Adv. Azaz Ali Khan

Adv. Azaz Ali Khan Dedicated to defending rights and upholding justice – one courtroom battle at a time.

*_پاکستان بار کونسل بھی میدان میں آگئی_**_عدلیہ پر حملے کو نامنظور قرر دیا_*
15/09/2024

*_پاکستان بار کونسل بھی میدان میں آگئی_*

*_عدلیہ پر حملے کو نامنظور قرر دیا_*

13/09/2024

*_‏رکان اسمبلی کی پارلیمنٹ سے گرفتاری پر چیف جسٹس عامر فاروق کے اہم ریمارکس_*

*_ملک میں امن و امان کی صورتحال کا طرف جا رہی ہے ، اوپر سے آپ نے پارلیمنٹ میں گھس کر ارکان اسمبلی کو اٹھا لیا ہے، کہاں ہے قانون ابھی تو اک پٹیشن آئی ہوئی ہے جس کو میں اگلے ہفتے سنوں گا ، چیف جسٹس عامر فاروق_*

13/09/2024

‏چیف جسٹس عامر فاروق اسلام آباد پولیس کی درج شدہ ایف آئی آر پر برہم

کریڈٹ دینا ہو گا کہ بڑے عرصے بعد اچھی کامیڈی دیکھنے کو ملی ہے،جس نے بھی یہ ایف آئی آر لکھی اس نے اچھی کامیڈی لکھی ہے، شعیب شاہین پر پستول ڈال دی، شعیب شاہین کو میں نہیں جانتا؟ گوہر خان کا کہہ رہے ہیں کہ پستول نکال لی، گوہر کو آپ اور میں نہیں جانتے؟ کامیڈی آپ نے پڑھ لی، اب اِن سے کیا برآمد کرنا ہے؟ چیف جسٹس عامر فاروق

09/09/2024

بھائی نے بہن کے خلاف دعوی کیا ہے وہ اسکی بہن نہیں ہے بلکہ اسکے مرحوم باپ نے اسے ( منہ بولی بیٹی ) adopt کیا تھا۔
لہذا adopted child ہونے کی وجہ سے وہ اس کے باپ کی جائیداد کی وارث نہیں ہے۔۔
ساتھ ہی بھائی نے بہن جسکا نام لیلی تھا اسکے DNA کروانے کے لئے عدالت میں درخواست دائر کردی جو کہ منظور ہو گی کہ اسکا ڈی این کو اسکے بھائی اور ماں سے compare کیا جائے۔۔ثرائل کورٹ نے درخواست منظور کرلی جو فیصلہ ہائی کورٹ تک برقرار رہا۔۔جب ان فیصلوں کے خلاف بہن سپریم کورٹ آئی تو قاضی فاز عیسی نے مندرجہ زیل گراونڈز کو ڈسکس کرتے ہوئے بھائی کا دعوی ہی بھاری جرمانے کے ساتھ خارج کر دیا۔۔پوائنٹس درج زیل تھے۔
1 کسی کو اسکی مرضی کے بغیر ڈی این اے کروانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جو کہ right of privacy آرٹیکل 14 آئین پاکستان کے خلاف ہے۔۔

2۔ نادرہ کے تمام ڈاکومنٹس یہ بتا رہے ہیں کہ لیلی عبدلقیوم یعنی مرحوم کی بیٹی ہے ۔۔اور آرٹیکل 128 قانون شہادت آرڈر کی اسے protection حاصل ہے۔

کوئی یہ تو دعوی کر سکتا ہے کہ میرا ڈی این اے میرے باپ سے میچ کروایا جائے کہ میں اسکی اولاد ہوں ۔۔لیکن کوی یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں فلاں کی اولاد نہیں ہے اسکا ڈی این اے کروایا جائے۔۔لہزا بچوں کو سوشل stigma سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ایسے دعوی جات کو بھاری جرمانے سے خارج کیا جائے۔۔

PLD 2018 SC 149

07/09/2024
01/09/2024

*Civil | Criminal | Family*
Case Laws.

1. باپ کو اپنی اولاد سے ملاقات کے لیے کم وقت دینا انصاف کے منافی ہے۔
2018 MLD 574

2. ماں چاہے دوسری شادی ہی کیوں نہ کر لے اسے نابالغ بچے کی حضانت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
2018 MLD 862

3. کسی شخص کا جعلی فیس بک اکاؤنٹ بنانا سنگین جرم ہے۔ ضمانت کی درخواست خارج۔
2018 YLR 329

4. باپ کو بچے کی حضانت کا زیادہ حق حاصل ہے۔
2018 SCMR 590
2018 YLR 649

5. Res Judicata کا کسی دعویٰ میں interlocutory application پر اطلاق نہیں ہوتا۔
PLD 2018 SC 322

6. میڈیکل رپورٹ کسی ملزم کو وقوعہ سے نہیں جوڑتی بلکہ میڈیکل رپورٹ سے صرف زخم کی نوعیت اور استعمال کیے گئے اسلحے کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔
2018 PCRLJ 147 Note 120

7. سپریم کورٹ نے اپنے ایک حالیہ فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ گارڈین درخواست کے زیر سماعت ہونے کے باوجود بھی ہائیکورٹ میں 491 ضابطہ فوجداری کے تحت نابالغ کی کسٹڈی کسی حقدار شخص کو دی جا سکتی ہے۔
2018 SCMR 427

8. اگر دعویٰ کی ترمیم میں ڈرافٹنگ میں مشکل ہو تو دعویٰ واپس لے کر دوبارہ دائر کیا جا سکتا ہے۔
2018 CLC 82

9. اگر دو ملزمان کو ایک ہی الزام کے تحت سزا ہوئی ہے اور ایک ملزم اپیل میں بری ہو جاتا ہے تو دوسرا بھی بریت کا حقدار ہے چاہے اس نے اپیل دائر نہ بھی کی ہو۔
2018 SCMR 344

10. جسٹس آف پیس کے پاس اختیار ہے کہ جب اس کے پاس اندراج مقدمہ کی پٹیشن دائر کی جائے اور بادی النظر میں قابل دست اندازی پولیس جرم بنتا ہو تو بغیر پولیس کمنٹس منگوائے ہی اندراج مقدمہ کا حکم دے سکتا ہے۔
PLD 2018 Bal 17

11. قانون سے واقف ہونا جج کی زمہ داری ہے وکیل کی زمہ داری نہیں کہ جج کو ہر قانون کی بات بتائے۔
PLD 2018 SC 28

12. فیملی عدالت متعلقہ ایس ایچ او کو کسی بھی فریق کے درست پتہ کے تعین کے لیے حکم دے سکتی ہے۔
2018 CLC Note 51

13. ماں کی وفات کے بعد بچوں کی کسٹڈی کا حق نانی کی بجائے باپ کا حق ہے۔
2018 SCMR 590

14. سیکیورٹی کی رقم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کرایہ دار مالک مکان کو وقت پہ کرایہ ہی نہ دے۔
2018 CLC 261

15. رہائشی علاقے میں سکول کی تعمیر کے خلاف دعویٰ حکم امتناعی دوامی ڈگری کیا گیا۔
2018 SCMR 76

16. شوہر سابقہ تیس سال کا خرچہ نان نفقہ دینے کا پابند قرار۔
2018 YLR 128

05/02/2024

آپ سے گزارش ہیں کہ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ جب آپ پولنگ آفیسر سے اپنا ووٹ وصول کریں تو ووٹ کی پرچی کے پیچھے دیکھے پولنگ آفیسر کا سٹمپ اور دستخط ہے کہ نہیں۔ اگر نہیں ہیں تو ووٹ ڈالنے سے پہلے پولنگ آفیسر سے سٹمپ اور دستخط لازمی کروا لیں ورنہ اپکا قیمتی ووٹ ضائع ہو جائے گا شکریہ۔

04/02/2024

سوال : پاکستان قوانین اور شریعت کی رو سے عدت کی مدت کتنی ہے ؟

جواب : شریعت کی رو سے عدت کی مدت مندرجہ ذیل ہے :

الف ) اگر کسی عورت کو حیض آتے ہوں تو ایسی عورت کی عدت تین حیض ہوگی۔
ب ) اگر کوئ عورت طلاق کے وقت حاملہ ہو تو ایسی صورت میں وضع حمل ہی عدت شمار ہوگی۔
ج ) اگر کسی عورت کو عمر کے کم یا زیادہ ہونے کی وجہ سے حیض نہیں آتے تو ایسی صورت میں عدت کا دورانیہ تین ماہ ہوگا۔

نوٹ : یاد رہے کہ مندرجہ بالا تینوں صورتیں مطلقہ یعنی ایسی عورتوں کی تھیں جن کو طلاق کی وجہ سے عدت درپیش ہوئ ہو کیونکہ عدت وفات مندرجہ بالا تمام قسم کی عورتوں کے لئے چار مہینے دس دن ہے۔

شریعت میں عدت کی مدت کا معاملہ واضح ہونے کے بعد پاکستانی قانون میں عدت کی مدت مندرجہ ذیل ہے :

الف ) مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے دفعہ سات کے تحت عدت کی مدت نوے دن ہے۔
ب ) شریعت اپیلیٹ بینچ سپریم کورٹ آف پاکستان کے مشہور زمانہ اور تاریخ ساز فیصلے کی رو سے عدت کی مدت نوے دن نہیں بلکہ تین حیض ہیں اور تین حیض کی وضاحت اس فیصلے میں کچھ یوں ہوئ ہے کہ حیض یعنی پیریڈز کی اقل مدت تین دن ہے اور طہر یعنی پاکی کی حالت کی اقل مدت پندرہ دن ہے تو ایسی صورت میں عدت کا کم سے کم دورانیہ انتالیس دن " بھی " ہوسکتا ہے۔

نوٹ : یاد رہے کہ مندرجہ بالا تاریخ ساز فیصلے کے مصنف جسٹس تقی عثمانی صاحب ہیں جن کے فیصلے کو 1992 SCMR 1273 پر پڑھا اور دیکھا جا سکتا ہے۔

31/10/2023

جسٹس مظاہر نقوی کو شوکاز نوٹس جاری: سپریم جوڈیشل کونسل ججز کے خلاف کارروائی کیسے کرتی ہے؟


سپریم جوڈیشل کونسل نے تین دو کی اکثریت سے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کو ناجائز اثاثہ جات کیس میں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 10 نومبر تک جواب طلب کر لیا ہے۔

یہ شوکاز نوٹس پاکستان بار کونسل، صوبائی بار کونسلز اور وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کروائی گئی 10 شکایات کی روشنی میں جاری کیا گیا۔ یہ شکایات جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور ذاتی مفاد کے لیے اپنے اختیارت استعمال کرنے کے الزامات کے بارے میں تھیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی سپریم جوڈیشل کونسل نے جمعے کے روز اپنے اجلاس میں ان شکایات کا جائزہ لیا جس کی روشنی میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کو شو کاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے سینیئر جج سردار طارق مسعود کے خلاف شکایت کنندہ آمنہ ملک نے درخواست دی تھی جس پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ آمنہ ملک کو کونسل کے اگلے اجلاس میں طلب کیا جائے اور ان سے کہا جائے کہ وہ اپنی شکایت کے حوالے سے مزید مواد فراہم کریں جو کہ جسٹس سردار طارق مسعود کو فراہم کیا جائے گا تاکہ اگر وہ چاہییں تو اس پر اپنا جواب دے سکیں۔

جسٹس مظاہر اکبر نقوی پر الزام کیا ہے؟
سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف جمع کروائی گئی شکایات میں ان جائیدادوں کی تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں جو انھوں نے مبینہ طور پر اپنی سروس کے دوران بنائی ہیں۔

میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کروائی گئی درخواست کے ساتھ جسٹس مظاہر اکبر نقوی، ان کے بیٹوں کے نام ’مشکوک انداز میں‘ خریدی گئی جائیدادوں کی دستاویزات منسلک ہیں۔

اس شکایت میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی بیٹی کو برطانوی بینک اکاؤنٹ میں بھیجے گئے پاؤنڈز کی رسید بھی منسلک ہے۔

شکایت کے ساتھ منسلک دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے 2021 میں گلبرگ لاہور میں 2 کنال 4 مرلے کا پلاٹ 4 کروڑ 44 لاکھ میں خریدا جبکہ اسے 7 کروڑ 20 لاکھ کا ڈکلیئر کیا گیا۔

ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے یہ پلاٹ 2022 میں 13 کروڑ میں اپنے مبینہ فرنٹ مین محمد صفدر کو فروخت کر دیا اور بعد ازاں اسے 4 کروڑ 96 لاکھ روپے کا ڈکلیئر کیا۔

ان دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی نے سینٹ جونز پارک کینٹ میں 65 کروڑ مارکیٹ ویلیو والا 4 کنال کا پلاٹ 10 کروڑ 70 لاکھ روپے میں خریدا۔ ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذکورہ جج نے اپنے مبینہ فرنٹ مین کی مدد سے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ صرف پانچ لاکھ روپے میں دلوایا جبکہ مارکیٹ میں اس پلاٹ کی قیمت اس وقت بیس لاکھ روپے سے زیادہ تھی۔

ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے دو بیٹوں کو ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کمرشل پلاٹ محض نو لاکھ روپے میں دیے گئے جبکہ مارکیٹ میں ان پلاٹ کی ویلیو تین کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔

ان دستاویزات میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ مذکورہ جج کی بیٹی کے فارن کرنسی اکاؤنٹ میں دس ہزار برطانوی پاؤنڈز دبئی سے ٹراسنفر کیے گئے۔

تاحال جسٹس نقوی نے اپنے اوپر عائد کردہ ان الزامات کا جواب نہیں دیا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟
آئینی امور کے ماہر حامد خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جج، جس پر الزام ہے، کو شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد شکایات کا جواب دینا ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جج کی طرف سے اس کا جواب دینے کی صورت میں سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس دوبارہ طلب کیا جاتا ہے جس میں جس جج کو نوٹس جاری کیا گیا ہو اس کے جواب کا تفصیلی غور کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل جج کے جواب سے مطمئن ہو تو ریفرنس یا شکایت اسی وقت ہی فارغ کر دی جاتی ہے لیکن اگر کونسل جج کے جواب سے مطمئن نہ ہو تو پھر جس جج کو شو کاز نوٹس جاری کیا گیا ہوتا ہے اس کے خلاف انکوائری شروع ہو جاتی ہے۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ سپریم کوڈیشل کونسل کی کارروائی اِن کیمرا ہوتی ہے تاہم اگر متاثرہ جج چاہے تو وہ درخواست دے سکتا ہے کہ ان کی خلاف کی جانے والی کارروائی اوپن کورٹ میں کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ متاثرہ جج کے خلاف تحقیقات کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کسی بھی ادارے کی خدمات حاصل کر سکتی ہے۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ اگر تحققیات میں جس جج کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہو وہ قصوروار پایا گیا تو سپریم جوڈیشل کونسل اس بارے میں رپورٹ صدر مملکت کو بجھواتی ہے اور صدر مملکت سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے بجھوائی گئی رپورٹ پر عمل درآمد کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ کی روشنی میں ہی صدر مملکت نے نوکری سے برطرف کر دیا تھا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کس طرح کام کرتی ہے؟
سپریم جوڈیشل کونسل پانچ ارکان پر مشتمل ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس کونسل کے سربراہ ہوتے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے دو سینیئر جج اس کے رکن ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کی پانچوں ہائی کورٹس کے دو سینیئر چیف جسٹس صاحبان بھی اس کے رکن ہوتے ہیں۔

یہ کونسل سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی یا مبینہ طور پر بدعنوانی میں ملوث ہونے سے متعلق شکایات کا جائزہ لیتی ہے اور شکایت درست ہونے کی صورت میں اس جج کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کا آخری اجلاس سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سنہ 2021 میں ہوا تھا۔

اس کے بعد سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم جوڈیشل کونسل کا کوئی اجلاس طلب نہیں کیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جمعے کے روز ہونے والے سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں 29 شکایات کا جائزہ لیا گیا جن میں سے 19 شکایات مسترد کر دی گئیں۔

ان میں سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس اعجاز الاحسن کے خلاف دائر شکایات بھی شامل ہیں۔

23/09/2023

Address

Islamabad
Islamabad

Telephone

+923489506065

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv. Azaz Ali Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share