Law with Mutasim Khan

Law with Mutasim Khan contact us for any legal assistance.

22/06/2024
07/05/2024

حق حضانت یعنی کسٹڈی آف مائنر کے حوالے سے عدالت عظمی کے جج؛ جسٹس اطہر من اللہ صاحب کا ایک انتہائی اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل اور حقائق کی طرف جانے سے پہلے عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ کیا محض دوسری شادی کی بناء پر والد یا والدہ کو حضانت سے محروم کیا جا سکتا ہے یا نہیں اور وہ کون سے عوامل ہیں جن کی بنیاد پر عدالتیں " بچے کی بہتری" کا فیصلہ کرتے وقت انحصار کر سکتی ہیں۔

کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :

شائستہ حبیب نامی مدعیہ کی شادی اکیس جون دو ہزار بارہ کو عارف حبیب نامی مدعا علیہ کے ساتھ ہوئ تھی جس کے نتیجے میں سترہ اپریل دو ہزار تیرہ کو ابراہیم کی پیدائش ہوئ۔ ابراہیم کی پیدائش کے بعد مدعیہ اور مدعا علیہ میں اختلافات جنم لیتے ہیں لیکن مختصرا زوجین کے درمیان ان اختلافات کا نتیجہ بائیس نومبر دو ہزار سولہ کو طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہاں پر یاد رہے کہ فریقین کے درمیان اختلافات اس حد تک گھمبیر ہو چکے تھے کہ مدعا علیہ کی جانب سے ایک طرف جسٹس آف پیس کے زریعے مدعیہ پر دو جنوری دو ہزار سترہ کو ایف آئی آر کے اندراج کے زریعے فوجداری مقدمات کا آغاز بھی کیا جاتا ہے تو دوسری طرف عائلی عدالت میں ابراہیم کی حضانت یعنی کسٹڈی کے لئے اٹھائیس جنوری دو ہزار سترہ کو درخواست بھی دی جاتی ہے۔ مدعا علیہ یعنی عارف حبیب کی جانب سے بچے کی حضانت کے لئے دائر کردہ درخواست پر بالآخر چار سال کے صبر آزما انتظار کے بعد تیس جون دو ہزار اکیس کو مدعا علیہ کے حق میں فیصلہ سنایا جاتا ہے یعنی عدالت یہ فیصلہ دیتی ہے کہ ابراہیم کی بہتری اس میں ہے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ رہے جس کے خلاف شائستہ حبیب کی جانب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سے رجوع کیا ہے لیکن مختصرا یہ کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی جانب سے بیس جون دو ہزار بائیس کو شائستہ حبیب کی اپیل بھی خارج کر دیتی ہے یعنی اپیل میں بھی والد کے حق میں فیصلہ برقرار رہ جاتا ہے جس کے خلاف مدعیہ آئین پاکستان کو استعمال میں لاتے ہوئے آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت مندرجہ بالا دونوں فیصلوں کے خلاف عدالت عالیہ لاہور میں آئینی درخواست یعنی رٹ پٹیشن جمع کرتی ہے لیکن مختصرا یہ کہ مدعیہ کی آئینی درخواست بھی اکیس ستمبر دو ہزار بائیس کو خارج کر دی جاتی ہے یعنی تینوں عدالتیں یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ ابراہیم کی بہتری اس میں ہے کہ وہ اپنے والد یعنی عارف حبیب کے ساتھ رہے لیکن مندرجہ بالا زکر شدہ تینوں فیصلوں کے خلاف شائستہ حبیب عدالت عظمی سے رجوع کرتی ہے۔ یہاں پر یاد رہے کہ عدالت عظمی میں مدعیہ یعنی شائستہ حبیب بذات خود یعنی بغیر کسی وکیل کے پیش ہوتی ہیں۔

عدالت عظمی نے اس کیس کا آغاز فریقین بالخصوص ابراہیم کو سننے کے بعد اس بات سے کیا ہے کہ محمد ابراہیم باوجود والدین کے درمیان جدائی جیسی گھمبیر صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے نہ صرف پر اعتماد تھا بلکہ عدالت کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات بھی نہایت بہترین طریقے سے دئے۔ یہاں پر یاد رہے کہ ابراہیم نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ مدعا علیہ اس کا والد ہے لیکن چونکہ بچپن میں ہی والد کا گھر چھوڑنے کی وجہ سے اب وہ اس کے لئے ایک اجنبی سے زیادہ نہیں تو اس لئے اس نے والدہ سے جدا ہونے سے واضح طور پر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ ابراہیم کو سننے کے بعد عدالت نے مدعا علیہ کے وکیل کو بھی سنا اور اس کے بعد اس اہم فیصلے کا آغاز کیا۔

عدالت نے فریقین کو سننے کے بعد اپنے فیصلے کا آغاز ان امور کی نشاندھی سے کیا ہے کہ جس کی بنیاد پر تینوں عدالتوں یعنی ٹرائل کورٹ ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور عدالت عالیہ نے والد کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور مختصرا لکھا ہے کہ تینوں عدالتوں نے صرف مدعیہ کی دوسری شادی اور بچے کی عمر کی وجہ سے والد کے حق فیصلہ دیا ہے اور ان عوامل کو سرے سے درخور اعتنا ہی نہیں سمجھا جن کی بنیاد پر اصل میں بچے کی بہتری کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ یہاں پر عدالت نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ فریقین کے درمیان ٹرائل کے وقت ریکارڈ ہونے والی شہادت اس کیس کے صحیح فیصلے کے لئے کافی ہے لیکن شہادت کو بچے کی بہتری کی نظر سے جانچا ہی نہیں گیا اور اس لئے عدالت نے اس موقع پر قرار دیا کہ بچے کی حضانت کا کوئ بھی فیصلہ جس میں بچے کی بہتری والے عوامل پر غور کئے بغیر فیصلے سنائے گئے ہوں تو وہ برقرار رہ نہیں سکتے اور نہ ہی وہ قانونی کہلا سکتے ہیں۔ مندرجہ بالا امور کے زکر کے بعد عدالت نے حق حضانت پر ایک نہایت ہی جامع بحث باندھا ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ :

یہ ایک طے شدہ اور مسلم قانون ہے کہ والد ایک فطری سرپرست یعنی نیچرل گارڈین ہے جبکہ والدہ کو فطری طور پر مذکر بچے کی حضانت کا حق سات سال کی عمر تک جبکہ مؤنث اولاد کی حضانت کا حق بلوغت تک حاصل ہوتا ہے۔ والد ، نیچرل گارڈین ہونے کے ناطے اولاد کی کفالت یعنی نان نفقے کا زمہ دار ہے چاہے اولاد والدہ کے پاس کیوں نہ ہوں لیکن مندرجہ بالا زکر شدہ دونوں اصول حتمی نہیں ہیں بلکہ ان دونوں اصولوں کے ساتھ کچھ استثنائ صورتیں بھی پیوستہ ہیں جن کی تفصیل ملک خضر حیات خان بنام زینب بیگم میں موجود ہے۔ حق حضانت کا مکمل انحصار صرف اور صرف بچے کی بہتری کے اصول میں مضمر ہے اور بچے کی بہتری کا معیار ہر کیس میں الگ الگ ہوتا ہے لیکن بنیادی معیار جو کہ ہر کیس میں یکساں طور پر دیکھا جائے تو وہ بچے کی نہ صرف جسمانی ، دماغی ، نفسیاتی نقصان سے بچاؤ کی حفاظت ہے۔ یہاں پر عدالت نے بچے کی بہتری کے معیار کے طریقہ کار پر ہاؤس آف لارڈز کے ایک فیصلے پر بھی انحصار کیا ہے۔ یہاں پر عدالت نے گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ کے دفعہ سترہ ( تین ) کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ اگر بچہ اتنا زہین ہو کہ وہ خود اپنے لئے ترجیح کر سکے تو اس کے ترجیح کو بھی قابل غور لایا جائے گا۔ یہاں پر عدالت نے واضح طور پر ایک اور نکتہ یہ لکھا ہے کہ اگر بچے کی بہتری والدین کے علاؤہ کسی اور رشتہ دار مثلاً دادا، نانا ، پھوپی یا خالہ وغیرہ کو دینے میں ہو تو عدالت ان کو بھی بچے کی حضانت دے سکتی ہے۔

حضانت کے حوالے سے مندرجہ بالا اہم اصولوں کے زکر کے بعد عدالت موجودہ کیس کی طرف واپس آئ ہے اور یہ قرار دیا ہے کہ ابراہیم نہ صرف زہین ، پر اعتماد اور اتنا سمجھ دار ہے کہ اپنے لئے ترجیح کر سکے اور چونکہ ابرہیم کا یہ کہنا ہے کہ اس کا والد اس کے لئے ایک اجنبی سے زیادہ کچھ نہیں کیوں کہ اس نے والد کے ساتھ وقت ہی نہیں گزارا اور چونکہ وہ نہ صرف اپنی والدہ کے ساتھ نہ صرف آرام دہ ہے بلکہ اپنے غیر حقیقی باپ کے ساتھ بھی اس کے تعلقات خوش گوار ہیں اور چونکہ وہ پیدائش سے ہی اپنی والدہ کے ساتھ ہے اور چونکہ اس کے حقیقی باپ یعنی عارف حبیب نے بچے کے ساتھ ملاقات کے لئے کوئ خاص کوشش ہی نہیں کی اور چونکہ ابراہیم اپنے والد کے ساتھ رہنا نہیں چاہتا تو چونکہ مندرجہ بالا زکر شدہ وہ بنیادی عوامل ہیں جن کو ابراہیم کی حضانت کا فیصلہ کرتے ہوئے نچلی تمام عدالتوں کو جائزہ لینا چاہیے تھا لیکن کسی بھی عدالت نے مندرجہ بالا عوامل کو درخور اعتنا یعنی قابل توجہ ہی نہیں سمجھا اور اس کی بجائے غیر ضروری عوامل پر توجہ دی تو اس لئے عدالت نے شائستہ حبیب کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے تینوں عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے کر ابرہیم کی حضانت کا حق دار اس کی والدہ کو قرار دیا۔

مندرجہ بالا فیصلہ لکھنے کے بعد عدالت نے آئین پاکستان کے آرٹیکل سات، انتیس ( تین ) اور پینتیس کے تحت ریاست کی یہ زمہ داری قرار دی کہ بچوں کی بہتری کے لئے لازمی ہے کہ نہ صرف ایسے ججز تعینات ہوں جو کہ باقاعدہ ٹریننگ رکھتے ہوں اور عدالتوں کو تمام تر سہولیات بشمول ماہر نفسیات وغیرہ بھی دستیاب ہوں اور عدالتیں ایسی ہوں کہ جو بچوں کے حق میں بہتر ہوں۔ اس کے بعد عدالت نے مندرجہ بالا فیصلہ نہ صرف صدر پاکستان اور تمام گورنروں ، چیف سیکرٹریز اور جوڈیشل اکیڈمیز کے ڈائریکٹر جنرلز کو بھیجنے کا حکم بھی صادر فرمایا۔

اس انتہائی اہم کیس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ بچے کی حضانت کا فیصلہ کرتے ہوئے بچے کی بہتری کو دیکھتے ہوئے تمام عوامل پر غور کیا جائے گا اور والد یا والدہ کو صرف بچے کی عمر یا دوسری شادی کی وجہ سے بچے کی حضانت یعنی کسٹڈی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

یہ اہم فیصلہ سپریم کورٹ کے فاضل جج، جسٹس اطہر من اللہ صاحب نے لکھا ہے جن کے ساتھ جسٹس امین الدین خان نے اتفاق کیا ہے جو کہ CIVIL PETITION NO.3801 پر پڑھا اور دیکھا جا سکتا ہے۔

ذوالقرنین ایڈوکیٹ
شریک بانی ؛ آئین و قانون

Address

Islamabad

Telephone

+923335551197

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law with Mutasim Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Law with Mutasim Khan:

Share