20/08/2026
⚖️ ایف آئی آر ختم کروانے کا قانونی طریقہ کار
ہمارے معاشرے میں بعض اوقات جھوٹی، بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی درخواست کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کروا دی جاتی ہے، جس کا مقصد مخالف فریق کو ہراساں کرنا یا قانونی دباؤ میں لانا ہوتا ہے۔ قانون میں ایسے معاملات کے لیے مختلف قانونی راستے موجود ہیں۔
🔰 1۔ چالان پیش ہونے سے پہلے
پولیس رولز 1934 کے رول 24.7 کے تحت اگر تفتیش کے دوران مقدمہ جھوٹا، بے بنیاد یا غلط فہمیِ قانون و حقائق پر مبنی ثابت ہو تو پولیس کینسلیشن رپورٹ تیار کرکے مجاز مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر سکتی ہے۔
🔰 2۔ تفتیش میں ثبوت ناکافی ہوں
دفعہ 169 ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.) کے تحت اگر تفتیش کے دوران ملزم کے خلاف مناسب اور قابلِ اعتماد شواہد موجود نہ ہوں تو قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔
🔰 3۔ ٹرائل شروع ہونے کی صورت میں
اگر مقدمہ مجسٹریٹ کی عدالت میں زیرِ سماعت ہو اور استغاثہ کے شواہد سے ملزم کے سزا پانے کا کوئی معقول امکان نہ ہو تو دفعہ 249-A Cr.P.C. کے تحت بریت کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔
🔰 4۔ سیشن ٹرائل کی صورت میں
دفعہ 265-K Cr.P.C. کے تحت عدالت مقدمے کے کسی مرحلے پر ملزم کو بری کر سکتی ہے، اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچے کہ ملزم کے سزا یافتہ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
🔰 5۔ ہائی کورٹ سے رجوع
مناسب حالات میں دفعہ 561-A Cr.P.C. کے تحت ہائی کورٹ کے اختیارات سے رجوع کیا جا سکتا ہے، خصوصاً جب کارروائی قانون کے غلط استعمال، بدنیتی یا ایسے حالات پر مبنی ہو جن میں جرم کا مقدمہ بنتا ہی نہ ہو۔
⚠️ اہم نوٹ
ایف آئی آر کی منسوخی (Cancellation)، بریت (Acquittal) اور ایف آئی آر ختم کروانے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرنا الگ الگ قانونی طریقہ کار ہیں۔ ہر مقدمے میں مناسب قانونی راستہ کیس کے حقائق، ایف آئی آر کے مندرجات، تفتیش کے مرحلے اور دستیاب شواہد کو دیکھ کر اختیار کیا جاتا ہے۔
📌 اگر آپ کے خلاف جھوٹی یا بے بنیاد ایف آئی آر درج ہوئی ہے تو مکمل ریکارڈ کے ساتھ ماہر فوجداری وکیل سے قانونی رائے حاصل کریں۔
⚖️ JJ LAW CHAMBER
Narcotics •Civil • Family • Criminal Matters
Rawalpindi • Islamabad .Battagram (Kpk)
Contact us: 03437774425