Beacon Law Associates

Beacon Law Associates Legal Practitioners and Consultants.

We deal in Criminal, Civil, Family, FST, Narcotics, Cyber Crimes, FIA, Harassment at work place, Tax, SECP, Immigration, Juvenile and Corporate Legal matters with professional attitude and skills.

23/09/2026

سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے ’’مسماۃ فروا نورین بنام حسن علی آغا وغیرہ ‘‘ میں یہ اصول طے کیا ہے کہ مسلم نکاح محض ایک عام civil contract نہیں بلکہ ایک منفرد قانونی ادارہ (sui generis) ہے۔ یہ ایجاب و قبول سے وجود میں آتا ہے، اس میں contractual خصوصیات موجود ہیں، لیکن اس کے بنیادی حقوق و فرائض اسلامی قانون، شریعت، قانون اور آئینی اصولوں سے بھی متعین ہوتے ہیں۔ لہٰذا نکاح سے متعلق تنازعات کو عام تجارتی معاہدوں کے اصولوں کے مطابق mechanically نہیں پرکھا جا سکتا۔
عدالت نے خصوصاً قرار دیا کہ مہر بیوی کا ایک مستقل اور لازمی قانونی حق ہے؛ یہ بیوی کی "قیمت" یا عام commercial consideration نہیں بلکہ نکاح کا ایک لازمی قانونی اثر اور بیوی کا exclusive proprietary right ہے۔ شوہر اس حق کو محض اس وجہ سے ختم نہیں کر سکتا کہ نکاح نامہ میں اس کی تعبیر یا اندراج کے بارے میں کوئی ابہام پیدا ہوگیا ہے۔
دوسرا نہایت اہم اصول یہ ہے کہ نکاح نامہ خود نکاح کا اصل source نہیں بلکہ نکاح اور اس میں طے شدہ شرائط کا statutory ریکارڈ اور شہادت ہے۔ نکاح ایجاب و قبول سے وجود میں آتا ہے، جبکہ نکاح نامہ بعد میں اس معاہدے کو سرکاری طور پر ریکارڈ کرتا ہے۔ تاہم نکاح نامہ ایک اہم public document ہے اور اس کے اندراجات کو prima facie باقاعدگی کی presumption حاصل ہے۔
اگر نکاح نامہ کی عبارت واضح ہو تو عدالت عموماً اسی کو بنیادی شہادت سمجھے گی؛ لیکن اگر کسی اندراج میں ambiguity، inconsistency، omission یا ایسی واضح غلطی ہو جس سے معلوم ہو کہ document فریقین کے اصل agreement کو درست طور پر ریکارڈ نہیں کرتا، تو عدالت admissible شہادت ، surrounding circumstances اور فریقین کی اصل مشترکہ intention کو بھی دیکھ سکتی ہے۔ البتہ محض زبانی انکار کافی نہیں ہوگا؛ نکاح نامہ کے خلاف جانے والے فریق پر مضبوط اور واضح شہادت پیش کرنے کی ذمہ داری ہوگی۔
یہ فیصلہ ایک ہی مقدمے کا نہیں بلکہ مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت متعدد family/dower disputes کا مشترکہ فیصلہ ہے۔ ان تمام مقدمات میں مشترک قانونی مسئلہ نکاح نامہ میں درج مہر اور خصوصاً کالموں 13، 14، 15 اور 16 کی قانونی حیثیت، باہمی تعلق اور تشریح سے متعلق تھا۔ Column 13 میں amount of dower، Column 14 میں prompt/deferred dower، Column 15 میں شادی کے وقت ادا شدہ مہر، اور Column 16 میں مہر کے بدلے دی جانے والی property کا ذکر ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی سوالات کیا تھے؟
عدالت نے بنیادی طور پر چھ سوالات formulate کیے:
1. کیا اسلامی نکاح محض civil contract ہے یا contractual خصوصیات رکھنے والا ایک منفرد legal institution بھی ہے؟
2. مہر کی قانونی اور شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ محض contractual consideration ہے یا اسلامی قانون کی طرف سے عائد کردہ مستقل قانونی ذمہ داری؟
3. اگر شوہر مہر کے عوض immovable property دینے پر رضامند ہو تو اس transaction کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟
4. کیا نکاح نامہ خود marriage contract ہے یا پہلے سے وجود میں آنے والے نکاح کا statutory ریکارڈ؟
5. اگر نکاح نامہ میں کوئی ambiguity یا غلطی ہو تو اسے کس طریقے سے interpret کیا جائے، اور کیا شہادت سے اس کے اندراجات کو challenge کیا جا سکتا ہے؟
6. نکاح نامہ کے کالموں 13، 14، 15 اور 16 کا باہمی تعلق کیا ہے؟
قانونی بنیادیں کیا تھیں؟
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی بنیاد چار بڑے قانونی دائروں پر رکھی:
اول، قرآن و سنت اور classical Islamic jurisprudence۔ عدالت نے نکاح کو Qur'an کے "مِیثَاقاً غَلِیظاً" یعنی مضبوط اور سنجیدہ عہد کے طور پر دیکھا اور مہر کے بارے میں قرآن کی واضح ہدایت کو بنیادی source قرار دیا۔
دوم، Constitution of Pakistan۔ عدالت نے بالخصوص Articles 2A، 14، 25 اور 35 کو مہر، انسانی dignity، equality اور protection of family کے تناظر میں استعمال کیا۔ عدالت کے مطابق اسلامی قانون میں تسلیم شدہ مہر کے حق کو ایسا interpretation نہیں دیا جا سکتا جو اسے عملی طور پر بے اثر بنا دے۔
سوم، Muslim Family Laws Ordinance, 1961 اور اس کے تحت prescribed نکاح نامہ ۔ عدالت نے قرار دیا کہ نکاح رجسٹرار ایک statutory functionary ہے اور نکاح نامہ ایک سرکاری ریکارڈ ہے؛ اس لیے اس کے اندراجات کو اہم evidentiary value حاصل ہے، مگر وہ ناقابلِ تردید نہیں۔
چہارم، Qanun-e-Shahadat کے evidentiary principles۔ عدالت نے واضح کیا کہ نکاح نامہ کے واضح الفاظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی، لیکن genuine ambiguity یا cogent شہادت کی صورت میں admissible شہادت سے فریقین کی اصل agreement معلوم کی جا سکتی ہے۔ کالموں 13 تا 16 کو الگ الگ نہیں بلکہ harmonious construction کے ذریعے مجموعی طور پر پڑھنا ہوگا۔
کالموں 13 تا 16 کے بارے میں مرکزی اصول
فیصلے کا عملی طور پر سب سے اہم حصہ یہ ہے کہ مہر سے متعلق چاروں کالموں کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھ کر نہیں پڑھا جائے گا۔ انہیں نکاح نامہ کے مجموعی متن، فریقین کی agreement اور circumstances کے ساتھ harmoniously پڑھا جائے گا۔
خصوصاً عدالت نے واضح کیا کہ Column 13 میں مہر کا amount صرف cash تک محدود نہیں؛ lawful movable یا immovable property بھی مہر کا حصہ ہوسکتی ہے۔ Column 14 prompt اور deferred حصے کو، Column 15 actual payment کو اور Column 16 property given in lieu of whole or part of dower کو ظاہر کرتا ہے۔
اگر مہر کے طور پر دی جانے والی immovable property بعد میں transfer نہ ہوسکے تو اس سے بیوی کا underlying dower right ختم نہیں ہوتا۔ شوہر، حالات کے مطابق، agreed value یا جہاں value مقرر نہ ہو وہاں عدالت کی متعین کردہ market value کے ذریعے مہر کی ذمہ داری پوری کرنے کا پابند رہ سکتا ہے۔
مختصر ترین خلاصہ
اس فیصلے کا مرکزی اصول یہ ہے کہ "نکاح نامہ کو صرف اس کے خانوں کے mechanical الفاظ سے نہیں بلکہ نکاح کے حقیقی معاہدے، اسلامی قانون، statutory scheme اور admissible شہادت کو سامنے رکھ کر سمجھا جائے گا۔"
اور ساتھ ہی یہ بھی طے کیا گیا کہ مہر کوئی محض رسمی یا اخلاقی وعدہ نہیں بلکہ بیوی کا باقاعدہ قانونی اور proprietary right ہے، جسے عدالتیں مؤثر طور پر enforce کریں گی۔

21/09/2026

لاہور کے بشارت علی نے محکمہ اینٹی کرپشن میں ایف آئی آر درج کروائی کہ پنجاب پولیس کے ایک سب انسپکٹر صابر علی نے شیخ صداقت علی نامی ایک شخص سے پانچ ہزار روپے رشوت لے کر اسے (بشارت کو) مالی نقصان پہنچایا ہے۔ بشارت کا کہنا تھا کہ اسکے پاس صابر اور صداقت کے درمیان 5 ہزار روپے کی رشوت کی ادائیگی لے حوالے سے گفتگو کی ایک خفیہ ٹیپ ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔

عدالت میں جب اس کیس کا ٹرائل چلا تو بشارت علی اس مبینہ خفیہ آڈیو کے علاوہ کوئی اور ثبوت پیش نہ کر سکا، جس پر عدالت نے صابر اور صداقت کو بری کر دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے بھی اپیل میں یہ فیصلہ برقرار رکھا۔ بشارت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور خود پیش ہو کر دلائل کا سارا زور اسی مبینہ خفیہ آڈیو ریکارڈنگ پر دیا، جس میں رشوت کے لین دین کی بات چیت کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اس سال فروری میں اس کیس کی حتمی سماعت کی اور جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ الیکٹرانک شواہد کے عدالت میں قبولیت کے لیے کڑی شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے، جن میں سورس کی تصدیق، ریکارڈنگ حاصل کرنے کا طریقۂ کار، اور ماہرین کی یہ رپورٹ شامل ہے کہ ریکارڈنگ کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ (ٹمپرنگ) نہیں کی گئی۔

اگرچہ اپنی موجودگی میں ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ عموماً غیر قانونی نہیں سمجھی جاتی، لیکن "دو دوسرے افراد کے درمیان ہونے والی بات چیت کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنا قطعی غیر قانونی عمل ہے"۔ کوئی شواہد ملوث افراد کے حقوق کی خلاف ورزی کر کے حاصل نہیں کیے جا سکتے، اور خفیہ ریکارڈنگ کرنا بذاتِ خود ایک جرم ہے۔ کسی شخص کی اپنی غیر قانونی حرکت (خفیہ ریکارڈنگ) کسی دوسرے کو سزا دینے کی واحد بنیاد نہیں بن سکتی۔

کسی دوسرے شخص کی نجی گفتگو کو بلیک میلنگ یا دیگر غیر قانونی مقاصد کے لیے بغیر اجازت ریکارڈ کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے۔ پیکا ایکٹ کے تحت بدنیتی سے کسی کی آواز یا تصویر کی ریکارڈنگ اور شیئر کرنا قابلِ سزا جرم ہے۔ معمول کے فرائض کی انجام دہی کے دوران کی گئی ریکارڈنگ اور کسی کو پھنسانے (trap) کے لیے کی گئی ریکارڈنگ میں فرق ہے۔ کسی کو پھنسانا قابلِ سزا عمل ہے۔

جب شکایت کنندہ کسی کی غیر قانونی جاسوسی کرتا ہے، تو وہ مظلوم سے خود ایک مجرم بن جاتا ہے۔ جس شخص کی ایسی آڈیو/ویڈیو لیک ہوتی ہے، دراصل وہ مظلوم ہوتا ہے نہ کہ ملزم، اور ایسی بے نام ریکارڈنگ کسی ملزم کیخلاف استعمال نہیں ہو سکتی۔ آئین کا آرٹیکل 14 انسانی وقار اور گھر کی رازداری کو بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ شہریوں کی خفیہ ریکارڈنگ کر کے اسے عدالت میں بطور ہتھیار استعمال کرنا اس آئینی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اسلامی قانون میں بھی گھر کی حرمت اور رازداری کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ قرآنِ پاک میں سختی سے جاسوسی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ شک کی بنیاد پر ایک گھر میں دیوار پھلانگ کر داخل ہونے اور جاسوسی کرنے کو اپنی غلطی تسلیم کیا اور قانون توڑنے والوں کو سزا دینے سے گریز کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون کے دائرے سے باہر کسی بھی قسم کی نگرانی اور رازداری میں مداخلت کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

اگر شہریوں کو بغیر اجازت ایک دوسرے کی نگرانی کی چھوٹ دے دی گئی، تو ہر شہری خود ہی تفتیشی، پراسیکیوٹر اور گواہ بن جائے گا، جو آئین کی خلاف ورزی اور معاشرتی بے چینی کا سبب بنے گا۔ ایسی غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکتوں کو عدالتی جواز فراہم کرنا آئین، اسلام اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔

وہ شواہد جو باقاعدہ نصب شدہ اور معمول کے مطابق کام کرنے والے سیکیورٹی سسٹمز (جیسے CCTV) سے حاصل کیے جاتے ہیں اور جن کی فرانزک تصدیق ہوتی ہے، انکی حیثیت مستند ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، موجودہ مقدمے کی طرح جہاں کوئی شہری بدنیتی کی بنیاد پر خفیہ ریکارڈنگ کر کے اسے سزا دلوانے کے لیے استعمال کرے، اسے مستند ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے بشارت علی کی اپیل خارج کر دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب ہر سیشن اور مجسٹریٹ کورٹ ایف آئی آر کی تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین کرے گی اور رپورٹ آئی جی کو بھیجے گی۔قابلِ دست ...
21/09/2026

اب ہر سیشن اور مجسٹریٹ کورٹ ایف آئی آر کی تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین کرے گی اور رپورٹ آئی جی کو بھیجے گی۔
قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملنے کے باوجود ایف آئی آر درج نہ کرنا یا تاخیر کرنا جس سے ثبوت ضائع ہوں، محض طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ جرم کے ثبوت مٹانے (Section 201 PPC) کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک اہم فیصلہ (Judgment) ہے، جسے جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا ہے اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ بھی اس بنچ کا حصہ تھے۔

1. کیس کا پس منظر اور فیصلہ
* سزا کی توثیق: سپریم کورٹ نے ملزم علی رضا سیال کی درخواستِ اپیل مسترد کر دی ہے۔ ملزم کی عمر قید اور 1,000,000 روپے ہرجانے کی سزا (جو اسے قتل کے جرم میں دی گئی تھی) کو برقرار رکھا گیا ہے۔
* واقعہ: یہ واقعہ 30 اپریل 2012 کو دادو (سیتا روڈ) میں پیش آیا تھا، جہاں ملزم نے اپنے والد کی شہ پر عاشقان علی (مقتول) کو خنجر مار کر قتل کر دیا تھا۔
* عدالتی موازنہ: عدالت نے قرار دیا کہ مقتول کے بیٹے (مستغیث) اور بھتیجے کی گواہی بالکل سچی، اعتماد کے قابل اور میڈیکل رپورٹ (ڈاکٹر کی رپورٹ) سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔ آلۂ قتل (خنجر) بھی ملزم کی نشاندہی پر برآمد ہوا تھا۔ گواہوں کی آپسی رشتہ داری یا وقت گزرنے کے باعث معمولی تضادات سے مرکزی کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
2. ایف آئی آر (FIR) میں تاخیر اور پولس کی غفلت
* پولیس کا رخ: واقعہ 30 اپریل 2012 کی رات 8:30 بجے ہوا، اور پولیس کو 8:40 بجے ہی اطلاع مل گئی تھی (روزنامچے اور لاش جانچ فارم کے مطابق پولیس 9:00 بجے موقع پر موجود تھی)۔ اس کے باوجود ایف آئی آر 3 دن بعد (3 مئی 2012) درج کی گئی۔
* شہری کا دفاع: عدالت نے واضح کیا کہ ایف آئی آر میں یہ تاخیر مدعی/مستغیث کی طرف سے نہیں بلکہ پولیس کی غفلت کی وجہ سے ہوئی۔ لہٰذا، پولیس کی سستی یا ناہلی کی سزا شاکی (فریادی) کو نہیں دی جا سکتی۔
3. پولیس اصلاحات اور عدالتی ہدایات
عدالت نے سندھ اور دیگر صوبوں کی پولیس کے رویے اور نظام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل اہم احکامات جاری کیے:
* نوآبادیاتی (Colonial) الفاظ کا خاتمہ:
* پولیس کے کاغذات میں "فریادی" یا "بخدمت جناب ایس ایچ او" جیسے الفاظ کے استعمال کو سختی سے منع کر دیا گیا۔
* عدالت نے کہا کہ شہری اپنے حق کے لیے پولیس کے پاس آتے ہیں، رحم کی بھیک یا التجا (Cry/Lamentation) کے لیے نہیں۔ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، مالک نہیں۔
* پولیس افسران کے خلاف سیشن 201 PPC کے تحت کارروائی:
* اگر پولیس کو قابلِ دست اندازی (Cognizable) جرم کی اطلاع مل جائے اور وہ قصداً ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کرے جس سے ثبوت یا فارنزک ثبوت ضائع ہوں، تو یہ صرف طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ جرم کے ثبوت مٹانے (Section 201 PPC) کے زمرے میں آئے گا اور متعلقہ پولیس اہلکار کے خلاف پرچہ درج ہو سکتا ہے۔
* عدالتی اداروں (Trial Courts) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایف آئی آر میں پولیس کی جانب سے تاخیر کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی و محکماتی کارروائی کا حکم دیں۔
* آئی جی ایس (IGPs) کو توہینِ عدالت کی تنبیہ:
* سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس فیصلے کے بعد اگر ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر یا پرانے نوآبادیاتی الفاظ کا استعمال جاری رہا، تو تمام آئی جی پیز (IGPs)، ایس پیز (SP Investigation) اور ایس ڈی پی اوز (SDPOs) کے خلاف توہینِ عدالت (Contempt of Court) کی کارروائی کی جائے گی۔
* دیگر انتظامی احکامات:
* پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو حکم دیا گیا کہ وہ 1 جنوری 2025 سے فیصلے کی تاریخ تک کے تمام قتل کے مقدمات کا ریکارڈ (جس میں 24 گھنٹے سے زیادہ تاخیر سے FIR درج ہوئی) 2 ماہ کے اندر عدالت کے چیمبر میں جمع کرائیں۔
* رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ 'محمد بخش کیس' کے سابقہ تاریخی فیصلے کا سندھی زبان میں ترجمہ کروا کر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کریں تاکہ عام عوام اپنے حقوق سے آگاہ ہو سکے۔
نتیجہ: سپریم کورٹ نے ملزم کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی اور ساتھ ہی سندھ پولیس میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور تحکمانہ زبان کے استعمال پر سخت قانونی قدغنیں عائد کر دیں۔

19/09/2026

لاہور ہائیکورٹ کا اہم ترین فیصلہ
PLD 2026 Lahore 580

محمد خالد وسیم بنام حکومت پنجاب
رٹ پٹیشن نمبر 72110 آف 2024
جناب جسٹس محمد امجد رفیق نے 14 جنوری 2025 کو فیصلہ سنایا

معز لاہور ہائیکورٹ نے کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 1925 کے تحت جرائم سے متعلق ایک بہت بڑی قانونی کنفیوژن کو ختم کر دیا ہے۔

عدالت کے سامنے اہم نکات:

1۔ "جرمانہ (Penalty)" اور "سزا (Punishable)" میں فرق
- دفعہ 60(a) سے (h) تک کے جرائم صرف *جرمانہ* کے قابل ہیں، اور جرمانہ لگانے کا اختیار *رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز* کے پاس ہے۔
- دفعہ 60(i)، 62 اور 62A کے تحت جرائم *قابل سزا* ہیں اور ان کی سزا دینے کا اختیار صرف *عدالت* کے پاس ہے۔

2۔ مقدمہ چلے گا کہاں؟ اور اینٹی کرپشن کا کردار کیا ہے؟
- کوآپریٹو ایکٹ کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا 5 سال ہے، اس لیے ضابطہ فوجداری کی دوسری فہرست (Second Schedule) کے تحت یہ مقدمات "مجسٹریٹ فرسٹ کلاس" کے ٹرائل کے قابل ہیں۔
- رجسٹرار کو چاہیے تھا کہ وہ متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے شکایت درج کرتا۔
- رجسٹرار کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کیس کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو بھجوا دے تاکہ بالواسطہ طور پر اسپیشل جج اینٹی کرپشن کو منتقل ہو جائے۔

3۔ اینٹی کرپشن کو کوئی اختیار نہیں
عدالت نے قرار دیا کہ:
- اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو رجسٹرار کے ریفرنس پر کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ کے تحت *تفتیش / انکوائری کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔
- اگر مینجمنٹ کمیٹی کے ممبران کا کوئی عمل تعزیرات پاکستان یا کسی دوسرے قانون کے تحت جرم بنتا ہے اور وہ پاکستان کرمنل لاء (ترمیمی) ایکٹ 1958 کے شیڈول میں شامل ہے تو متاثرہ شخص "براہ راست اسپیشل جج "کے سامنے درخواست دائر کر سکتا ہے۔ پھر اسپیشل جج دفعہ 5(6) کے تحت متعلقہ پولیس افسر کو تفتیش کا حکم دے سکتا ہے۔

عدالت کا حتمی فیصلہ:
رجسٹرار کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کو بھیجا گیا ریفرنس نمبر RCS/H/ACE/2023/1601 خارج کر دیا گیا۔ اور رجسٹرار کو حکم دیا گیا کہ وہ احتساب عدالت کے حکم کے مطابق قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائے۔

⚖️ ضمانت کا اہم قانون | قانونی ضمانت بوجہ تاخیر  دفعہ 497 ضابطہ فوجداری*حوالہ: 2017 M L D 1376صفت اللہ بنام سرکار - پشاو...
18/09/2026

⚖️ ضمانت کا اہم قانون | قانونی ضمانت بوجہ تاخیر دفعہ 497 ضابطہ فوجداری*

حوالہ: 2017 M L D 1376
صفت اللہ بنام سرکار - پشاور ہائیکورٹ
جج: سید افسر شاہ صاحب
فیصلہ: 11 اپریل 2017

عدالت نے اصول واضح کر دیے:

1. تیسری شرط (Third Proviso) دفعہ 497 کی تشریح:

الف) اگر کسی ملزم پر ایسا جرم ہے جس کی سزا موت نہیں، اور وہ *ایک سال (1 Year)* سے مسلسل جیل میں ہے اور ٹرائل ختم نہیں ہوا، تو عدالت *پابند ہے* کہ اسے ضمانت پر رہا کرے۔

ب) اگر جرم کی سزا موت ہے، اور ملزم دو سال (2 Years)* سے مسلسل جیل میں ہے اور ٹرائل ختم نہیں ہوا، تو بھی عدالت پابند ہے کہ اسے ضمانت دے، بشرطیکہ ٹرائل میں تاخیر ملزم کی وجہ سے نہ ہوئی ہو۔

2. چوتھی شرط (Fourth Proviso):
یہ قانونی حق ان ملزمان کو نہیں ملے گا جو:
- پہلے سے سزا یافتہ ہو
- عادی، سخت، خطرناک مجرم ہو
- دہشت گردی میں ملوث ہو

اس کیس کے حقائق:
- 25 کلو چرس، 5 کلو ہیروئن، اور 5 کلو 200 گرام افیون گاڑی کے خفیہ خانوں سے برآمد ہوئی۔
- ایک ملزم جو 09.03.2015 سے جیل میں تھا، اس کا ٹرائل 2 سال تک مکمل نہ ہوا اور تاخیر اس کی وجہ سے نہیں تھی، اس لیے عدالت نے اسے قانونی ضمانت پر رہا کر دیا۔
- باقی دو ملزمان کی 2 سال کی مدت پوری نہیں ہوئی تھی، اس لیے ان کی درخواستیں قبل از وقت ہونے کی وجہ سے خارج کر دی گئیں۔

اہم نکتہ: دفعہ 51 CNSA کی رکاوٹ کے باوجود بھی قانونی ضمانت (Statutory Bail) دی جا سکتی ہے۔ یہ ملزم کا قانونی حق ہے، عدالت کی صوابدید نہیں۔

حوالہ جات: Gul Zaman کیس 1999 SCMR 1271

CRIMES OF DIFFICULT PROOFA Landmark Judgment of Justice Muhammad Hashim Khan Kakkar on Domestic Homicide.In a significan...
16/09/2026

CRIMES OF DIFFICULT PROOF
A Landmark Judgment of Justice Muhammad Hashim Khan Kakkar on Domestic Homicide.

In a significant judgment in Habib Ullah v. The State, the Supreme Court of Pakistan upheld the conviction of a man for murdering his wife with a hammer inside their home, but the ruling reaches well beyond the facts of this single case. The Court described domestic homicides as "crimes of difficult proof," reviving 18th century jurist Cesare Beccaria's idea that offences committed within the secrecy of the home are especially hard to prosecute because the perpetrator has full control over the crime scene and can easily destroy evidence or stage the death as an accident or su***de.

Drawing on Articles 122 and 129 of the Qanun-e-Shahadat Order, the Court held that when a wife dies an unnatural death inside her matrimonial home, the burden shifts to the husband to explain what happened and that fleeing, abandoning children, or failing to inform authorities can become decisive evidence of guilt. The judgment also looked abroad for guidance, referencing India's "dowry death" presumption under its new criminal codes, the UK's Domestic Homicide Reviews, and the women led police stations of Argentina and Brazil as models worth considering.

The bench did not hold back in criticizing the police either, condemning the investigating officer for recovering a blood-stained hammer and bedsheet from the crime scene but failing to ever produce them in court calling this a serious and unjustified lapse reflecting broader institutional apathy toward gender-based violence. Citing the Human Rights Commission of Pakistan's 2025 report, the Court noted the scale of the problem, thousands of reported cases of domestic violence, honor killings, r**e, and murder against women across the country in just one year, with the true numbers likely far higher due to underreporting.

Supreme Court found no illegality in the High Court's decision. It held that the chain of circumstantial evidence the last seen testimony of the couple's minor daughter, the hammer matching the fatal injuries, and the petitioner's seven year absconding established guilt beyond reasonable doubt. Leave to appeal was refused, and the petition was dismissed, upholding Habib Ullah's conviction and life sentence for the murder of his wife.

خلع کی بنیاد پر نکاح ختم ہو تو کیا بیوی حقِ مہر میں ملی جائیداد اپنے پاس رکھ سکتی ہے؟سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم قانونی...
14/09/2026

خلع کی بنیاد پر نکاح ختم ہو تو کیا بیوی حقِ مہر میں ملی جائیداد اپنے پاس رکھ سکتی ہے؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم قانونی فیصلہ
PLD 2026 Supreme Court 319
فریقین کے درمیان نکاح 5 اپریل 2001 کو ہوا۔ نکاح کے وقت حقِ مہر میں 10 لاکھ روپے نقد اور ایک غیر منقولہ جائیداد، یعنی پلاٹ نمبر 6، غازی کوٹ ٹاؤن شپ، مانسہرہ مقرر کیا گیا۔
بعد ازاں مذکورہ پلاٹ شوہر کے والد کی جانب سے فروخت کیے جانے پر بیوی نے نکاح نامہ کی بنیاد پر جائیداد کے متعلق اپنا حقِ ملکیت تسلیم کرانے کے لیے دعویٰ دائر کیا، جس میں اسے ڈگری بھی حاصل ہوئی۔
بعد میں بیوی نے تنسیخِ نکاح، نفقہ، حقِ مہر اور جہیز وغیرہ کے لیے فیملی سوٹ دائر کیا۔
فیملی کورٹ کا فیصلہ
فیملی کورٹ نے فریقین کے درمیان نکاح کو خلع کی بنیاد پر ختم کر دیا۔
تاہم بیوی کی جانب سے شوہر کے خلاف ظلم یا cruelty ثابت نہ ہونے کی صورت میں عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ نکاح خلع کی بنیاد پر ختم ہوا ہے، اس لیے حقِ مہر میں حاصل ہونے والی جائیداد واپس کرنا ہوگی۔
ہائی کورٹ نے بھی اس مؤقف کو برقرار رکھا۔
سپریم کورٹ کا اہم قانونی اصول
سپریم کورٹ نے Family Courts Act, 1964 کی Section 10(4) اور اس میں Family Courts (Amendment) Act, 2015 کے ذریعے کی گئی ترمیم کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ:
اگر مصالحت کی کوشش ناکام ہو جائے اور بیوی خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرواتی ہے، جبکہ شوہر کی جانب سے ظلم یا زیادتی ثابت نہ ہو، تو قانون کے تحت خلع کے نتیجے میں بیوی کو حاصل شدہ حقِ مہر یا اس کا نعم البدل واپس کرنے کا قانونی اثر پیدا ہوتا ہے۔
جائیداد بھی حقِ مہر ہو تو؟
یہ فیصلہ اس پہلو سے بھی انتہائی اہم ہے کہ اگر حقِ مہر صرف نقد رقم تک محدود نہ ہو بلکہ پلاٹ، مکان یا کوئی دوسری غیر منقولہ جائیداد بھی مہر میں شامل ہو، تو خلع کی قانونی صورتِ حال میں اس جائیداد کی واپسی کا سوال بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
یعنی حقِ مہر میں دی گئی جائیداد کو محض اس بنیاد پر محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا کہ اس کے متعلق پہلے کوئی ڈگری یا declaration حاصل کی جا چکی تھی۔
سابقہ ڈگری اور بعد کی خلع کی ڈگری
سپریم کورٹ نے اس امر پر بھی غور کیا کہ جب بعد میں فیملی کورٹ نے خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرتے ہوئے حقِ مہر کی واپسی کا حکم دیا تو اس کا پہلے سے موجود عدالتی فیصلے پر کیا اثر ہوگا۔
عدالت نے قرار دیا کہ بعد میں آنے والی خلع کی ڈگری اور اس کے قانونی نتائج کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور موجودہ قانونی صورتحال کے تناظر میں سابقہ declaration/ڈگری کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا

10/09/2026

اگر آپ کا پاسپورٹ بلاک (Blacklist یا Hold. یا Block یا impound) ہو جائے تو پاکستانی قانون کے مطابق درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
---

1. پاسپورٹ بلاک ہونے کی وجہ معلوم کریں

پہلا قدم یہ ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ پاسپورٹ کس وجہ سے بلاک ہوا ہے۔ اس کے لیے درج ذیل ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں:

ڈی جی ایم پی (DG Immigration & Passports) سے رابطہ

نادرا اور امیگریشن اینڈ پاسپورٹ آفس سے معلوم کریں کہ کیا آپ کا پاسپورٹ کسی حکومتی ایجنسی کی ہدایت پر بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے (FIA) سے رابطہ

اگر پاسپورٹ بلیک لسٹ ہوا ہے، تو ایف آئی اے کے امیگریشن ونگ یا قریبی امیگریشن دفتر سے تفصیلات حاصل کریں۔

نادرا اور وزارت داخلہ سے چیک کریں

بعض اوقات نادرا کے ڈیٹا بیس میں نام شامل ہونے کی وجہ سے بھی پاسپورٹ بلاک ہو سکتا ہے، جیسے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں نام آ جانا۔

---

2. تحریری درخواست جمع کرائیں

اگر پاسپورٹ بلاک ہونے کی وجہ معلوم ہو جائے تو متعلقہ ادارے کو تحریری درخواست دی جائے جس میں وضاحت طلب کی جائے اور بحالی کی گزارش کی جائے۔

درخواست وزارت داخلہ، ڈی جی امیگریشن، یا نادرا کو دی جا سکتی ہے۔

درخواست میں شناختی دستاویزات، پاسپورٹ کی کاپی، اور متعلقہ تفصیلات شامل کریں۔

---

3. ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) سے نام نکالنے کے لیے درخواست

اگر پاسپورٹ ECL میں نام شامل ہونے کی وجہ سے بلاک ہوا ہے، تو:

وزارت داخلہ پاکستان کو تحریری درخواست دیں۔

اگر کسی کیس کی وجہ سے نام شامل کیا گیا ہے تو متعلقہ عدالت سے رجوع کریں۔

سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر کے نام نکالنے کی درخواست کی جا سکتی ہے۔

---

4. بینک ڈیفالٹ یا مالیاتی مسائل کی صورت میں کارروائی

اگر پاسپورٹ کسی بینک ڈیفالٹ، قرضہ، یا مالیاتی فراڈ کی وجہ سے بلاک ہوا ہو تو درج ذیل اقدامات کریں:

اسٹیٹ بینک یا متعلقہ بینک سے رجوع کریں اور مسئلے کا حل تلاش کریں۔

عدالت میں حکم امتناعی (Stay Order) کی درخواست دائر کریں تاکہ سفر پر عائد پابندی ختم ہو سکے۔
---

5. عدالت سے رجوع کرنا

اگر پاسپورٹ غیر قانونی یا بلاجواز طور پر بلاک کر دیا گیا ہے، تو قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے:

ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کریں

اگر پاسپورٹ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے تحت بلاک ہوا ہے تو ہائی کورٹ میں آئینی درخواست (Writ Petition) دائر کی جا سکتی ہے۔

سپریم کورٹ میں اپیل کریں

اگر ہائی کورٹ فیصلہ نہ دے یا معاملہ پیچیدہ ہو تو سپریم کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔

---

6. فوجداری یا نیب کیس کی صورت میں قانونی دفاع

اگر پاسپورٹ FIA، NAB، یا کسی دیگر تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے بلاک کیا گیا ہے تو:

متعلقہ ادارے سے انکوائری رپورٹ کی کاپی طلب کریں۔

اگر مقدمہ درج ہے تو وکیل کے ذریعے عدالت سے رجوع کریں۔

ضمانت یا حکم امتناعی (Stay Order) کے لیے متعلقہ عدالت میں درخواست دی جا سکتی ہے۔
---

غرض یہ کہ پاسپورٹ بلاک ہونے کی صورت میں سب سے پہلے اس کی وجہ معلوم کریں، پھر متعلقہ ادارے (امیگریشن، وزارت داخلہ، ایف آئی اے) سے رابطہ کریں۔ اگر معاملہ حل نہ ہو تو قانونی طریقے (ہائی کورٹ، یا سپریم کورٹ) اختیار کریں۔

بابر مسیح نامی ایک شخص کو 6 اکتوبر 2011ء کو بطور صفائی کارکن ملازمت پر رکھا گیا۔ کچھ ہی عرصے بعد، 30 دسمبر 2011ء کو اس ک...
04/09/2026

بابر مسیح نامی ایک شخص کو 6 اکتوبر 2011ء کو بطور صفائی کارکن ملازمت پر رکھا گیا۔ کچھ ہی عرصے بعد، 30 دسمبر 2011ء کو اس کی ملازمت مستقل بھی کر دی گئی۔

لیکن پھر اس کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے اس کی ملازمت بھی چھین لی اور اسے جیل بھی پہنچا دیا۔

اس کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ درج ہوا اور وہ گرفتار ہو کر عدالتی تحویل میں چلا گیا۔ جیل میں ہونے کی وجہ سے وہ اپنی ملازمت پر حاضر نہ ہو سکا۔ محکمہ نے اس کی غیرحاضری کو بنیاد بناتے ہوئے اسے ملازمت سے نکال دیا۔

وقت گزرتا گیا...

آخرکار 11 نومبر 2021ء کو لاہور ہائیکورٹ نے اسے اس فوجداری مقدمہ میں بری کر دیا۔ یعنی جس مقدمے کی وجہ سے وہ جیل گیا تھا، وہ مقدمہ اس کے خلاف ثابت نہ ہو سکا۔

اس کے بعد محکمانہ اپیل میں اسے دوبارہ ملازمت پر بحال کر دیا گیا اور اس کی بحالی 26 نومبر 2012ء سے تصور کی گئی۔

لیکن یہاں ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔

محکمہ نے اسے ملازمت تو واپس دے دی، مگر برطرفی کے درمیانی عرصے کی تنخواہیں اور دیگر مالی مراعات دینے سے انکار کر دیا۔ اس عرصے کو غیر معمولی رخصت قرار دے دیا گیا۔

بابر مسیح نے یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

🏛️ عدالت نے کیا دیکھا؟

عدالت نے دیکھا کہ خود محکمانہ اتھارٹی یہ تسلیم کر چکی تھی کہ بابر مسیح کی غیرحاضری اس کے قابو سے باہر حالات کی وجہ سے ہوئی تھی اور اس کی غیرحاضری دانستہ نہیں تھی۔

مزید یہ بھی سامنے آیا کہ محکمہ ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا کہ اس دوران بابر مسیح کہیں اور ملازمت کر رہا تھا یا کوئی آمدن حاصل کر رہا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایسی صورتحال میں محض یہ کہنا کہ ملازم نے اس عرصے میں ڈیوٹی نہیں دی، اس کے بقایا مالی فوائد روکنے کے لیے کافی نہیں۔

⚖️ عدالت نے ایک اہم اصول بھی واضح کیا

کسی ملازم کو غیر قانونی طور پر ملازمت سے نکالنے کے بعد اگر اسے دوبارہ بحال کر دیا جائے تو بقایا تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات کا دیا جانا عمومی اصول ہے، جبکہ انکار ایک استثنائی عمل ہے۔

اگر اتھارٹی بقایا مراعات نہیں دینا چاہتی تو اسے واضح، ٹھوس اور قابلِ قبول وجوہات دینا ہوں گی۔ فیصلہ من مانی یا بلاجواز نہیں ہو سکتا۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی ملازم کی بحالی کا مطلب صرف اسے دوبارہ کرسی پر بٹھا دینا نہیں، بلکہ بحالی کے نتیجے میں اس کے سابقہ ملازمتی حقوق، سنیارٹی اور دیگر مراعات کے تحفظ کا معاملہ بھی سامنے آتا ہے۔

📜 آخرکار کیا فیصلہ ہوا؟

لاہور ہائیکورٹ نے بقایا مالی مراعات سے انکار کی حد تک متعلقہ محکمانہ احکامات کالعدم قرار دے دیے اور معاملہ دوبارہ متعلقہ اتھارٹی کو بھیج دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ بابر مسیح کے بقایا مالی فوائد کے معاملے پر قانون اور اعلیٰ عدالتوں کے طے شدہ اصولوں کی روشنی میں نئے سرے سے فیصلہ کیا جائے۔

یہ فیصلہ مصدقہ عدالتی فیصلے کی وصولی سے دو ماہ کے اندر کرنا ہوگا۔

🔹 سبق

کسی ملازم کو ایسے حالات کی سزا نہیں دی جا سکتی جو اس کے اختیار سے باہر ہوں۔

اور اگر عدالت یا مجاز اتھارٹی اسے دوبارہ ملازمت پر بحال کر دے تو اس کے مالی اور ملازمتی حقوق کا فیصلہ بھی قانون، انصاف اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق کرنا لازم ہے۔

04/09/2026

I found several judgments on different legal issues while searching the Lahore High Court website. Please note these for future reference. Whenever you need judgments on these specific points, you can search for and retrieve the relevant judgment.

CONSTITUTIONAL MATTERS

2014 PLC (C.S) 332, 2014 CLC 1410, 2014 CLC 542, PLJ 2014 LHR 587, 2014 CLC 1259, PLJ 2014 LHR 649, 2014 CLC 477, PLD 2014 LHR 408, 2015 MLD 30, 2015 PLC 101 & 2016 TD (Labour) 307, PLJ 2015 LHR 980, PLD 2015 LHR 34 & 2015 CLD 72, 2015 PLC (C.S) 144, 2015 PLC (C.S) 468, PLJ 2016 LHR 855, 2016 LN 1025, 2016 MLD 1680, PLJ 2016 LHR 649, PLJ 2016 LHR 947, 2016 CLC 1534, 2017 PTD 665, 2017 YLR 74,PLD 2018 LHR 509, PLJ 2018 LHR 646 & 2019 LAW NOTE 84 LHR, 2018 MLD 149, PLJ 2018 LHR 87, 2018 CLD 242 LHR & PLJ 2018 LHR 801, PLJ 2018 LHR 155, 2018 CLC 1301 LHR, PLD 2018 LHR 198, PLJ 2019 LHR 53, 2019 PTD 1922 LHR, 2019 PLC (C.S) 699 LHR & PLJ 2019 LHR 348, PLJ 2020 LHR 607, 2021 PLC (C.S) 1553, PLJ 2021 LHR NOTE 111, PLD 2021 LHR 605 & PLJ 2021 LHR 687, PLJ 2021 LHR 610, 2021 YLR 1821 & PLJ 2021 LHR 498, PLJ 2021 LHR 302, PLJ 2021 LHR 176, PLJ 2022 LHR 403, PLJ 2022 LHR 148, 2022 PLC (C,S) 434, PLJ 2022 LHR (NOTE) 108, PLJ 2022 LHR 57, PLJ 2022 LHR 282, 2022 CLC 1992, PLJ 2022 LHR (NOTE) 96, 2022 CLC 1328, 2022 LHC 528, PLJ 2023 LHR 245



TAXATION MATTERS

2013 PTD 1304, 2013 PTD 2005, 2013 PTD 2077, PLJ 2014 TAX CASES (LHR) 87, 2014 PTD 199, 2014 PTD 841, 2015 PTD 1068 & 2015 PCTLR 480, 2015 PTD 772 & 2015 PCTLR 291, 2015 PTD 2368 & PLJ 2015 TAX CASE (LHR) 59, 2015 PTD 2256, 2015 PTD 981 & 2015 PCTLR 345, 2015 PTD 812 & 2015 PCTLR 218 ,2015 PTD 1236, 2015 PTD 2202, 2015 PTD 2522, 2015 PTD 1207 & 2015 PCTLR 453, 2016 PTD 467, 2016 PTD 2409, 2016 PTD 2422, 2017 PTD 352, 2017 PTD 243, 2017 PTD 2064 LHR, 2017 PTD 1528 LHR, 2017 PTD 665, PLJ 2018 LHR 917, 2018 PTD 378 & 2018 PCTLR 1 LHR, 2020 PTD 782 LHR, 2021 PTD 1786 LHR, 2021 PTD 587 LHR, (2021) 123 TAX 158 & PLJ 2021 LHR 363, 2022 LHC 3288, 2023 LHC 6173



CIVIL MATTERS

2013 PTD 2040, PLJ 2013 LHR 601, 2013 LHC 3168, PLJ 2014 LHR 1057, PLJ 2014 LHR 108, PLD 2014 LHR 1, 2014 YLR 1046, 2014 CLD 193, 2014 YLR 1583 LHR, 2015 PTD 1385, 2015 MLD 1443, 2015 YLR 34, 2016 YLRN 75 LHR, PLD 2018 LHR 60, 2019 LHC 1235, 2021 YLR 935, 2021 CLD 1408, 2022 YLR 1184, 2023 LHC 2463, PLD 2023 LHR 61, 2024 LHC 2268, 2024 CLC 550 LHR



COMPANY / CONSUMER/ INSURANCE/ LABOUR MATTERS

2016 CLD 828, 2020 CLD 766 LHR, 2020 CLD 619, 2022 LHC 3419, PLD 2013 LHR 607, 2019 CLD 526 LHR, 2023 CLD 1354 LHR, 2022 LHC 1368



BANKING MATTERS

2013 CLD 1661, 2013 CLD 2080, 2014 CLD 119, PLJ 2014 LHR 964, 2014 CLD 153, 2014 CLD 1436, 2014 CLD 176, PLJ 2014 LHR 1189, 2014 CLD 582, 2015 CLD 1167, 2015 CLD 1590, 2016 CLC 837 & 2016 CLD 454, 2017 CLD 447, PLJ 2017 LHR 172, PLJ 2020 LHR 555, 2017 CLD 1229 LHR, PLJ 2021 LHR 442, PLJ 2021 LHR Note 40, PLJ 2021 LHR Note 55, 2021 CLD 1019 LHR, 2021 CLD 1220 LHR, 2023 CLD 307 LHR, 2023 CLD 554 LHR



SERVICE MATTERS

2014 PLC (C.S) 418, 2014 LHC 6389, 2014 LHC 960, 2015 PLC (C.S) 449, 2016 PLC (C.S) 693, PLJ 2016 LHR 534, 2016 LN 376 & 2016 CLR 376, 2017 PLC (C.S) 685, 2020 PLC (C.S) 1036, 2020 PLC (C.S) 593, 2021 PLC (C.S) 752, PLJ 2021 LHR 573, 2021 PLC 139 LHR, 2021 PLC (C.S) 1126, PLD 2022 LHR 302, PLJ 2022 LHR 601, 2022 LHC 3803, 2023 LHC 5502, 2023 LHC 4923, 2023 LHC 2829, 2023 LHC 2668, 2023 LHC 2504, 2023 LHC 1365, 2023 LHC 311, 2024 LHC 2239, 2024 PLC (C.S) 33 LHR, 2024 YLR 238 LHR



RENT/ FAMILY MATTERS

2014 YLR 791, 2020 MLD 226, 2022 YLR 675, PLJ 2022 LHR 85, PLD 2014 LHR 632, 2019 CLC 1539 LHR, 2020 CLC 2099 LHR, PLD 2021 LHR 624, PLJ 2021 LHR 419, 2021 YLR 1299 LHR, PLJ 2022 LHR 359, PLJ 2022 LHR 630, PLJ 2023 LHR 844, PLJ 2023 LHR 315 & 2024 CLC 187 LHR, 2023 CLC 1673 LHR, 2024 LHC 572



ELECTION / ENVIRONMENTAL MATTERS

2023 LHC 2156, 2023 LHC 2131, 2023 LHC 2122, 2023 LHC 2096, PLD 2020 LHR 24 & PLJ 2020 LHR 184

Address

Office No. 17, Royal Inn Plaza, F-8 Markaz
Islamabad
44100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Beacon Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Beacon Law Associates:

Shortcuts

Share