𝑨𝒅𝒗. 𝑨𝒏𝒆𝒆𝒍𝒂 𝑨𝒃𝒃𝒂𝒔𝒊

𝑨𝒅𝒗. 𝑨𝒏𝒆𝒆𝒍𝒂 𝑨𝒃𝒃𝒂𝒔𝒊 • Islamabad Bar Council
• 𝐅𝐚𝐦𝐢𝐥𝐲 𝐂𝐚𝐬𝐞𝐬 | 𝐂𝐫𝐢𝐦𝐢𝐧𝐚𝐥 𝐂𝐚𝐬𝐞𝐬 | 𝐂𝐢𝐯𝐢𝐥 𝐂𝐚𝐬𝐞𝐬
(1)

05/08/2026

*"نکاح نامہ کی درستگی، نکاح خواں کی قانونی ذمہ داری اور متعدد دعوؤں کے یکجا کیے جانے کے اصول کا عدالتی جائزہ (Rectificat...
31/07/2026

*"نکاح نامہ کی درستگی، نکاح خواں کی قانونی ذمہ داری اور متعدد دعوؤں کے یکجا کیے جانے کے اصول کا عدالتی جائزہ (Rectification, Statutory Duty & Joinder of Causes)"*

2025 SLD 480
فیصلہ ۔۔۔۔
نکاح خواں کی ذمہ داری ہے کہ نکاح نامہ مکمل طور پر درست اور احتیاط سے بھرا جائے۔ اگر نکاح نامے میں کوئی غلطی یا کمی رہ جائے تو متاثرہ فریق اس کی درستگی کے لیے متعلقہ فورم میں درخواست دے سکتا ہے۔ مزید یہ کہ اگر شکایات ایک سے زیادہ ہوں تو انہیں یکجا کر کے پیش کیا جا سکتا ہے تاکہ عدالت تمام معاملات کا مناسب اور جامع طور پر فیصلہ کر سکے۔

قانونی تجزیاتی جائزہ دیں

1. نکاح خواں کی قانونی ذمہ داری
متعلقہ قانون
Muslim Family Laws Ordinance, 1961

West Pakistan Muslim Family Rules, 1961

قانونی پوزیشن:
نکاح خواں پر لازم ہے کہ

نکاح نامہ (Form-II) درست، مکمل اور بغیر ابہام بھرے

تمام ضروری کالمز (خصوصاً حق مہر، شرائط، اجازتِ نکاح ثانی وغیرہ) کو خالی نہ چھوڑے

یہ ایک statutory duty ہے، محض رسمی عمل نہیں

عدالتی نقطہ نظر
عدالتیں نکاح نامہ کو
prima facie evidence of marriage terms
تصور کرتی ہیں

غلط یا نامکمل اندراج future litigation کو جنم دیتا ہے

2. غلطی یا کمی کی اصلاح
(Rectification)
قانونی بنیاد
Specific Relief Act, 1877 (Section 39 – Rectification of Instruments)

Qanun-e-Shahadat Order, 1984

اصول
اگر نکاح نامہ میں

clerical mistake
ہو

یا کسی فریق کی نیت کے خلاف اندراج ہوا ہو

تو متاثرہ فریق

Civil Court / Family Court
میں

“Rectification / Correction”
کی درخواست دے سکتا ہے

اہم نکتہ
عدالت intention of parties کو دیکھتی ہے، نہ کہ صرف تحریر کو

3. متعدد شکایات کا یکجا کیا جانا
(Joinder of Causes)
قانونی بنیاد
Code of Civil Procedure, 1908 (Order II Rule 3 – Joinder of Causes of Action)

اطلاق
اگر نکاح نامہ سے متعلق

مہر کا تنازعہ

طلاق / خلع

حقِ نکاح ثانی

maintenance

یہ سب
ایک ہی نکاح سے جڑے ہوں تو
ایک ہی درخواست/سوٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں

فائدہ:
Multiplicity of litigation
سے بچاؤ

وقت اور اخراجات کی بچت

عدالت کو comprehensive فیصلہ کرنے میں سہولت

4. عدالتی رجحان
(Judicial Approach)
2025 SLD 480
کے اصول کے مطابق

عدالتیں

تکنیکی خامیوں پر نہیں بلکہ
substantive justice
پر زور دیتی ہیں

تمام متعلقہ تنازعات کو ایک فورم پر حل کرنے کو ترجیح دیتی ہیں

نکاح نامہ میں غلطی

fatal
نہیں ہوتی

اگر evidence سے اصل حقیقت واضح ہو جائے

نتیجتاً مختصراً ۔۔۔۔
یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ نکاح نامہ ایک اہم دستاویز ہے لیکن اس میں موجود غلطی یا کمی کو درست کیا جا سکتا ہے، اور متعلقہ تمام تنازعات کو یکجا کر کے عدالت کے سامنے لانا نہ صرف جائز بلکہ بہتر عدالتی عمل ہے۔
یہ قانونی اصول ایک مربوط framework فراہم کرتے ہیں:

نکاح خواں پر لازم ہے کہ وہ نکاح نامہ کو مکمل اور درست طریقے سے پر کرے
اگر غلطی ہو جائے تو اسے rectification کے ذریعے درست کیا جا سکتا ہے
متعلقہ تمام تنازعات کو ایک ہی فورم پر لانا جائز اور عدالتی طور پر preferred ہے
عدالتیں technicality کے بجائے justice, equity اور intention کو اہمیت دیتی ہیں

ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک بین الاقوامی کمپنی نے 11 جولائی 1990 کو پاکستان میں اپنا یہ نام قانونی طور پر رجسٹرڈ کروای...
07/06/2026

ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک بین الاقوامی کمپنی نے 11 جولائی 1990 کو پاکستان میں اپنا یہ نام قانونی طور پر رجسٹرڈ کروایا تھا اور برسوں کی محنت سے مارکیٹ میں اپنی ساکھ اور بھاری ساکھ قائم کی تھی۔ لیکن پھر اچانک، فیصل آباد کی مارکیٹ میں ایک عجیب ہلچل مچی۔ فیصل آباد کا ایک مقامی تاجر، عامر شہزاد، میدان میں اترا اور اس نے نہایت ہی چالاکی سے ملتا جلتا نام "MINTOS" استعمال کرتے ہوئے پودینے کی گولیاں (منٹ کینڈیز) بنانا اور فروخت کرنا شروع کر دیں۔ سسپنس اور پریشانی کی بات یہ تھی کہ اس نے نہ صرف نام چوری کیا بلکہ اس کا رنگ، ڈیزائن اور ظاہری شکل (گیٹ اپ) بھی بالکل پرفیٹی کمپنی جیسا ہی رکھا تاکہ عام گاہک دھوکہ کھا جائیں۔
اپنی ساکھ کو ڈوبتا دیکھ کر ہالینڈ کی کمپنی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عامر شہزاد کے خلاف حکمِ امتناعی (سٹے آرڈر) اور ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا۔ شروع میں، ٹرائل کورٹ نے کمپنی کی عارضی سٹے کی درخواست مسترد کر دی۔ کمپنی ہائی کورٹ گئی، ہائی کورٹ نے کیس واپس بھیجا۔ دوبارہ سماعت پر ٹرائل کورٹ نے سٹے تو دے دیا لیکن جب گواہیاں اور ثبوت مکمل ہوئے تو 17 اکتوبر 2011 کو ٹرائل کورٹ نے حیران کن طور پر کمپنی کا پورا دعویٰ ہی خارج کر دیا۔ کمپنی نے ہمت نہیں ہاری اور دوبارہ اپیل دائر کی۔ ہائی کورٹ کے حکم پر کیس ایک بار پھر ٹرائل کورٹ گیا، مگر 29 نومبر 2012 کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج فیصل آباد نے ایک بار پھر کمپنی کا دعویٰ مسترد کر کے اِسے گہرے اندھیرے میں دھکیل دیا۔
کیس میں موڑ اس وقت آیا جب کمپنی اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ پہنچی۔ سالوں پر محیط اس طویل قانونی جنگ کے دوران، فریقِ ثانی عامر شہزاد کے وکیل عدالت سے غائب ہونا شروع ہو گئے۔ کئی بار نوٹس بھیجے جانے اور پکارے جانے کے باوجود جب کوئی پیش نہ ہوا تو عدالت نے عامر شہزاد کے خلاف یکطرفہ (ایکس پارٹی) کارروائی کا آغاز کر دیا۔ کمپنی کے وکیل نے عدالت کے سامنے مضبوط دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیاں ایک ہی کاروبار میں ہیں، اور ٹرائل کورٹ نے قانون کی سنگین خلاف ورزی کی ہے کیونکہ اس نے نام کی مماثلت کو دیکھنے کے بجائے کینڈی کی شکل اور پیکنگ جیسے غیر متعلقہ امور پر فیصلہ دے دیا تھا۔ وکیل نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اب صرف مستقل سٹے آرڈر چاہتے ہیں اور ہرجانے کا مطالبہ چھوڑنے کو تیار ہیں۔
معزز جج چوہدری سلطان محمود نے ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور برانڈ کے ناموں کے تقابل کا آغاز کیا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ایک عام خریدار، جس کی یادداشت کامل نہیں ہوتی، وہ "MENTOS" اور "MINTOS" کے درمیان کا باریک فرق کبھی نہیں پہچان پائے گا۔ عامر شہزاد نے محض لفظ "E" کو "I" سے بدل کر ایک دھوکے کا جال بنا تھا۔ عامر شہزاد کا یہ عذر کہ اس کے پاس کاپی رائٹ کی رجسٹریشن ہے، عدالت نے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کاپی رائٹ آرٹسٹک کام کا ہوتا ہے، وہ ٹریڈ مارک کے مالکانہ حقوق کو شکست نہیں دے سکتا۔ آخر کار، سسپنس ختم ہوا اور قانون کا بول بالا ہوا؛ لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کمپنی کے حق میں ڈگری جاری کر دی اور عامر شہزاد پر ہمیشہ کے لیے "MENTOS" کا نام یا اس سے ملتا جلتا ڈیزائن استعمال کرنے پر سخت پابندی عائد کر دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

21/05/2026

゚ 🫣

سبطِ حسن نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اُس نے نفقہ، جہیز، زچگی اخراجات اور حق مہر کی وصولی کیلئے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر ...
14/05/2026

سبطِ حسن نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اُس نے نفقہ، جہیز، زچگی اخراجات اور حق مہر کی وصولی کیلئے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کردیا۔ یہ حق مہر نکاح نامہ میں درج ہونے کے بجائے ایک اسٹامپ پیپر پر تھا، جس کیمطابق شوہر نے اقرار کیا کہ طلاق کی صورت میں وہ اپنی بیوی کو 40 لاکھ روپے بطور حق مہر ادا کرے گا۔ فیملی کورٹ نے یہ اسٹامپ پیپر والے حق مہر کا کلیم مسترد کردیا۔ بیوی نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کردی۔ ڈسٹرکٹ کورٹ نے بعد از ریمانڈ کارروائی میں بیوی کا موقف تسلیم کرتے ہوئے اسے 40 لاکھ روپے حق مہر کی حقدار قرار دیا۔ شوہر نے اس کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے فروری 2024ء میں کیس کی سماعت کی۔ جہاں شوہر کے وکیل نے دلائل دیے کہ یہ اسٹامپ پیپر شوہر نے دراصل میڈیکل اسٹور کے لائسنس کی تجدید کیلئے نکلوایا تھا۔ لیکن بیوی نے اسے چوری کرکے اس پر یہ جعلی معاہدہ تحریر کرلیا۔ اور، بالفرض اگر اس معاہدے کو درست تسلیم بھی کرلیا جائے تو چونکہ یہ طلاق کو مالی جرمانے سے مشروط کرنا ہے جو کہ سپریم کورٹ کے "بشیر صدیقی" کیس کی رُو سے درست نہیں۔ بیوی کے وکیل نے کہا کہ یہ طلاق کو جرمانے سے مشروط کرنا نہیں بلکہ حق مہر میں اضافے کا معاہدہ ہے، جو بالکل درست ہے۔

ہائیکورٹ نے لکھا کہ چونکہ یہ متنازعہ معاہدہ بیوی کے حق میں تھا تو عدالت میں اسے ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی اُسی پر تھی۔ خاتون نے اصل معاہدہ کے ہمراہ اس کے دونوں گواہوں کو بھی عدالت میں پیش کیا جنہوں نے اس کے اصل ہونے کی تائید کی۔ دورانِ جرح بیوی سے معاہدے کے جعلی ہونے پر کوئی سوال نہیں کیا گیا۔ جبکہ شوہر نے جرح میں تسلیم کیا کہ اسٹامپ پیپر خود اسی نے نکلوایا تھا اور اسکے دونوں اطراف اسی کے اصل دستخط موجود ہیں۔

پشت پر اسٹامپ پیپر نکلوانے کی غرض میں واضح درج ہے کہ یہ شوہر اور بیوی کے مابین معاہدے کیلئے ہے (نہ کہ میڈیکل سٹور کیلئے)۔ اگرچہ معاہدے کے کاتب اور اسٹامپ فروش کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، لیکن اس کا نقصان شوہر کو ہی ہوا کیونکہ یہ ثابت کرنا اس کی ذمہ داری تھی کہ اسٹامپ میڈیکل سٹور کیلئے لیا گیا تھا۔ شوہر نے چوری کا دعویٰ تو کیا لیکن اس نے نہ تو کوئی FIR یا رَپٹ درج کروائی اور نہ ہی اسٹامپ کی منسوخی کی کوئی درخواست دی۔ لہذا یہ معاہدہ بلاشبہ ثابت شدہ ہے۔

طلاق کی صورت میں 40 لاکھ روپے حق مہر، شادی کو زبردستی قائم رکھنے کی شرط نہیں بلکہ حق مہر میں اضافہ ہے، جو قانونی طور پر جائز ہے ۔"محمدن لا" کے پیرا نمبر 287 اور سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے متعدد فیصلوں کی روشنی میں یہ طے شدہ قانون ہے کہ حق مہر کی رقم شادی سے پہلے اور بعد میں بھی مقرر اور اسمیں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ درست ہے۔

ہائیکورٹ نے بیوی کو 40 لاکھ روپے حق مہر کی حقدار قرار دیتے ہوئے شوہر کی رِٹ پٹیشن خارج کردی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ نکاح نامہ میں یا بعد میں، کسی معاہدے میں یہ لکھوانا کہ"طلاق کی صورت میں شوہر بیوی کو اتنی رقم یا جائیداد دے گا"، درست ہے یا نہیں؟ اس پر اعلی عدلیہ کے فیصلوں میں اختلاف ہے۔ لیکن موجودہ کیس میں بیوی نے غالباََ وکیل سے مشورہ کرکے طلاق سے مشروط اس رقم کو "حق مہر" لکھوا لیا جو بلا اختلاف درست ہے۔ اس لیے معاہدے لکھتے لکھاتے وقت چیٹ جی پی ٹی سے نہیں بلکہ کسی وکیل سے مشورہ کرنا چاہیے۔

  am always here for u.⚖️🖋📑
05/05/2026

am always here for u.⚖️🖋📑

⚖️ پولیس کسٹڈی سے اپنی جائیداد/سامان واپس کیسے حاصل کریں؟(سپر داری — Superdari)کیا پولیس نے آپ کی گاڑی، موبائل فون، نقد ...
29/04/2026

⚖️ پولیس کسٹڈی سے اپنی جائیداد/سامان واپس کیسے حاصل کریں؟

(سپر داری — Superdari)
کیا پولیس نے آپ کی گاڑی، موبائل فون، نقد رقم یا کوئی اور قیمتی سامان اپنی تحویل میں لے لیا ہے؟

بہت سے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کیس چلنے کے دوران بھی آپ قانونی طور پر اپنا سامان واپس حاصل کر سکتے ہیں۔
اس عمل کو "سپر داری" کہتے ہیں — اور یہ آپ کا قانونی حق ہے۔

📖 قانونی بنیاد
سپر داری کا قانونی اختیار ضابطہ فوجداری 1898 (CrPC) کی دفعہ 516-A میں موجود ہے۔
اس دفعہ کے تحت عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ضبط شدہ جائیداد کو اس کے اصل مالک یا کسی قابل اعتماد شخص کی تحویل میں دے دے — بشرطیکہ وہ اسے محفوظ رکھے اور عدالت کے حکم پر حاضر کرے۔
یہ اختیار مجسٹریٹ اور سیشن عدالت دونوں کو حاصل ہے۔

📌 مکمل 6 مرحلوں پر مشتمل طریقہ کار

1️⃣ وکیل سے رابطہ کریں
سب سے پہلے کسی مستند وکیل سے مشورہ کریں۔ سپر داری کی درخواست تکنیکی دستاویز ہے — غلط طریقے سے دائر کی جائے تو مسترد ہو سکتی ہے۔

2️⃣ درخواست دائر کریں
متعلقہ مجسٹریٹ عدالت میں باقاعدہ تحریری درخواست جمع کروائیں جس میں درج ہو:
سامان کی مکمل تفصیل
گرفتاری یا ضبطی کی تاریخ اور مقام
FIR نمبر یا مقدمے کا حوالہ
ملکیت کی بنیاد

3️⃣ پولیس رپورٹ طلب ہوگی
عدالت متعلقہ تھانے کو حکم دے گی کہ وہ ضبط شدہ سامان کے بارے میں مکمل رپورٹ پیش کرے، جس میں سامان کی حالت اور موجودہ جگہ کا ذکر ہو۔

4️⃣ ملکیت کا ثبوت پیش کریں
یہ مرحلہ سب سے اہم ہے۔ آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ سامان آپ کا ہے:

🔹 گاڑی کے لیے: رجسٹریشن بک، انشورنس، ٹیکس ٹوکن
🔹 موبائل فون کے لیے: اصل رسید، IMEI نمبر کا ریکارڈ
🔹 نقد رقم کے لیے: بینک ریکارڈ یا قابل اعتماد گواہ
🔹 زیور یا قیمتی اشیاء کے لیے: خریداری کی رسید یا جواہری کا سرٹیفکیٹ
5️⃣ فرانزک رپورٹ (اگر ضروری ہو)
اگر گاڑی کے انجن یا چیسز نمبر میں کسی قسم کی ٹیمپرنگ کا شبہ ہو تو عدالت فرانزک رپورٹ لازمی طلب کرے گی۔ اس کے بغیر سپر داری نہیں ملے گی۔

6️⃣ مچلکہ (Surety Bond) اور سامان کی واپسی
جب عدالت مطمئن ہو جائے تو حکم جاری ہوتا ہے۔ آپ کو ایک ضامن (Surety) پیش کرنا ہوگا جو یہ ضمانت دے کہ سامان عدالت کے حکم پر واپس کیا جائے گا۔ اس کے بعد سامان آپ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

⚠️ اہم قانونی پابندیاں جو ہر شخص کو معلوم ہونی چاہئیں

🔴 فروخت پر مکمل پابندی
سپر داری پر حاصل کیا گیا سامان مقدمے کے حتمی فیصلے تک فروخت، گروی یا منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

🔴 عدالت میں پیشی لازمی
جب بھی عدالت طلب کرے، آپ کو سامان پیش کرنا ہوگا۔ پیشی سے گریز سپر داری منسوخ کروا سکتا ہے۔

🔴 حالت برقرار رکھنا ضروری
سامان اسی حالت میں رکھنا ہوگا جیسے ملا ہو۔ کوئی تبدیلی یا مرمت عدالت کی اجازت کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔

🔴 ضامن کی ذمہ داری
اگر سامان پیش نہ کیا جائے تو ضامن (Surety) کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

❓ اکثر پوچھے جانے والے سوالات

🔹 کیا سپر داری کیس ختم ہونے سے پہلے مل سکتی ہے؟
جی ہاں۔ سپر داری کا مقصد ہی یہ ہے کہ کیس کے دوران سامان مالک کے پاس رہے۔

🔹 اگر پولیس سپر داری کی مخالفت کرے تو؟
پولیس اپنی رپورٹ میں اعتراض درج کر سکتی ہے لیکن آخری فیصلہ عدالت کا ہوتا ہے۔

🔹 کتنا وقت لگتا ہے؟
عموماً 2 سے 6 ہفتے — لیکن بھرپور دستاویزات ہوں تو جلد فیصلہ ممکن ہے۔

🔹کیا بغیر وکیل کے درخواست دی جا سکتی ہے؟
قانوناً ہاں، لیکن عملاً وکیل کے بغیر درخواست مسترد ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

💡 آخری بات
پاکستان میں ہزاروں لوگ برسوں تک اپنا سامان پولیس کے پاس پڑا رہنے دیتے ہیں — صرف اس لیے کہ انہیں اپنے حقوق کا علم نہیں ہوتا۔
اپنے حقوق جاننا انصاف حاصل کرنے کا پہلا قدم ہے۔

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہتمام رجسٹریاں اور انتقال کالعدماہم نکتہ:اگر کسی جائیداد کا ابتدائی اندراج جعلسازی، دھوکہ دہی یا غی...
23/04/2026

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
تمام رجسٹریاں اور انتقال کالعدم
اہم نکتہ:
اگر کسی جائیداد کا ابتدائی اندراج جعلسازی، دھوکہ دہی یا غیر قانونی بنیاد پر ہو
تو اس بنیاد پر ہونے والی تمام بعد ازاں:
رجسٹریاں
خرید و فروخت
انتقالات
قانوناً غیر مؤثر اور کالعدم تصور ہوں گے
عدالتی اصول:
"جب بنیاد ہی غلط ہو تو پورا ڈھانچہ بھی قائم نہیں رہ سکتا"
: 2025 YLR 373

Address

District Courts
Hassan Abdal
44000

Opening Hours

Monday 09:00 - 12:00
Tuesday 09:00 - 12:00
Wednesday 09:00 - 12:00
Thursday 09:00 - 12:00
Friday 09:00 - 12:00
Saturday 09:00 - 12:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝑨𝒅𝒗. 𝑨𝒏𝒆𝒆𝒍𝒂 𝑨𝒃𝒃𝒂𝒔𝒊 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share