22/04/2026
جعلی مچلکے دینے پر اب پولیس پرچہ نہیں کاٹ سکتی! لاہور ہائیکورٹ کا بڑا اور تاریخی فیصلہ (2025 LHC 251)
عدالتِ عالیہ لاہور نے ایک انتہائی اہم قانونی نکتے کی وضاحت کر دی ہے کہ اگر کوئی شخص عدالت میں جعلی مچلکے (Bail Bonds) جمع کرواتا ہے تو پولیس اس پر براہِ راست ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ جسٹس محمد امجد رفیق صاحب نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ جعلی مچلکے یا عدالت میں غلط بیانی کے معاملات خالصتاً "انتظامِ انصاف" (Administration of Justice) کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایسے معاملات میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 205 ایک "ناقابلِ دست اندازی" جرم ہے، جس کا مطلب ہے کہ پولیس اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر مچلکے جعلی پائے جائیں تو پولیس کو کیس بھیجنے کے بجائے عدالت کو خود دفعہ 195 اور 476 ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کرنی چاہیے۔ یہ فیصلہ پولیس کے بڑھتے ہوئے اختیارات اور شہریوں کی بلاوجہ گرفتاریوں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوگا۔
اس کیس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ درخواست گزار تابندہ عدنان اور دیگر کے خلاف الزام تھا کہ انہوں نے عدالت میں جعلی ضمانتی مچلکے پیش کیے۔ معاملہ جب ہائیکورٹ پہنچا تو بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا عدالت ایسے معاملے میں پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دے سکتی ہے؟ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ وہ خود ضمانتی (Sureties) نہیں تھے، اس لیے ان پر براہِ راست بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ مسئلہ یہ تھا کہ کیا عدالتی کارروائی کے دوران پیش کیے گئے دستاویزات پر پولیس کا ایکشن بنتا ہے یا صرف عدالت ہی کارروائی کر سکتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے اس پیچیدہ معاملے کو قانون کی روشنی میں حل کرتے ہوئے ایک نئی نظیر قائم کر دی ہے۔
عدالت کے اہم قانونی نکات
دفعہ 205 PPC: یہ ایک ناقابلِ دست اندازی (Non-Cognizable) جرم ہے، جس پر پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی۔
دفعہ 195 Cr.P.C: عدالتی دستاویزات میں جعل سازی ہونے پر صرف متعلقہ عدالت ہی تحریری شکایت درج کروا سکتی ہے۔
مچلکے بطور شہادت: قانونِ شہادت کی رو سے ہر وہ دستاویز جو عدالت کے معائنے کے لیے پیش کی جائے وہ "شہادت" (Evidence) کہلاتی ہے، بشمول ضمانتی مچلکے۔
انتظامِ انصاف میں مداخلت: پولیس کو ایسے معاملات سونپنا عدالت کے اپنے وقار اور انتظامِ انصاف میں بیرونی مداخلت کے مترادف ہے۔
خصوصی طریقہ کار: جعل سازی ثابت ہونے پر عدالت مچلکے مسترد کر کے نئے مانگ سکتی ہے یا دفعہ 476 کے تحت خود انکوائری کر کے ٹرائل کا آغاز کر سکتی ہے۔
نجی دستاویزات بمقابلہ عدالتی دستاویزات: نکاح نامہ یا بیع نامہ جیسے کاغذات جو عدالت سے باہر بنتے ہیں ان پر ایف آئی آر ہو سکتی ہے، مگر جو کاغذات عدالتی حکم پر دورانِ سماعت بنیں (جیسے ضمانتی مچلکے) ان پر صرف عدالت کا اختیار ہے۔
اس فیصلے کے عام عوام پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مخالف فریق معمولی تکنیکی غلطیوں پر پولیس کو ملوث کر کے بندے کو جیل بھجوا دیتے ہیں۔ اب اس فیصلے کے بعد، کوئی بھی شخص کسی دوسرے سے "ذاتی دشمنی" نکالنے کے لیے جعلی مچلکوں کا سہارا لے کر براہِ راست پولیس کے ذریعے کسی کو ہراساں نہیں کر سکے گا۔ یہ فیصلہ عام آدمی کو پولیس گردی سے بچاتا ہے اور انصاف کا ترازو عدالت کے ہاتھ میں رکھتا ہے۔
مخالف ریفرنس (جو اب اس صورتحال میں لاگو نہیں ہوگا): ایسے تمام مقدمات جن میں عدالت سے باہر تیار کردہ جعلی دستاویزات (جیسے فرضی رجسٹری یا نجی معاہدہ) پر براہِ راست ایف آئی آر کو جائز قرار دیا گیا ہو۔
حق میں اہم ریفرنس:
2025 LHC 251 (موجودہ فیصلہ)
1970 SCMR 10 (چوہدری فیروز دین بنام ڈاکٹر کے ایم منیر - سپریم کورٹ کا فیصلہ جس میں دفعہ 195 کی اہمیت واضح کی گئی)
میرا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ پولیس کے ان اختیارات پر ایک ضروری قدغن ہے جو وہ اکثر وکلاء یا سائلین کو دبانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ عدالت کے اندر ہونے والی ہر بات کا فیصلہ صرف جج کو ہی کرنا چاہیے، نہ کہ تھانیدار کو؟ کیا ہم ایک ایسے نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں پولیس کا خوف کم اور قانون کا احترام زیادہ ہوگا؟
عوامی سروے: آپ نے اس فیصلے سے کیا سیکھا؟
کیا آپ جانتے تھے کہ مچلکے جعلی ہونے پر بھی پولیس براہِ راست گرفتار نہیں کر سکتی؟
کیا آپ کے خیال میں اس فیصلے سے عدالتوں میں جعل سازی کم ہوگی یا بڑھے گی؟
کیا کبھی آپ کو پولیس نے کسی عدالتی کاغذ کی بنیاد پر ہراساں کرنے کی کوشش کی؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دفعہ 195 CrPC کے تحت عدالت کا خود شکایت درج کرنا زیادہ بہتر ہے؟
کیا یہ فیصلہ عام شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے کافی ہے؟
اگر آپ کو ہمارے پیج پر دی گئی معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے، تو براہِ کرم اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور پیج کو لائک کریں۔ قانون سے آگاہی ہی آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔