The Rule of Justice

The Rule of Justice ⚖️ 𝗟𝗲𝗴𝗮𝗹 𝗨𝗽𝗱𝗮𝘁𝗲𝘀
🇵🇰 𝗣𝗮𝗸𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻'𝘀 𝗟𝗮𝘄𝘀 📜
🆕 𝗡𝗲𝘄 𝗟𝗮𝘄𝘀 🏛️
📌 𝗟𝗮𝗻𝗱𝗺𝗮𝗿𝗸 𝗖𝗮𝘀𝗲𝘀 ⚖️
🛡️ 𝗥𝗶𝗴𝗵𝘁𝘀 & ⚠️ 𝗟𝗶𝗮𝗯𝗶𝗹𝗶𝘁𝗶𝗲𝘀
📚 𝗗𝗶𝘃𝗲𝗿𝘀𝗲 𝗟𝗲𝗴𝗮𝗹 𝗔𝘄𝗮𝗿𝗲𝗻𝗲𝘀𝘀 💡

2026 CLC 176
29/01/2026

2026 CLC 176

28/01/2026
𝗢𝗻𝗹𝘆 𝗲𝗱𝘂𝗰𝗮𝘁𝗲𝗱, 𝘄𝗲𝗹𝗹-𝗺𝗮𝗻𝗻𝗲𝗿𝗲𝗱 𝗼𝗳𝗳𝗶𝗰𝗲𝗿𝘀 𝘄𝗶𝘁𝗵𝗼𝘂𝘁 𝗰𝗿𝗶𝗺𝗶𝗻𝗮𝗹 𝗿𝗲𝗰𝗼𝗿𝗱𝘀 𝘀𝗵𝗮𝗹𝗹 𝗯𝗲 𝗦𝗛𝗢𝘀 𝗣𝗲𝗿 07-08-2025 𝗦𝗛𝗖'𝘀 𝗼𝗿𝗱𝗲𝗿. سندھ ہائی کورٹ ...
16/09/2025

𝗢𝗻𝗹𝘆 𝗲𝗱𝘂𝗰𝗮𝘁𝗲𝗱, 𝘄𝗲𝗹𝗹-𝗺𝗮𝗻𝗻𝗲𝗿𝗲𝗱 𝗼𝗳𝗳𝗶𝗰𝗲𝗿𝘀 𝘄𝗶𝘁𝗵𝗼𝘂𝘁 𝗰𝗿𝗶𝗺𝗶𝗻𝗮𝗹 𝗿𝗲𝗰𝗼𝗿𝗱𝘀 𝘀𝗵𝗮𝗹𝗹 𝗯𝗲 𝗦𝗛𝗢𝘀 𝗣𝗲𝗿 07-08-2025 𝗦𝗛𝗖'𝘀 𝗼𝗿𝗱𝗲𝗿.

سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل میں، صرف تعلیم یافتہ، خوش اخلاق، اور جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو، پولیس افسران کو ایس ایچ او کے عہدے پر تعینات کیا جائے گا.

𝘾𝙧𝙮𝙥𝙩𝙤𝙘𝙪𝙧𝙧𝙚𝙣𝙘𝙮 𝙞𝙣 𝙋𝙖𝙠𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣!The Virtual Assets Ordinance, 2025 (Ordinance No. VII of 2025)یہ دستاویز پاکستان کا "ورچوئل ا...
16/09/2025

𝘾𝙧𝙮𝙥𝙩𝙤𝙘𝙪𝙧𝙧𝙚𝙣𝙘𝙮 𝙞𝙣 𝙋𝙖𝙠𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣!

The Virtual Assets Ordinance, 2025 (Ordinance No. VII of 2025)

یہ دستاویز پاکستان کا "ورچوئل اثاثہ آرڈیننس، 2025" ہے، جو صدر پاکستان نے 8 جولائی 2025 کو جاری کیا اور 9 جولائی 2025 کو پاکستان کی گیزیٹ میں شائع ہوا۔
مقصد: ورچوئل اثاثوں (جیسے کرپٹو کرنسی) اور ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کنندگان کی لائسنسنگ، ریگولیشن، نگرانی اور متعلقہ امور کے لیے ایک ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنا۔
دائرہ کار: یہ آرڈیننس پورے پاکستان پر نافذ العمل ہے اور ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کنندگان پر لاگو ہوتا ہے جو پاکستان میں یا پاکستان سے کام کرتے ہیں، البتہ بند ماحولیاتی نظاموں میں استعمال ہونے والے اثاثوں پر مستثنیٰ ہے۔
تعریفیں: ورچوئل اثاثہ کو ڈیجیٹل قدر کی نمائندگی کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو ادائیگی، سرمایہ کاری یا منتقلی کے لیے استعمال ہو سکتا ہے؛ دیگر اصطلاحات جیسے فیئٹ کرنسی، بند ماحولیاتی نظام، اور سیکیورٹی ٹوکن شامل ہیں۔
اتھارٹی کا قیام: پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) ایک خود مختار کارپوریٹ ادارہ ہے، جو بورڈ آف ڈائریکٹرز پر مشتمل ہے جس کی سربراہی چیئرپرسن کرتا ہے۔
اتھارٹی کے فرائض اور اختیارات: لائسنس جاری کرنا، نگرانی کرنا، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ روکنا، صارفین کا تحفظ، جدت کو فروغ دینا، اور بین الاقوامی معیاروں کے ساتھ مطابقت یقینی بنانا۔
بورڈ کی ساخت: چیئرپرسن اور اراکین بشمول گورنر سٹیٹ بینک، سیکرٹریز وزارت خزانہ، قانون اور دیگر، جو تین سال کی مدت کے لیے مقرر ہوتے ہیں۔
لائسنسنگ: کوئی بھی شخص بغیر لائسنس کے ورچوئل اثاثہ خدمات فراہم نہیں کر سکتا؛ لائسنس کے لیے شرائط، درخواست کا طریقہ کار، اور تجدید کی دفعات شامل ہیں۔
نگرانی اور تعمیل: اتھارٹی ریکارڈز کی جانچ، آڈٹ، اور تعمیل کو یقینی بناتی ہے؛ AML/CFT قوانین کی پابندی لازمی ہے۔
سزائیں: خلاف ورزی پر جرمانے، قید، لائسنس کی منسوخی، اور دیگر سزائیں مقرر ہیں، جو دس لاکھ روپے سے لے کر کروڑوں روپے تک ہو سکتی ہیں۔
مالی انتظام: اتھارٹی کا بجٹ، آڈٹ، اور فنڈز کا انتظام، بشمول سالانہ رپورٹس اور اکاؤنٹس۔
بین الاقوامی تعاون: دوسرے ملکوں اور اداروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ اور تعاون کو فروغ دینا۔
متفرق دفعات: آرڈیننس دیگر قوانین کے ساتھ تعلق، ترامیم کی طاقت، اور شریعہ ایڈوائزری کمیٹی کا قیام شامل ہے۔








Source for PDF: Pakistan Code https://share.google/oBEjFdJzGcbNNcHT9

13/08/2025

𝗚𝗲𝗻𝗲𝗿𝗮𝗹 𝗘𝘅𝗰𝗲𝗽𝘁𝗶𝗼𝗻𝘀 𝘂𝗻𝗱𝗲𝗿 𝗣𝗮𝗸𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻 𝗣𝗲𝗻𝗮𝗹 𝗖𝗼𝗱𝗲 𝟭𝟴𝟳𝟳:
عمومی استثنیٰ (سیکشن 76 تا 106 پی پی سی)

پی پی سی میں قانون کی غلط فہمی، حادثہ، خود دفاعی، بچوں (10 سال سے کم) اور پاگل پن کی وجہ سے جرائم معاف ہو سکتے ہیں۔ خود دفاعی میں موت کا باعث بننے کی اجازت ہے اگر جان کو خطرہ ہو۔
حقوق:
خود دفاعی کا حق۔
ذمہ داری:
غیر ضروری طاقت استعمال نہ کریں۔
یہ استثنیٰ تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

سوال: جرح کے دوران کون کون سے سوالات کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور کس قسم کے سوالات گواہ سے پوچھنے پر عدالت کاروائی بھی کر س...
13/08/2025

سوال: جرح کے دوران کون کون سے سوالات کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور کس قسم کے سوالات گواہ سے پوچھنے پر عدالت کاروائی بھی کر سکتی ہے؟

جواب: ہمارے عدالتی نظام میں شہادت کو بہت اہمیت حاصل ہے، اور دوران شہادت گواہان پر جرح کرنا فریق ثانی کا حق ہے ۔ تاہم اس حق پر قانون شہادت میں کچھ پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن کا جاننا ایک عام آدمی کے لیے تو ضروری ہے تاہم وکلاء حضرات کے لیے اس امر کا جاننا از حد ضروری ہے۔

متعلقہ قانون:

قانون شہادت آرڈیننس 1964 کے آرٹیکل نمبر 141سے لے کر آرٹیکل نمبر 148تک ایسے اصول وضع کیے گئے ہیں جنکی روشنی میں کوئی بھی سوال جو کہ مقدمہ کے حوالے سے ہو پوچھا جا سکتا ہے۔

کون سا سوال کیا جا سکتا ہے؟

کسی بھی گواہ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے
آرٹیکل نمبر 141: کے تحت کوئی بھی قانونی سوال کیا جا سکتا ہے۔
اسکی زندگی میں پوزیشن اور اسکی ذات کی بابت سوال کیا جا سکتا ہے۔
اسکے کردار کو مشکوک ثابت کرنے کے لیے کوئی بھی سوال کیا جا سکتا ہے۔

آرٹیکل 142 کے تحت گواہ کو سوال کا جواب دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اگر وہ سوال متعلقہ ہو تو۔

آرٹیکل 143 کے تحت عدالت نے اس بات کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ سوال مقدمہ کے متعلقہ ہے یا نہیں۔

آرٹیکل 144 کے تحت کوئی بھی غیر ضروری اور غیر متعلقہ سوال گواہ سے نہ پوچھا جا سکتا ہے۔

آرٹیکل 145 کے تحت اگر کوئی وکیل غیر ضروری اور غیر متعلقہ سوال بار بار پوچھے تو عدالت کو۔اختیار ہے کہ وہ اسکے خلاف کارروائی کے لیے ہائیکورٹ کو اور بار کونسل کو آگاہ کر سکتی ہے۔

آرٹیکل 146 کے تحت عدالت کو اختیار ہے کہ وہ سکینڈلز پر مبنی سوالات کو روک سکے۔

آرٹیکل 147 عدالت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ ایسے
مقدمات جن میں کسی شخص کی شخصیت پر بہتان لگایا گیا ہو یا اسکی حیثیت عرفی کو بدنام کیا گیا ہو ۔ عدالت اس زیر سوال حصہ کی حد تک اس متعلقہ گواہ کی شخصیت کے بارے سوالات کی اجازت دے سکتی ہے۔ تاہم اس امر کی اجازت دینے سے قبل عدالت اس اجازت کی بابت وجوہات تحریر کرے گی۔

آرٹیکل 148 کے تحت کوئی بھی سوال جو کسی کی بے عزتی پر مبنی ہو عدالت کو لازمی روکنا ہو گا۔

یاد رکھیں عدالت میں اگر آپ دانستہ طور پر جھوٹ بولیں گے تو آپ پر دفعہ 193 پاکستان پینل کوڈ کے تحت کاروائی کی جائے گی جو کہ سات سال تک قید اور جرمانہ کی صورت ہو سکتی ہے۔

خواتین کی غیر قانونی بے دخلی پر سخت سزا — فوجداری قانون میں اہم ترمیمحکومتِ پاکستان نے پاکستان پینل کوڈ 1860 اور ضابطہ ف...
13/08/2025

خواتین کی غیر قانونی بے دخلی پر سخت سزا — فوجداری قانون میں اہم ترمیم

حکومتِ پاکستان نے پاکستان پینل کوڈ 1860 اور ضابطہ فوجداری 1898 میں ترمیم کا بل 2025 میں پیش کیا ہے جس کے تحت خواتین کو گھروں سے غیر قانونی طور پر بے دخل کرنے پر سخت سزا مقرر کر دی گئی ہے۔ نئے سیکشن 498D کے مطابق اگر شوہر یا کوئی بھی خاندانی فرد بیوی کو مشترکہ رہائش سے بلا جواز یا بغیر قانونی اختیار کے نکالتا ہے یا نکالنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ جرم تصور ہوگا، جس کی سزا کم از کم تین ماہ اور زیادہ سے زیادہ چھ ماہ قید، یا دو لاکھ روپے جرمانہ، یا دونوں ہو سکتی ہے۔ اس جرم میں وارنٹ کے بغیر گرفتاری نہیں ہوسکے گی، یہ قابل ضمانت اور ناقابل راضی نامہ ہوگا اور مقدمہ فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کی عدالت میں سنا جائے گا۔ یہ قانون خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ایک اہم پیش رفت ہے جو گھریلو تنازعات میں طاقت کے زور پر خواتین کو بے گھر کرنے جیسے ظلم کے خلاف مضبوط قانونی ڈھال فراہم کرتا ہے، تاکہ خواتین اپنے رہائشی اور انسانی حقوق کے تحفظ میں مزید بااختیار ہوں کیونکہ “انصاف وہ نہیں جو طاقتور کے حق میں ہو، بلکہ وہ ہے جو کمزور کو طاقتور کے برابر کھڑا کرے۔”




LL.B and LL.M Admissions at SZABUL Karachi,  don't wait for the last date. Apply today.
27/06/2023

LL.B and LL.M Admissions at SZABUL Karachi, don't wait for the last date.
Apply today.

Address

Hyderabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Rule of Justice posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share