GoldMark Property Services-GPS

GoldMark Property Services-GPS We are Specialized in Real Estate Investment planes.

*جائیداد قسمتوں  سے نہیں قسطوں  سے بنتی ہے*      *روز رائل ریزیڈنشیا*آسائشیں سب سے نرالیپاکستان کی سب سے پہلی شریعہ کمپل...
17/08/2024

*جائیداد قسمتوں سے نہیں قسطوں سے بنتی ہے*
*روز رائل ریزیڈنشیا*
آسائشیں سب سے نرالی
پاکستان کی سب سے پہلی شریعہ کمپلینٹ ہاؤسنگ سوسائٹی
جس میں مسجد اقصی کا ریپلکا ،
سکولز،جدید ہسپتال،
24/7ایمبولینس,
کشادہ سڑکیں،پانی،
تھیم پارکس،
بزنس کمرشل ہب،
24/7سمارٹ سیکیورٹی سسٹم،
سٹریٹ لائٹس،بجلی
فٹنس جم،
جاگنگ ٹریکس،
سویمنگ پول،
ڈسپوزیبل سیوریج سسٹم اور واٹر فاؤنٹین
جیسی سہولیات سے آراستہ ایئرپورٹ کے قریب سب سے منفرد ہاؤسنگ پراجیکٹ،جہاں زندگی کاہردن پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگا۔
مناسب قیمت اورآسان اقساط میں پلاٹس کے ذریعے ہر کوئی اپنے گھرکی تعبیر پائے گا۔

بکنگ اور مزید معلومات کے لیے نیچے دیے گئے واٹس ایپ نمبر پر اپنا نام لکھ کر بھیجیں پراجیکٹ کے متعلق آپ کو تمام تر معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔
PREMIUM SERVICES MARKETING (PVT) LTD
M ARSLAN SHAHID
📞 0300- 702 40 30
*آفیشل اتھرائیزڈ سیلز پارٹنرز*

*آج اسلام آباد ائیرپورٹ کے قریب زمین کا ٹکڑا خرید لیں**سوال نمبر 1۔ کیا آپ کراچی ، پشاور یا لاھور ائیرپورٹ کے قریب زمین ...
10/08/2024

*آج اسلام آباد ائیرپورٹ کے قریب زمین کا ٹکڑا خرید لیں*
*سوال نمبر 1۔ کیا آپ کراچی ، پشاور یا لاھور ائیرپورٹ کے قریب زمین کا ٹکڑا خرید سکتے ہیں*
جواب۔ نہیں 5 کروڑ فی کنال بھی نہیں خرید سکتے
-------------------
*سوال نمبر 2۔ کیا آپ نیو انٹرنیشنل ائیرپورٹ اسلام آباد (دارالخلافہ) کے قریب زمین کا ٹکڑا خرید سکتے ہیں*
جواب۔ جی ہاں۔ وہ بھی صرف پانچ مرلہ 19 لاکھ 80 ہزار اور سات مرلہ 25 لاکھ تک اور مزے کے بات ہے ڈویلپمنٹ چارجز لاگو نہیں ہوں گے۔۔
--------------------
*سوال نمبر 3۔ کیا ایک سال کے بعد اسلام آباد ائیرپورٹ کے قریب آپ زمین کا ٹکڑا خرید سکیں گے*
جواب۔ کبھی نہیں۔ 1 کروڑ کا بھی پانچ مرلہ نہیں مل سکے گا۔
----------------------
*اگر آپ کو میری بات سمجھ آ رہی ھے تو انتظار نہ کریں اور فیصلہ کریں کہ آپ اپنے بجٹ کے مطابق کتنی زمین خرید سکتے ہیں۔ اور فوراً خریداری کرنے کے لئے ہم سے رابطہ کرئیں*
*Premium Services Marketing-PSM*
ہمارے وٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں
*03007024030*

Housing society with affordable rates, located in prime area of Islamabad, offering best-in-class amenities, and promisi...
06/07/2024

Housing society with affordable rates, located in prime area of Islamabad, offering best-in-class amenities, and promising returns on investment presents a compelling opportunity for buyers and investors alike. It combines affordability with potential for long-term capital appreciation and rental income, making it a prudent choice in the dynamic real estate market of Islamabad.















Eid UL AZHA Mubarak..
17/06/2024

Eid UL AZHA Mubarak..

پراپرٹی خرید کتنے کی رہے ہیں؟لاکھوں کیپراپرٹی بیچ کتنے کی رہے ہیں؟کروڑوں کیاور جس ایجنٹ کے تھرو یہ ڈیل ڈن ہوئی جس نے محن...
06/06/2024

پراپرٹی خرید کتنے کی رہے ہیں؟
لاکھوں کی
پراپرٹی بیچ کتنے کی رہے ہیں؟
کروڑوں کی

اور جس ایجنٹ کے تھرو یہ ڈیل ڈن ہوئی جس نے محنت کوشش کر کے کلائنٹ تلاش کیا، ٹائم لیا، سارا کچھ مینج کیا، اسے اس کا حق دیتے ہوئے

بتیسی باہر نکال کے، ہاہاہا، اتنا تے نئی ہوندا سائیں۔

آخر ڈیلر کرتا کیا ہے؟ ڈیلر کو اتنے پیسے کس چیز کے دیے جائیں۔ تو میں نے سوچا وڈے بلب سے اس بات پر تھوڑی سی روشنی ڈالتے ہیں۔

سیٹھ صاحب جس نے کچھ عرصہ پہلے نوے لاکھ کی ایک پراپرٹی خریدی تھی، اپنی پجارو سے باہر نکلتا ہے، ٹھنڈے ٹھار اے سی والے کمرے میں گھومتی کرسی پر بیٹھ کر اپنے آئی فون سے پراپرٹی ڈیلر کو کال کرتا ہے۔

یار میرا یہ کمرشل پلاٹ تو سیل کروا دو، دیکھ لو تمھارے سامنے ہی ہے، تین سال پہلے نوے لاکھ کا لیا تھا، اب تو ڈیویلیپمنٹ بھی اچھی خاصی ہو چکی ہے، اڑھائی کروڑ تک کا کوئی کلائنٹ ڈھونڈو، بتانا پھر۔

ڈیلر اپنے انفینیکس موبائل سے کال سننے کے بعد، اپنے سکوٹر کو ٹاکی شاکی مارتا ہے، مئی جون کا مہینہ ہے، باہر گرمی کی شدت اپنی انتہاوں کو چھو رہی ہے، ڈیلر ہیلمٹ پہنتا ہے اور سائٹ کا ڈیٹا اکٹھا کرنے، تصاویر بنانے کے لیے سیٹھ صاحب کے کمرشل پلاٹ کی طرف نکل پڑتا ہے۔

وہاں پہنچ کر اچھی سے اچھی تصاویر بناتا ہے، ویڈیو بناتا ہے، اسی گرمی میں واپس پہنچ کر، اس ویڈیو کو ایڈیٹ کرتا یا کرواتا ہے اور اس کو اپنے سوشل میڈیا کے تھرو لوگوں سے اور اپنے کلائنٹ سرکل میں متعارف کرواتا ہے۔

انوسٹرز رابطہ کرنا شروع کرتے ہیں تو ڈیلر ایک ایک کلائنٹ کو علیحدہ تفصیل سے سب کچھ دکھاتا بتاتا اور سمجھاتا ہے۔

اسی دوران انوسٹر سائٹ وزٹ کرنا چاہتا ہے تو ڈیلر مختلف انوسٹرز کو مختلف اوقات میں سائٹ وزٹ کرواتا ہے۔

ڈیلر کا ٹائم
ڈیلر کا بیلنس
ڈیلر کا دماغ
ڈیلر کا پٹرول
انوسٹر مہمانوں پر ڈیلر کا خرچہ

آخر کار، دو کروڑ بیس لاکھ تک کا ایک کلائنٹ مل جاتا ہے، اب ڈیلر سیٹھ صاحب اور کلائنٹ کی میٹنگ ارینج کروانے کی کوششوں میں لگ جاتا ہے، پراپرپراپرٹی بچنے والا بھی مصروف اور خریدنے والا اس سے بھی زیادہ مصروف۔

آخر کار میٹنگ کا دن اور وقت متعین ہو جاتا ہے، سیٹھ صاحب اور کلائنٹ مقررہ جگہ پر پہنچ جاتے ہیں۔ معاملات طے پاتے ہیں۔

پراپرٹی خرید کتنے کی رہے ہیں؟
کروڑوں کی
پراپرٹی بیچ کتنے کی رہے ہیں؟
کروڑوں کی

اور جس ایجنٹ کے تھرو یہ ڈیل ڈن ہوئی جس نے محنت کوشش کر کے کلائنٹ تلاش کیا، ٹائم لیا، سارا کچھ مینج کیا، وہ بھی ان دونوں کے درمیان میں بیٹھا ہے اور دونوں کو یہ اچھا نہیں لگ رہا۔

اب ڈیلر کی خواہش ہے کہ اتنا کچھ کرنے کے بعد اب اس دو کروڑ بیس لاکھ والی ڈیل میں سے ساڑھے چار، پانچ لاکھ مجھے بھی ملنا چاہئیے لیکن، سیٹھ صاحبان

بتیسی باہر نکال کے، ہاہاہا، اتنا تے نئی ہوندا سائیں۔

اور وہ ڈیلر جس نے پورے اعتماد کے ساتھ اپنے بچوں کے لیے ساڑھے چار پانچ لاکھ کی حلال روزی کمانی تھی، اب اسے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے وہ اس پانچ لاکھ کی بھیک مانگ رہا ہے۔

قصہ مختصر، جب کروڑوں کی ڈیل ہو تو ڈیلر کو چند لاکھ روپے دیتے ہوئے چھوٹے دل کا مظاہرہ نہ کیا کریں، ان چند لاکھوں کے عوض ڈیلر جو کام کرتا ہے اگر وہ آپ کو خود کرنا پڑ جائے تو حضور، لگ پتا جائے۔

وراثت کی تقسیم کا مکمل اور جامع قانونی طریقہ کار:(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا ...
07/05/2024

وراثت کی تقسیم کا مکمل اور جامع قانونی طریقہ کار:

(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.

(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.

(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.

جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار:

(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.

(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی.

(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے

(1): شوہر کی جائیداد میں بیوی یا بیویوں کا حصہ:

(١): شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہونگی تو ان میں وہی حصہ تقسیم ہوجاۓ گا.

(٣): اگر شوہر کے اولاد ہے تو جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ بیوی کا ہے، چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر شوہر کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، بیوی کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر شوہر کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیوی کیلئے جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ ہے اور شوہر کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر کے اولاد نہیں ہے تو بیوی کا حصہ چوتھائی (1/4) ہو گا اور باقی جائیداد شوہر کے والدین کی ہوگی.

(٧): اگر کوئی بیوی شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاتی ہے تو اسکا حصہ نہیں نکلے گا.

(٨): اگر بیوہ نے شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے دوسری شادی کرلی تو اسکو حصہ نہیں ملے گا.

(٩): اور اگر بیوہ نے حصہ لینے کے بعد شادی کی تو اس سے حصہ واپس نہیں لیا جاۓ گا.

(2): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ:

(١): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ نصف (1/2) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر بیوی کے اولاد نہیں ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور نصف (1/2) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے.

(٣): اگر بیوی کے اولاد ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے، اور چھٹا (1/6) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر بیوی کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، شوہر کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد بیوی کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر بیوی کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور بیوی کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر، بیوی کے والدین کی طرف سے جائیداد ملنے سے پہلے فوت ہو جاۓ تو اس میں شوہر کا حصہ نہیں نکلے گا.

(٧): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے بچے ہیں تو بیوی کا اپنے والدین کی طرف سے حصہ نکلے گا اور اس میں شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا اور باقی بچوں کو ملے گا.

(٨): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے

(3): باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): باپ کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): باپ کی جائیداد میں پہلے باپ کے والدین یعنی دادا، دادی کا چھٹا (1/6) حصہ، اور باپ کی بیوہ یعنی ماں کا آٹھواں (1/8) حصہ نکالنے کے بعد جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں، دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، آٹھ واں (1/8) حصہ بیوہ ماں کا ہوگا اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کوملے گا.

(٤): اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے، آٹھواں (1/8) حصہ بیوہ ماں کیلئے ہے اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر باپ کے والدین یعنی دادا یا دادی جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اگر کوئی بھائی باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا اور اسکی بیوہ اور بچے ہیں تو بھائی کا حصہ مکمل طریقہ سے نکالا جاۓ گا.

(٧): اگر کوئی بہن باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاۓ اور اسکا شوہر اور بچے ہوں تو شوہر اور بچوں کو حصہ ملے گا. لیکن اگر بچے نہیں ہیں تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(4): ماں کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): ماں کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): جائیداد ماں کے والدین یعنی نانا نانی اور باپ کا حصہ نکالنے کے بعد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اور اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، باپ کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد ماں کے والدین کیلئے ہے.

(٤): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، باپ کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور ماں کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر ماں کے والدین تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اور اگر باپ بھی زندہ نہیں ہے تو باپ کا حصہ بھی نہیں نکالا جاۓ گا ماں کی پوری جائیداد اسکے بچوں میں تقسیم ہوگی.

(٧): اگر ماں کے پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہے تو وہ بچے بھی ماں کی جائیداد میں برابر کے حصہ دار ہونگے.

(5): بیٹے کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹے کے اولاد ہو تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹے کے اولاد نہیں ہے لیکن بیوہ ہے اور بیوہ نے شوہر کی جائیداد کے تقسیم ہونے تک شادی نہیں کی تو اس کو جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا اور باقی جائیداد بیٹے کے والدین کی ہوگی.

(٤): اگر بیٹے کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹا رنڈوا ہے اور اسکے کوئی اولاد بھی نہیں ہے تو اسکی جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور دو تہائی (2/3) حصہ باپ کا ہے اور اگر بیٹے کے بہن بھائی بھی ہوں تو اسکی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور باقی باپ کا ہے.

(6): بیٹی کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹی کے اولاد ہے تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹی کے اولاد نہیں ہے لیکن شوہر ہے تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملے گا اور نصف (1/2) جائیداد بیٹی کے والدین کی ہوگی.

(٤): اور اگر بیٹی کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے ایک چوتہائی (1/4) حصہ اور باقی والدین کا ہے.

(٥): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے چوتہائی (1/4) حصہ اور والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹی بیوہ ہو اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہوگا اور اگر بیٹی کے بہن بھائی ہیں تو ماں کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہوگا اور باقی باپ کو ملے گ

(7): کلالہ:

کلالہ سے مراد ایسے مرد اور عورت جنکی جائیداد کا کوئی وارث نہ ہو یعنی جنکی نہ تو اولاد ہو اور نہ ہی والدین ہوں اور نہ ہی شوہر یا بیوی ہو.

(١): اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہوں، اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں، اور اگر اسکا صرف ایک سوتیلہ بھائی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے، یا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر بہن، بھائی تعداد میں زیادہ ہوں تو وہ سب جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصہ میں شریک ہونگے.

(٣): اور باقی جائیداد قریبی رشتے داروں میں اگر دادا، دادی یا نانا، نانی زندہ ہوں یا چچا، تایا، پھوپھی، خالہ، ماموں میں یا انکی اولادوں میں جو ضرورت مند ہوں ان میں ایسے تقسیم کی جاۓ جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو.

(8): اگر کلالہ کے سگے بہن بھائی ہوں:

(١): اگر کلالہ مرد یا عورت ہلاک ہوجاۓ، اور اسکی ایک بہن ہو تو اسکی بہن کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلئے ہے.

(٢): اگر اسکی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلیے ہے.

(٣): اگر اسکا ایک بھائی ہو تو ساری جائیداد کا بھائی ہی وارث ہوگا.

(٤): اگر بھائی، بہن مرد اورعورتیں ہوں تو ساری جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی مرد کیلئے دوگنا حصہ اسکا جوکہ عورت کیلئے ہے.

الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اور ہر ترکہ کیلئے جو ماں باپ اور عزیز و اقارب چھوڑیں ہم نے وارث قرار دئیے ہیں اور جن سے تم نے عہد کر لئے ہیں ان کا حصہ ان کو دیدو بیشک الله ہر شے پر گواہ ہے. (4:33)

مردوں کیلئے اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں ایک حصہ ہے اور عورتوں کیلئے بھی اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں تھوڑا یا زیادہ مقرر کیا ہوا ایک حصہ ہے. (4:7)

اور جب رشتہ دار و یتیم اور مسکین تقسیم کے موقع پر حاضر ہوں تو انکو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے نرمی کے ساتھ کلام کرو. (4:8)

الله تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے اور اگر فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو ترکے کا دو تہائی (2/3) ان کا ہے اور اگر وہ ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے نصف (1/2) ہے اور والدین میں سے ہر ایک کیلئے اگر متوفی کی اولاد ہو تو ترکے کا چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کیلئے ترکہ کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور اگر متوفی کے بہن بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے بعد تعمیل وصیت جو وہ کر گیا ہو یا بعد اداۓ قرض کے تم نہیں جانتے کہ تمہارے آباء یا تمہارے بیٹوں میں سے نفع رسانی میں کون تم سے قریب تر ہے یہ الله کی طرف سے فریضہ ہے بیشک الله جاننے والا صاحب حکمت ہے. (4:11)

اور جو ترکہ تمہاری بے اولاد بیویاں چھوڑیں تمہارے لئے اس کا نصف (1/2) حصہ ہے اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے اس ترکہ کا جو وہ چھوڑیں چوتھائی (1/4) حصہ ہے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کی ادائیگی کے بعد اور اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو جو ترکہ تم چھوڑو ان عورتوں کیلئے اس کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور اگر تمہارے اولاد ہو تو ان عورتوں کا اس ترکہ میں آٹھواں (1/8) حصہ ہے جو تم چھوڑو بعد از تعمیل وصیت جو تم نے کی ہو یا قرض کی ادائیگی کے اور اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر وہ تعداد میں اس سے زیادہ ہوں تو بعد ایسی کی گئی وصیت کی تعمیل جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو یا ادائیگی قرض کے وہ سب ایک تہائی (1/3) میں شریک ہونگے یہ وصیت منجانب الله ہے اور الله جاننے والا بردبار ہے. (4

تجھ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دے کہ الله تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا آدمی ہلاک ہوجاۓ جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو پس اس کی بہن کیلئے اس کے ترکہ کا نصف (1/2) حصہ ہے. (اگر عورت ہلاک ہوجاۓ) اگر اس عورت کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کا وارث اس کا بھائی ہوگا اور اگر اس کی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے اس کے ترکہ کا دو تہائی (2/3) ہے اور اگر بھائی بہن مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کیلئے دوگنا حصہ اس کا جو کہ عورت کیلے ہے الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.
منقول
#قراةالعین زینب ایڈووکیٹ

07/05/2024
03/05/2024

کہیں سوال پوچھا گیا کہ پاکستانی اگر اتنے ذہین ہیں تو بلین ڈالر کمپنی کیوں نہیں بناسکے؟

میرا جواب:

پاکستانی کبھی بلین ڈالر کمپنی نہیں بنا سکتا اور اس کی صرف اور صرف ایک ہی وجہ ہے

"مائنڈ سیٹ"

پاکستانیوں کا مائنڈ سیٹ بچپن سے ہی مخصوص طریقے سے ٹرین کیا جاتا ہے۔ ہم ہر کام دنیا، دوستوں، رشتے داروں کو دکھانے کے لیے کرتے ہیں۔

لہذا،

ہم جب کمپنی بناتے ہیں اور وہ ملینز، کروڑ اور اس سے آگے ارب تک پہنچ جائے تو ہمارا "مقصد حیات" پورا ہوجاتا ہے

ہمیں لینڈ کروزرز، بے شمار پراپرٹیز، فارن ٹوورز، عمرے، خواتین کے لیے زیور، بچوں کے بہترین اسکولز یا فارن اسٹڈیز کا انتظام وغیرہ وہ سب کچھ مل جاتا ہے جو ہم ہمیشہ سے دنیا کو "دکھانا" چاہتے ہیں

اس مقام تک پہنچتے ہی ہماری موٹیویشن ختم ہوجاتی ہے۔ ہم "گروتھ" مائنڈ سیٹ" ترک کرکے، "مینٹین" مائنڈ سیٹ میں داخل ہوجاتے ہیں کہ بس اب اسے جیسے تیسے چلاتے رہنا ہے اور اچھی کمپنی بنا کر اپنے "بچوں" کے ہینڈ اوور کردینی ہے

That's all.....

بلین ڈالر کمپنی اس طرح نہیں بنتی

ایسی کمپنی بنانے کے لیے آپ کو ایک خاص ریوینیو لیول کی بجائے، مارکیٹ لیڈر بننے کو نصب العین بنانا ہوتا ہے۔ اپنے گھر، بچوں، رشتے داروں سب کو بھول کر بڑے مقصد کے لیے مسلسل push کرنا ہوتا ہے۔ کسٹمر ٹرسٹ کے لیے، اربوں کا نقصان بھی بخوشی برداشت کرنا ہوتا ہے۔

کچھ سالوں پہلے، جرمنی میں کسی شاپ سے خریدی گئی مارس چاکلیٹ سے پلاسٹک کا ٹکڑا نکل آیا۔ کمپنی نے دنیا بھر میں بھیجے گئے تمام اسٹاک کو واپس منگوا لیا

یعنی،

ملینز یا شاید بلین ڈالرز کا نقصان برداشت کرلیا لیکن کوالٹی پر سمجھوتا نہیں کیا کیونکہ وہ مارکیٹ لیڈر بنے رہنا چاہتے ہیں

ابھی حال ہی میں ٹیسلا ٹرک کے ایکسلیریٹر میں کچھ پرابلم رپورٹ ہوئی تو انھوں نے سارا فلیٹ واپس کال کرلیا

یہ ایک پاکستانی مائنڈ سیٹ رکھنے والا شخص کبھی نہیں کرے گا۔ اس کی سوچ اس قدر لانگ ٹرم سرے سے ہوتی ہی نہیں

اسے کمپنی نہیں بنانی ہوتی، بلکہ اپنے بچوں کے لیے ایک چلتا ہوا بزنس چھوڑنا ہوتا ہے

لہذا،

پاکستانی کبھی بلین ڈالر کمپنی یا برانڈ نہیں بناسکتے

کم سے کم اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ تو ہرگز نہیں!!!!

‏زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصطلاحات کیا ہیں؟ جانیے اس تحریر میں۔1- موضع :یہ ایک بڑا یونٹ ہوتا...
22/04/2024

‏زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصطلاحات کیا ہیں؟ جانیے اس تحریر میں۔

1- موضع :
یہ ایک بڑا یونٹ ہوتا ہے جو عموماَ ایک بڑے گاؤں یا ایک سے زیادہ چھوٹے گاؤں کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ موضع کا نام اس گاؤں یا ایریا کے نام پر ہی درج ہوتا ہے ۔
2- کھیوٹ نمبر:
جب موضع بن جاتا ہے تو اس میں بہت سارے لوگوں اور خاندانوں کی زمین شامل ہوتی ہے اس کی تقسیم مزید آسان بنانے کے لیے کھیوٹ نمبر دے دیے جاتے ہیں، مثلا یہ ایک سو ایکڑ ایک خاندان کے پاس ہے اسے ایک نمبر دے دیا کہ فلاں موضع کا یہ کھیوٹ نمبر ہے جو فلاں خاندان کے ان ان حصہ داروں کے پاس ہے۔ یا مختلف خاندانوں یا لوگوں کی زمین کو ملا کر بھی ایک کھیوٹ بنایا جاتا ہے۔ اس کا نمبر تبدیل ہو سکتا ہے جب کوئی زمین فروخت کرتا ہے یا ایسی کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو آپ کے کھیوٹ کا نمبر بدل جاتا ہے۔
3- کھتونی نمبر:
موضع بھی بن گیا، اس میں کھیوٹ نمبر بھی لگ گئے اب کھیوٹ میں بہت سارے مالکان ہیں کسی کے پاس پانچ ایکڑ ہے کسی کے پاس دس اور کسی کے پاس دو ایکڑ تو ان کو کیسے پہچانے گے کہ اس کھیوٹ میں کونسے بندے کی کتنی زمین ہے تو اس کے لیے ہر حصہ دار کو ایک کھتونی نمبر لگا دیا جاتا ہے۔ مثلا کھیوٹ نمبر 1 میں دس ایکڑ زمین ہے اور دو مالک ہیں پانچ پانچ ایکڑ کے تو ان دونوں کو الگ الگ نمبر دے دیا جائے گا پانچ پانچ ایکڑ کا جسے کھتونی نمبر کہتے ہیں۔ یہ نمبر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے جب کوئی اپنے حصے سے فروخت کر دے کسی کو یا ایسی کوئی دوسری تبدیلی ہو۔
4- خسرہ نمبر:
اب ایک کھتونی میں جو پانچ ایکڑ تھے (جو ہم نے مثال میں لیے پانچ ایکڑ، حقیقت میں ان کی تعداد جو بھی ہو گی) ہر ایکڑ کو ایک خاص نمبر دیا جاتا ہے جو خسرہ نمبر کہلا تا ہے۔ یہ نمبر کبھی تبدیل نہیں ہوتا چاہے کوئی فروخت کرے مگر کھیت کا خسرہ نمبر ایک ہی رہے گا۔ اور اس میں کھیت کی چاروں طرف سے پیمائش بھی لکھی ہوتی ہے کہ اس خسرہ نمبر کا جو کھیت ہے اس کی لمبائی چوڑائی وغیرہ کیا ہے۔
5- مساوی: (شجرہ)
یہ موضع کا نقشہ ہوتا ہے، کہاں کس کا کھیت ہے کہاں راستہ ہے کہاں کیا ہے سب اس میں ہوتا ہے۔ پٹواری کے پاس یہ نقشہ ایک کپڑے پر بنا ہوتا ہے جسے لٹھا بھی کہا جاتا ہے۔
6- جمعبندی:
اس میں ایک موضع کے کسی کھیوٹ کی کسی کھتونی کے کس خسرہ میں کتنے مالک ہیں سب کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی درج ہوتا ہے کہ مالک کون ہے اور زمین کاشت کون کر رہا ہے ٹھیکہ پر یا کیسے۔ زمین کی فرد بھی اسی رجسٹر کی تفصیل کی بنیاد پر جاری ہوتی ہے۔
7- گردوری:
آپ جس رقبہ کے مالک ہیں یا مزارع ہیں اس رقبہ میں کیا کاشت ہوتا ہے یا کیا کاشت کیا ہوا ہے اس کی تفصیل بھی پٹواری درج کرتا ہے اسے گردوری کہتے ہیں۔
اہم نوٹ: زمین خریدتے وقت ہمیشہ خسرہ نمبر کی فرد کی بنیاد پر زمین خریدیں۔ مثلا فرض کریں ایک بندہ دو ایکڑ کا مالک ہے اس کا کھیوٹ نمبر 1 اور اس کے دو ایکڑ کھیوٹ نمبر 1 کی الگ الگ کھتونی نمبر 5 خسرہ نمبر 50 اوردوسرا ایکڑ کھتونی نمبر 10 میں خسرہ نمبر 100 ہیں۔ آپ اس سے ایک ایکڑ خریدنا چاہتے ہیں اور وہ آپ جو پسند کرتے ہیں اس کا خسرہ نمبر 50 ہے مگر اسے فرد اس 50 نمبر خسرہ کی نہیں بلکہ پوری رقبے کی کھیوٹ سے ملتی ہے جس میں وہ آپ کے نام ایک ایکڑ کروا دیتا ہے تو اب قانوناَ آپ اس کے دونوں ایک میں خسرہ نمبر 50 اور خسرہ نمبر 100 میں آدھے آدھے ایکڑ کے مالک بن جائیں گے اور اگر خسرہ نمبر 50فرد ہی آپ کو دے گا تو اس کی بنیاد پر وہی ایکڑ پورا آپ کے نام لگے گا۔ بیشک وہ آپ کو آپ کا پسند کیا ہوا خسرہ نمبر 50 ہی کاشت کے لیے دے رہا ہو مگر مستقبل میں آپ کے بچوں میں جھگڑا ہو سکتا ہے کہ آپ کے یا اس کے بچے کہیں آپ کا آدھا ایکڑ یہاں بول رہا ہے یہاں جاؤ ہمارا وہاں ہے ہم وہاں جائیں گے وغیرہ۔ یہ تو دو ایکڑ کی مثال تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی زیادہ ایکڑ کے مالک سے زمین خرید لیں تو بعد میں وہ کہتا ہے کہ میں نے یہ ایکڑ نہیں بلکہ کوئی دوسرا دیا تھا لہذا اسے کاشت کرو جا کر وہ چاہے بنجر ہو۔ اس لیے زمین لینے سے پہلے تسلی کر لیا کریں۔







20/04/2024

السلام علیکم۔۔!
راولپنڈی اسلام آباد میں ائیرپورٹ کے قریب رہائشی پلاٹ میں انویسٹمنٹ کرنے کے لیے رابطہ کریں۔۔
قسطوں پر پلاٹ آج کی انویسٹمنٹ، مستقبل کا محفوظ سرمایہ۔۔
👇 *رابطہ* 👇
*گولڈ مارک پراپرٹی سروسز*
آفس:- جی 15 اسلام آباد ۔۔
مزید معلومات کے لئے وٹس ایپ لنک پر کلک کریں 👇
https://wa.me/923007024030
یا کال یا میسج پر رابطہ کریں 👇
*0300-7024030*

*♡ㅤ ❍ ⎙ㅤ ⌲*
*ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*

تمام مسلمان بھائیوں کو دلی عید مبارک ۔۔
10/04/2024

تمام مسلمان بھائیوں کو دلی عید مبارک ۔۔

الحمداللہ لیک شور سٹی نے پاکستان رئیل اسٹیٹ کی دنیا میں صرف 3 ماہ کی قلیل مدت میں اپنا فائنل NOC حاصل کر لیا … سید  سادا...
22/03/2024

الحمداللہ
لیک شور سٹی نے پاکستان رئیل اسٹیٹ کی دنیا میں صرف 3 ماہ کی قلیل مدت میں اپنا فائنل NOC حاصل کر لیا … سید سادات شاہ صاحب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں

Address

Office No 240, Main Double Doad 1, G15/2
Islamabad
44150

Telephone

+923007024030

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GoldMark Property Services-GPS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to GoldMark Property Services-GPS:

Share

Category