Access Toward Justice

Access Toward Justice we have professional lawyers team across the country to provide best available legal solutions

28/04/2026

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ججز ٹرانسفر کے معاملے پر چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا۔

آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ٹرانسفر معاملے سے پہلے کمیشن اجلاس میں مجھے سنا جائے” جسٹس بابر ستار کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام بطور جوڈیشل کمیشن سربراہ خط

اسلام آباد ہائیکورٹ سے ججز ٹرانسفر کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہو گا، ٹرانسفر کے لیے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے نام زیرِ غور آئیں گے۔

ٹرانسفر کے لیے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو کے نام بھی زیرِ غور آئیں گے۔

27/04/2026

2026 PCrLJ 472

Summoning of witness---Scope---Application filed by the petitioner for summoning of Control Room Wireless Operator/Moharrar as Court witness was dismissed---Validity---Petitioner/accused had sought the summoning of Control Room Wireless Operator/Moharrar along with record/register regarding Rapts dated 18.05.2023 as Court Witness maintaining that on the said date, three calls were made at Rescue 15 with the report that one person inflicted injuries to another person and according to the 3rd call an information was laid to the effect that one person gave information that somebody made fire shot at his cousin, who passed away at hospital---Said witness and record was essential for a just decision of the case---Petitioner/accused claimed that according to calls made to Rescue 15 on 18.05.2023, no person was mentioned as accused, as such its production was necessary for the just decision of the case---Said documents/Rapts were relevant under Art.24 of Qanun-e-Shahadat, 1984---Summoning, production and use of the said documents may make the the existence or non-existence of a fact highly probable or improbable, as such were essential for the just decision of the case---"Just" means right, fair and well founded---Moreover, it is always duty of the Court to make every effort that no aspect of the case should be left unattended, therefore, the Trial Court, while passing the impugned order dated 17.05.2025, refusing to summon the said witness along with record, committed material irregularity---Trial Court failed to exercise discretion judiciously and did not record any substantial reason for rejecting the application, despite the witness being relevant and material.

26/04/2026

ثبوت نہ دینے کی قیمت: بیوی اور بچوں کا نان نفقہ کیس خارج
فیملی کورٹ لاہور کے 24 جنوری 2026 کے فیصلے کے خلاف بیوی اور تین کم عمر بچوں نے آئینی درخواست دائر کی، جس میں ان کا نان نفقہ کا دعویٰ (20,000 روپے ماہانہ فی کس بمعہ 10% سالانہ اضافہ) ثبوت پیش نہ کرنے کی بنیاد پر خارج کر دیا گیا تھا۔

25/04/2026

پریزن (جیل) رولز کے مطابق، اگر کسی قیدی کا کوئی قریبی عزیز (Blood Relative) فوت ہو جائے، تو اسے درج ذیل شرائط اور طریقے کے تحت جنازے میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے:
1. پیرول پر عارضی رہائی (Release on Parole)
قانون کے تحت صوبائی حکومت یا ہوم ڈیپارٹمنٹ (Home Department) کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی قیدی کو اس کے قریبی رشتہ دار (والدین، بہن بھائی، بیوی یا بچے) کے جنازے میں شرکت کے لیے عارضی طور پر (چند گھنٹوں سے لے کر ایک یا دو دن تک) رہا کر سکے۔
2. ضلعی انتظامیہ کا کردار (Role of Deputy Commissioner)
عام طور پر، قیدی کے ورثاء کو متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر (DC) یا ہوم ڈیپارٹمنٹ کو درخواست دینی ہوتی ہے۔
• درخواست کے ساتھ فوتگی کا ثبوت (ڈیتھ سرٹیفکیٹ یا ہسپتال کی رپورٹ) منسلک کرنا لازمی ہے۔
• انتظامیہ سیکیورٹی کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد پیرول کی منظوری دیتی ہے۔
3. پولیس سیکیورٹی اور حراست (Police Es**rt)
قیدی کو مکمل طور پر آزاد نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے پولیس کی سخت نگرانی (Police Custody) میں جنازے کے مقام تک لے جایا جاتا ہے۔
• قیدی کو ہتھکڑی لگائی جا سکتی ہے (سیکیورٹی رسک کو مدنظر رکھتے ہوئے)۔
• جنازہ پڑھنے یا آخری دیدار کرنے کے فوراً بعد پولیس اسے واپس جیل منتقل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔
4. زیرِ سماعت ملزم اور سزا یافتہ قیدی (UTP vs Convicted)
• زیرِ سماعت ملزم (Under-trial Prisoner): اگر ملزم کا کیس عدالت میں چل رہا ہے، تو اس کا وکیل متعلقہ ٹرائل کورٹ (سیشن جج یا جوڈیشل مجسٹریٹ) میں فوری درخواست دے سکتا ہے۔ جج صاحب انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پولیس کو حکم دیتے ہیں کہ ملزم کو جنازے میں شرکت کروائی جائے۔
• سزا یافتہ قیدی (Convicted): سزا یافتہ قیدی کے لیے جیل انتظامیہ اور صوبائی حکومت (Home Department) سے رجوع کیا جاتا ہے۔
5. دہشت گردی یا سنگین جرائم کے مقدمات
اگر قیدی انتہائی خطرناک ہو یا اس پر دہشت گردی جیسے سنگین مقدمات ہوں، تو انتظامیہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پیرول کی درخواست مسترد بھی کر سکتی ہے، یا پھر انتہائی سخت سیکیورٹی میں صرف چند منٹوں کے لیے جنازہ گاہ لے جانے کی اجازت دیتی ہے۔
خلاصہ (Summary in Points)
• قانون: پاکستان پریزن رولز (پیرول سیکشن)۔
• درخواست: ڈپٹی کمشنر یا ٹرائل کورٹ کو دی جاتی ہے۔
• حق: یہ قیدی کا قطعی حق نہیں بلکہ انتظامیہ کی صوابدید ہے، لیکن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عدالتیں اور حکومتیں عموماً اجازت دے دیتی ہیں۔
• واپسی: جنازے کے فوراً بعد یا مقررہ وقت (مثلاً 12 یا 24 گھنٹے) کے اندر واپسی لازمی ہوتی ہے۔
اگر ایسی صورتحال درپیش ہو، تو سب سے تیز طریقہ متعلقہ عدالت سے "رٹ" یا "درخواست برائے جنازہ" کے ذریعے آرڈر حاصل کرنا ہے، کیونکہ عدالتی حکم پر جیل انتظامیہ فوری عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔

قیدی کے قریبی رشتہ دار کی وفات پر جنازے میں شرکت یا عارضی رہائی (پیرول) کے حوالے سے پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے متعدد بار انسانی ہمدردی اور بنیادی حقوق کو ترجیح دی ہے۔
ذیل میں اس موضوع پر اہم عدالتی نظائر (Case Laws) درج ہیں جنہیں آپ قانونی حوالہ جات کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں:
1. 2021 SCMR 342 (سپریم کورٹ آف پاکستان)
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے پیرول کے تصور کو واضح کیا:
• اصول: عدالت نے قرار دیا کہ پیرول کا مقصد قیدی کو سماجی اور خاندانی بحران (جیسے موت یا شدید بیماری) کے وقت اپنوں کے ساتھ شامل ہونے کا موقع دینا ہے۔
• حکم: اگر کسی قیدی کا قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے تو انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ لکیر کی فقیری چھوڑ کر انسانی بنیادوں پر فیصلہ کرے اور قیدی کو آخری رسومات میں شرکت کی اجازت دے۔
2. PLD 2017 Lahore 712 (لاہور ہائی کورٹ)
یہ ایک انتہائی اہم کیس لا ہے جس میں عدالت نے قیدی کی عارضی رہائی پر زور دیا:
• اصول: عدالت نے قرار دیا کہ کسی قیدی کو اس کے والدین یا اولاد کے جنازے سے محروم کرنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 (انسانی وقار) کی خلاف ورزی ہے۔
• رہنمائی: اگر ہوم ڈیپارٹمنٹ پیرول کی اجازت دینے میں تاخیر کرے تو متعلقہ سیشن جج یا ہائی کورٹ مداخلت کر کے فوری حکم جاری کر سکتی ہے۔
3. 2019 P Cr. L J 455 (سندھ ہائی کورٹ)
اس فیصلے میں "خون کے رشتے" کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا:
• اصول: عدالت نے واضح کیا کہ قیدی کو صرف اس لیے جنازے سے نہیں روکا جا سکتا کہ وہ سنگین جرم میں ملوث ہے۔ اگر پولیس سیکیورٹی فراہم کر سکتی ہے تو اسے ہتھکڑی لگا کر بھی جنازے میں لے جانا ریاست کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
• نتیجہ: ملزم کو اس کے باپ کے جنازے میں شرکت کے لیے 12 گھنٹے کا پیرول دیا گیا۔
4. 2015 MLD 128 (لاہور ہائی کورٹ)
• اصول: اس کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ پیرول پر رہائی صرف حکومت کا اختیار نہیں بلکہ یہ عدالت کے دائرہ اختیار میں بھی آتا ہے۔ اگر ٹرائل کورٹ سمجھے کہ ملزم کے فرار ہونے کا خطرہ نہیں ہے تو وہ پولیس اسکواڈ کی نگرانی میں جنازے میں شرکت کی اجازت دے سکتی ہے۔
قانونی نچوڑ (Legal Gist for Copying)
اگر آپ کو کسی کیس میں یہ حوالہ جات دینے ہوں تو آپ اس طرح تحریر کر سکتے ہیں:

"اعلیٰ عدالتوں کے طے شدہ اصولوں (2021 SCMR 342 اور PLD 2017 Lahore 712) کے مطابق، کسی قیدی کو اس کے قریبی رشتہ دار کے جنازے میں شرکت سے محروم کرنا آئینِ پاکستان کے تحت دیے گئے انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ قانون قیدی کو پیرول پر رہا کرنے کی اجازت دیتا ہے تاکہ وہ اپنی سماجی اور مذہبی ذمہ داریاں پوری کر سکے۔"

وفات کی صورت میں وقت بہت کم ہوتا ہے۔ ایسے میں ہوم ڈیپارٹمنٹ کے بجائے متعلقہ ٹرائل کورٹ (سیشن جج) میں "فوری درخواست برائے جنازہ" دائر کرنا سب سے موثر طریقہ ہے، کیونکہ عدالتیں ایسے معاملات میں اسی وقت (حتیٰ کہ چھٹی والے دن بھی) آرڈر جاری کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔
Mian Farrukh Abdullah Advocate High Court

25/04/2026

پریزن (جیل) رولز کے مطابق، اگر کسی قیدی کا کوئی قریبی عزیز (Blood Relative) فوت ہو جائے، تو اسے درج ذیل شرائط اور طریقے کے تحت جنازے میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے:
1. پیرول پر عارضی رہائی (Release on Parole)
قانون کے تحت صوبائی حکومت یا ہوم ڈیپارٹمنٹ (Home Department) کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی قیدی کو اس کے قریبی رشتہ دار (والدین، بہن بھائی، بیوی یا بچے) کے جنازے میں شرکت کے لیے عارضی طور پر (چند گھنٹوں سے لے کر ایک یا دو دن تک) رہا کر سکے۔
2. ضلعی انتظامیہ کا کردار (Role of Deputy Commissioner)
عام طور پر، قیدی کے ورثاء کو متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر (DC) یا ہوم ڈیپارٹمنٹ کو درخواست دینی ہوتی ہے۔
• درخواست کے ساتھ فوتگی کا ثبوت (ڈیتھ سرٹیفکیٹ یا ہسپتال کی رپورٹ) منسلک کرنا لازمی ہے۔
• انتظامیہ سیکیورٹی کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد پیرول کی منظوری دیتی ہے۔
3. پولیس سیکیورٹی اور حراست (Police Es**rt)
قیدی کو مکمل طور پر آزاد نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے پولیس کی سخت نگرانی (Police Custody) میں جنازے کے مقام تک لے جایا جاتا ہے۔
• قیدی کو ہتھکڑی لگائی جا سکتی ہے (سیکیورٹی رسک کو مدنظر رکھتے ہوئے)۔
• جنازہ پڑھنے یا آخری دیدار کرنے کے فوراً بعد پولیس اسے واپس جیل منتقل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔
4. زیرِ سماعت ملزم اور سزا یافتہ قیدی (UTP vs Convicted)
• زیرِ سماعت ملزم (Under-trial Prisoner): اگر ملزم کا کیس عدالت میں چل رہا ہے، تو اس کا وکیل متعلقہ ٹرائل کورٹ (سیشن جج یا جوڈیشل مجسٹریٹ) میں فوری درخواست دے سکتا ہے۔ جج صاحب انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پولیس کو حکم دیتے ہیں کہ ملزم کو جنازے میں شرکت کروائی جائے۔
• سزا یافتہ قیدی (Convicted): سزا یافتہ قیدی کے لیے جیل انتظامیہ اور صوبائی حکومت (Home Department) سے رجوع کیا جاتا ہے۔
5. دہشت گردی یا سنگین جرائم کے مقدمات
اگر قیدی انتہائی خطرناک ہو یا اس پر دہشت گردی جیسے سنگین مقدمات ہوں، تو انتظامیہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پیرول کی درخواست مسترد بھی کر سکتی ہے، یا پھر انتہائی سخت سیکیورٹی میں صرف چند منٹوں کے لیے جنازہ گاہ لے جانے کی اجازت دیتی ہے۔
خلاصہ (Summary in Points)
• قانون: پاکستان پریزن رولز (پیرول سیکشن)۔
• درخواست: ڈپٹی کمشنر یا ٹرائل کورٹ کو دی جاتی ہے۔
• حق: یہ قیدی کا قطعی حق نہیں بلکہ انتظامیہ کی صوابدید ہے، لیکن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عدالتیں اور حکومتیں عموماً اجازت دے دیتی ہیں۔
• واپسی: جنازے کے فوراً بعد یا مقررہ وقت (مثلاً 12 یا 24 گھنٹے) کے اندر واپسی لازمی ہوتی ہے۔
اگر ایسی صورتحال درپیش ہو، تو سب سے تیز طریقہ متعلقہ عدالت سے "رٹ" یا "درخواست برائے جنازہ" کے ذریعے آرڈر حاصل کرنا ہے، کیونکہ عدالتی حکم پر جیل انتظامیہ فوری عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔

قیدی کے قریبی رشتہ دار کی وفات پر جنازے میں شرکت یا عارضی رہائی (پیرول) کے حوالے سے پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے متعدد بار انسانی ہمدردی اور بنیادی حقوق کو ترجیح دی ہے۔
ذیل میں اس موضوع پر اہم عدالتی نظائر (Case Laws) درج ہیں جنہیں آپ قانونی حوالہ جات کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں:
1. 2021 SCMR 342 (سپریم کورٹ آف پاکستان)
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے پیرول کے تصور کو واضح کیا:
• اصول: عدالت نے قرار دیا کہ پیرول کا مقصد قیدی کو سماجی اور خاندانی بحران (جیسے موت یا شدید بیماری) کے وقت اپنوں کے ساتھ شامل ہونے کا موقع دینا ہے۔
• حکم: اگر کسی قیدی کا قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے تو انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ لکیر کی فقیری چھوڑ کر انسانی بنیادوں پر فیصلہ کرے اور قیدی کو آخری رسومات میں شرکت کی اجازت دے۔
2. PLD 2017 Lahore 712 (لاہور ہائی کورٹ)
یہ ایک انتہائی اہم کیس لا ہے جس میں عدالت نے قیدی کی عارضی رہائی پر زور دیا:
• اصول: عدالت نے قرار دیا کہ کسی قیدی کو اس کے والدین یا اولاد کے جنازے سے محروم کرنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 (انسانی وقار) کی خلاف ورزی ہے۔
• رہنمائی: اگر ہوم ڈیپارٹمنٹ پیرول کی اجازت دینے میں تاخیر کرے تو متعلقہ سیشن جج یا ہائی کورٹ مداخلت کر کے فوری حکم جاری کر سکتی ہے۔
3. 2019 P Cr. L J 455 (سندھ ہائی کورٹ)
اس فیصلے میں "خون کے رشتے" کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا:
• اصول: عدالت نے واضح کیا کہ قیدی کو صرف اس لیے جنازے سے نہیں روکا جا سکتا کہ وہ سنگین جرم میں ملوث ہے۔ اگر پولیس سیکیورٹی فراہم کر سکتی ہے تو اسے ہتھکڑی لگا کر بھی جنازے میں لے جانا ریاست کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
• نتیجہ: ملزم کو اس کے باپ کے جنازے میں شرکت کے لیے 12 گھنٹے کا پیرول دیا گیا۔
4. 2015 MLD 128 (لاہور ہائی کورٹ)
• اصول: اس کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ پیرول پر رہائی صرف حکومت کا اختیار نہیں بلکہ یہ عدالت کے دائرہ اختیار میں بھی آتا ہے۔ اگر ٹرائل کورٹ سمجھے کہ ملزم کے فرار ہونے کا خطرہ نہیں ہے تو وہ پولیس اسکواڈ کی نگرانی میں جنازے میں شرکت کی اجازت دے سکتی ہے۔
قانونی نچوڑ (Legal Gist for Copying)
اگر آپ کو کسی کیس میں یہ حوالہ جات دینے ہوں تو آپ اس طرح تحریر کر سکتے ہیں:

"اعلیٰ عدالتوں کے طے شدہ اصولوں (2021 SCMR 342 اور PLD 2017 Lahore 712) کے مطابق، کسی قیدی کو اس کے قریبی رشتہ دار کے جنازے میں شرکت سے محروم کرنا آئینِ پاکستان کے تحت دیے گئے انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ قانون قیدی کو پیرول پر رہا کرنے کی اجازت دیتا ہے تاکہ وہ اپنی سماجی اور مذہبی ذمہ داریاں پوری کر سکے۔"

وفات کی صورت میں وقت بہت کم ہوتا ہے۔ ایسے میں ہوم ڈیپارٹمنٹ کے بجائے متعلقہ ٹرائل کورٹ (سیشن جج) میں "فوری درخواست برائے جنازہ" دائر کرنا سب سے موثر طریقہ ہے، کیونکہ عدالتیں ایسے معاملات میں اسی وقت (حتیٰ کہ چھٹی والے دن بھی) آرڈر جاری کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔

24/04/2026

پاکستان پینل کوڈ (PPC) کے تحت زخموں یا جسمانی چوٹوں کو "Hurt" کہا جاتا ہے، اور اس سے متعلقہ دفعات 332 سے شروع ہوتی ہیں۔ 1990 کے قصاص و دیت آرڈیننس کے بعد ان میں بڑی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔
زخموں کی نوعیت، ان کے متعلقہ سیکشنز اور دفعات کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. اِتلافِ عُضو (Itlaf-i-Udw)
• تعریف: کسی شخص کے جسم کا کوئی عضو کاٹ دینا، الگ کر دینا یا مستقل طور پر بیکار کر دینا۔
• دفعہ: 333 PPC
• سزا (دفعہ 334): قصاص (اگر ممکن ہو)، ورنہ عرش (مالی معاوضہ) اور 10 سال تک قید۔
2. اِتلافِ صلاحیتِ عُضو (Itlaf-i-Salahiyyat-i-Udw)
• تعریف: عضو تو موجود رہے لیکن اس کے کام کرنے کی صلاحیت مستقل طور پر ختم ہو جائے (مثلاً بینائی، سماعت یا چلنے کی طاقت ختم ہونا)۔
• دفعہ: 335 PPC
• سزا (دفعہ 336): قصاص یا عرش، اور 10 سال تک قید۔
3. شجہ (Shajjah) - سر اور چہرے کے زخم
شجہ صرف سر یا چہرے پر آنے والے زخموں کو کہتے ہیں۔ اس کی چھ اقسام ہیں:

معذرت خواہ ہوں کہ ٹیبل کاپی کرنے میں دشواری ہوئی۔ میں اسی معلومات کو سادہ ٹیکسٹ (Text) کی صورت میں نیچے لکھ رہا ہوں تاکہ آپ اسے آسانی سے سلیکٹ (Select) کر کے کاپی اور پیسٹ کر سکیں۔
شجہ (سر اور چہرے کے زخموں کی تفصیل)
1. شجہ خفیہ (Shajjah-i-Khafifah)
تفصیل: ایسا زخم جس میں ہڈی نظر نہ آئے۔
دفعہ: 337-A(i)
2. شجہ موضحہ (Shajjah-i-Mudihah)
تفصیل: ایسا زخم جس میں ہڈی نظر آ جائے مگر ہڈی ٹوٹے نہیں۔
دفعہ: 337-A(ii)
3. شجہ ہاشمہ (Shajjah-i-Hashimah)
تفصیل: ایسا زخم جس میں ہڈی ٹوٹ جائے مگر اپنی جگہ سے نہ ہلے۔
دفعہ: 337-A(iii)
4. شجہ منقلہ (Shajjah-i-Munaqqilah)
تفصیل: ہڈی ٹوٹ جائے اور اپنی جگہ سے ہل (Dislocate) جائے۔
دفعہ: 337-A(iv)
5. شجہ آمہ (Shajjah-i-Ammah)
تفصیل: ایسا گہرا زخم جو دماغ کی جھلی (Membrane) تک پہنچ جائے۔
دفعہ: 337-A(v)
6. شجہ دامغہ (Shajjah-i-Damighah)
تفصیل: ایسا زخم جو دماغ کی جھلی کو پھاڑ دے یا دماغ کو نقصان پہنچائے۔
دفعہ: 337-A(vi)
غیر جائفہ (جسم کے دیگر حصوں کے زخم)
1. دامیہ (Damiyah)
تفصیل: جس زخم سے خون نکل آئے۔ (337-F-i)
2. باضعہ (Badiah)
تفصیل: جو گوشت کو کاٹ دے۔ (337-F-ii)
3. متلاحمہ (Mutalahimah)
تفصیل: جو گوشت کے اندر گہرا اتر جائے۔ (337-F-iii)
4. موضحہ (Mudihah)
تفصیل: جس میں ہڈی نظر آ جائے۔ (337-F-iv)
5. ہاشمہ (Hashimah)
تفصیل: جس میں ہڈی ٹوٹ جائے۔ (337-F-v)
6. منقلہ (Munaqqilah)
تفصیل: ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ چھوڑ دے۔ (337-F-vi)
ٹپ: آپ اس ٹیکسٹ پر اپنی انگلی تھوڑی دیر دبا کر رکھیں (Long Press)، پھر "Copy" کا آپشن منتخب کر لیں۔ کیا آپ کو ان دفعات کی سزاؤں یا کسی مخصوص کیس کے حوالے سے مزید معلومات چاہیے؟

4. جُرح (Jurh) - جسم کے دیگر حصوں کے زخم
سر اور چہرے کے علاوہ جسم کے کسی اور حصے پر ایسا زخم جو جلد کے اندر تک جائے، اسے "جرح" کہتے ہیں۔ اس کی دو بڑی اقسام ہیں:
(الف) جائفہ (Jaifah)
• تعریف: ایسا زخم جو جسم کے کسی ایسے خلا (Body Cavity) میں داخل ہو جائے جیسے پیٹ، سینہ یا کمر۔
• دفعہ: 337-C
• سزا: دمن (مالی معاوضہ) اور 10 سال تک قید۔
(ب) غیر جائفہ (Ghayr-Jaifah)
ایسا زخم جو جسم کے خلا میں داخل نہ ہو۔ اس کی مزید اقسام یہ ہیں:
• دامیہ (Damiyah): جس میں خون نکل آئے۔ (337-E)
• باضعہ (Badiah): جو گوشت کو کاٹ دے۔
• متلاحمہ (Mutalahimah): جو گوشت کے اندر گہرا اتر جائے۔
• موضحہ (Mudihah): جس میں ہڈی نظر آ جائے۔
• ہاشمہ (Hashimah): ہڈی ٹوٹ جائے۔
• منقلہ (Munaqqilah): ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ چھوڑ دے۔
5. دیگر اقسام
• اتلافِ غیر عمد (Itlaf-i-Ghayr-Amd): غلطی یا غفلت سے پہنچائی گئی چوٹ (دفعہ 337-L)۔
• زہر کے ذریعے نقصان: اگر کسی کو زہر دے کر نقصان پہنچایا جائے (دفعہ 337-J)۔

پاکستان میں کسی بھی فوجداری مقدمے، خاص طور پر لڑائی جھگڑے اور جسمانی چوٹ (Hurt) کے کیسز میں میڈیکل ایگزامینیشن ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ قانونی نقطہ نظر سے اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. میڈیکل کروانے کا متعلقہ سیکشن
پاکستان میں زخموں کے معائنے کے لیے عام طور پر درج ذیل دفعات اور قوانین کا سہارا لیا جاتا ہے:
• دفعہ 174 CrPC: اگرچہ یہ زیادہ تر ناگہانی موت یا خودکشی کے لیے استعمال ہوتی ہے، لیکن پولیس کسی بھی زخمی شخص کو طبی معائنے کے لیے سرکاری ہسپتال بھیجنے کی پابند ہے۔
• Police Rules, 1934 (Chapter 25): پولیس رولز کے باب 25 کے تحت تفتیشی افسر کا یہ فرض ہے کہ وہ زخمی شخص کا فوری طور پر MLC (Medico-Legal Certificate) بنوائے۔
• دفعہ 54 CrPC (ترمیم شدہ): بعض صورتوں میں ملزم کے طبی معائنے کے لیے بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔
2. میڈیکل (MLR/MLC) کی قانونی اہمیت
عدالت میں زبانی گواہی سے زیادہ دستاویزی ثبوت یعنی Medico-Legal Report (MLR) کی اہمیت ہوتی ہے:
• جرم کا تعین: میڈیکل رپورٹ ہی طے کرتی ہے کہ ملزم پر PPC کی کون سی دفعہ لگے گی۔ مثلاً اگر ہڈی ٹوٹی ہے تو "ہاشمہ" (337-A-iii) لگے گی، اور اگر صرف معمولی خراش ہے تو "خفیہ" (337-A-i) لگے گی۔
• آلہ قتل/ضرب کا پتہ لگانا: ڈاکٹر یہ بتاتا ہے کہ زخم کسی کند آلے (Blunt Weapon) سے لگا ہے یا تیز دھار آلے (Sharp Edge) سے۔ اس سے مدعی کے بیان کی تصدیق یا تردید ہوتی ہے۔
• وقت کا تعین: ڈاکٹر رپورٹ میں لکھتا ہے کہ زخم کتنا پرانا ہے۔ یہ چیز وقوعہ کے وقت کو ثابت کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
3. میڈیکل میں تاخیر (Delay) کے قانونی اثرات
قانونی اصطلاح میں میڈیکل میں تاخیر مقدمے کے لیے "زہر" ثابت ہو سکتی ہے:
• شک کا فائدہ (Benefit of Doubt): اگر زخم لگنے اور میڈیکل کروانے میں غیر ضروری تاخیر ہو (مثلاً 24 گھنٹے سے زیادہ)، تو دفاعی وکیل یہ اعتراض اٹھاتا ہے کہ یہ زخم "خود ساختہ" (Self-inflicted) ہو سکتے ہیں یا وقوعہ کے بعد کہیں اور سے لگوائے گئے ہیں۔
• بیان میں تضاد: اگر ایف آئی آر میں تاخیر ہو اور میڈیکل میں بھی، تو عدالت اسے مشکوک سمجھتی ہے اور ملزم کو ضمانت ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
• توجیہ (Explanation): اگر تاخیر ہو جائے تو مدعی کو اس کی ٹھوس وجہ بتانی پڑتی ہے (مثلاً بے ہوشی، ہسپتال کا دور ہونا یا پولیس کی سستی)۔ اگر وجہ معقول نہ ہو تو کیس کمزور ہو جاتا ہے۔
4. اہم قانونی نکات (Legal Points)
• ماہر کی شہادت (Expert Opinion): قانونِ شہادت آرڈر (QSO) کے تحت ڈاکٹر ایک "ماہر" (Expert) ہے اور اس کی رپورٹ دفعہ 59 کے تحت قابلِ قبول شہادت ہے۔
• تضاد (Conflict): اگر میڈیکل رپورٹ اور چشم دید گواہ کے بیان میں واضح فرق ہو (مثلاً گواہ کہے کہ گولی لگی ہے اور میڈیکل کہے کہ ڈنڈا لگا ہے)، تو عدالت میڈیکل رپورٹ کو ترجیح دیتی ہے اور گواہ کو جھوٹا تصور کیا جا سکتا ہے۔
• پرائیویٹ میڈیکل: پرائیویٹ ہسپتال کا میڈیکل قانونی طور پر اس وقت تک مستند نہیں مانا جاتا جب تک کہ اسے سرکاری میڈیکل افسر (MS یا نامزد ڈاکٹر) کی تصدیق حاصل نہ ہو۔
خلاصہ: پولیس کا جاری کردہ "رقعہ" لے کر سرکاری ہسپتال سے فوری MLC بنوانا کیس کو مضبوط بنانے کا پہلا اور سب سے اہم مرحلہ ہے

‏اسلام آباد  ترنول کے شہری کے خلاف مقدمہ کے اندراج کا معاملہ ترنول پھاٹک کو "آبنائے ہرمز" کہنے پر شہری کے خلاف مقدمہ درج...
24/04/2026

‏اسلام آباد ترنول کے شہری کے خلاف مقدمہ کے اندراج کا معاملہ
ترنول پھاٹک کو "آبنائے ہرمز" کہنے پر شہری کے خلاف مقدمہ درج، اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا۔

‏اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر کیس میں عمران خان صاحب کے کیس کی کل سماعت بوجہ راستوں کی بندش نہیں ہو گی۔ ‏رجسٹرار آفس ...
22/04/2026

‏اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر کیس میں عمران خان صاحب کے کیس کی کل سماعت بوجہ راستوں کی بندش نہیں ہو گی۔

‏رجسٹرار آفس نے اسلام آبا ہائی کورٹ جرنلسٹس کو آگاہ کیا ہے

21/04/2026

Constitutional Petition against Notices u/s 205 of the Ordinance for charge of default surcharge upon the payment of super tax for TY 2023 & 2024 has been admitted for regular hearing by Honorable Sindh High Court, Karachi and interim relief has also been granted in terms that no coercive measures for recovery of default surcharge shall be adopted against the petitioner. Regards.

20/04/2026
2026 PLC (C.S.) 401When a terminated or dismissed employee is reinstated in service, his seniority, privileges and other...
19/04/2026

2026 PLC (C.S.) 401

When a terminated or dismissed employee is reinstated in service, his seniority, privileges and other benefits are also restored.

As per R.12.2(3) of the Police Rules, 1934 (Rules) the seniority in the case of upper subordinates is reckoned in the first instance from the date of first appointment; officers promoted from a lower rank are considered senior to persons appointed direct on the same date and the seniority of officers appainted direct on the same date is reckoned according to age, however, the seniority is finally settled by dates of confirmation, whereas the inter se seniority of several officers confirmed on the same date being that allotted to them on first appointment-While the seniority of lower subordinates is reckoned from dates of appointment, subject to the conditions of R.12.24 of the Rules and provided that a promoted officer shall rank senior to an officer appointed direct to the same rank on the same date---While determining the issue of seniority, predominance should have been given to the statutory provisions that are in vogue including the provisions set out for the alleviation of grievances vis-à-vis the determination of seniority-Expression "seniority", in the labour and service laws, exemplifies the precedence or preference in the standing of an employee over other similarly placed employees with the philosophy that if service of an employee is lengthier or on top of one another employee, then he is designated senior to the other--Since seniority bequeaths a valuable right and the whole future career and prospects of an employee time and again hinge on such seniority, therefore, its determination must be in accordance with relevant laws and rules---If the seniority list is to be revised, revisited or upset come what may, it is an onerous obligation of the competent authority /concerned department to confront the issue to all persons who are likely to be affected and deprived of their seniority but without following due process, it is sheer contravention of Article 10-A of the Constitution-Principles of natural justice requires that the delinquent should be afforded a fair opportunity to converge, explain, and contest the allegation against him before he is found guilty, condemned or any adversarial action is taken-All judicial, quasi-judicial and administrative authorities should carry out their powers with a judicious and evenhanded approach to ensure justice according to the tenor of law and without any violation of the principles of natural justice---Predominant purpose of a show cause notice is to seek out a response explicating why a disciplinary or departmental action should not be taken-If any action is taken without due process of law or in violation of natural justice/fair trial, then the whole/entire infrastructure built thereupon deserves demolition and desolation Issue before Supreme Court was not in a straight line correlated to the mere seniority and probation at the time of appointment or direct appointment of Inspectors, Sub-Inspectors and Asst. Sub-Inspectors but the case squarely was germane to the fixation of the seniority on the occasion of reinstatement and not on the basis of fresh appointment---Notification/Order was issued by the L.G.P. Sindh with the concurrence of the Chief Minister Sindh, factum of which wat neither denied nor was any logical or sound justification placed before Supreme Court as to why in the case of reinstatement, the original seniority should not be reckoned and restored-No justification was found to interfere in the judgment of SST, thus, the Civil Appeals-filed by the Government were dismissed, in circumstances.
C.A.53-K/2024
The Province of Sindh through Chief Secretary Government of Sindh & others v. Raj Kumar Lohana & others

18/04/2026

VVVVVVI. MUST READ JUDGEMENT.
مدعا علیہان کو ان کی ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ اپنے مورث کے قانونی نمائندہ کے طور پر فریق بنایا گیا ہے، اور ان کی ذمہ داری صرف اس حد تک ہے جس حد تک انہوں نے متوفی کی جائیداد وراثت میں حاصل کی ہو۔ یہ ایک دیوانی ذمہ داری ہے جو موت کے بعد بھی برقرار رہتی ہے۔
“Whether a summary suit under Order ###VII CPC is maintainable against the legal heirs of a deceased signatory of negotiable Instrument(s) who are neither signatory(s), indorser(s), or maker(s) of the same.”

I have perused the relevant provisions as well as the judgments cited by the Appellants/Defendants and not inclined to subscribe to the interpretation sought to be made by the Appellants/Defendants for contending that the summary Suit under Order ###VII CPC was not proceedable against them. It is fall to be noted that in the Suit in hand, the Appellants/Defendants have not been impleaded in their capacity as makers, drawers, indorsers or acceptors of the Cheques nor it is alleged by the Respondents/Plaintiffs that the same was signed by the Appellants/Defendants, instead, the Appellants/Defendants have been impleaded/sued in their representative capacity as legal heirs of the deceased Farman Ali and will indeed be liable to satisfy the Decree, only to the extent of estate or assets if so inherited by them from the deceased Farman Ali; the Suit did not seek to impose any personal liability upon the Appellants/Defendants as drawers, indorsers or acceptors of the Cheques. It is pertinent to note that the Respondent/Plaintiff has successfully proved by the dint of evidence produced during the course of trial that the Cheques were issued by the deceased Farman Ali; the same were issued against due consideration and were dishonored on being presented for encashment during his lifetime, thus, the cause of action had matured in the lifetime of Farman Ali Deceased, in favour of the Respondent/Plaintiff and against the deceased Farman Ali, which accrued cause of action continued to exist and survives against the legal heirs and representatives of the deceased despite 3 Adil Khan Bazai v. Election Commission of Pakistan and another PLD 2025 SC 319RFA No. 63446 of 2020 8his death; it was not a personal liability attached to the ‘person’, which may be declared to have extinguished at the event of his death; instead it was a liability of a civil claim, which survives the death of the person and exists/continues against the legal representatives of such a person to the extent of the assets and estate(s) inherited by such legal representatives.

RFA No. 63446 of 2020
Sughra Bibi etc. VERSUS Tahir Hayat
2026LHC2448
Announced in open Court on 08.04.2026.

Address

Islamabad

Telephone

+923345364053

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Access Toward Justice posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Access Toward Justice:

Share

Category