Beacon Law Associates

Beacon Law Associates Legal Practitioners and Consultants.

We deal in Criminal, Civil, Family, FST, Narcotics, Cyber Crimes, FIA, Harassment at work place, Tax, SECP, Immigration, Juvenile and Corporate Legal matters with professional attitude and skills.

محض کسی شخص کے پاس چیک کا ہونا یا چیک کا اجرا ہونا، بذاتِ خود تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 489-F کے اطلاق کے لیے کافی نہیں۔ ...
23/06/2026

محض کسی شخص کے پاس چیک کا ہونا یا چیک کا اجرا ہونا، بذاتِ خود تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 489-F کے اطلاق کے لیے کافی نہیں۔ اس کے لیے یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ چیک کسی واجب الادا رقم، مالی ذمہ داری (Obligation) یا قرض کی ادائیگی کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ بصورتِ دیگر، معاملہ دفعہ 489-F کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے، سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-Arrest Bail) کنفرم کر دئ -
2024 SCMR 1567

16/06/2026

فقہ جعفریہ اور فقہ حنفیہ میں مرحوم کی جائیداد کی تقسیم کے
بارے میں ہائی کورٹ کا فیصلہ

پھالیہ، منڈی بہاؤالدین کا علی محمد فوت ہوا تو اسکے ورثاء میں
صرف بیٹیاں تھیں، بیٹا نہ تھا۔ بیٹیوں نے اپنے باپ کو شیعہ/ فقہ جعفریہ کا پیروکار ظاہر کیا اور 30 جنوری کو ساری جائیداد اپنے نام انتقال کروا لی۔ لیکن یہ انتقال 6 فروری کو ریونیو افسر نے اس وجہ سے منسوخ کر دیا کہ بیٹیاں شجرۂ نسب ثابت کرنے میں ناکام رہی تھیں۔

اس کے بعد بیٹیوں نے 26 فروری کو اپنے والد کا ایک ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوایا جس میں واضح طور پر اپنے والد کا مسلک "فقہ جعفریہ" لکھوایا۔ اس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر 29 مئی کو فقہ جعفریہ کے مطابق وراثتی انتقال بیٹیوں کے نام ہو گیا، اگرچہ اس موقع پر کچھ افراد نے تصدیق کی کہ مرحوم شیعہ تھے، جبکہ چار افراد نے گواہی دی کہ مرحوم سنی تھے، مگر افسرِ مال نے شیعہ مسلک کو تسلیم کر لیا۔

(واضح رہے کہ اگر متوفی کی صرف بیٹیاں ہوں اور کوئی بیٹا نہ ہو تو فقہ حنفی کے مطابق دو تہائی وراثت بیٹیوں کو اور باقی قریبی رشتہ داروں کو ملتی ہے، جبکہ فقہ جعفریہ کے مطابق ایسی صورت میں تمام جائیداد صرف بیٹیوں کو ہی ملتی ہے۔ رض)

علی محمد کا ایک قریبی رشتہ دار (کزن) خوشی محمد تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ علی محمد سنی / فقہ حنفی کا پیروکار تھا، لہٰذا اسکی وراثت میں سے مجھے بھی میرا حصہ دیا جائے۔ خوشی محمد نے سول کورٹ میں اپنا وراثتی حصہ لینے کیلئے مقدمہ دائر کر دیا۔

خوشی محمد کی طرف سے عدالت میں محلے کے امام مسجد بطور گواہ پیش ہوئے، جنہوں نے گواہی دی کہ مرحوم علی محمد کا جنازہ انہوں نے پڑھایا تھا اور وہ سنی حنفی تھا۔ گاؤں کے یونین ناظم حامد علی، جو خود شیعہ تھے، انہوں نے گواہی دی کہ علی محمد سنی تھا۔ اسی طرح علی محمد کے ایک بھانجے شیر محمد نے بھی اس کے سنی ہونے کی گواہی دی۔

دوسری طرف متوفی علی محمد کی بیٹی 'صاحب بی بی' بطور گواہ پیش ہوئی اور کہا کہ اس کے والد شیعہ تھے۔ جب اس پر جرح ہوئی تو اس نے اقرار کیا کہ اس کے والد فصلوں کی پیداوار میں سے دس فیصد (عشر) غریبوں کو دیتے تھے۔ وہ شیعہ اور سنی اذان میں فرق نہ بتا سکی۔ باغِ فدک بارے سوال ہوا تو اس کے بارے میں بھی نہ بتا سکی۔ مزید اقرار کیا کہ اس کا نکاح منظور احمد نامی سنی مولوی نے پڑھایا تھا۔ کہا کہ والد کا جنازہ نقوی صاحب نے پڑھایا تھا۔ بیٹیوں کے ایک گواہ نے کہا کہ جنازہ مولوی منظور نے پڑھایا اور ایک کے مطابق سید اعجاز نے پڑھایا۔

سول (ٹرائل) کورٹ نے ان شہادتوں کو سامنے رکھتے ہوئے قرار دیا کہ مرحوم سنی المسلک تھا، بیٹیاں باپ کی تمام جائیداد خود لینے کے لیے اسے شیعہ ثابت کرنا چاہ رہی ہیں۔ عدالت نے خوشی محمد کا دعویٰ اس کے حق میں ڈگری کر دیا۔

علی محمد کی بیٹیوں نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کی جو خارج ہوگئی۔ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، جہاں جسٹس احمد ندیم ارشد نے جنوری 2025ء میں سماعت کی اور فیصلہ تحریر کیا۔

ہائیکورٹ نے لکھا کہ سپریم کورٹ "پٹھانا بنام وسائی" کیس (پی ایل ڈی 1965 ایس سی 134) میں یہ قرار دے چکی ہے کہ "برصغیر میں ہر مسلمان کو سنی مسلک کا سمجھا جاتا ہے جب تک کہ اس کے برعکس کوئی ٹھوس ثبوت نہ دیا جائے"۔ یوں مرحوم کو شیعہ ثابت کرنے کی ذمہ داری بیٹیوں کی تھی، جس میں وہ بری طرح ناکام رہیں۔ جبکہ مدعی نے امام مسجد، گاؤں ناظم اور دیگر گواہوں و دستاویزی شہادتوں سے ثابت کیا کہ علی محمد سنی المسلک تھا۔

علی محمد کی بیٹی صاحب بی بی نے دعویٰ کیا کہ وہ 30، 32 برسوں سے مجالس میں شرکت کرتی اور اپنے گھر میں مجلس بھی کراتی ہے۔ پھر بھی وہ قضیہ باغِ فدک سے قطعی ناواقف تھی۔ باغِ فدک وہ اہم تاریخی واقعہ ہے جو حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا اور خلافت کے درمیان باغِ فدک کی ملکیت سے متعلق ہے۔ یہ شیعہ اسلام کا ایک مرکزی موضوع ہے جو ہر مجلس میں بیان ہوتا ہے۔ جو شخص 30 سال سے مجالس میں شامل ہو، اس کا اس موضوع سے قطعی بے خبر ہونا غیر منطقی اور ناقابلِ یقین ہے۔

صاحب بی بی نے تسلیم کیا کہ والد فصل کا دسواں حصہ (عشر) دیتے تھے، جو کہ سنی مسلک کا طریقۂ کار ہے، جبکہ شیعہ مسلک میں عشر نہیں بلکہ سالانہ بچت کا پانچواں حصہ بطور "خمس" سادات کو ادا کیا جاتا ہے۔ صاحب بی بی نے اعتراف کیا کہ اسکا اور اسکے بیٹے کا نکاح سنی مولوی نے پڑھایا۔ بیٹیوں کے گواہان اس بات پر متفق نہ ہو سکے کہ جنازہ کس نے پڑھایا۔ جبکہ مدعی نے خود جنازہ پڑھانے والے امام کو پیش کیا اور اسے جرح میں نہیں توڑا گیا۔ پہلے انتقال کے منسوخ ہونے کے فوراً بعد ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں مرحوم کا مسلک "فقہ جعفریہ" درج کروانا مدعاعلیہم کی ایک سوچی سمجھی چال تھی تاکہ مرحوم کی مکمل جائیداد ہتھیا سکیں۔

ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کے مرحوم علی محمد کو سنی المسلک قرار دینے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے صاحب بی بی وغیرہ کی پٹیشن خارج کر دی۔

06/06/2026

اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: صرف ایف آئی آر یا انکوائری کی بنیاد پر نام ECL/PCL/PNIL میں شامل نہیں کیا جا سکتا

پاکستان میں اکثر ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی شہری کا نام محض ایک ایف آئی آر، انکوائری یا زیرِ تفتیش مقدمے کی بنیاد پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL)، پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) یا پاسپورٹ نمبر انڈیکس لسٹ (PNIL) میں شامل کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی بیرونِ ملک آمدورفت محدود یا مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے۔ حالانکہ قانون اور آئین ایسے اقدامات کے لیے واضح شرائط عائد کرتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ قرار دیا کہ اگر کسی شخص کو مقدمے میں ضمانت حاصل ہو چکی ہو تو محض اس کے خلاف مقدمہ یا انکوائری زیرِ التواء ہونا اس کے نام کو ECL، PCL یا PNIL میں شامل رکھنے کا قانونی جواز نہیں بنتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پاسپورٹ رولز 2021 کے تحت نام شامل کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی باقاعدہ منظوری ضروری ہے اور ایسی منظوری کے بغیر کیا گیا اقدام قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔

معزز عدالت نے مزید قرار دیا کہ کسی شہری کی نقل و حرکت کی آزادی، شخصی آزادی اور قانون کے مطابق سلوک کا حق آئینِ پاکستان کے تحت بنیادی حقوق ہیں۔ ان حقوق کو صرف قانونی اختیار اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہی محدود کیا جا سکتا ہے۔ اگر متعلقہ حکام قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کسی شخص کا نام سفری پابندی کی فہرست میں شامل کریں تو یہ اقدام غیر قانونی اور آئینی حقوق کے منافی تصور ہوگا۔

اسی بنیاد پر عدالت نے درخواست گزار کا نام ECL، PCL اور PNIL سے حذف کرنے کا حکم جاری کیا اور قرار دیا کہ متعلقہ حکام کا اقدام قانونی اختیار سے محروم، غیر منصفانہ اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی تھا۔

یہ فیصلہ ان تمام افراد کے لیے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے جن کے نام صرف ایف آئی آر، انکوائری یا زیرِ سماعت مقدمات کی بنیاد پر سفری پابندی کی فہرستوں میں شامل کیے گئے ہیں یا جن کے پاسپورٹ بلاک کر دیے گئے ہیں۔ قانون یہ تقاضا کرتا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو انتظامی سہولت یا محض الزامات کی بنیاد پر سلب نہیں کیا جا سکتا۔

2026 MLD 250
Umer Sultan v. Federation of Pakistan

06/06/2026

2026 SCMR 393

15/16 سالہ لڑکی کو اغواہ کرنے اور ریپ کرنے کے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ سے سزا یافتہ ملزم کو سپریم کورٹ نے مندرجہ زیل وجوہات کی بنا پر بری کر دیا۔

​۱۔ مقدمہ کے حقائق (Facts of the Case)
​ مستغیث (مدعی) کی بیٹی مسماۃ ر (عمر تقریباً 16/15 سال) 24 ستمبر 2012 کو اپنے چچا کے گھر جانے کا کہہ کر نکلی لیکن واپس نہ آئی۔ مدعی نے 18 دن کی تاخیر سے 12 اکتوبر 2012 کو تھانہ پار ہوتی، ضلع مردان میں مقدمہ نمبر 579/2012 درج کرایا۔ ایف آئی آر (FIR) نامعلوم ملزم کے خلاف درج کرائی گئی جس میں پٹیشنر (مقصود علی) کا نام شامل نہیں تھا۔

​مدعی کا مؤقف:
مدعی نے ایف آئی آر میں خود یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یا تو اس کی بیٹی کو کسی نامعلوم شخص نے شادی کے بہانے اغوا کیا ہے، یا وہ اپنی مرضی سے اپنے آشنا (Paramour) کے ساتھ چلی گئی ہے۔

​مغویہ کی برآمدگی:
جس دن ایف آئی آر درج ہوئی (یعنی 12 اکتوبر 2012)، پولیس نے مغویہ کو پٹیشنر مقصود علی کے ساتھ ایک فلائنگ کوچ (مسافر گاڑی) میں سفر کرتے ہوئے برآمد کیا۔ برآمدگی کے بعد لڑکی نے ملزم پر اغوا اور زنا بالبرجبر کا الزام لگایا اور دفعہ 164 ضابطہ فوجداری کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

​۲۔ ماتحت عدالتوں کے فیصلے (Decisions of the Courts Below)
​الف) ٹرائل کورٹ (ایڈیشنل سیشن جج-III، مردان):
​ٹرائل کورٹ نے پٹیشنر مقصود علی کو مجرم قرار دیتے ہوئے مورخہ 17 مارچ 2016 کو درج ذیل سزائیں سنائیں:
​دفعہ 365-B PPC (اغوا): عمر قید اور 1,00,000 روپے جرمانہ (عدم ادائیگی پر 6 ماہ مزید قید)۔
​دفعہ 376 PPC (زنا): 15 سال قیدِ با مشقت اور 50,000 روپے جرمانہ (عدم ادائیگی پر 6 ماہ مزید قید)۔
​عدالت نے دفعہ 382-B Cr.P.C کا فائدہ بھی دیا اور دونوں سزائیں بیک وقت (Concurrently) چلنے کا حکم دیا۔

​ب) ہائی کورٹ:
​پٹیشنر نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی، تاہم ہائی کورٹ نے مورخہ 9 اکتوبر 2019 کو ٹرائل کورٹ کی سزاؤں کو برقرار رکھا اور اپیل خارج کر دی۔

​۳۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اور وجوہات (Decision & Reasons of Supreme Court)

​سپریم کورٹ نے جیل پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کیا اور پٹیشنر کو شک کا فائدہ (Benefit of Doubt) دیتے ہوئے تمام الزامات سے بری (Acquit) کر دیا۔

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے کر ملزم کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا۔

​سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجوہات (Reasons for Acquittal):

​ایف آئی آر میں 18 دن کی تاخیر:
وقوعہ 24 ستمبر کو ہوا جبکہ ایف آئی آر 12 اکتوبر کو درج ہوئی۔ اگرچہ زنا کے کیسز میں تاخیر ہمیشہ مقدمے کو ختم نہیں کرتی، لیکن موجودہ کیس کے دیگر حالات کے تناظر میں یہ تاخیر استغاثہ کے مقدمے کو مشکوک بناتی ہے۔

​مغویہ کے بیان میں شدید تضادات:
​لڑکی نے اعتراف کیا کہ وہ وقوعہ سے 4-5 ماہ پہلے سے ملزم کے ساتھ موبائل فون پر رابطے میں تھی اور ملزم بعض اوقات اس کے بھائی کے فون پر بھی کال کرتا تھا۔
​اس نے کہا کہ ملزم نے اسے فون کر کے بلایا تو وہ خود گھر سے باہر آئی۔ ملزم کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا۔
​لڑکی نے کار میں اغوا کیے جانے کا دعویٰ کیا، لیکن دورانِ تفتیش کوئی کار برآمد نہیں ہوئی۔

​وہ 18 دن تک ملزم کے ساتھ مختلف جگہوں پر گھومتی رہی لیکن اس نے کہیں بھی شور نہیں مچایا اور نہ ہی مدد کے لیے کسی کو پکارا، حالانکہ وہ فلائنگ کوچ میں بھی سفر کر رہے تھے۔

​اس نے ایک جگہ کہا کہ ہوش آنے پر اس نے خود کو خالی مکان میں پایا، جبکہ دوسری جگہ اعتراف کیا کہ ملزم نے اسے کوئی نشہ آور چیز نہیں دی تھی اور نہ ہی ملزم سے کوئی نشہ آور مواد ملا۔

​طبی شہادت (Medical Evidence) کا مشکوک ہونا:
​لیڈی ڈاکٹر کے مطابق لڑکی کے جسم پر تشدد کا کوئی ایک نشان بھی موجود نہیں تھا۔

​پردۂ بکارت (H***n) کے تازہ پھٹنے (Fresh rupture) کا کوئی ثبوت نہیں تھا اور نہ ہی اس بات کی کوئی طبی علامت تھی کہ لڑکی کے ساتھ حالیہ دنوں میں زنا ہوا ہو۔
​اگرچہ کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ (FSL Report) کے مطابق سواپ (Swabs) پر منی (Semen) کے داغ پائے گئے تھے، لیکن ملزم اور مادۂ منویہ کا ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ نہیں کرایا گیا، جس سے یہ ثابت ہوتا کہ یہ ملزم کا ہی ہے۔
​تائیدی شہادتوں کا نہ ہونا (No Corroborative Evidence):
​ملزم، لڑکی یا اس کے بھائی کے موبائل فونز کا کوئی سی ڈی آر (Call Data Record) عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، جس سے لڑکی کے اس دعوے کی تصدیق ہو سکے کہ وہ ملزم کے ساتھ رابطے میں تھی۔

​کسی بھی ایسی سم (SIM) کی ملکیت کا ثبوت ریکارڈ پر نہیں لایا گیا جو ملزم یا لڑکی کے نام پر ہو۔

​رضامندی کے ساتھ زنا (دفعہ 496-B PPC) کا عدم ثبوت:
​عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈی این اے رپورٹ اور کال ڈیٹا ریکارڈ (CDR) کی عدم موجودگی کے باعث، رضامندی کے ساتھ زنا (Zina with consent) کا جرم بھی ثابت نہیں ہوتا۔ چونکہ اس کیس کی مرکزی گواہ (لڑکی) کا اپنا بیان ناقابلِ اعتبار اور تضادات سے بھرپور ہے، اس لیے محض اس کے بیان پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گی...
04/06/2026

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گیا۔ بھکر کی عدالت نے کہا کہ زنا بالجبر ثابت ہوتا ہے اور ملزم کو 20 سال قید بامشقت اور متاثرہ کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنا دی۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔ عدالت نے اپیل خارج کر دی اور ملزم کی سزا برقرار رکھی۔ ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ زنا بالجبر نہیں، زنا بالرضا کا کیس تھا۔ ملزم کی سزا کم کر کے 5 سال قید بامشقت اور جرمانہ 5 لاکھ سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا۔

وجوہات جن کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا۔

1۔ مدعیہ نے واقعہ ہونے کے 7 ماہ بعد جرم کو رپورٹ کیا۔

2۔ مدعیہ کے مطابق وہ صبح ساڑھے 5 بجے کھیتوں میں گئی تو وہاں ملزم پہلے سے چھپا ہوا تھا۔ اس نے ریپ کر دیا۔ جہاں کا وقوعہ ہے وہاں ساتھ ہی آبادی بھی ہے۔ مدعیہ نے کسی قسم کا شور نہیں کیا۔ اس کے جسم پر مزاحمت کے کوئی نشان نہ تھے۔ کوئی زخم یا خراش کا نشان نہ تھا۔ متاثرہ خاتون نے اپنے کپڑے جمع نہیں کروائے کہ اس سے پتہ چلتا کہ وہ پھٹے ہوئے تھے یا نہیں۔ ان پر کوئی سیمن تھا یا نہیں۔ خاتون 7 ماہ تک خاموش رہی۔ مبینہ وقوعہ کے بعد جس وقت وہ گھر آئی اس کے مطابق اس کے بھائی اور باقی گھر والے گھر پر موجود تھے۔ اس نے 7 ماہ تک اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کیا۔ ملزم کو کیسے پتہ تھا کہ وہ اس وقت وہاں اکیلی آئے گی۔

3۔ اگرچہ پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے ملزم سے میچ کر گیا ہے لیکن یہ ریپ نہیں بلکہ زنا بالرضا کا واقعہ ہے۔ ریپ ہوتا تو مزاحمت، شور، زخم، خراش کچھ نہ کچھ تو ہوتا۔

4۔ میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹر نے یہ ضرور بتایا کہ ٹو فنگر ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن اسے بھی کسی زخم وغیرہ کا کوئی پرانا نشان نہیں ملا۔

قانون کے طالبعلموں کیلئے: اگرچہ اس کیس میں 376 (ریپ) کی ایف آئی آر ہوئی تھی اور چارج بھی اسی دفعہ کے تحت فریم ہوا تھا لیکن سزا 496 بی (زنا بالرضا) میں تبدیل کر دی گئی۔ جو کہ اس جنرل اصول کی خلاف ورزی ہے کہ جس جرم کا چارج فریم ہو سزا بھی اسی میں ہو۔ اس اصول کی استثنی کیلئے آپ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 238(2) اور سپریم کورٹ کی ایک ججمنٹ 2006SCMR 1170 پڑھ لیں۔

نوٹ: شیئر کردہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی لارجر بینچ جسٹس شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس صلاح الدین پنہور نے دیا ہے۔ جسٹس صلاح الدین نے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا اور اپنا اختلافی نوٹ جاری کیا جس کی تفصیل ذیل میں ہے۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں جہاں اکثریتی معزز جج صاحبان نے ایک ریپ کے مقدمے میں سزا کم کرتے ہوئے جرم کی نوعیت میں تبدیلی کی، وہیں محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کا اختلافی نوٹ قانون، انصاف اور سماجی حقیقتوں کی ایک مضبوط اور باوقار ترجمانی کرتا ہے۔ یہ اختلاف محض قانونی نکات تک محدود نہیں بلکہ انسانی وقار، سماجی دباؤ اور فوجداری قانون کے بنیادی اصولوں پر ایک گہری اور بصیرت افروز دستک ہے۔

یہ مقدمہ ایک تقریباً 24 سالہ غیر شادی شدہ خاتون سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ملزم اور متاثرہ خاتون اس بچے کے حیاتیاتی والدین ثابت ہوئے۔ اکثریتی فیصلے میں سات ماہ کی تاخیر سے درج ایف آئی آر اور جسم پر تشدد کے نشانات کی عدم موجودگی کو بنیاد بنا کر ریپ کے الزام کو کمزور قرار دیا گیا، تاہم محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے نہایت مدلل، قانونی اور انسانی بنیادوں پر اس سوچ سے اختلاف کیا۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب واضح کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ریپ اور جنسی ہراسانی کے واقعات اکثر رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ جرم کی عدم موجودگی نہیں بلکہ خوف، بدنامی، کردار کشی اور خاندانی دباؤ ہوتا ہے۔ ایک متاثرہ خاتون کو عدالت سے پہلے اپنے ہی گھر میں اپنے کردار کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں تاخیر کو بدنیتی یا رضامندی سے تعبیر کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

خصوصاً اس مقدمے میں متاثرہ خاتون کم عمر، غیر شادی شدہ، والدین سے محروم اور اپنے بڑے بھائی پر انحصار کرنے والی تھی۔ ریکارڈ پر دھمکیوں کے شواہد بھی موجود تھے۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کے مطابق ایسے حالات میں خاموشی ایک فطری انسانی ردعمل ہے، نہ کہ جرم سے انکار۔ ان کے بقول یہ خاموشی اس وقت تک برقرار رہنا بالکل فطری تھا جب تک متاثرہ خاتون کو اپنے حمل کا علم نہ ہو سکا۔

جسم پر تشدد کے نشانات نہ ہونے کے نکتے پر بھی محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے ایک اہم قانونی اصول اجاگر کیا۔ اگر ملزم مسلح ہو تو مزاحمت نہ کرنا انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ مزید یہ کہ سات ماہ بعد ہونے والا طبی معائنہ کسی جسمانی مزاحمت کے آثار محفوظ نہیں رکھ سکتا، جیسا کہ عدالتی نظائر میں بھی تسلیم کیا جا چکا ہے۔

ڈی این اے رپورٹ کے حوالے سے محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے سائنسی بنیادوں پر اکثریتی فیصلے کی کمزوری واضح کی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی میں ڈی این اے کو بروقت extract کر کے محفوظ کیا جاتا ہے، جو برسوں تک قابلِ اعتماد رہتا ہے۔ محض buccal swab کے مبینہ طور پر ضائع ہونے کے امکان کو بنیاد بنا کر ڈی این اے رپورٹ کو مشکوک قرار دینا نہ سائنسی ہے اور نہ ہی قانونی طور پر درست۔

اختلافی نوٹ کا سب سے اہم اور حساس پہلو وہ ہے جہاں اکثریتی فیصلے میں ریپ (دفعہ 376 PPC) کو رضامندی پر مبنی فعل (دفعہ 496-B PPC) میں تبدیل کیا گیا۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ یہ دونوں الگ الگ جرائم ہیں جن کے اجزاء مختلف ہیں۔ اگر رضامندی ثابت نہیں تو محض سزا کم کرنے کے لیے جرم کی نوعیت بدلنا قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ریپ ثابت نہ ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ رضامندی خودبخود ثابت ہو گئی۔

انہوں نے نہایت اہم سوال اٹھایا کہ اگر ڈی این اے رپورٹ ریپ کے الزام کے لیے ناقابلِ اعتبار سمجھی جا رہی ہے تو اسی رپورٹ کو رضامندی پر مبنی جرم کے لیے کیسے قابلِ قبول مانا جا سکتا ہے؟ قانون مفروضوں پر نہیں بلکہ ناقابلِ تردید ثبوت پر عمل کرتا ہے۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے اپنے اختلافی نوٹ کا اختتام انسانی وقار کے قرآنی تصور پر کیا، جو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسان کی عزت اور حرمت ہر قانونی بحث سے بالاتر ہے۔ یہ اختلافی نوٹ دراصل صرف ایک فیصلے سے اختلاف نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف ایک مضبوط اعلان ہے جو مظلوم کی خاموشی کو اس کے خلاف ثبوت بنا دیتی ہے۔

یہ اختلافی رائے مستقبل کے لیے ایک واضح رہنما اصول ہے کہ انصاف صرف شکوک و شبہات کی بنیاد پر نہیں بلکہ سماجی حقیقتوں، انسانی نفسیات اور قانون کے مسلمہ اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر دیا جانا چاہیے۔ اگر خاموشی کو جرم اور کمزوری کو رضامندی سمجھا جائے تو یہ انصاف نہیں بلکہ خوف کی توثیق ہو گی۔

31/05/2026

2025 SCMR 923
منشیات مقدمات کا ٹرائل کرنے والے نوجوان وکلا کیلئے سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ.
منشیات مقدمات میں مال مقدمہ کی محفوظ تحویل اور ترسیل کا دستاویزی ثبوت پیش کیا جانا ضروری ہے ۔
محرر یا ، #انچارج-مالخانہ کا محض زبانی بیان متعلقہ رجسٹرز/ روڈ سرٹیفکیٹس پیش کیے بغیر قابل ادخال شہادت نہ ہے
((*2025 SCMR 923*

*فیصلے کے اہم پوائنٹس:*
*1. مال مقدمہ کی محفوظ تحویل = لازم*
عدالت نے کہا کہ منشیات کیس میں صرف محر یا انچارج مالخانہ کا زبانی بیان کافی نہیں۔
*لازم دستاویزات:*
- رجسٹر نمبر XIX میں اندراج
- روڈ سرٹیفکیٹ Rule 22.70 Form 22.70
- لیبارٹری بھیجنے کا ریکارڈ Rule 22.72 Form 10.17
اگر یہ دستاویزی ثبوت نہیں تو "safe custody" ثابت نہیں ہوتی۔ کیس کمزور ہو جاتا ہے۔

*2. زبانی شہادت ناقابل قبول*
Article 102, Qanun-e-Shahadat Order 1984 کے تحت جب قانون دستاویز مانگتا ہے تو زبانی شہادت نہیں چلے گی۔ PW-3 کی زبانی گواہی کو عدالت نے مسترد کر دیا۔

*3. سیکشن 20 CNSA 1997 کی خلاف ورزی*
عدالت کے اوقات میں prior information پر چھاپہ مارا گیا، لیکن سرچ وارنٹ نہیں لیے گئے۔ سیکشن 20 کی تعمیل ضروری ہے۔
رجسٹر نمبر II میں prior info درج کرنا بھی لازم ہے Rule 22.49 کے مطابق۔
*4. عدالت کا سخت ریمارکس*
ج صاحبان نے دکھ کا اظہار کیا کہ ANF/پولیس صرف "peddlers" پکڑ رہی ہے۔ اصل مجرم - کاشتکار، بنانے والا، بڑے ڈیلر - بچ نکلتے ہیں۔ ان کے اثاثے investigate نہیں ہوتے۔
عدالت نے کہا: "اگر صرف پھل کاٹو گے، درخت نہیں کاٹو گے تو منشیات کا مسئلہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔"

*وکلا کے لیے Takeaway:*
منشیات کیس میں پہلا سوال یہ کریں:
1. رجسٹر XIX کی مصدقہ کاپی فائل پر ہے؟
2. روڈ سرٹیفکیٹ لگا ہے؟
3. لیبارٹری ٹرانسمیشن کا ثبوت ہے؟
4. سیکشن 20 کی تعمیل ہوئی؟ رجسٹر II میں اندراج ہے؟

اگر نہیں، تو Article 129(g) + 102 کے تحت acquittal کا strong ground بنتا ہے۔
آپ اس فیصلے کو کس کیس میں استعمال کرنا چاہتے ہیں؟ میں آپ کو cross-examination کے سوالات بھی بنا دوں گا اس ججمنٹ کی روشنی میں۔))
No documentary evidence whatsoever has been brought on record by the prosecution to establish safe custody and transmission.

Neither entry of Register No. XIX was tendered in evidence nor Road Certificate as contemplated by rule 22.70, Form 22.70 and Rule 22.72, Form 10.17 of Police Rules, 1934. So, this sole contour of the case creates dent in the case of the prosecution.

The Police Rules mandate that case property be kept in the Malkhana and that the entry of the same be recorded in Register No. XIX of the said police station. It is the duty of the police and prosecution to establish that the case property was kept in safe custody, and if it was required to be sent to any laboratory for analysis, to further establish its safe transmission and that the same was also recorded in the relevant register, including the road certificate, etc. The procedure in the Police Rules ensures that the case property, when it is produced before the court, remains in safe custody and is not hampered with until that time. A complete mechanism is provided in the Police Rules qua safe custody and safe transmission of the case property to concerned laboratory and then to the Trial Court.

Under Article 129(g) of Qanun-e-Shahadat Order, 1984 ("the Order") it can be presumed that the prosecution did not produce Register No. XIX because the in-charge of the store room had not entered the receipt of parcels in the said register. Under Article 102 of the Order, in all cases in which any matter is required by law to be reduced to the form of a document, no evidence shall be given in proof of such matter except the document itself, or secondary evidence of its contents in cases in which secondary evidence is admissible under Article 76. Therefore, oral testimony of PW-3 with regard to the safe custody of parcels was not admissible under Article 102 of the Order. Hence prosecution failed to prove safe custody of the parcels beyond shadow of doubt.

It is a case of prior information that too in the court timings but the seizing officer neither tried to obtain search warrants as required by section 20 of the Act of 1997 nor he has offered any reason/justification for his non-compliance of the command of section 20. Similarly, the prior information was never recorded in Register No. II (naeem)as contemplated by rule 22.49 of the Police Rules.

Before parting with the judgement in hand, we have painfully observed in a number of cases that the legislation had introduced the Act of 1997 to curb the menace of drug abuse, prohibit possession of narcotic substances and rehabilitate victims of drug abuse, however, the Anti-Narcotics Force and Police Authorities have failed to adhere to the provisions of the Act of 1997. The law enforcing and investigating agencies are only dealing with the peddlers and if investigation is carried out in accordance with the provisions of the Act of 1997, it would bring to justice the whole chain i.e., cultivator/manufacturer, peddler, seller and drug abuser, and would serve as deterrent factor in the society.The manner in which narcotics cases are being investigated favours the real culprits and only drug peddlers are caught and sent to jail. Nobody dares to investigate the giants who derive profits out of such illicit drug/narcotic deals. Their assets are never investigated. We are afraid that the two ends i.e., drug dealer, cultivator, manufacturer and the drug/narcotic abusers are never held accountable. This would never have been the intention of the legislature while enacting the Act of 1997. The law enforcing agencies,particularly the Anti-Narcotics Force, has failed to adhere to the provisions of the Act of 1997 as well as the SOPs adopted by the force for investigation of criminal cases, which are very comprehensive and cover every aspect of a criminal case registered under the Act of 1997. In most of the cases, the provisions of the Act of 1997, the rules made thereunder and the SOPs adopted by the force, to the extent of tracing assets and discovering the complete chain of culprits, have not been complied with. As a result of such incomplete investigation, the society will face the menace of narcotics/drugs abuse forever. If the State prefers to penalize citizens for possessing fruit of the forbidden tree and opts not to cut that forbidden tree and holding its beneficiaries accountable, the outcome would be absurd. Similarly, not investigating the main culprits/sources of narcotic substances in a criminal case would grant them a license to violate the Act of 1997 and cause irreparable damage to the society.
When a criminal case is registered on the allegation of possession of narco

اس کیس کےحقائق یہ ہیں  کہ ورکرز یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن آف پاکستان میں عرصہ درازسے ڈیلی ویجز ملازم تھے اور انہیں بغیر کسی...
31/05/2026

اس کیس کےحقائق یہ ہیں کہ ورکرز یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن آف پاکستان میں عرصہ درازسے ڈیلی ویجز ملازم تھے اور انہیں بغیر کسی ریزن کے یعنی وجہ کہ ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا جس پر ایمپلائز نے قانون کے مطابق این ائ آر سی NIRC میں کیس فائل کیا کہ اسے غلط نکالا گیا اور اس کا ٹرمنیشن ختم کرتے ہوئے اس تمام بیگ بینیفٹس کے ساتھ بحال کیا جائے۔ این۔آئی۔آر سی۔ کے سنگل بینچ نے دونوں پارٹیز کو سننے کے بعد ایمپلائی کے حق میں مورخہ12جنوری 2021 کو فیصلہ دیا اور ایمپلائی کو تیس دن کے اندر تمام بیک بینیفٹس کے ساتھ ملازمت پر بحال کرنے کا ارڈر دیا۔ جس پر یوٹیلٹی سٹور کی انتظامیہ نے این اے ار سی فل بینچ میں اپیل کی جو کہ فل بیج نے سماعت کے بعد خارج کر دی جس پر یوٹیلٹی اسٹور نے ہائی کورٹ میں یہ پیٹیشن فائل کی ہائی کورٹ نے سماعت کے بعد قرار دیا کہ بے شک ڈیلی ویجز پر کام کر رہے تھے لیکن لگاتار ایک عرصہ سے کام کر رہے تھے لہذا ان کی قانونی طور پر مستقل ایمپلائی کی حیثیت ہو گئی ہے دوسری وجہ یہ کہ ٹرمینیشن میں کوئی وجوہات بیان نہیں کی گئی ان پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں ان کے بارے میں بھی کوئی شوکاز لیٹر جاری نہیں کیا گیا، اگر کسی ایمپلائی پر الزامات عائد کۓ جائیں تو اسے صفائی کا موقع دیے بغیر ملازمت سے خارج نہیں کیا جا سکتا ہے۔ معزز ہائی کے ڈویژن بینچ نے یوٹیلیٹی سٹور کی پٹیشن خارج کر دی۔ اور این۔ آئی۔ آر۔ سی۔ سنگل بینچ کا فیصلہ بحال رکھا۔۔

PLJ 2026 SC (Cr.C.) 175 — مختصر قانونی خلاصہسپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خفیہ آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ صرف اسی صورت بطورِ شہا...
31/05/2026

PLJ 2026 SC (Cr.C.) 175 — مختصر قانونی خلاصہ

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خفیہ آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ صرف اسی صورت بطورِ شہادت قابلِ قبول ہو سکتی ہے جب وہ قانونی طور پر حاصل کی گئی ہو، اس کا ماخذ ثابت ہو، فرانزک طور پر اس کی صداقت کی تصدیق ہو، اور یہ ثابت ہو کہ اس میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔ محض کسی خفیہ ریکارڈنگ کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص خود گفتگو کا فریق ہو تو اُس گفتگو کی ریکارڈنگ عمومی طور پر غیر قانونی وائر ٹیپنگ نہیں سمجھی جاتی، لیکن دو دیگر افراد کی گفتگو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید یہ کہ کسی شخص کی نجی گفتگو، تصویر یا آواز کو اُس کی اجازت کے بغیر خفیہ طور پر حاصل کرنا، خصوصاً بلیک میلنگ، بھتہ خوری یا کسی ناجائز مقصد کے لیے، جرم ہے۔ PECA 2016 کی دفعہ 23 بھی ایسے عمل کو قابلِ سزا قرار دیتی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ قانون باقاعدہ سکیورٹی نظام (جیسے CCTV) کے تحت حاصل شدہ ریکارڈنگ اور بدنیتی سے “جال بچھانے” یا ثبوت اکٹھا کرنے کے لیے کی گئی خفیہ ریکارڈنگ میں واضح فرق کرتا ہے۔ ایسی خفیہ نگرانی کرنے والا شخص خود بھی قانون شکن بن جاتا ہے، جبکہ جس کی نجی گفتگو یا ویڈیو خفیہ طور پر ریکارڈ یا لیک کی جائے وہ متاثرہ فریق شمار ہوگا۔

سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت انسانی وقار اور حقِ رازداری کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی شہری کی نجی گفتگو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے عدالتی کارروائی میں استعمال کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے قرآنِ مجید کی آیت "وَلَا تَجَسَّسُوا" اور حضرت عمرؓ کے معروف واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ اسلام بھی بلا اجازت جاسوسی اور نگرانی کی ممانعت کرتا ہے۔

عدالت نے زاہر جعفر کیس (2025 SCP 220) کو موجودہ مقدمے سے مختلف قرار دیا کیونکہ وہاں CCTV فوٹیج مستقل سکیورٹی نظام سے حاصل کی گئی تھی، جس کی فرانزک تصدیق اور اصل حیثیت ثابت تھی، جبکہ موجودہ مقدمے میں ایک نجی شخص نے خفیہ طور پر ریکارڈنگ کرکے اسے بطورِ ثبوت استعمال کرنے کی کوشش کی۔

بالآخر سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نجی اور غیر قانونی نگرانی کو عدالتی جواز دینا آئین، قانون اور اسلامی اصولوں کے منافی ہوگا۔ چونکہ ملزمان پہلے ہی بری ہو چکے تھے اور ان کی بریت میں مداخلت کے لیے کوئی غیر معمولی وجہ موجود نہ تھی، لہٰذا اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

Crl. Appeal No.821 of 2017 فاضل چیف جسٹس عالیہ نیلم نے دوہرے قتل کے مقدمے میں دو مرتبہ عمر قید سزا پانے والے ملزم کو بری...
31/05/2026

Crl. Appeal No.821 of 2017
فاضل چیف جسٹس عالیہ نیلم نے دوہرے قتل کے مقدمے میں دو مرتبہ عمر قید سزا پانے والے ملزم کو بری کر دیا۔

​مقدمے کا پس منظر اور سزا
​یہ اپیل ملزم مشرف حبیب کی طرف سے دائر کی گئی تھی، جسے ایڈیشنل سیشن جج خوشاب نے 28 جنوری 2016 کو ایک نجی استغاثہ (Private Complaint) کے تحت دائر مقدمے میں ابرار جاوید اور محمد اصغر امیر کے قتل کے جرم میں (دفعہ 302(b)/34 PPC کے تحت) دو مرتبہ عمر قید اور مقتولین کے ورثاء کو دس دس لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کی سزا سنائی تھی۔ ملزم نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی، جبکہ مدعی مقدمہ (محمد ارشد جاوید) نے سزا میں اضافے کے لیے نگرانی کی درخواست (Crl. Rev) دائر کی تھی۔ عدالت نے دونوں کا فیصلہ ایک ساتھ کیا۔

​استغاثہ (Prosecution) کی کہانی

​مدعی مقدمہ محمد ارشد جاوید کے مطابق:
​تاریخ و وقت: 17 ستمبر 2012، صبح 6:15 بجے۔
​مقام: مردوال چوک، نوشہرہ (ضلع خوشاب)۔
​واقعہ: مدعی اپنے بھائی ابرار جاوید (مقتول) اور بہنوئی محمد اصغر امیر (مقتول) کے ساتھ جوہرآباد جانے کے لیے بس کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک مشرف حبیب (اپیل کنندہ)، گلریز اور محمد افضل (شریک ملزمان) اسلحہ سمیت وہاں آئے۔ ملزمان نے مقدمے بازی کا بدلہ لینے کے لیے للکارا مارا۔

​فائرنگ: مشرف حبیب نے پسٹل سے فائر کیا جو ابرار جاوید کے دائیں ہاتھ پر لگا۔ اس کے بعد دیگر ملزمان نے فائرنگ کی جس سے ابرار جاوید موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جبکہ محمد اصغر امیر شدید زخمی ہوا اور بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

​وجہ عناد (Motive): ملزم کے والد اور مقتولین کے درمیان پہلے سے مقدمے بازی اور دیرینہ دشمنی چل رہی تھی۔

​عدالت کے اہم مشاہدات اور تضادات
​ہائی کورٹ نے جب ریکارڈ اور بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا، تو استغاثہ کے مقدمے میں درج ذیل سنگین تضادات اور خامیاں سامنے آئیں:

​1. ایف آئی آر (FIR) میں تاخیر اور ابہام
​وقوعہ صبح 6:15 بجے ہوا، جبکہ مدعی کا بیان (فرد بیان) صبح 7:45 بجے ریکارڈ ہوا اور ایف آئی آر صبح 8:00 بجے درج ہوئی۔ اس 1 گھنٹہ 45 منٹ کی تاخیر کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
​پولیس کارروائی کی تحریر کے مطابق پولیس نفری پہلے ہی کسی اطلاع پر موقع پر پہنچ چکی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہانی بعد میں گھڑی گئی۔

​2. پوسٹ مارٹم اور میڈیکل رپورٹ کا تضاد
​سرکاری گواہ (کنسٹیبل لیاقت حیات) اور ڈاکٹر فیض محمد فاروقی کے بیانات کے مطابق، مقتول ابرار جاوید کا پوسٹ مارٹم صبح 7:00 بجے کیا جا چکا تھا، جبکہ مدعی کا ابتدائی بیان (جس پر مقدمہ درج ہوا) صبح 7:45 بجے ریکارڈ کیا گیا۔ قانوناً ایف آئی آر یا پولیس ڈاکٹ کے بغیر پوسٹ مارٹم نہیں ہو سکتا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایف آئی آر اصل وقت پر درج نہیں کی گئی بلکہ بعد میں سوچ بچار کے بعد لکھی گئی۔

​3. مقتول محمد اصغر امیر کے ریکارڈ میں خامیاں
​زخمی اصغر امیر کو صبح 6:30 بجے ہسپتال لایا گیا، لیکن اس کی انکویسٹ رپورٹ (فرد مقبوضگی) اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی تاریخ اور وقت کے خانے خالی چھوڑ دیے گئے۔
​مقتول کے کپڑوں کی برآمدگی کی یادداشت (Memo) پر ملزم کا نام واضح نہیں تھا، جس سے یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ کپڑے قبضے میں لینے تک پولیس کو ملزمان کے نام معلوم ہی نہیں تھے۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا بقیہ حصہ استغاثہ (Prosecution) کے کیس میں موجود مزید خامیوں، گواہان کی ساکھ، ملزم کے فرار ہونے کی قانونی حیثیت اور عدالت کے حتمی فیصلے پر مبنی ہے۔ اس کا اردو خلاصہ درج ذیل ہے:

4. انکویسٹ رپورٹ اور ایف آئی آر میں تضاد
عدالت نے نوٹ کیا کہ مقتول ابرار جاوید کی انکویسٹ رپورٹ (لاش کا معائنہ/فرد صورتِ حال) پر کسی چشم دید گواہ یا مدعی مقدمہ کے دستخط موجود نہیں ہیں۔ اگر تفتیشی افسر نے موقع پر گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے تھے، تو انکویسٹ رپورٹ میں اہم تفصیلات غائب نہیں ہونی چاہیے تھیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ استغاثہ کی کہانی ابتدائی مراحل میں تھی اور ایف آئی آر بعد میں باہمی مشاورت اور سوچ بچار کے بعد لکھی گئی، جسے قانون کی زبان میں Antedated (پیچھے کی تاریخ اور وقت ڈالنا) کہا جاتا ہے تاکہ اسے بروقت درج شدہ ثابت کیا جا سکے۔

5. گواہان کا آپسی رشتہ اور موقع پر موجودگی کا شک
عدالت نے گواہان کے بیانات اور جرح کا جائزہ لے کر درج ذیل نتائج اخذ کیے:
رشتہ دار اور مفاد پرست گواہ (Interested Witnesses): مدعی مقدمہ (محمد ارشد جاوید) نے جرح کے دوران اعتراف کیا کہ تمام اہم گواہان (محمد اعجاز، محمد الیاس وغیرہ) اس کے قریبی رشتہ دار (ماموں زاد، بہنوئی، سالے اور داماد) ہیں۔

موقع پر موجودگی کا جھوٹا بہانہ: مدعی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اور مقتول اصغر امیر صبح کے وقت جوہرآباد کی عدالت میں ایک مقدمے کی پیشی کے لیے جا رہے تھے اور بس کے انتظار میں چوک پر کھڑے تھے۔ تاہم، جرح کے دوران مدعی نے اعتراف کیا کہ 17 ستمبر 2012 کو عدالت میں ایسا کوئی مقدمہ مقرر ہی نہیں تھا۔

اتفاقیہ گواہ (Chance Witnesses): دوسرے گواہ محمد اعجاز نے جرح میں اعتراف کیا کہ اس نے وقوعہ کے وقت چوک پر اپنی موجودگی کی کوئی ٹھوس وجہ بیان نہیں کی۔ اس لیے گواہان کی وہاں موجودگی انتہائی مشکوک ہے۔

6. دشمنی کی وجہ (Motive) کو چھپانا
مدعی نے عدالت سے حقائق چھپائے۔ اس نے جن دو پرانے مقدمات کو قتل کی وجہ (Motive) بتایا تھا، دفاعی وکلاء نے دستاویزی شواہد پیش کر کے ثابت کیا کہ ان مقدمات میں وقوعہ سے بہت پہلے (2010 اور 2012 میں) فریقین کے درمیان راضی نامہ (Compromise) ہو چکا تھا اور ملزمان بری ہو چکے تھے۔ اس سے واضح ہوا کہ مدعی نے عدالت سے سچ چھپایا اور اس کے پاس ملزمان کو جھوٹا پھنسانے کے لیے کہانی گھڑنے کا پورا وقت تھا۔ حتیٰ کہ تفتیشی افسر نے بھی تسلیم کیا کہ ملزم وقوعہ کے وقت پسٹل سے مسلح نہیں تھا اور نہ ہی اس نے فائرنگ کی تھی۔

7. ملزم کے فرار (Absconding) کی قانونی حیثیت
مدعی کے وکیل نے زور دیا کہ ملزم واردات کے بعد فرار ہو گیا تھا، جو اس کے گناہ گار ہونے کا ثبوت ہے۔ عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیا اور قرار دیا کہ:
محض فرار ہونا جرم کا قطعی ثبوت نہیں ہوتا، یہ صرف ایک تائیدی شواہد (Corroborative Evidence) کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
جب بنیادی شواہد (چشم دید گواہان کے بیانات) ہی جھوٹے اور ناقابلِ یقین ثابت ہو جائیں، تو صرف ملزم کے فرار ہونے کی بنیاد پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

8. عدالتی اصول اور شک کا فائدہ (Benefit of Doubt)
فاضل عدالت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلوں اور اسلامی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے "سنہری اصول" دہرایا:
"عدالت کے لیے یہ بہتر ہے کہ وہ سو گناہ گاروں کو چھوڑ دے، لیکن کسی ایک بے گناہ کو سزا نہ ملے۔" اور حضور اکرم ﷺ کا فرمانِ مبارک ہے کہ "قاضی (جج) سے مجرم کو چھوڑنے میں غلطی ہونا، معصوم کو سزا دینے کی غلطی سے بہتر ہے۔"
قانون کے مطابق، اگر کیس میں کوئی بھی ایسا پہلو سامنے آئے جو ایک سمجھدار ذہن میں شک پیدا کرے، تو شک کا فائدہ ملزم کا حق بنتا ہے، کوئی رعایت نہیں۔

حتمی فیصلہ (Final Judgment)
لاہور ہائی کورٹ نے استغاثہ کے کیس کو مفروضوں پر مبنی اور شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے درج ذیل فیصلہ سنایا:
اپیل منظور: ملزم مشرف حبیب کی اپیل (Crl. Appeal No. 821 of 2017) کو مکمل طور پر قبول کیا جاتا ہے۔
سزا کا خاتمہ اور بریت: ایڈیشنل سیشن جج خوشاب کا 28 جنوری 2016 کا فیصلہ اور ملزم کو سنائی گئی سزا منسوخ کی جاتی ہے اور ملزم کو تمام الزامات سے باعزت بری کیا جاتا ہے۔ چونکہ ملزم پہلے ہی ضمانت پر تھا، اس لیے اس کے مچلکے خارج کیے جاتے ہیں۔
نگرانی کی درخواست مسترد: مدعی مقدمہ کی طرف سے ملزم کی سزا بڑھانے کے لیے دائر کردہ درخواست (Crl. Revision No. 104726 of 2017) قانونی وزن نہ ہونے کی بنا پر مسترد کی جاتی ہے۔

Address

Office No. 17, Royal Inn Plaza, F-8 Markaz
Islamabad
44100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Beacon Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Beacon Law Associates:

Shortcuts

Share