے وقعت شخص جو عوام کے اہم معاملات میں بات کرے گا۔”
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جائے گا، اور بے وقعت لوگ اہلِ رائے بن جائیں گے۔
اس بلاسفیمی والے سچ کو اتنا گھما پھرا دیا گیا ہے کوئ عام انسان تو کیا قانون دان بھی اس کی طے تلک پہنچنے سے قاصر ھو گا۔ راؤ رحیم کے بارے میں میں متضاد راۓ کا شکار رہا اور معاملے کی طے تک جانے کی کوشش کی تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ دونوں فریقین میں سے سچ پر کون قائم ہے ۔ اس حقیقت کو یہاں بیان کرنا تقریباً ناممکن ھو گا لیکن اگر بالمشافہ ملاقات ہو تو کچھ اندرونی باتیں اور حقائق بتاۓ اور دکھاے جا سکتے ہیں جن کو پرکھنے کے بعد کوئ بھی عام انسان اصل طے تک با آسانی پہنچ سکتا ھے۔
مثال کے طور پر ایک امر یہ ہے کہ ہر فورم پر صرف یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایک لڑکی نے لڑکے کو ٹریپ کیا اور جب اس لڑکے نے ایک میسیج واپس اس لڑکی کو بھیجا تو کیس بنا دیا گیا۔۔۔۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے کیسز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور دوسری قسم کے کیسز جن میں ایک بلاسفیمر ایک فیس بک پوسٹ کو ڈھائ سو دفعہ لوگوں کو فارورڈ کر رہا ہے وہ ایک کثیر تعداد میں ہیں، جہاں گنجائش ہی نہیں بچتی کہ کوئ ٹریپ وغیرہ والا معاملہ ہے۔
میڈیا چینلز کو بھی پیسہ دیا جا رہا ھے اور کئی وکلا کو بھی تاکہ ایک سو فیصد سچ کو جھوٹ ثابت کیا جاۓ۔
آخر جو بات حدیث بتا رہی ہے وہ تو ہو کر رہنی ہے
اللہ ھمیں سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرماۓ۔
آمین @ Abdul Raheem