28/06/2026
استقرارِ حق کی ڈگری ملنے کے بعد ایگزیکیوشن کی ضرورت نہیں! لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر سول کورٹ کسی شخص کے حق میں استقرارِ حق (Declaration) کی ڈگری جاری کر دے، جس میں اسے کسی جائیداد یا زمین کا قانونی مالک قرار دیا گیا ہو، تو اس ڈگری پر عملدرآمد کے لیے ہر صورت سول کورٹ میں Ex*****on Petition دائر کرنا ضروری نہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ ایسی ڈگری کا مقصد صرف ملکیت کا قانونی تعین کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد محکمہ مال کے متعلقہ افسران پر لازم ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967 کے سیکشن 42 کے تحت ریکارڈِ حقوق میں ضروری تبدیلی کریں اور متعلقہ انتقال (Mutation) درج کریں۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ استقرارِ حق کی ڈگری رکھنے والا شخص عدالتی فیصلہ متعلقہ تحصیلدار یا دیگر ریونیو حکام کے سامنے پیش کرے، جس کے بعد ریونیو اتھارٹیز کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق ریکارڈ درست کریں۔ ایسے معاملات میں غیر ضروری قانونی پیچیدگیاں پیدا کرنا یا عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے گریز کرنا قانون کے منافی ہے۔
اہم قانونی اصول: استقرارِ حق (Declaration) کی ڈگری عام طور پر Order XXI CPC کے تحت روایتی ایگزیکیوشن کی محتاج نہیں ہوتی۔ متعلقہ ریونیو حکام عدالتی فیصلے کی بنیاد پر ریکارڈ درست کرنے اور انتقال درج کرنے کے پابند ہوتے ہیں، بشرطیکہ ڈگری حتمی اور قابلِ عمل ہو۔