16/04/2026
بچوں کی حضانت (Custody) کے حوالے سے گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کے سیکشن 12 اور 25 کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کی طلب کے مطابق ان کی تفصیلات اور اہم عدالتی فیصلے درج ذیل ہیں:
1. سیکشن 12 (عارضی تحویل - Interim Custody)
یہ سیکشن عدالت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کیس کے فیصلے تک بچے کی حفاظت اور تحویل کے لیے عارضی حکم جاری کرے۔
• مقصد: جب تک اصل کیس (سیکشن 25) کا فیصلہ نہیں ہوتا، بچہ کس کے پاس رہے گا یا والدین سے ملاقات کیسے ہوگی۔
• اہم نکتہ: عدالت بچے کی فوری فلاح و بہبود کو دیکھتی ہے۔
اہم ججمنٹ:
• 2021 MLD 560:
اس میں قرار دیا گیا کہ باپ کو بچے سے ملنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مستقل کسٹڈی کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، تب بھی ملاقات کا شیڈول بنانا عدالت کی ذمہ داری ہے۔
2. سیکشن 25 (مستقل تحویل - Permanent Custody)
یہ سیکشن اس وقت استعمال ہوتا ہے جب ایک سرپرست (Guardian) اپنے وارڈ (بچے) کی مستقل تحویل کا مطالبہ کرتا ہے جو اس کی تحویل سے نکل چکا ہو۔
• بنیادی اصول: اس سیکشن کے تحت فیصلہ صرف اور صرف "Welfare of the Minor" (بچے کی بھلائی) کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
اہم ججمنٹس:
• PLD 2018 Supreme Court 341:
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ماں کی دوسری شادی خود بخود اسے کسٹڈی سے محروم نہیں کرتی۔ اگر بچہ ماں کے پاس خوش اور محفوظ ہے، تو کسٹڈی اسے ہی دی جائے گی۔
• 2004 SCMR 1839:
عدالت نے قرار دیا کہ محض باپ کی مالی حیثیت بہتر ہونا کسٹڈی حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں، بلکہ بچے کا ذہنی اور جذباتی لگاؤ دیکھا جائے گا۔
3. ماں اور باپ کے حقوق اور قانونی نکات
• ماں کا حق (Hizanat): اسلامی قوانین اور عدالتی رواج کے مطابق، لڑکا 7 سال تک اور لڑکی بلوغت تک ماں کے پاس رہنے کی حقدار ہے، بشرطیکہ ماں کا کردار اور حالات بچے کے لیے سازگار ہوں۔
• باپ کا حق: باپ بچے کا قدرتی نگہبان (Natural Guardian) ہے اور تمام اخراجات کا ذمہ دار ہے۔ اگر ماں بچے کی صحیح تربیت نہ کر سکے یا وہ دوبارہ شادی کر لے (کسی اجنبی سے)، تو باپ کسٹڈی کلیم کر سکتا ہے۔
• بچے کی مرضی (Preference): اگر بچہ سمجھدار ہے (عام طور پر 9 سال سے زائد)، تو عدالت اس سے پوچھ سکتی ہے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے
(1995 SCMR 1206).
آئینِ پاکستان اور بچوں کے حقوق
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 35 ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ "ماں اور بچے" کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔ عدالتیں اس آرٹیکل کی روشنی میں ہمیشہ "بچے کی فلاح و بہبود" (Welfare of the Minor) کو سب سے مقدم رکھتی ہیں۔ قانون کی نظر میں ماں یا باپ کے حقوق سے زیادہ بچے کا مفاد اہم ہوتا ہے۔
3. ماں اور باپ کے حقوق (قانونی نقطہ نظر)
• ماں کا حق (حقِ حضانت): اسلامی قانون اور پاکستانی عدالتی رواج کے مطابق، کم عمری میں بچہ ماں کے پاس رہنے کا زیادہ حقدار ہے (لڑکوں کے لیے 7 سال اور لڑکیوں کے لیے بلوغت تک)۔ تاہم، اگر ماں دوسری شادی کر لے (کسی اجنبی سے) یا اس کا کردار مشکوک ہو، تو یہ حق ختم ہو سکتا ہے۔
• باپ کا حق: باپ بچے کا "قدرتی نگہبان" (Natural Guardian) ہے۔ وہ بچے کے اخراجات اٹھانے کا پابند ہے۔ اگر ماں بچے کی صحیح پرورش نہ کر سکے یا وہ بچے کو باپ سے دور لے جائے، تو باپ کسٹڈی کا دعویٰ کر سکتا ہے۔
4. اہم عدالتی ججمنٹس (Judgments)
الف) بچے کی فلاح و بہبود
(2004 SCMR 1839)
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسٹڈی کے کیسز میں نہ تو ماں کا حق دیکھا جائے گا نہ باپ کا، بلکہ صرف یہ دیکھا جائے گا کہ بچے کا مستقبل کہاں بہتر ہے۔ اگر باپ زیادہ امیر ہے لیکن بچہ ماں سے مانوس ہے، تو بچہ ماں کو ہی ملے گا۔
ب) ماں کی دوسری شادی (PLD 2018 SC 341)
اس فیصلے میں واضح کیا گیا کہ محض دوسری شادی کر لینا ماں کو کسٹڈی سے محروم نہیں کرتا۔ اگر ماں کا دوسرا شوہر (سوتیلا باپ) بچے کے لیے شفیق ہے اور بچہ وہاں خوش ہے، تو عدالت کسٹڈی ماں کے پاس برقرار رکھ سکتی ہے۔
ج) سیکشن 12 کے تحت ملاقات کا حق
(2021 MLD 560)
عدالتوں نے طے کیا ہے کہ باپ کو بچے سے ملنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اگر کسٹڈی ماں کے پاس ہے، تو باپ کو ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر عدالت کے اندر یا باہر ملاقات کا حق حاصل ہے، کیونکہ باپ سے محرومی بچے کی شخصیت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
5. قانونی نکات (Key Legal Points)
1. بچے کی ترجیح: اگر بچہ سمجھدار ہے (عام طور پر 9 سال سے اوپر)، تو جج اسے چیمبر
میں بلا کر اس کی اپنی مرضی بھی پوچھ سکتا ہے۔
2. حالات کی تبدیلی: کسٹڈی کا فیصلہ کبھی "حتمی" نہیں ہوتا۔ اگر حالات بدل جائیں (مثلاً ماں بیمار ہو جائے یا باپ بیرون ملک چلا جائے)، تو کسٹڈی کا کیس دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
3. خرچہ (Maintenance): کسٹڈی چاہے جس کے پاس بھی ہو، بچے کا خرچہ اٹھانا باپ کی قانونی ذمہ داری ہے۔
Cyber Crime Lawyer