Malik Saleem Iqbal Awan

Malik Saleem Iqbal Awan Alhamdulillah — we have introduced a new and practical trend in legal practice.

At Awan & Awan Law Associates, specialists from every field of law work together on a single platform,
Whether the case is in Islamabad, Lahore, Rawalpindi or Bahawalpur

25/05/2026
25/05/2026
*سرکاری ملازمین کے LPR  ریٹائرمنٹ لینے کے لئے مطلوبہ  دستاویزات کی لسٹ جاری کردی گئی*تمام سربراہان ادارہ کو تاکید کی جات...
24/05/2026

*سرکاری ملازمین کے LPR ریٹائرمنٹ لینے کے لئے مطلوبہ دستاویزات کی لسٹ جاری کردی گئی*
تمام سربراہان ادارہ کو تاکید کی جاتی ہے کہ آئندہ سے ایل پی آر کے کیس درج ذیل چیک لسٹ کے مطابق ارسال کریں

2023 SCMR 1951سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ جب کوئی ملازم ریٹائر ہو جائے تو اس کے خلاف پنشن رولز کے تحت بھی محکما...
24/05/2026

2023 SCMR 1951

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ جب کوئی ملازم ریٹائر ہو جائے تو اس کے خلاف پنشن رولز کے تحت بھی محکمانہ کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی، خصوصاً ایسی صورت میں جب قانون میں اس کی واضح اجازت موجود نہ ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ملازم اور محکمہ کے درمیان سروس کا تعلق ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا محکمہ سابق ملازم کے خلاف ازسرِ نو کارروائی یا سزا عائد نہیں کر سکتا۔

عدالتِ عظمیٰ نے مزید قرار دیا کہ پنشن ملازم کا قانونی اور earned right ہے، جسے بغیر قانونی اختیار کے روکا یا متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر محکمہ ریٹائرمنٹ کے بعد کارروائی کرنا چاہے تو اس کیلئے قانون میں واضح شق اور طریقہ کار موجود ہونا ضروری ہے، بصورت دیگر ایسی کارروائی غیر قانونی اور کالعدم تصور ہوگی۔

یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے نہایت اہم ہے کیونکہ اکثر محکمے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ملازمین کو مختلف انکوائریوں یا پنشن کٹوتیوں کے ذریعے ہراساں کرتے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ قانون سے ہٹ کر کوئی کارروائی قابل قبول نہیں۔

2011 P L C (C.S.) 546Muhammad Munawar Vs. District Police Officer, Mandi Baha-ud-Din and another( پنجاب سروس ٹربیونل )📌 ...
23/05/2026

2011 P L C (C.S.) 546
Muhammad Munawar Vs. District Police Officer, Mandi Baha-ud-Din and another
( پنجاب سروس ٹربیونل )

📌 اہم قانونی اصول:

پنجاب سروس ٹربیونل نے قرار دیا کہ Leave Preparatory to Retirement (LPR) ملازمت کا لازمی حصہ ہے اور جب تک LPR مکمل نہ ہو جائے، ملازم ہر لحاظ سے سرکاری ملازم ہی تصور ہوتا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی ملازم LPR کے دوران اپنی ریٹائرمنٹ واپس لینا چاہے تو وہ LPR ختم ہونے سے پہلے اپنی درخواست واپس لے سکتا ہے، اور محکمہ اس کے غیر استعمال شدہ LPR کو منسوخ کر کے دوبارہ بحال کرنے کا پابند ہوگا۔

📌 کیس کے اہم نکات:

✅ اپیلنٹ کو 23-10-2009 سے 355 دن کی LPR دی گئی تھی۔
✅ ریٹائرمنٹ کی تاریخ 22-10-2010 مقرر تھی۔
✅ اپیلنٹ نے 18-12-2009 کو غیر استعمال شدہ LPR منسوخ کر کے دوبارہ ملازمت میں بحالی کی درخواست دے دی۔
✅ ٹربیونل نے قرار دیا کہ ملازم کو درخواست دینے کی تاریخ یعنی 18-12-2009 سے ملازمت میں تصور کیا جائے گا، نہ کہ درخواست منظور ہونے کی تاریخ سے۔
✅ غیر استعمال شدہ LPR منسوخ کر کے ملازم کو بحال کرنے کا حکم دیا گیا۔
✅ درمیانی عرصہ “leave of the kind due” شمار ہوگا۔

⚖️ قانونی اہمیت:

یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ:

* LPR کے دوران ملازم مکمل طور پر سروس میں رہتا ہے۔
* ریٹائرمنٹ LPR مکمل ہونے سے پہلے حتمی نہیں ہوتی۔
* ملازم اپنی درخواستِ ریٹائرمنٹ واپس لے سکتا ہے۔
* محکمہ تاخیر یا منظوری نہ دینے کا بہانہ بنا کر ملازم کو سروس سے محروم نہیں کر سکتا۔

⚖️ عوان اینڈ اعوان لا ایسوسی ایٹس ⚖️شکر الحمد للہسپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک اور بڑی کامیابیمعزز سپریم کورٹ آف پاکستان...
23/05/2026

⚖️ عوان اینڈ اعوان لا ایسوسی ایٹس ⚖️

شکر الحمد للہ
سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک اور بڑی کامیابی

معزز سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم سروس لاء مقدمہ میں برطرف ملازم کو بحال کرتے ہوئے قرار دیا کہ معمولی نوعیت کے الزامات پر “Dismissal from Service” جیسی سخت سزا دینا قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے “Doctrine of Proportionality” کو لاگو کرتے ہوئے برطرفی کی سزا کو تبدیل کر دیا اور ملازم کی فوری بحالی کا حکم جاری کیا۔

📌 اہم نکات:

✅ صرف ایک دن غیر حاضری اور چند بار تاخیر سے آنے پر برطرفی غیر متناسب سزا قرار۔

✅ سپریم کورٹ نے ملازم کی بحالی کا حکم جاری کیا۔

✅ سزا کو صرف دو سال کیلئے سالانہ انکریمنٹس روکنے تک محدود کر دیا گیا۔

✅ عدالت نے واضح کیا کہ انتظامیہ سزا دیتے وقت انصاف، تناسب اور سروس ریکارڈ کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔

یہ فیصلہ سروس لاء میں ایک اہم نظیر ہے اور ملازمین کے قانونی و آئینی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔

👨‍⚖️ Malik Saleem Iqbal Awan, ASC
Awan & Awan Law Associates

📍 Islamabad Office:
Al-Anayat Mall, Office No. 15, 3rd Floor, G-11 Markaz

📍 Lahore Office:
Mycoop Centre, 1-Mozang Road

📞 Cell: 0300-6081067

⚖️🔥 وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہسینیارٹی صرف میرٹ لسٹ کے مطابق ہوگی، جوائننگ ڈیٹ کے مطابق نہیںوفاقی آئینی عدالت نے ...
23/05/2026

⚖️🔥 وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ
سینیارٹی صرف میرٹ لسٹ کے مطابق ہوگی، جوائننگ ڈیٹ کے مطابق نہیں

وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمین کے حقوق سے متعلق ایک نہایت اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر ملازمین ایک ہی سلیکشن پراسس اور ایک ہی بیچ کے ذریعے بھرتی کیے گئے ہوں تو ان کی سینیارٹی کا تعین صرف میرٹ لسٹ کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ جوائننگ کی تاریخ کی بنیاد پر۔

⚖️ عدالت کے سنہری اصول:

✅ میرٹ ہی اصل معیار ہے
پبلک سروس کمیشن / سلیکشن کمیٹی کی مرتب کردہ میرٹ لسٹ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

✅ جوائننگ ڈیٹ فیصلہ کن نہیں
صرف پہلے یا بعد میں جوائن کرنا سینیارٹی کا معیار نہیں بن سکتا۔

✅ غیر قانونی کنٹریکٹ شرائط بے اثر
ایسی تمام شرائط جو سروس رولز یا قانون کے خلاف ہوں، کالعدم تصور ہوں گی۔

✅ تاخیر کا اعتراض ہر صورت قابلِ قبول نہیں
اگر محکمہ یہ ثابت نہ کر سکے کہ ملازم کو سینیارٹی لسٹ کی بروقت اطلاع دی گئی تھی تو تاخیر (Laches) کا اعتراض قابلِ سماعت نہیں ہوگا۔

❌ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم
وفاقی آئینی عدالت نے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ سینیارٹی لسٹ ازسرِ نو میرٹ کے مطابق مرتب کی جائے۔

📌 تمام سرکاری اداروں کے لیے اہم ہدایات:

🔹 ہر نئی بھرتی، پروموشن یا ریگولرائزیشن کے بعد نئی سینیارٹی لسٹ تیار کی جائے
🔹 ہر سال جنوری میں سینیارٹی لسٹ کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے
🔹 سینیارٹی لسٹ تمام متعلقہ ملازمین تک پہنچائی جائے
🔹 سینیارٹی لسٹ سرکاری ویب سائٹس پر اپلوڈ کی جائے

🏆 یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟

یہ فیصلہ ہزاروں سرکاری ملازمین کے لیے امید کی نئی کرن ہے جنہیں میرٹ میں آگے ہونے کے باوجود محض جوائننگ ڈیٹ کی بنیاد پر سینیارٹی میں پیچھے کر دیا جاتا تھا۔

📢 اب اصول بالکل واضح ہے:

✨ “ایک ہی بیچ میں بھرتی = سینیارٹی صرف میرٹ لسٹ کے مطابق” ✨

⚖️ انصاف، شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کی جانب ایک تاریخی قدم۔

Malik Saleem Iqbal Awan
Advocate Supreme Court
Service Laws Consultant

📍 Islamabad Office:
Al-Anayat Mall, Office No. 15, 3rd Floor, G-11 Markaz

📍 Lahore Office:
Mycoop Centre, 1-Mozang Road

📞 Cell: 0300-6081067












2007 SCMR 1835کسی ملازم کو ادا کی جانے والی تنخواہ اور مراعات کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا...
22/05/2026

2007 SCMR 1835

کسی ملازم کو ادا کی جانے والی تنخواہ اور مراعات کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کسی سرکاری ملازم کو دورانِ ملازمت محکمہ کی جانب سے تنخواہ، الاؤنسز یا دیگر مالی مراعات ادا کی جاتی رہیں اور ملازم نے حسنِ نیت کے ساتھ فرائض سرانجام دیئے ہوں تو بعد میں ان رقوم کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ محکمانہ غلطی یا انتظامی کوتاہی کا بوجھ ملازم پر نہیں ڈالا جا سکتا، خصوصاً جب ملازم نے کسی قسم کی دھوکہ دہی یا غلط بیانی نہ کی ہو۔

Malik Saleem Iqbal Awan
Advocate Supreme Court
Service Laws Consultant

📍 Islamabad Office:
Al-Anayat Mall, Office No. 15, 3rd Floor, G-11 Markaz

📍 Lahore Office:
Mycoop Centre, 1-Mozang Road

📞 Cell: 0300-60810

Address

AL-Inayat Mall, Room No:15, 3rd Floor, G-11 Markaz
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malik Saleem Iqbal Awan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Malik Saleem Iqbal Awan:

Share