15/07/2026
⚖️ PLJ 2026 Lahore 294
باپ کی غیر موجودگی میں دادا کی ذمہ داری — لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
📌 اہم قانونی نکات:
✅ اگر باپ زندہ ہونے کے باوجود بیرونِ ملک چلا جائے یا جان بوجھ کر اپنے نابالغ بچوں کے اخراجات برداشت نہ کرے، تو بچوں کو بے سہارا نہیں چھوڑا جا سکتا۔
✅ اگر دادا مالی طور پر مستحکم اور صاحبِ حیثیت ہو تو وہ صرف اس بنیاد پر ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتا کہ باپ زندہ ہے مگر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہا۔
✅ قانون کا بنیادی مقصد نابالغ بچوں کے مفاد اور فلاح کا تحفظ ہے، اس لیے باپ کی دانستہ غفلت بچوں کے حقِ نان و نفقہ کو متاثر نہیں کر سکتی۔
✅ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے حالات میں مالی استطاعت رکھنے والا بزرگ (دادا) بچوں کی کفالت سے فرار اختیار نہیں کر سکتا۔
✅ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے مقدمات میں دیا گیا نان و نفقہ اگر ماہانہ 5,000 روپے یا اس سے کم ہو تو ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ، 1964 کی دفعہ 14(2)(c) کے تحت اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔
✅ مزید یہ کہ دفعہ 14(3) کے مطابق فیملی کورٹ کے عبوری (Interim) حکم کے خلاف بھی اپیل کا حق موجود نہیں۔
✅ عدالت نے قرار دیا کہ مقننہ (Legislature) کا واضح مقصد خواتین اور نابالغ بچوں کو طویل عدالتی کارروائی سے بچانا اور ان کے معمولی نان و نفقہ کے دعووں کا جلد اور حتمی فیصلہ یقینی بنانا ہے۔
✅ ایسے معاملات جن میں قانون نے اپیل کا حق جان بوجھ کر ختم کر دیا ہو، وہاں آئینی درخواست (Constitutional Petition) دائر کر کے بالواسطہ طور پر فیصلے کو چیلنج کرنا قانون ساز کی منشا کے خلاف ہے۔
✅ عدالت نے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسی آئینی درخواستیں عدالتی نظام میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا کرتی ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی۔
✅ عدالت نے مزید واضح کیا کہ آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے ہائی کورٹ خصوصی قوانین کے تحت دیے گئے فیصلوں میں مداخلت سے گریز کرتی ہے، الا یہ کہ:
• دائرہ اختیار (Jurisdiction) میں نقص ہو؛
• واضح غیر قانونی عمل (Patent Illegality) ثابت ہو؛
• سنگین بے ضابطگی (Material Irregularity) موجود ہو؛ یا
• فیصلہ صریح طور پر خلافِ قانون و انصاف (Manifest Perversity) ہو۔
⚖️ Case: W.P. No. 1132 of 2026
Nazir Ahmad Vs. Judge, Family Court
AARCO ASSOCIATES LAW FIRM
Contact: 0314-9750833
AAR Co Associates Law Firm