Family Law Services in Pakistan

Family Law Services in Pakistan The Chamber of Law LLP is a litigation-oriented, personal service law firm located in Rawalpindi & I

  of  ,  ,   and other necessary description upon the educational certificates, Board &  ,  ,  ,  ,  , Family Registrati...
12/05/2022

of , , and other necessary description upon the educational certificates, Board & , , , , , Family Registration Certificate , through decree of civil court.

.
& inadvertence


Feel free to call our family law attorney:
☎: 92 300 7100 876
📧: [email protected]
🌏: www.chamberoflaw.com
The Chamber of Law®
Facebook I Instagram I Linkedin

An amendment has been made in the   of Pakistan in accordance with the  . If a parent remove or abduct a child from anot...
04/12/2020

An amendment has been made in the of Pakistan in accordance with the .
If a parent remove or abduct a child from another parent and takes him or her out of the country, that act will be considered as and the government will be liable to the child back to their country.

پاکستان میں رائج ایکٹ ١٩٦۴ میں " ١٩٨٠ " کے مطابق ایک ترمیم کر دی گئ ہے ۔۔
کوئ ایک پیرنٹ اگر بچے کو دوسرے پیرنٹ سے جدا کر کہ ملک سے باہر لے جائے گا تو یہ #بین الاقوامی_اغوا تصور کر کہ بچہ واپس اپنے ملک میں لے کر آنے کی حکومت پابند ہو گی ۔۔


    ۔Marriage— Divorce lady—  == non-observance of— Effect— Marriage entered into by a divorce lady before completion of...
13/07/2020


۔

Marriage— Divorce lady— == non-observance of— Effect— Marriage entered into by a divorce lady before completion of iddat period could be an irregular marriage and not void marriage— Marriage which was irregular could not be treated as — Union of husband and wife in irregular could not be treated as void marriage— Union of husband and wife in could not be regarded as or against …
2016 CLC 717 Lahore

For more info contact us:

☎ Phone: 92300-7100-876
📩 Email: [email protected]
🌍 Website: www.chamberoflaw.com

 A father's remmariage would not disentitle him from getting the custody of a minor daughter.It is held that the mother,...
02/07/2020



A father's remmariage would not disentitle him from getting the custody of a minor daughter.
It is held that the mother, according to , despite being entitled to the of a minor daughter may become disentitled if she remarry, as her husband would be a person not related to the and shall stay within a prohibited degree, thus the custody of minor in such case would belong to her .
There is nothing on the record to show any exceptional circumstance disentitling a father to the custody of his minor daughter.



نے والدہ کی اجنبی شخص کے ساتھ کرنے کی وجہ سے کی #حضانت/ #کسٹڈی والدہ سے لے کر حقیقی والد کے حوالے کردی۔۔

  &  The Chamber of Law provide comprehensive legal solutions to assist our clients to resolve family law issues through...
19/05/2020

&

The Chamber of Law provide comprehensive legal solutions to assist our clients to resolve family law issues through well thought planning and experienced case representation in the court of law.
We have expertise and experience in assisting our clients in disputes and issues arising in the course of family life.

Our family lawyers assist our clients in a broad range of legal disputes, including the following:

• and

• of through

• of Ornaments, &
• Children’s issues – and
• Special orders


• International adoption




• Enforcing financial orders
• of
• child abduction, removal and retention cases around the world.

Skilled Trial Attorneys for All Family Law Matters.

 -💔💔💔The Dissolution of a marriage involves a lot of emotions, and the outcome may impact your future.If you are conside...
02/09/2019

-
💔💔💔
The Dissolution of a marriage involves a lot of emotions, and the outcome may impact your future.If you are considering divorce or need to respond to a divorce petition, it helps to have experienced divorce solicitors on your side.We offer divorce services to anyone who is dealing with the very difficult situation of ending their Marriage.
For a confidential discussion 🔇 about your divorce matter with a Senior Family Solicitor, call us on:
☎: +92300-7100-876





  would only be authorized to hold the property of the deceased as   and than to   the same among the legal heirs of the...
29/08/2019

would only be authorized to hold the property of the deceased as and than to the same among the legal heirs of the deceased. 💌
The rights of Legal Heirs supersede the rights of Nominee.🚫

👥🏛💲🏧🏘🛄💒💷🏫🎑🏩🌆
معزز اعلی عدلیہ کی جانب سے دیے گئے فیصلوں کے تحت یہ کہا گیا ہے کہ کسی بھی متوفی کی جانب سے اپنی زندگی میں کسی شخص کو کسی بھی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد وغیرہ کے لیے Nominee بنائے جانے پر جائیداد کی تقسیم کیلیےNominee کی حیثیت صرف ایک (Trustee) جیسی ہے۔اور مذکورہ جائیداد یا رقم میں اسکا کوئی حصہ نہ ہے۔رقم اور جائیداد صرف متوفی۔کے کا حق ہے اور انہی میں بمطابق شرعی حصہ تقسیم کی جائے گی۔

. 🚷 🕋🕌

(Reliance can be made on the following.⬇
♦2017.CLC.1227
♦PLD 2011 Lah 355
♦PLD 1979 Lah 34.
♦2006 CLC 1189...
♦2004 SCMR 1219...
❎❎
✅✅

👨‍👩‍👧‍👧
📌

 سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں یہ کہا ہے کہ والدین کی جانب سے اپنی زندگی میں جائیداد کی تقسیم میں اپنی حقیقی بیٹیوں ک...
28/08/2019


سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں یہ کہا ہے کہ والدین کی جانب سے اپنی زندگی میں جائیداد کی تقسیم میں اپنی حقیقی بیٹیوں کو بمطابق وراثت حصہ نہ دینا ایک غیر قانونی اور غیر شرعی فعل ہے۔اور اس طرح کسی صورت بیٹیوں اور جائز ورثا کو نظر انداز کر کے انکی حق تلفی نہیں کی جاسکتی۔
معزز عدالت نے مذکورہ منتقل کی گئی جائیداد کو کالعدم قرار دیکر بیٹیوں کو انکا شرعی حصہ دینے کے احکامات جاری کر دیے۔





     ۔*سیکشن6⃣ (5⃣)  مسلم فیملی لا آرڈیننس 1⃣9⃣6⃣1⃣*  of 1st wife &   stipulated in Section 6(1)2 for second marriage by...
25/08/2019

۔
*سیکشن6⃣ (5⃣) مسلم فیملی لا آرڈیننس 1⃣9⃣6⃣1⃣*

of 1st wife & stipulated in Section 6(1)2 for second marriage by husband during the presence of his first wife doesnt contravenes injunctions of Islam as it seeks to prevent Injustice being done to first wife.
NLR 2017 CR SC 172

حالیہ فیصلے میں معزز سپریم کورٹ آف پاکستان۔نے کرنے پر شوہر کو ایک سال قید بمع جرمانے کی سزا برقرار رکھی۔
PLD-2017-SC-187


&

  عام حالات میں جیسے والدین کی اپنے بچوں کی تعلیم تربیت, نشوونماء اور دیکھ بھال کی الگ الگ زمہ داریاں متعین ہوتی ہیں اسی...
21/08/2019





عام حالات میں جیسے والدین کی اپنے بچوں کی تعلیم تربیت, نشوونماء اور دیکھ بھال کی الگ الگ زمہ داریاں متعین ہوتی ہیں اسی طرح زوجین کے درمیان طلاق یا خلع کی صورت میں ان کی زمہ داریاں تقسیم ہوجاتی ہیں. ماں پر بچوں کے دیکھ بھال اور نشوونماء کی زمہ داری ہوتی ہے اور والد نان و نفقہ سمیت دیگر اہم فیصلے لینے کا مجاز ہوتا ہے. والد اپنے بچوں کے تعلیم, صحت, معاشرتی و دینی تربیت, روزمرہ نگرانی اور سفری معاملات جیسے فیصلہ سازی کے حق سے محروم نہیں ہوجاتا ہے بلکہ باپ بچوں کا حضانت نہ رکھنے کے باوجود قانونی و فطری گارڈین برقرار رہتا ہے اور وہ گارڈین ہونے کے تمام اختیارات بھی استعمال کرسکتے ہیں بلکہ باپ کے پاس یہ اختیار رہتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم, صحت, روزمرہ نگرانی, نان و نفقہ, تعلیمی اور دینی تربیت سمیت دیگر اہم فیصلے خود لے اور باپ کا یہ حق بچوں کا حضانت والدہ کے پاس رہنے سے ختم نہیں ہوجاتی. گارڈین اینڈ وارڈ ایکٹ 1890 کی شق (b)19 کے تحت گارڈین کورٹ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی ایسے نابالغ بچے کا گارڈین منتخب کرے جس کا والد زندہ ہو اور کورٹ کی راے میں وہ ان فٹ بھی نہیں ہو. یہ سیکشن والد کی گارڈین شپ کو تسلیم کرتا ہے اور اسلام کے اصولوں پر مبنی ہے. باپ کو وہ تمام اختیارات حاصل ہیں جو کورٹ کی طرف سے مقررکردہ گارڈین کے پاس ہوتے ہیں. لیکن والدین کے درمیان علیحدگی کی صورت میں چونکہ بچون کی حضانت اکثر ماں کے پاس رہتی ہے اور اکثر کسٹوڈیل والدہ بچوں کے باپ کو گارڈین شپ کے کردار ادا کرنے سے محروم کردیتی ہے اور یہ فیصلے خود لینا شروع کردیتی ہے اور باپ کا کردار محض نان و نفقہ ادا کرنے تک محدود ہوجاتا ہے. باپ بچوں کو اپنی مرضی کے سکول میں داخل نہیں کرواسکتا, بچوں کو علاج کے لے اپنی مرضی کے ہسپتال نہیں لے جاسکتا, بچوں کی ٹیوشن وغیرہ کے مطلق فیصلہ نہیں کرسکتا, بچوں کی روزمرہ مصروفیات کی نگرانی نہیں کرسکتا, بچوں کی معمول کی خیال داری نہیں کرسکتا, بچوں کے تعلیمی ریکارڈ تک رسائی نہیں ہوتی اور بچوں کی سفر و دیگر اہم فیصلے بھی کرنے سے یکسر محروم کردی جاتی ہے. مغربی پاکستان مسلم پرسنل لاء شریعت اپلیکش ایکٹ 1962 کے دفعات کے تحت اگر فریقین مسلمان ہوں تو ان کے درمیان بچوں کی گارڈین شپ کے معاملات مسلم پرسنل لاء کے تحت نمٹاے جائیں گے اور اسلامی قانون کے مطابق والدہ کی حضانت ہمیشہ باپ کی کنٹرول اور نگرانی سے مشروط ہوتی ہے. اصل یعنی تعمیری حضانت ہمیشہ والد کے پاس رہتی ہے چاہے جسمانی حضانت والدہ کے پاس ہی کیوں نہ ہو. باپ اپنے بچوں کا قانونی گارڈین اور ولی ہوتا ہے. لاہور ہائیکورٹ نے اپنے ایک فیصلے PLD 1953 Lah. 554 میں یہ اصول واضع کیا ہے کہ اگر والد زندہ ہے اور ان فٹ بھی نہیں ہے تو والد کو واضع واشگاف الفاظ میں اپنے بچوں کا فطری و قانونی گارڈین قرار دینا چاہئے. پاکستان میں عدالتیں واحد اور آخری فیصلہ ساز ادارے ہوتے ہیں اور شہریوں کے درمیان کسی بھی متنازعہ معاملے کو حل کرکے فریقین کی حقوق کا تعین کرتے ہیں. اور جب والدین میں علیحدگی ہو تو عدالتوں کی مداخلت کے بغیر باپ اپنے بچوں کا فطری و قانونی گارڈین ہونے کے باوجود اپنے نابالغ بچوں کی اہم فیصلے نہیں کرسکتا ہے. یہاں تک کہ باپ کو اپنے بچوں کے سکول میں ٹیچرز سے میٹنگ تک کی اجازت نہیں ہوتی ہے. جبکہ ماں جب چاہے باپ کے خلاف بچوں کی خرچے کے بابت اضافے کا دعوی اور سکول فیس کا کیس کرسکتی ہے. جبکہ ماں کے پاس محض جسمانی حضانت رکھنے کا حق ایک مخصوص مدت تک ہوتی ہے اور اس مدت کے بعد ماں کو بچوں کا حضانت قانونی گارڈین یعنی والد کو واپس کرنا ہوتی ہے. گارڈین شپ سرٹیفکٹ ایک قانونی دستاویز ہوتی ہے جو کورٹ کسی کو نابالغ کا گارڈین منتخب کرتے وقت دے دیتی ہے. اور گارڈین شپ سرٹیفکٹ کو ملکیت کی دیکھ بھال, تعلیم, صحت, بین الاقوامی سفری معاملات, شناختی کارڈ, بے فارم, پاسپورٹ سمیت دیگر معاملات کے لے استعمال کیا جاتا ہے. چونکہ جب کسی نابالغ کا والد زندہ ہوتو کورٹ کسی کو گارڈین منتخب نہیں کرسکتی اس لیے باپ ہی قانونی گارڈین برقرار رہتا ہے اور باپ اپنے حق کے طور پر عدالت سے جاری کرنے کی استدعا کر سکتا ہے. اس کے لے باپ کو حصول گارڈین شپ سرٹیفکٹ کا درخواست گارڈین کورٹ میں دائر کرنا ہوتا ہے. عدالت درخواست کو رجسٹر کرنے کے بعد مخالف فریقین کو نوٹس کرتی ہے اور عوام الناس کے لے اخبار میں اشتہار دیتی ہے. اگر نوٹس یا اشتہار کے جواب میں کوئی حاضر ہوا تو اس کو جواب داخل کرنے کا کہا جاتا ہے .جواب دعویٰ داخل ہونے کے بعد عدالت گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرتی ہے اور پھر دلائل سن کر فیصلہ صادر کرکے گارڈین شپ سرٹیفکٹ والد کے حق میں جاری کرے گی. اس متعلق گارڈین ججز کو قانون سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اکثر والد کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کی جاتی ہے جو کہ غیر قانونی اقدام ہے. لاہور ہائیکورٹ کے ایک اور فیصلے PLD 1963 Lahore 534 میں یہ اصول واضع کیا گیا ہے کہ ماں کی حضانت کے دوران باپ کا گارڈین شپ کا رول برقرار رہے گا اور ماں کے پاس حضانت والد کی گارڈین فیصلوں اور رول سے مشروط ہوگی اس کا مطلب ہے کہ ماں کے پاس حضانت غیر مشروط نہیں بلکہ یہ حضانت باپ کی نگرانی اور فیصلوں سے مشروط ہے. سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک فیصلے PLD 2009 S.C 751 میں قرار دیا ہے کہ اسلامی قانون کے مطابق ماں صرف ایک مخصوص عمر تک بچوں کی حضانت کی مستحق ہے لیکن وہ بچوں کی فطری گارڈین نہیں ہے اور باپ صرف بچوں کا فطری گارڈین ہے اگر والد فوت ہوجائے تو دادا قانونی گارڈین بن جاتا ہے. سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک حالیہ فیصلے 2018 SCMR 427 میں قرار دیا ہے کہ باپ/والد پر عدالت سے گارڈین شپ سرٹیفکٹ لینے کےلیے درخواست دینے پر کوئی قانونی پابندی نہیں بشرطیکہ یہ اچھی نیت سے کی جارہی ہو. اسلام میں والد کو اپنے بچوں کا ولی قرار دیا گیا ہے. عربی میں ولی کا مطلب حفاظت کرنے والا, مدد کرنے والا یا ایک انسان جو اللہ پاک کے قریب ہو یا ایک مقدس انسان جبکہ دوسرے معنوں میں ولی کا مطلب گارڈین یا مجاز شخص ہوتا ہے. اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ والد بچوں کا حقیقی, قانونی, تعمیری, و فطری گارڈین ہوتا ہے اور والد کا یہ حق بچوں کی حضانت ماں کے پاس ہونے سے ختم نہیں ہوتا بلکہ والدہ کی حق حضانت اس بات سے مشروط ہوگی کہ والد اپنے بچوں کو نان و نفقہ دینے کے ساتھ بچوں کے تمام اہم فیصلے یعنی بچہ کس سکول میں پڑھے گا, کونسا ٹیوشن سینٹر جاے گا, بیماری یا کسی حادثے کی صورت میں کس ہسپتال سے علاج ہوگا, باپ کی اجازت سے سفر کرے گا, اور باپ کو اپنے بچے کی روزمرہ سرگرمیوں کی نگرانی کا حق اور تعلیمی ریکارڈ تک مکمل رسائی حاصل ہوگی اور بچے کی منگنی, شادی وغیرہ سب باپ کی رضامندی سے کی جاے گی. ان سمیت دیگر تمام اہم فیصلے باپ کرے گا.
موجودہ صورتحال میں اسلامی و جدید قانون سے ناواقفیت کی وجہ سے بہت کم نان کسٹوڈیل والد گارڈین شپ سرٹیفکٹ کے حصول کے لے عدالتوں کا رخ کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی نگرانی, تربیت, تعلیم اور صحت سمیت دیگر فیصلوں سے محروم ہوجاتے ہیں اور کسٹوڈیل والدہ بچوں پر بلا شرکت غیرے تسلط قائم کرلیتی ہے اور باپ کو بچوں کی زندگی سے بے دخل کرکے بچوں کو باپ کی شفقت اور نگرانی سے محروم کردیتی ہے. چونکہ ہماری عدالتوں میں باپ کے حق میں گارڈین شپ سرٹیفکٹ جاری کرنے کا اتنا رحجان نہیں ہے اور جج صاحبان بھی ایسے درخواست کو اناء کی تسکین کے لے دوسرے فریق کو تنگ کرنے کی کوشش سے تعبیر کرتے ہیں اس لے نان کسٹوڈیل باپ گارڈین شپ سرٹیفکٹ کی حصول کے لے درخواست دینے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں تاہم اس رحجان کی حوصلہ شکنی کرنے کے لے نان کسٹوڈیل والد صاحبان کو درخواستیں دینی چاہئے تاکہ اسلام نے جو حقوق والد کو دیے ہیں وہ والد صاحب اپنے بچوں کے وسیع تر فلاح و بہبود میں استعمال کرسکیں.
گارڈین شپ سرٹیفکٹ کے حصول سے ایک نان کسٹوڈیل والد کے پاس ایک قانونی دستاویز آجاتا ہے جس کو استعمال کرکے قانونی گارڈین یعنی والد اپنے حق کا استعمال کرتا ہے اور اپنے بچوں کی سکول اور ٹیوشن سینٹر کا انتخاب کرسکتے ہیں, بچوں کی صحت سے متعلق فیصلے لے سکتے ہیں اور سب سے اہم بات کسٹوڈیل والدہ بچوں کو والد کی اجازت کے بغیر شہر سے باہر نہیں لے جاسکیں گے اور آپ اپنے بچوں کی روزمرہ معمولات کی نگرانی بھی کرسکیں گے. اس کے ساتھ مستقبل میں بچوں کی حوالگی کے مقدمات میں بھی یہ آپ کے لے کارآمد ثابت ہوسکتی ہے.
پاکستان کی دستور 1973 کے آرٹیکل 2 کے تحت اسلام ملک کا سرکاری مذہب ہے اور اسلام سے متصادم کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا ہے اور آرٹیکل 31 میں یہ ضمانت دی گئی ہے کہ ریاست ایسے ضوابط طے کرے گی تاکہ لوگ اسلام کے مطابق زندگی بسر کرسکیں تو محمڈن لاء کے مطابق والد اپنے بچوں کا ولی ہے یعنی قانونی گارڈین ہے اس لے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسلام و قانون میں دیے گئے اپنے حقوق کے لے آواز بلند کریں اور عدالتون کے زریعے یہ حقوق حاصل کرلیں تاکہ ایک والد صرف نام کے حد تک فطری و قانونی گارڈین نہ کہلاے بلکہ وہ اپنے قانونی گارڈین ہونے کا عملی مظاہرہ بھی کرسکے جو کہ طلاق یا علیحدگی سے متاثرہ لاکھوں بچوں کی بہتر فلاح و بہبود کی ضامن ہے.

تحریر: خالق بلوچ






#

  is the removal or retention of a child outside their country of habitual residence in breach of non custodial parent o...
04/08/2019

is the removal or retention of a child outside their country of habitual residence in breach of non custodial parent or guardian’s custody rights.
🇵🇰🇳🇿🇫🇷🇬🇧🇬🇭👧👦✈🔞🚷🚻👥💔

'The Chamber of Law' is dealing with matters related to children and parental relation and their & to how the difficulties in this regard are countered in the International 🌍 scenario with reference to and . As on

In Pakistan🇵🇰 Child abduction👫 involves both civil and criminal law. However, once a child has been removed via parental abduction, it is usually treated as a civil matter.
In Pakistani law through recent judgments of apex courts 🏛 of Pakistan following are the powers vested with it for ensuring rights of Parental Child Abduction.

Firstly1⃣ the Family court is empowered to shift name of abductee alongwith custodial parent in ECL (Exit Control List) through 🆑 for restraining them from removing the child to foreign country without the permission of real mother or father.

Secondly2⃣ the non custodial parent have right to get the custody of minor/children through filing Habeas Co**se under section 4⃣9⃣1⃣ CrPC in session court or High Court & it is a speedy remedy through which the Local Police recover the minor & present before court in 2/3 days.

Thirdly3⃣ the non custodial parent have right to get permanent custody of child/ minor through filing custody petition before concerned Guardian Court under section 2⃣5⃣of Guardian & Wards Act.

Fourthly4⃣ the non custodial parent have right to get detailed annual visitation schedule in his/her own house under section 1⃣2⃣ of Guardian & Wards Act 1890.

Fifthly5⃣ in violation of any fundamental rights regarding parent child matters after separation between spouses, any one of them can approach the Provincial High Court in under article 199 of Constitution of Pakistan 1973 and articles 4⃣, 9⃣, 1⃣0⃣🅰, 1⃣4⃣, 1⃣9⃣🅰, 3⃣2⃣, 3⃣3⃣, 3⃣4⃣ if the Constitution also safeguards the rights of aggrieved person in family matters.

&_Security.🛬
.🇵🇰🆗
.
.
**se🙇
&_Visitation_Rights👨‍👨‍👧‍👦
&_Retention_of_Child👦👧🚷
.🛄
📖
📋🖋

🇬🇧🇵🇰

🏛
👥

🌐

Call the Firm today and set up a 1⃣5⃣-minute consult.
☎ +92300-7100-876.
☎ +92300-5036-911.
Email: [email protected]

Address

Office # 1, Ground Floor, Awais Qarni Block, District Courts F8/Islamabad
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Family Law Services in Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Family Law Services in Pakistan:

Share