Rehan Ali Khan Advocate

Rehan Ali Khan Advocate "Attorney-at-Law with a diverse practice encompassing Civil, Criminal, Family, Corporate, and Cyber Laws.

Committed to delivering expert legal advice and representation to clients across various sectors."
0312-9189871

بیٹیوں کی وراثت اور جہیز
11/02/2026

بیٹیوں کی وراثت اور جہیز

08/02/2026

How to apply for Succession Certificate With NADRA know the complete Procedure Step
by step

PLD 2025 SC 1039سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی کے بانجھ پن پر شوہر کےحق مہر یا نان  نفقہ کی ادائیگی سے انکار کو غیر قانون...
07/12/2025

PLD 2025 SC 1039

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی کے بانجھ پن پر شوہر کےحق مہر یا نان نفقہ کی ادائیگی سے انکار کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

عدالت میں مقدمے میں شوہر کے رویے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے درخواست گزار صالح محمد پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔ واضح رہے کہ مقدمے میں شوہر نے بیوی پر بانجھ پن اور عورت نہ ہونے کا الزام لگایا تھا ۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بانجھ پن حق مہر یا نان نفقہ روکنے کی وجہ نہیں۔ خواتین پر ذاتی حملے عدالت میں برداشت نہیں ہوں گے۔ شوہر نے بیوی کو والدین کے گھر چھوڑ کر دوسری شادی کر لی۔ پہلی بیوی کے حق مہر اور نان نفقہ سے انکار کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عورت کی عزت نفس ہر حال میں محفوظ ہونی چاہیے۔ خواتین کی تضحیک معاشرتی تعصب کو فروغ دیتی ہے۔ مقدمے میں بیوی کی میڈیکل رپورٹس نے شوہر کے تمام الزامات رد کیے ہیں۔ خواتین کے حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اس کیس میں 10 سال تک خاتون کو اذیت اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ جھوٹے الزامات اور وقت ضائع کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا۔ عدالت نے مقدمے میں ماتحت عدالتوں کے فیصلے برقرار
رکھے۔

It is a sorrowful truth of our society that infertility, or even the suspicion of it, is often weaponized against women. This social prejudice routinely results in courts of law becoming venues for humiliating a woman under the guise of litigation. However, it must be acknowledged without equivocation that infertility, even if present, is no ground to deny a woman her dower or maintenance. It is certainly no ground to challenge her womanhood. To convert such personal pain into a legal weapon is not only an abuse of the process, but an affront to human dignity that should not be enabled.

It also bears emphasis that our religion and culture treat the marital bond as a sacred covenant. The Holy Quran has described the spouse as a garment; the relationship between a husband and wife is likened to that of libaas in our religion, and therefore, the ideals of protection, mutual respect, and dignity in marriage must not be compromised in any event.
Lest we forget: women in our society constitute a vulnerable group, whose dignity requires vigilant protection and care. The courts cannot, and will not, be passive venues for the perpetuation of social prejudices that harm women and subject them to one trauma after the other. It is not a matter of judicial discretion but of constitutional and moral obligation that the personal dignity of all who appear before the courts be duly safeguarded, particularly where the power imbalance between the parties is so manifest.
The power to award exemplary costs is one means by which the Court seeks to deter frivolous, abusive, and malicious litigation. In the present case, the petitioner has not merely wasted judicial time. He has caused a woman already in a position of vulnerability to suffer degradation and personal trauma over the course of protracted litigation in three forums spread over a decade. This Court would be remiss in its duty were it to allow such conduct to pass without sanction.

Accordingly, this petition is dismissed with costs of Rs. 500,000/- (Rupees five hundred thousand only), imposed primarily as an expression of the strong disapproval of this Court towards the misuse of judicial process by the petitioner to inflict gratuitous humiliation upon the respondent, which shall be paid to the respondent. If the said amount of costs is not paid by the petitioner, the same shall be recovered by way of arrears of land revenue.

C.P.L.A.354-P/2025
Saleh Muhammad and another v. Mst. Mehnaz Begum and others

06/12/2025

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں جج کے بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے دو لڑکیوں کے جاں بحق ہونے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

جج کے بیٹے ابوذر اور متاثرہ خاندانوں کے درمیان صلح ہو گئی ہے جس کے بعد خاندانوں نے عدالت میں ملزم کو معاف کرنے کا بیان ریکارڈ کروایا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت میں متاثرہ فیملیز کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

ایک لڑکی کے بھائی نے عدالت میں بیان دیا جبکہ اس کی والدہ کا بیان آن لائن ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری لڑکی کے والد بھی عدالت میں پیش ہوئے اور صلح سے متعلق اپنا مؤقف بیان کیا۔

متاثرہ خاندانوں کے بیانات کے بعد عدالت نے ملزم ابوذر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم جاری کر دیا۔

مقدمے میں صلح کے بعد قانونی کارروائی اگلے مراحل کی جانب بڑھے گی۔

17/12/2024

2024 PCrLJ 2058):
مسیحی کیمونٹی کی شادی/طلاق/ بچوں سے متعلق قوانین کی تشریح
کے لیے ایک انتہائی اعلیٰ عدالتی فیصلہ

یہ ججمنٹ Christian Marriage Act 1872 اور Divorce Act 1869 کے تحت عیسائیوں کی شادیوں اور طلاق کے قوانین کے متعلق ہے، خاص طور پر نابالغوں کی شادیوں اور ان کی قانونی حیثیت پر۔ اس ججمنٹ میں درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی ہے:

عیسائی شادیوں کے قوانین: یہ دونوں قوانین پاکستان میں عیسائیوں کی شادیوں کو منظم کرتے ہیں۔ ان میں نابالغوں کی شادیوں کے حوالے سے خصوصی دفعات ہیں۔

نابالغوں کی شادی: دفعہ 19 کے تحت نابالغ کی شادی کے لیے والد یا سرپرست کی رضامندی ضروری ہے، اور اگر وہ پاکستان میں مقیم نہ ہوں تو ان کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ، دفعہ 44 میں وضاحت کی گئی ہے کہ نابالغ کی شادی کے لیے ضروری اجازت کے بغیر شادی کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جا سکتا۔

دفعہ 44 میں وضاحت کی گئی ہے کہ نابالغ کی شادی کے لیے ضروری اجازت کے بغیر شادی کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جا سکتا۔

کم از کم عمر: دیسی عیسائیوں کی شادی کے لیے کم از کم عمر 16 سال مردوں کے لیے اور 13 سال خواتین کے لیے رکھی گئی ہے۔

Child Marriage Restraint Act 1929:
یہ ایک علیحدہ قانون ہے جو نابالغوں کی شادی کو روکنے کے لیے ذمہ دار افراد کو سزا دیتا ہے، لیکن یہ شادی کو کالعدم قرار نہیں دیتا۔

نسبت اور خون کا رشتہ: دفعہ 88 میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کوئی بھی ایسی شادی جو کسی بھی فریق کے ذاتی قانون کے مطابق ممنوع ہو، جیسے خون کے رشتہ یا نسبتی رشتہ میں شادی، اسے توثیق نہیں دی جائے گی۔

01/12/2024

وکالت انسان کو تھکاتی بھی ہے، سکھاتی بھی ہے اور ہر حالت میں انسان کو ذہنی طور پر مضبوط بھی کرتی ہے اس لئے ہمیں وکالت سے محبت نہیں بلکہ عشق ہے اور عشق کی کوئی حد نہیں ہوتی ہے۔
🖋وکالت کے شعبہ میں انسان ایک نظریہ کے ساتھ وکالت کرے تو یہ شعبہ پھر دنیا کا سب سے دلچسپ شعبہ بن جاۓ

Rehan Ali Khan Advocate

23/11/2024

اگر باپ یا دادا بہت غریب ہیں اور نابالغ
کو خرچہ نہیں دے سکتے تو فیملی کورٹ باپ
اور دادا کو جیل بھیجنے کی بجاے زکواۃ
کونسل یا بیت المال کو ہدایت کرے گی
کہ نابالغ کو خرچہ دیں.

*PLD 2012 Lhr 445*

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rehan Ali Khan Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category