26/05/2026
کبھی تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھیے..
دنیا کے نقشے سے وہ افراد اور اقوام سب سے پہلے مٹ گئے جنہوں نے اپنی مذہبی تہذیب، روایات اور ثقافت کو چھوڑ کر صرف دنیوی رنگوں کو اپنا لیا۔
کیونکہ جب کسی قوم کا ضمیر مر جائے تو اُس کے زوال میں صرف وقت باقی رہ جاتا ہے۔
آج بدقسمتی سے یہی منظر ہم اپنے علاقے میں دیکھ رہے ہیں۔
سیاسی کمپین اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے، لیکن کیا سیاست اتنی بھی ضروری ہو گئی ہے کہ گلی گلی میں اونچی آواز میں میوزک بجا کر پوری سوسائٹی کا سکون تباہ کر دیا جائے؟
آخر کس مذہب، کس تہذیب اور کس ثقافت نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ اپنی خوشی اور سیاسی نشہ دوسروں کی تکلیف پر تعمیر کرو….؟
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جنہیں ہم “کافر” کہتے ہیں، وہ بھی اپنی ماں، بہن اور معاشرے کے سکون کا خیال رکھتے ہیں کہ اُن کی وجہ سے کوئی پریشان نہ ہو۔
مگر یہاں مسجد کی پہلی صف میں کھڑے ہونے والے لوگ بھی اِن حرام محفلوں کا حصہ بننے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ دونوں سیاسی امیدواروں کے پاس نہ کوئی سیاسی منشور ہے، نہ کوئی فکر اور نہ ہی کوئی نظریہ۔
یہ سیاستدان کم، اور ٹھیکیدار زیادہ نظر آتے ہیں۔
ایسے لوگ جو عوام کی سوچ نہیں، صرف جذبات خریدنا جانتے ہیں۔
وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم ہوش کے ساتھ سوچیں۔
ہر چیز کو اُس کے اصل مقام اور منصب کے مطابق اہمیت دیں۔
کیونکہ جس معاشرے میں شور، ریاکاری اور تماشہ شعور پر حاوی ہو جائے، وہاں ترقی نہیں… صرف تباہی جنم لیتی ہے۔
…