Adv Muhammad Asif Jogezai

Adv Muhammad Asif Jogezai Political Activist JUI

ADVOCATE SHARIA & LAW LLB (HONS) IIUI

Human Rights | Civil | Banking | Immigration | FBR | Criminal | Tribunal | Family | Corporate | Taxation | & Constitutional matters | Justice | Integrity | Legal Services.

جسٹس آف پیس کے اختیارات معطل بلوچستان ہائیکورٹ کے جج چیف جسٹس آف بلوچستان جسٹس کامران خان ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین کے...
06/01/2026

جسٹس آف پیس کے اختیارات معطل
بلوچستان ہائیکورٹ کے جج چیف جسٹس آف بلوچستان
جسٹس کامران خان ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین کے عدالت نے بلوچستان بار کونسل کے چئیرمین ایگزیکٹو کمیٹی کے آئینی درخواست پر حکومت بلوچستان محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے تحت 22 اے 22 بی کے اختیارات کمشنرز ڈپٹی کمشنر کو دینے کے خلاف حکومت بلوچستان کا نوٹیفکیشن معطل کردی ہے۔

The Islamabad Bar Association (IBA) has announced a complete strike tomorrow against illegal and  unfair proceedings ini...
05/12/2025

The Islamabad Bar Association (IBA) has announced a complete strike tomorrow against illegal and unfair proceedings initiated against advocates Imaan Zainab Mazari-Hazir and Hadi Ali Chatta by Additional Sessions Judge Afzal Majoka.

شق 35 اصل رولا کیا تھا؟پارلیمنٹ کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں “نیشنل کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل 2025ء” کی منظوری کے ساتھ اچا...
03/12/2025

شق 35 اصل رولا کیا تھا؟

پارلیمنٹ کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں “نیشنل کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل 2025ء” کی منظوری کے ساتھ اچانک ملک بھر میں یہ بحث چھڑ گئی کہ آخر اس بل میں ایسا کیا تھا جس پر مذہبی حلقوں اور مختلف سیاسی جماعتوں نے شدید تشویش ظاہر کی۔ عام شہریوں کی اکثریت کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ اصل تنازع کس شق کے گرد گھوم رہا تھا، اور اس شق کو حذف کرنے پر کیوں حکومت سمیت پورا ایوان متفق ہوا۔

یہ کمیشن پہلے سے موجود تھا، مگر اس کی قانونی حیثیت مبہم تھی۔ حکومت کا مقصد یہ تھا کہ کمیشن کو باقاعدہ قانونی حیثیت دی جائے، اس کے دائرہ اختیار، اختیارات اور طریقہ کار کا تعین ہو جائے، اور اقلیتی برادریوں کے مسائل کیلئے ایک مضبوط اور دستوری ادارہ قائم ہو۔ اسی مقصد کیلئے یہ بل سال 2025 میں پیش کیا گیا۔

مسئلہ اُس وقت پیدا ہوا جب بل کے مسودے میں شق 35 شامل کی گئی۔ اس شق کا انگریزی متن کچھ یوں تھا:

“The provisions of this Act shall have effect notwithstanding anything contrary contained in any other law.”
یعنی:
“اس ایکٹ کی دفعات کو دیگر تمام موجودہ قوانین پر فوقیت حاصل ہو گی، چاہے کہیں بھی کوئی متضاد قانون موجود ہو۔”

یہ محض ایک جملہ تھا، مگر اسی ایک جملے نے ملک میں ایک حساس بحث کو جنم دیا۔
شق 35 کا مطلب یہ تھا کہ اگر کمیشن کوئی فیصلہ، سفارش یا رپورٹ جاری کرتا ہے تو وہ فیصلہ پاکستان کے کسی بھی موجودہ قانون پر سبقت رکھ سکتا ہے۔ یہاں سے خدشات نے جنم لیا۔

پاکستان کے حساس مذہبی قوانین، خصوصاً:
• آئین کی دفعات 260 وغیرہ
• قادیانی قوانین (Ordinance XX, 1984)
• مذہبی شناخت اور مذہبی آزادی سے متعلق قوانین
• توہینِ مذہب اور مذہبی تحفظ کی دفعات

یہ سب اپنے مخصوص پس منظر، حساسیت اور آئینی حیثیت رکھتے ہیں۔

تشویش یہ تھی کہ اگر کمیشن میں مستقبل میں کوئی ایسا رکن آ جائے جو سیکولر ذہن رکھتا ہو، یا جس کی مذہبی حساسیت کمزور ہو، تو وہ کسی ایسے معاملے میں “حقوقِ اقلیت” کے نام پر ایسی سفارش یا رپورٹ جاری کر سکتا ہے جو مذکورہ قوانین کی تشریح یا روح پر اثر انداز ہو۔ اور چونکہ شق 35 کمیشن کو دیگر قوانین پر فوقیت دیتی تھی، اس لئے اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ آئین کی مذہبی دفعات یا حساس قوانین کمزور پڑ جائیں یا ان کی قانونی حیثیت متنازع ہو جائے۔

یہ ایک ایسی بات تھی جس پر مذہبی طبقات، آئینی ماہرین اور متعدد سیاسی حلقے اپنی اپنی جگہ فکرمند تھے۔

مشترکہ اجلاس میں جب بل آیا تو قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے شق 35 کی حساسیت پر پورے ایوان کو بریف کیا اور حکومت کو آگاہ کیا کہ اس شق کی موجودگی مستقبل میں بہت بڑے قانونی اور نظریاتی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے مثالوں اور آئینی نکات کے ساتھ بتایا کہ یہ شق پاکستان کے مذہبی قوانین کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس موقع پر یہ مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں رہا۔
• پی ٹی آئی کے ارکان نے بھی مولانا فضل الرحمن کے مؤقف کی تائید کی،
• پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے بھی مکمل اتفاق کیا،
• اور سب سے اہم بات کہ حکومت نے بھی نہ صرف اس نکتہ کی سنگینی کو محسوس کیا بلکہ اس سے اتفاق کرتے ہوئے شق 35 کو بل سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔

یوں ایک ترمیم پیش کی گئی، شق 35 بل سے خارج کردی گئی، اور بل نئی صورت میں منظور کر لیا گیا۔ اس ترمیم کے بعد اب کمیشن کو کوئی ایسا اختیاری اختیار حاصل نہیں ہوگا جو پاکستانی قوانین یا آئین پر فوقیت رکھتا ہو۔ کمیشن کے فیصلے اب محض سفارشات کی حیثیت رکھتے ہیں، جنہیں قانونی بالادستی حاصل نہیں۔

یہ کریڈٹ اس لئے جے یو آئی اور مولانا فضل الرحمن صاحب کو دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے وہ نقطہ اٹھایا جو عام لوگوں سے لے کر اکثر سیاستدانوں تک کی سمجھ سے اوجھل تھا۔ شور ضرور بہت ہوا، سوشل میڈیا پر بحثیں بھی چلیں، مگر عوام کی اکثریت کو علم ہی نہیں تھا کہ شق 35 اصل میں ہے کیا اور اس کے کیا نتائج نکل سکتے تھے۔

اس تحریر کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ اصل مسئلہ کیا تھا۔ شق 35 کا معاملہ محض ایک قانونی تکنیکی غلطی نہیں تھی بلکہ ایک نہایت حساس معاملہ تھا جو مستقبل میں پاکستان کے قوانین کے پورے ڈھانچے پر اثر انداز ہو سکتا تھا

اسلام آباد کچہری گیٹ پر خودکش دھماکہ !یااللہ خیر فرما۔
11/11/2025

اسلام آباد کچہری گیٹ پر خودکش دھماکہ
!یااللہ خیر فرما۔

وکالت میرے لیے صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ عدل و انصاف کے قیام کا ذریعہ ہے۔میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ جب قانون، ایمان اور خدمت...
21/10/2025

وکالت میرے لیے صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ عدل و انصاف کے قیام کا ذریعہ ہے۔
میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ جب قانون، ایمان اور خدمت ایک راستے پر چلیں تو معاشرہ حقیقی انصاف سے آشنا ہوتا ہے۔

میں بحیثیت ایڈوکیٹ، عدلیہ کے دائرے میں رہتے ہوئے عوام کے حقوق کے دفاع کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں،
اور بحیثیت کارکنِ جمعیت علماء اسلام، اس جدوجہد کو نظامِ مصطفی ﷺ کے قیام سے جوڑ کر دیکھتا ہوں۔

ہماری اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنے قلم، اپنے کردار، اور اپنے علم کے ذریعے
دین، قوم، اور عدل کی خدمت کرتے رہیں۔

ایڈوکیٹ محمد آصف جوگیزئی
کارکن، جمعیت علماء اسلام — وکلاء فورم ⚖️



12/09/2025

نن زه د قانوني استازي په توګه په ښکاره توګه وایم چې د کلي ملک صاحب له خپلې صلاحیت او باور څخه ناوړه ګټه اخیستې ده. هغه د کلي د خلکو په ملکیت کې مداخله کړې او د هغوی د اجازې پرته یې د هغوی پدري (آبایي) ځمکه په بل چا پلورلې ده. دا عمل د شرعي او قانوني اصولو خلاف دی، ځکه چې:

1. په شرعي لحاظ: هېڅ څوک د بل انسان په ملکیت کې د هغه له اجازې پرته تصرف نشي کولای. د خلکو پدري ځمکه د هغوی د اولاد حق دی، نه د ملک شخصي ملکیت.

2. په قانوني لحاظ: د پاکستان د مدني قانون (Civil Law) او د ملکیت قانون (Property Law) له مخې هېڅ څوک د بل چا ملکیت نشي پلورلی. که داسې معامله وشي نو دا د قانون په نظر کې باطله ده او په محکمه کې د اعتراض وړ ده.

3. په اخلاقي او ټولنیز لحاظ: د کلي ملک د خلکو د باور استازی دی، نه د هغوی د ملکیت خاوند. د خلکو پر حقوقو تېری د ټولې ټولنې د اعتماد د ماتېدو سبب ګرځي.

له همدې کبله زه د وکیل په توګه دا اعلان کوم چې د کلي د خلکو له خوا د ملک صاحب دغه عمل په کلکه ردوو او قانوني لارې چارې به کاروو څو د خلکو خپل حقونه ورته ور وګرځول شي.

ملک صاحب د خلکو په حقونو سوداګري کړې ده.

هغه د کلي د باور ناوړه استفاده کړې ده.

پدري ځمکه د خلکو ملکیت دی، نه د ملک شخصي مال.

دا عمل هم شرعاً او هم قانوناً باطل دی.

ملک صاحب د خپل ولس په وړاندې خیانت کړی دی.

30/07/2025

اسلام آباد کچہری میں وکلا نے قائداعظم یونیورسٹی کے سیکیورٹی انچارج کرنل ریٹائرڈ ندیم اور انتظامیہ کی طرف سے وکیل راجہ ظہور الحسن کا بیٹا وکیل کی پٹائی کر دی، گالیاں بھی دیں ۔۔۔۔

س: لڑکے کو کس نے قتل کیا؟ ج: پیغمبر کے وارث نے.س: لڑکا کون تھا ؟ ج: ایک نجی مدرسہ میں طالبعلم تھا س: لڑکے کا عمر کیا تھا...
22/07/2025

س: لڑکے کو کس نے قتل کیا؟
ج: پیغمبر کے وارث نے.

س: لڑکا کون تھا ؟
ج: ایک نجی مدرسہ میں طالبعلم تھا

س: لڑکے کا عمر کیا تھا
ج: یہی لگ بھگ 15 سے 16 سال عمر تھا

س: پیغمبر کے وارث کا عمر کتنا تھا ؟
ج: یہ بھی 40 سے لیکر 45 سال کی حد تک

س: کیوں قتل کیا ؟
ج: سبق یاد نہیں تھا یا وقت کی پابندی نہ کیا گیا ہو

س: مدرسہ میں پیغمبر کا وارث کیا پڑھاتا تھا؟
ج: قرآن مجید اور سیرت النبی اور بہت اچھے کتابیں پڑھاتے تھیں

س: کیا ان کتابوں میں اس لڑکے کو اسی بنیاد پر قتل کرنا ضروری تھا؟
ج:نہیں کتابوں میں قتل کرنے شخص بہت بڑا گنہگار ہوگا تب قتل کیا جاسکتا ہے

س: پھر پیغمبر کے وارث نے اس لڑکے کو قتل کرنا معاشرتی خودغرزی جاہلیت کی بنیاد پر قتل کیا ؟
ج: بلکل یہی بات ہے جاہلیت کی بنیاد پر

س: جاہل شخص پیغمبر کا وارث کیسا ہوسکتا ہے ؟
ج: ہوسکتا ہے

س: کیسا ؟
ج: قرآن مجید کو بغیر فہم پھڑلو اور دو پانچ چند احادیث بغیر تشریح یاد کرلو داڑی کو لمبا کردو ایک خاص لباس پہن لو اور مذہبی چیزوں کو بغیر تحقیق سے پیش کیا کرو معاشرتی مسائل سے دور رہو لوگوں میں فرقہ بندیاں بانٹ لو اور فتوے دیتے رہو

س: یہ تو پیغمبر کا وارث قطعا نہیں ہوسکتا ؟
ج: بلکل درست مگر یہاں پیغمبر کا وارث معاشرہ بناتا ہے دین اسلام کو سمجھنے اور عمل کرنے والے نہیں بلکہ مدرسے ایک فیکٹری ہے اور یہی عناصر نکلتے ہیں

س: معاشعرے کے اندر ایسے عوامل عناصر کو ختم کیوں نہیں کیا جاتا؟
ج: ان کے تعلقات جاہلیت کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ بہت جڑے ہوئے ہے اندھی تقلید زیادہ ہے

ہمارے دینی ادارے جنہیں اخلاقیات، صبر اور برداشت کا گہوارہ ہونا چاہیے، وہاں ایسے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ مدرسوں کی نگرانی، اساتذہ کی تربیت، اور طلبہ کے تحفظ کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ اساتذہ کا غصے میں آ کر جان لینا اس بات کی علامت ہے کہ ان اداروں میں نفسیاتی توازن، تربیت اور احتساب کی شدید کمی ہے۔

یہ واقعہ اس معاشرتی سوچ پر بھی سوال اٹھاتا ہے جو مدرسے کے اساتذہ کو "معصوم" اور "مقدس" سمجھ کر ہر ظلم، زیادتی یا جرم سے بالاتر قرار دیتی ہے۔ اس سوچ کی وجہ سے ایسے لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ ایسے قاتل قاری کی نہ صرف دینی حیثیت ختم ہو چکی ہے بلکہ اس کے لیے قانون کی سخت سزا ضروری ہے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص دین کے نام پر ظلم کرنے کی ہمت نہ کرے۔

20/07/2025

پشتون اور بلوچ قوم میں علمی ، سیاسی بصیرت بھی اعلاء اور جاہلیت بھی پشتون اور بلوچ معاشرتی زندگی اور دستورات میں سے نوابی، خانی، ملکی اور سرداری جیسا خباثت کو اب مکمل ختم کر دینا چاہے جو قومی اندرونی مسلہ ہو عوام الناس کے ذریعے بلکہ جرگہ کے ذریعے حل کردینا چاہے یہ انگریز کے پیداوار ہمارے معاشرے میں گلے کا پندہ بنا ہوا ہے معاشرے جو جہالت جرائم ہوتا ہے یہی عناصر ملوث ہوتے ہیں یہ حرکت محض ایک حرکت نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ڈوبتی کردار ہے پسند کی شادی کرنااقرار کرنا ہر بشر کا حق ہے یہ حق اسلام، آئن اور قانون نے دیا ہے خان ، نواب، ملک، سردار ہوتے کون ہے کہ کسی کے زندگی میں مداخلت کرنا مارنا پیٹنا
حکومت سےے گزارش ہے کہ ان قاتل کو گرفتار کریں اور واصل جہنم بنادیں

اسلام آباد میں وکلاء برادری اور سویلین  کا بلوچ لاپتہ افراد کے احتجاج میں شرکت نوٹ: پولیس گردی تھوڑی دیر  بعد شروع ہوجائ...
19/07/2025

اسلام آباد میں وکلاء برادری اور سویلین کا بلوچ لاپتہ افراد کے احتجاج میں شرکت
نوٹ: پولیس گردی تھوڑی دیر بعد شروع ہوجائگا

19/07/2025

اسلام آباد پریس کلب میں بلوچ ماؤں کا لاپتہ افراد کے حوالے سے ایک پر امن احتجاج ہے اور پولیس اتنا زیاداہ تعداد میں یہاں پر موجود ہونا اس بات کا دلیل ہے کہ ریاست پر امن لوگوں سے گبراہٹ اور بوکلاہٹ کا شکار ہے اب شاہد گرفتاریاں کریں مگر یہ بات یاد رکھیں اپنا حق حاصل کرنا آئین اور دین اسلام نے دیا ہے

چرس  |  نشہ|  نہیں صرف بھنگ کا پودا 🌿 بھنگ (Cannabis) اب قانونی، کاروباری اور طبی حقیقت! 🌿دوستو!اب پاکستان میں بھنگ (Can...
16/07/2025

چرس | نشہ| نہیں صرف بھنگ کا پودا

🌿 بھنگ (Cannabis) اب قانونی، کاروباری اور طبی حقیقت! 🌿

دوستو!
اب پاکستان میں بھنگ (Cannabis) کا ذکر صرف نشے، غلط فہمی یا جرم کے طور پر نہ کریں۔
2024 میں حکومت پاکستان نے باقاعدہ قانون بنا کر اسے ایک جائز، قانونی، اور ریگولیٹڈ انڈسٹری قرار دے دیا ہے۔

📜 "Cannabis Control & Regulatory Authority" کے ذریعے پاکستان میں اب بھنگ کی:
✅ کاشت
✅ پروسیسنگ
✅ میڈیکل اور انڈسٹریل استعمال

قانونی لائسنس کے تحت اجازت ہے۔

---

❗ کیا یہ ہر بندہ کر سکتا ہے؟

نہیں، یہ کام صرف وہی شخص یا ادارہ کر سکتا ہے جس کے پاس حکومت کا باقاعدہ لائسنس ہو۔

---

✅ میں آپ کی رہنمائی کے لیے موجود ہوں!

اگر آپ چاہتے ہو:
🔹 آپ کو قانونی لائسنس کے طریقہ کار کی سمجھ آئے
🔹 آپ اپنا کاروبار، دوا، پروجیکٹ یا زرعی کام اس فیلڈ میں بڑھانا چاہتے ہو
🔹 آپ کو مکمل قانونی معلومات، مشورہ یا گائیڈ لائن ملے

تو میں آپ کے ساتھ تجربے، معلومات اور تحقیق کے ساتھ حاضر ہوں۔

---

🌟 کیوں یہ اہم ہے؟

یہ صنعت دنیا میں اربوں ڈالر کی ہے

پاکستان میں بھی اس سے انڈسٹری، زراعت اور طب میں انقلاب آ سکتا ہے

مستقبل میں یہ آپ کے لیے قانونی اور حلال آمدن کا بہترین ذریعہ ہو سکتا ہے

---

📲 رابطے کے لیے میرے پیج کو فالو کریں، انبوکس کریں۔

میں آپ کو **قانونی اور پروفیشنل طریقے سے ہر قدم پر رہنمائی دوں گا۔

Address

G11
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Muhammad Asif Jogezai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share