AAR Co Associates Law Firm

AAR Co Associates Law Firm Three women. One vision. Endless dedication to justice. A.A.R & Co Associates Law Firm

اشتہاری ملزم کی جائیداد ضبطی: مشترکہ ملکیت سے متعلق اہم قانونی اصولPLD 2026 Lahore 501لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر...
17/07/2026

اشتہاری ملزم کی جائیداد ضبطی: مشترکہ ملکیت سے متعلق اہم قانونی اصول

PLD 2026 Lahore 501

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کسی اشتہاری ملزم کی جائیداد مشترکہ (Joint Property) ہو تو شریک مالکان کے حصص کی حد بندی (Demarcation) اور علیحدگی کے بغیر پوری جائیداد کی ضبطی یا نیلامی کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 88 ضابطہ فوجداری کا بنیادی مقصد صرف اشتہاری ملزم کی عدالت میں حاضری کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ بے گناہ شریک مالکان کو نقصان پہنچانا یا ان کے قانونی حقوق سلب کرنا۔

فیصلے کے مطابق، مشترکہ جائیداد میں موجود دیگر شریک مالکان کے حقوق قانون کے تحت مکمل طور پر محفوظ ہیں، لہٰذا اشتہاری ملزم کی عدم حاضری کی بنیاد پر پوری مشترکہ جائیداد کو نیلام نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کے حصے کی باقاعدہ حد بندی اور علیحدگی نہ کر لی جائے۔

حوالہ: PLD 2026 Lahore 501

صرف FIR درج ہونا نوکری سے مستقل نااہلی نہیں بنتا — سپریم کورٹ⚖️ Inspector General of Police, Punjab v. Province of Punja...
16/07/2026

صرف FIR درج ہونا نوکری سے مستقل نااہلی نہیں بنتا — سپریم کورٹ

⚖️ Inspector General of Police, Punjab v. Province of Punjab
C.P.L.A. No. 51-L of 2018 etc.
فیصلہ مورخہ: 16-03-2026

اہم قانونی نکات:

✅ صرف FIR کا اندراج ایک الزام ہوتا ہے، جرم ثابت ہونا نہیں۔

✅ FIR کا اندراج نہ تو قصور ثابت کرتا ہے اور نہ ہی عدالت کی جانب سے جرم کا حتمی تعین ہوتا ہے۔

✅ پولیس سمیت دیگر سرکاری ادارے بھرتی کے وقت امیدوار کے کردار، دیانت داری اور سابقہ ریکارڈ کا جائزہ لینے کا اختیار رکھتے ہیں۔

✅ تاہم صرف FIR کی بنیاد پر کسی امیدوار کو ہمیشہ کے لیے نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا، خصوصاً جب بعد میں وہ بری یا بے گناہ قرار دیا جا چکا ہو۔

✅ انتظامی اختیارات قانون، انصاف اور آئینی تقاضوں کے مطابق استعمال کیے جائیں گے، نہ کہ محض ایک میکانکی اصول کے تحت۔

✅ ہر امیدوار کے معاملے کا فیصلہ اس کے حقائق، عدالتی نتائج اور مجموعی حالات کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

✅ سرکاری ملازمت سے متعلق ہر انتظامی فیصلہ آئین کے مطابق برابری، انصاف اور شفافیت کے اصولوں پر مبنی ہونا ضروری ہے۔

AARCOASSOCIATESLAWFIRM
Contact at 0314-9750833

⚖️ PLJ 2026 Lahore 294باپ کی غیر موجودگی میں دادا کی ذمہ داری — لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ📌 اہم قانونی نکات:✅ اگر باپ ...
15/07/2026

⚖️ PLJ 2026 Lahore 294

باپ کی غیر موجودگی میں دادا کی ذمہ داری — لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

📌 اہم قانونی نکات:

✅ اگر باپ زندہ ہونے کے باوجود بیرونِ ملک چلا جائے یا جان بوجھ کر اپنے نابالغ بچوں کے اخراجات برداشت نہ کرے، تو بچوں کو بے سہارا نہیں چھوڑا جا سکتا۔

✅ اگر دادا مالی طور پر مستحکم اور صاحبِ حیثیت ہو تو وہ صرف اس بنیاد پر ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتا کہ باپ زندہ ہے مگر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہا۔

✅ قانون کا بنیادی مقصد نابالغ بچوں کے مفاد اور فلاح کا تحفظ ہے، اس لیے باپ کی دانستہ غفلت بچوں کے حقِ نان و نفقہ کو متاثر نہیں کر سکتی۔

✅ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے حالات میں مالی استطاعت رکھنے والا بزرگ (دادا) بچوں کی کفالت سے فرار اختیار نہیں کر سکتا۔

✅ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے مقدمات میں دیا گیا نان و نفقہ اگر ماہانہ 5,000 روپے یا اس سے کم ہو تو ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ، 1964 کی دفعہ 14(2)(c) کے تحت اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔

✅ مزید یہ کہ دفعہ 14(3) کے مطابق فیملی کورٹ کے عبوری (Interim) حکم کے خلاف بھی اپیل کا حق موجود نہیں۔

✅ عدالت نے قرار دیا کہ مقننہ (Legislature) کا واضح مقصد خواتین اور نابالغ بچوں کو طویل عدالتی کارروائی سے بچانا اور ان کے معمولی نان و نفقہ کے دعووں کا جلد اور حتمی فیصلہ یقینی بنانا ہے۔

✅ ایسے معاملات جن میں قانون نے اپیل کا حق جان بوجھ کر ختم کر دیا ہو، وہاں آئینی درخواست (Constitutional Petition) دائر کر کے بالواسطہ طور پر فیصلے کو چیلنج کرنا قانون ساز کی منشا کے خلاف ہے۔

✅ عدالت نے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسی آئینی درخواستیں عدالتی نظام میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا کرتی ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی۔

✅ عدالت نے مزید واضح کیا کہ آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے ہائی کورٹ خصوصی قوانین کے تحت دیے گئے فیصلوں میں مداخلت سے گریز کرتی ہے، الا یہ کہ:
• دائرہ اختیار (Jurisdiction) میں نقص ہو؛
• واضح غیر قانونی عمل (Patent Illegality) ثابت ہو؛
• سنگین بے ضابطگی (Material Irregularity) موجود ہو؛ یا
• فیصلہ صریح طور پر خلافِ قانون و انصاف (Manifest Perversity) ہو۔

⚖️ Case: W.P. No. 1132 of 2026
Nazir Ahmad Vs. Judge, Family Court

AARCO ASSOCIATES LAW FIRM
Contact: 0314-9750833
AAR Co Associates Law Firm

⚖️ کیا شریک ملزم کی ضمانت منظور ہونے کے بعد، یکساں کردار رکھنے والا دوسرا ملزم بھی ضمانت کا قانونی حق رکھتا ہے؟📚 2026 ML...
15/07/2026

⚖️ کیا شریک ملزم کی ضمانت منظور ہونے کے بعد، یکساں کردار رکھنے والا دوسرا ملزم بھی ضمانت کا قانونی حق رکھتا ہے؟

📚 2026 MLD 982 | گلگت بلتستان چیف کورٹ

جی ہاں۔ اگر مقدمے میں شریک ملزم کو ضمانت مل چکی ہو اور دوسرے ملزم کا کردار، الزامات اور قانونی حیثیت اس سے مختلف نہ ہوں، تو "قاعدۂ تسلسل (Rule of Consistency)" کے تحت دوسرے ملزم کو بھی ضمانت دی جا سکتی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ:
✅ اگر جرم دفعہ 497(1) ضابطہ فوجداری کی ممنوعہ شق (Prohibitory Clause) میں شامل نہ ہو تو ضمانت دینا اصول (Rule) اور انکار استثنا (Exception) ہے۔
✅ جب تفتیش مکمل ہو جائے، چالان پیش ہو چکا ہو اور ملزم مزید تفتیش کے لیے مطلوب نہ ہو، تو اسے غیر ضروری طور پر جیل میں رکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
✅ اگر شریک ملزم پہلے ہی ضمانت پر رہا ہو اور موجودہ ملزم کا کردار بھی تقریباً وہی ہو، تو قاعدۂ تسلسل کا اطلاق ہوگا اور وہ بھی ضمانت کا مستحق ہوگا۔

⚖️ قانونی اصول (Ratio Decidendi):
اگر شریک ملزم کو ضمانت مل چکی ہو اور موجودہ ملزم کا کردار اس سے مختلف نہ ہو، تو عدالت مساوات اور قاعدۂ تسلسل کے اصول کے تحت اسے بھی ضمانت دینے کی پابند ہوگی، خصوصاً جب مقدمہ غیر ممنوعہ شق کے دائرے میں آتا ہو اور تفتیش مکمل ہو چکی ہو۔

👩‍⚖️ وکلاء کے لیے اہم نکتہ:
اگر آپ کے مؤکل کے شریک ملزم کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے اور دونوں کا کردار یکساں ہے، تو اس فیصلے کو بطور مضبوط نظیر پیش کرتے ہوئے Rule of Consistency اور "Bail is a Rule, Refusal is an Exception" کے اصول پر مؤثر دلائل دیے جا سکتے ہیں۔

📖 2026 MLD 982 (Gilgit-Baltistan Chief Court)
Muhammad Iqbal v. The State through FIA Circle Skardu
AAR Co Associates Law Firm

رجسٹری سے پہلے یہ اہم تبدیلی ضرور جان لیں، ورنہ بعد میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے!پنجاب میں لینڈ ریکارڈ کے نظام می...
14/07/2026

رجسٹری سے پہلے یہ اہم تبدیلی ضرور جان لیں، ورنہ بعد میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے!

پنجاب میں لینڈ ریکارڈ کے نظام میں بڑی اصلاحات؛ بورڈ آف ریونیو پنجاب کی اہم ہدایات

بورڈ آف ریونیو پنجاب نے 13 جولائی 2026 کو ایک اہم نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کا مقصد زمین کی خرید و فروخت، انتقال، رجسٹری اور دیگر لین دین کے لیے نقلِ اراضی (Naqal Arazi Record) کے اجرا اور استعمال کا یکساں طریقہ کار نافذ کرنا ہے۔

1. کمپیوٹرائزڈ مواضعات

جن علاقوں کا لینڈ ریکارڈ پہلے ہی کمپیوٹرائزڈ ہو چکا ہے، وہاں صرف Naqal Arazi Record ہی جاری کی جائے گی۔ یہی نقل خرید و فروخت، انتقال، رجسٹری اور دیگر تمام لینڈ ٹرانزیکشنز کے لیے قابلِ قبول ہوگی، اور اس کا اجرا پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) کے مقررہ طریقہ کار کے مطابق کیا جائے گا۔

2. غیر کمپیوٹرائزڈ (Manual) مواضعات

جہاں لینڈ ریکارڈ ابھی تک کمپیوٹرائزڈ نہیں ہوا، وہاں Copy of Revenue Record / Naqal Arazi Record روایتی ریونیو ریکارڈ سے جاری کی جائے گی، جو پنجاب لینڈ ریونیو رولز، 1968 کے مطابق ہوگی۔

3. آن لائن تصدیق (Digital Verification)

پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایسا ڈیجیٹل ویریفیکیشن سسٹم متعارف کرایا جائے جس کے ذریعے جاری کردہ نقول کی آن لائن تصدیق ممکن ہو۔ اس نظام کو E-Registration سے بھی منسلک کیا جائے گا تاکہ رجسٹری کے دوران جعلی یا غیر مصدقہ نقول کے استعمال کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔

4. تین ماہ میں مکمل ڈیجیٹلائزیشن

بورڈ آف ریونیو نے تمام دستی (Manual) مواضعات کا لینڈ ریکارڈ تین ماہ کے اندر ڈیجیٹلائز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، تاکہ پورے پنجاب میں زمین کے ریکارڈ اور رجسٹری کا ایک مربوط، شفاف اور یکساں نظام نافذ کیا جا سکے۔
AAR Co Associates Law Firm

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق مورخہ *18.10.2024* سے پہلے وفات پا جانے والے وفاقی سرکاری ملازمین...
12/07/2026

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق مورخہ *18.10.2024* سے پہلے وفات پا جانے والے وفاقی سرکاری ملازمین کے *ایک بیٹے/ بیٹی کو ملازمت دینے کی ہدایت کردی

**لاہور ہائی کورٹ کا منفرد اور تاریخی فیصلہ****رقم کی قدر برقرار رکھنے کے لیے سونے یا امریکی ڈالر کے حساب سے وصولی کا حق...
11/07/2026

**لاہور ہائی کورٹ کا منفرد اور تاریخی فیصلہ**

**رقم کی قدر برقرار رکھنے کے لیے سونے یا امریکی ڈالر کے حساب سے وصولی کا حق**

لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا کہ اگر کسی مقدمے میں طویل عرصہ گزر جانے کی وجہ سے روپے کی قدر کم ہو جائے تو عدالت انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے متاثرہ فریق کو اصل مالی نقصان سے بچانے کے لیے مناسب ریلیف دے سکتی ہے۔

**اہم نکات:**

⚖️ شوہر نے صلح نامے کے تحت بیوی کے لیے 3 ماہ میں گھر تعمیر کرنے اور دیگر شرائط پوری کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

⚖️ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں 25 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

⚖️ شوہر یہ ثابت نہ کر سکا کہ معاہدہ اس سے ناجائز دباؤ (Undue Influence) کے تحت کروایا گیا تھا۔

⚖️ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ خاندانی تصفیہ (Family Settlement) ایک مؤثر اور قابلِ نفاذ معاہدہ ہے، اور صرف یہ دلیل کہ بیوی مجلس میں موجود نہیں تھی، معاہدے کو غیر مؤثر نہیں بناتی۔

⚖️ عدالت نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کرتے ہوئے بیوی کے حق میں ڈگری برقرار رکھی۔

# # # **تاریخی قانونی نکتہ**

چونکہ معاہدہ 2010 کا تھا اور کئی سال گزرنے سے روپے کی قدر میں نمایاں کمی آ چکی تھی، اس لیے عدالت نے بیوی کو اختیار دیا کہ وہ اپنی رقم کی وصولی:

✅ ادائیگی کے وقت امریکی ڈالر کے ایکسچینج ریٹ کے مطابق کرے، **یا**

✅ ادائیگی کے وقت سونے کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق وصول کرے،

تاکہ رقم کی اصل قوتِ خرید (Purchasing Power) برقرار رہے اور انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔

**کیس:** *Sanam Shahzadi v. Muhammad Anwar*
**Civil Revision No. 24335 of 2017**
**فیصلہ:** Mr. Justice Raheel Kamran (Lahore High Court)

**نوٹ:** یہ فیصلہ اس اصول کو اجاگر کرتا ہے کہ عدالتیں بدلتے معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا ریلیف فراہم کر سکتی ہیں جس سے متاثرہ فریق کو حقیقی انصاف مل سکے۔

02/07/2026

⚖️ *حقِ رازداری اور خفیہ ریکارڈنگ پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ**(PLJ 2026 SC (Cr.C.) 175)*📌 سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ خفیہ...
30/06/2026

⚖️ *حقِ رازداری اور خفیہ ریکارڈنگ پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ*
*(PLJ 2026 SC (Cr.C.) 175)*

📌 سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ خفیہ آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگ ہر صورت میں قابلِ قبول شہادت نہیں۔

✅ اگر گفتگو میں شامل شخص خود ریکارڈنگ کرے، تو یہ عموماً غیر قانونی نہیں ہوگی۔

❌ کسی تیسرے فریق کی طرف سے نجی گفتگو کی خفیہ ریکارڈنگ غیر قانونی جاسوسی تصور ہوگی۔

⚖️ ریکارڈنگ بطور شہادت تبھی قابلِ قبول ہوگی جب:
• قانونی طریقے سے حاصل کی گئی ہو
• مقدمے سے براہِ راست متعلق ہو
• حقِ رازداری کی خلاف ورزی نہ ہو

🚫 بلیک میلنگ، دباؤ ڈالنے یا ناجائز مقصد کے لیے ایسی ریکارڈنگ کا استعمال *PECA 2016* کے تحت جرم ہے۔

📹 سرکاری CCTV یا قانونی نگرانی، اگر فرانزک تصدیق کے ساتھ ہو، عدالت میں بطور شہادت قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔

🔒 عدالت نے زور دیا کہ شہریوں کی نجی زندگی اور رازداری کا تحفظ آئینی اور اسلامی دونوں لحاظ سے بنیادی حق ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے موجودہ فارمیٹ میں اصلاح کی جائے تاکہ ...
30/06/2026

لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے موجودہ فارمیٹ میں اصلاح کی جائے تاکہ بری یا رہا ہو جانے والے افراد کو ماضی کے مقدمات کی بنیاد پر مستقل طور پر مجرم ظاہر نہ کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ سزا یافتہ اور بری ہونے والے افراد کے لیے الگ الگ کریکٹر سرٹیفکیٹس ہونے چاہئیں۔

یہ فیصلہ شہریوں کے بنیادی حقوق، عزتِ نفس اور منصفانہ قانونی تحفظ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے، کیونکہ ماضی میں بے گناہ قرار دیے جانے کے باوجود بہت سے افراد کو ملازمت، ویزا، امیگریشن اور دیگر قانونی معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بریت کے بعد کسی شہری کو غیر ضروری طور پر ماضی کے مقدمات کے بوجھ تلے نہ رکھا جائے۔

Address

G11/3
Islamabad
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AAR Co Associates Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share