Ch Law Firm

Ch Law Firm THE LAW JUSTICE ⚖️
ROOHI MAQBOOL CH ADV
Senior Vice President DBA GUJRANWALA
21/40 Fatima Jinnah Chambers Session Court Gujranwala.

Specialist in Civil, Criminal, Banking، Consumer Court and Family Cases.

19/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 دستاویزات کی منسوخی — SECTION 39, SPECIFIC RELIEF ACT, 1877

🏛️ VOID یا VOIDABLE؟ — قانونی چارہ جوئی کا بنیادی فرق

پاکستانی عدالتی نظیر (Jurisprudence) کے مطابق کسی دستاویز کے خلاف مناسب قانونی چارہ جوئی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ VOID ہے یا VOIDABLE۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🔴 VOID DOCUMENT — کالعدم دستاویز

اگر کوئی دستاویز شروع ہی سے جعلی، من گھڑت یا Void ab initio ہو تو قانون کی نظر میں وہ مؤثر قانونی حق پیدا نہیں کرتی۔

⚖️ ایسی صورت میں ہر حال میں Section 39 کے تحت Cancellation کی ڈگری حاصل کرنا ضروری نہیں۔

📌 مناسب صورت میں Section 42 کے تحت Declaration کا دعویٰ دائر کر کے یہ قرار دلوایا جا سکتا ہے کہ متنازعہ دستاویز مدعی کے حقوق کے خلاف غیر مؤثر اور بے اثر ہے۔

📚 2021 SCMR 1986
📚 PLD 1964 SC 329
📚 2010 SCMR 978 — عبدالرحمن کیس

ان نظائر میں بنیادی اصول یہ ہے کہ جو دستاویز ابتدا ہی سے Void ab initio ہو، اسے منسوخ کرنے کی ضرورت اس طرح نہیں ہوتی جیسے کسی مؤثر مگر قابلِ تنسیخ دستاویز کو ہوتی ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🟢 VOIDABLE DOCUMENT — قابلِ تنسیخ دستاویز

اس کے برعکس، Voidable دستاویز بادی النظر میں قانونی طور پر مؤثر ہوتی ہے، لیکن دھوکہ دہی، غلط بیانی، جبر، ناجائز دباؤ یا رضامندی میں قانونی نقص کی بنیاد پر اسے عدالت سے منسوخ کروایا جا سکتا ہے۔

⚖️ ایسی صورت میں، خصوصاً جب مدعی خود دستاویز کا فریق یا دستخط کنندہ (Executant) ہو، تو مناسب حالات میں Section 39 کے تحت Cancellation کا دعویٰ ضروری ہو سکتا ہے۔

📚 2025 SCMR 551
معاہدات اور Agreements to Sell کے نفاذ اور متعلقہ Consequential Relief کے اصولوں پر اہم فیصلہ۔

📚 2025 SHC KHI 553
رجسٹرڈ دستاویز کے فریق/Executant کی جانب سے اسے چیلنج کرنے، مناسب Remedy اور Limitation کے قانونی تقاضوں پر اہم اصول۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

🏛️ تازہ لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

📚 2026 LHC 1508 — آصف علی بنام امجد علی

لاہور ہائی کورٹ نے Void Document کے حوالے سے سابقہ عدالتی اصولوں کی توثیق کرتے ہوئے اس امر کو واضح کیا کہ اگر دستاویز بنیادی طور پر کالعدم/جعلی ہو تو اس کی باقاعدہ Cancellation ہر صورت لازم نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

⚖️ اہم قانونی نکتہ

VOID DOCUMENT
🔹 ابتدا ہی سے کالعدم
🔹 ہر صورت Cancellation ضروری نہیں
🔹 مناسب صورت میں Declaration کافی ہو سکتی ہے

VOIDABLE DOCUMENT
🔹 بادی النظر میں مؤثر
🔹 متاثرہ فریق اسے منسوخ کروا سکتا ہے
🔹 مناسب صورت میں Section 39 Cancellation ضروری ہو سکتی ہے

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

📌 پریکٹس میں بنیادی سوال

کیا آپ کا موکل متنازعہ دستاویز کا فریق یا دستخط کنندہ (EXECUTANT) ہے، یا نہیں؟

⚖️ اسی بنیادی سوال سے مناسب قانونی Remedy کا تعین ہوتا ہے: Declaration یا Cancellation۔

ROOHI IRAM CH ADV
21/40 FATIMA JINNAH CHAMBERS
SESSION COURT GUJRANWALA

⚖️ THE LAW JUSTICE

کیا یہ وکلاء کی ویلفیئر ہے؟؟؟بس کھانے کے نئے نئے طریقے
18/08/2026

کیا یہ وکلاء کی ویلفیئر ہے؟؟؟
بس کھانے کے نئے نئے طریقے

17/08/2026
16/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 بچوں کے نان نفقہ اور غریب باپ یا دادا کی ذمہ داری — اہم عدالتی اصول

بچوں کا نان نفقہ ان کا بنیادی حق ہے، تاہم عدالت کو یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ نان نفقہ ادا کرنے والا شخص حقیقتاً مالی استطاعت رکھتا ہے یا نہیں۔

🏛️ لاہور ہائی کورٹ — PLD 2012 Lahore 445
عبدالمجید بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج فیصل آباد و دیگر

عدالت نے قرار دیا کہ 76 سالہ، محدود آمدنی رکھنے والے دادا کو محض نان نفقہ ادا نہ کرنے پر جیل بھیجنا بچوں کے مسئلے کا حل نہیں۔ ایسے حالات میں بچوں کے حقِ نان نفقہ کے لیے زکوٰۃ فنڈ، پاکستان بیت المال اور متعلقہ سرکاری اداروں سے مدد کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے فیصل آباد کے دو نابالغ بچوں کو ضلعی بیت المال سے فی بچہ 5,000 روپے ماہانہ امداد دینے کا حکم دیا، جس میں 10 فیصد سالانہ اضافہ بھی مقرر کیا گیا۔

🏛️ سندھ ہائی کورٹ — 2018 CLC 1786
عمر دراز بنام فیملی جج

عدالت نے قرار دیا کہ اگر باپ بچوں کا نان نفقہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو ڈائریکٹر بیت المال اور ڈسٹرکٹ آفیسر بیت المال جیسے متعلقہ سرکاری اداروں کو مقدمے میں فریق بنایا جا سکتا ہے تاکہ بچوں کے لیے ریاستی مالی امداد کا راستہ پیدا ہو۔

🏛️ سپریم کورٹ آف پاکستان — PLD 2015 SC 142
غلام نبی بنام محمد عاصم

دادا پر پوتوں کے نان نفقہ کی ذمہ داری اس کی مالی استطاعت کے مطابق ہے۔ اگر دادا خود غریب، محتاج یا بنیادی اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہو تو اس پر ایسا مالی بوجھ عائد نہیں کیا جا سکتا جسے وہ ادا کرنے کی استطاعت ہی نہ رکھتا ہو۔

⚖️ خلاصۂ قانون

بچوں کا نان نفقہ ان کا حق ہے، مگر بے استطاعت باپ یا دادا کو محض جیل بھیجنا اس حق کی مؤثر تکمیل نہیں۔ ایسے حالات میں بیت المال، زکوٰۃ اور متعلقہ ریاستی اداروں کے ذریعے بچوں کی مالی کفالت کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

📚 اہم حوالہ جات:
PLD 2012 Lahore 445
2018 CLC 1786 — سندھ ہائی کورٹ
PLD 2015 SC 142 — سپریم کورٹ آف پاکستان

⚖️ THE LAW JUSTICE

ROOHI IRAM CH ADV
21/40 FATIMA JINNAH CHAMBERS
SESSION COURT GUJRANWALA

16/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

🌸 طلاق کے بعد ماں اور بچے کے مالی و قانونی حقوق 🌸

📚 پاکستانی فیملی قوانین اور اعلیٰ عدلیہ کے اہم اصول

🔹 1️⃣ خرچۂ رضاعت 🍼
📖 2022 LHC 26 — 2022 PLD 840

اگر طلاق کے بعد ماں شیر خوار بچے کو دودھ پلاتی ہے تو وہ قانون و شرعی اصولوں کے مطابق بچے کو دودھ پلانے کا معاوضہ حاصل کرنے کی حقدار ہو سکتی ہے۔

🔹 2️⃣ بچے کا مستقل نان و نفقہ 👶💰
📖 PLD 2026 SC 170 — PLD 2013 SC 557

بچے کا نان و نفقہ ماں کے ذاتی خرچے سے الگ حق ہے۔ طلاق کے بعد بھی باپ بچے کے مناسب نان و نفقہ کا ذمہ دار رہتا ہے۔

🔹 3️⃣ والدین کا نجی معاہدہ بچے کا حق ختم نہیں کر سکتا ⚖️
📖 2024 MLD 145 Lahore

والدین کسی اسٹامپ پیپر یا باہمی معاہدے کے ذریعے بچے کے قانونی حقِ نان و نفقہ کو ختم نہیں کر سکتے۔

🔹 4️⃣ باپ کی حقیقی آمدنی اور مالی استطاعت کا تعین 💼💰
📖 Section 17-A, Family Courts Act, 1964

فیملی کورٹ باپ کی مالی استطاعت اور آمدنی کو سامنے رکھتے ہوئے نان و نفقہ مقرر کر سکتی ہے۔

🔹 5️⃣ حضانت اور سرپرستی 👩‍👧‍👦⚖️
📖 Guardians and Wards Act, 1890

طلاق یا خلع سے ماں کا حضانت کا حق خود بخود ختم نہیں ہوتا۔ عدالت بچے کی فلاح و بہبود کو بنیادی اہمیت دیتی ہے۔

🔹 6️⃣ حقِ مہر اور عدت کا نان و نفقہ 💍⚖️
📖 Muslim Family Laws Ordinance, 1961

طلاق کی صورت میں عورت کے واجب الادا حقِ مہر اور عدت کے دوران نان و نفقہ کے حقوق قانون کے مطابق قابلِ دعویٰ ہیں۔

🌸 اہم قانونی اصول 🌸

⚖️ ماں کا حق الگ، بچے کا حق الگ
⚖️ بچے کا نان و نفقہ باپ کی قانونی ذمہ داری ہے
⚖️ والدین کا باہمی معاہدہ بچے کے حق کو ختم نہیں کرتا
⚖️ بچے کی فلاح و بہبود حضانت میں بنیادی معیار ہے

📚 THE LAW JUSTICE

⚖️ ROOHI IRAM CH ADVOCATE

🏛️ CH. LAW FIRM

📍 21/40، فاطمہ جناح چیمبرز، سیشن کورٹ، گوجرانوالہ

🌿 قانون جانیے — اپنے حقوق پہچانیے 🌿

14/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 2021 LHC 9385

اعجاز اقبال بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وغیرہ

🏛️ لاہور ہائی کورٹ

نکاح نامہ کی تمام نقول کو یکساں قانونی تحفظ حاصل نہیں

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نکاح نامہ کی چاروں نقول کے بارے میں قانوناً از خود درست اور سچا ہونے کا مفروضہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔

صرف پہلی اور چوتھی نقل کو قانونی طور پر درست ہونے کا مفروضہ حاصل ہے، کیونکہ یہ سرکاری تحویل اور محفوظ ریکارڈ کا حصہ ہوتی ہیں۔

🔹 پہلی نقل: نکاح خواں کے سرکاری رجسٹر میں محفوظ رہتی ہے۔

🔹 چوتھی نقل: متعلقہ یونین کونسل کو ارسال کی جاتی ہے اور سرکاری ریکارڈ میں محفوظ ہوتی ہے۔

اہم قانونی اصول

نکاح نامہ کی وہ نقول جو سرکاری تحویل میں محفوظ نہ ہوں، ان کے مندرجات کو محض نکاح نامہ کا حصہ ہونے کی بنیاد پر خودکار طور پر درست اور سچا تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

Writ Petition No. 3075 of 2021

23 نومبر 2021

Justice Anwaar Hussain

⚖️ قانونی اصول — سرکاری تحویل میں موجود ریکارڈ کو خصوصی قانونی حیثیت حاصل ہے۔

ROOHI IRAM CH ADV
21/40 FATIMA JINNAH CHAMBERS
SESSION COURT GUJRANWALA

13/08/2026

🇵🇰 پاکستان یومِ آزادی 2026 🇵🇰

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

📚 2026 SCMR 1033
سپریم کورٹ آف پاکستان

Capital Development Authority (CDA) بنام ڈاکٹر شیخ محمد شعیب شفیع

اہم قانونی اصول

🔹 یک طرفہ فیصلہ اور وکیل کی غفلت
صرف وکیل کی غفلت، لاپروائی یا غیر ذمہ دارانہ رویے کو بنیاد بنا کر یک طرفہ فیصلہ ختم نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً جب متعلقہ سرکاری ادارہ خود مقدمہ کی پیروی میں مسلسل غفلت کا مرتکب رہا ہو۔

🔹 کافی وجہ ثابت کرنا ضروری
ضابطۂ دیوانی کے آرڈر IX رول 13 کے تحت یک طرفہ فیصلہ ختم کروانے کے لیے فریق کو عدم حاضری کی مناسب اور کافی وجہ ثابت کرنا لازم ہے۔

🔹 تاخیر کی معافی
تاخیر معاف کروانے کے لیے ہر دن کی تاخیر کی معقول، قابلِ قبول اور قابلِ اعتماد وضاحت پیش کرنا ضروری ہے۔

🔹 حاصل شدہ قانونی حق کا تحفظ
جب کسی فریق نے عدالتی کارروائی کے نتیجے میں باقاعدہ اور جائز قانونی حق حاصل کر لیا ہو تو مخالف سرکاری ادارے کی غفلت یا عدم دلچسپی کی وجہ سے اس حق سے من مانے طور پر محروم نہیں کیا جا سکتا۔

🇵🇰 14 اگست 2026
آزادی کا جشن — قانون کی بالادستی کے عزم کے ساتھ

روحی ارم چوھدری ایڈووکیٹ
ROOHI IRAM CH ADV
21/40 فاطمہ جناح چیمبرز، سیشن کورٹ گوجرانوالہ

13/08/2026

⚖️ THE LAW JUSTICE ⚖️

سپریم کورٹ آف پاکستان کا تاریخی فیصلہ

PLD 2026 SC 280 | PLJ 2026 SC 298

کیا سول یا فیملی عدالت ڈگری کے نفاذ کے لیے CNIC بلاک کر سکتی ہے؟

سپریم کورٹ کا واضح جواب: نہیں!

🏛️ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس منیـب اختر کے اہم فیصلے میں قرار دیا کہ ڈگری یا فیملی مقدمے کی Ex*****on کے دوران ماتحت عدالت کو Judgment-Debtor کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) بلاک یا منجمد کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔

اہم قانونی نکات

1️⃣ سیکشن 51(e) CPC کی تشریح

ضابطہ دیوانی کا سیکشن 51 ڈگری کے نفاذ کے مختلف طریقے فراہم کرتا ہے۔ اس کی شق 51(e) اگرچہ عدالت کو دوسرے مناسب طریقے اختیار کرنے کی گنجائش دیتی ہے، لیکن یہ اختیار لامحدود نہیں۔

عدالت کا طریقۂ کار مؤثر ہو سکتا ہے، مگر ایسا جبر یا سخت اقدام نہیں ہو سکتا جو قانون اور شہری کے بنیادی حقوق سے متصادم ہو۔

2️⃣ بجلی، پانی اور گیس کاٹنے کی مثال

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگر رقم کی وصولی کے لیے CNIC بلاک کرنے کی اجازت دے دی جائے تو پھر کل کسی Judgment-Debtor کے گھر کی بجلی، پانی یا گیس کا کنکشن کاٹنے کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے۔

قانون ایسی عدالتی مہم جوئی کی اجازت نہیں دیتا۔

3️⃣ CNIC کوئی عیاشی نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے

موجودہ دور میں CNIC عام زندگی کے لیے ناگزیر ہے۔
بینک اکاؤنٹ، ملازمت، مالی معاملات، علاج معالجہ اور دیگر شہری و قانونی امور میں شناختی کارڈ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

لہٰذا CNIC بلاک کرنا محض ایک انتظامی پابندی نہیں بلکہ کسی شخص کے قانونی اور شہری وجود کو شدید متاثر کرنے والا اقدام ہے۔

4️⃣ آئینی حقوق کا تحفظ

عدالت نے واضح کیا کہ CNIC بلاک کرنے کا اقدام شہری کے بنیادی حقوق سے متصادم ہو سکتا ہے، خصوصاً:

آرٹیکل 9 — زندگی اور شخصی آزادی کا تحفظ

آرٹیکل 14 — انسانی وقار کا تحفظ

5️⃣ فیملی مقدمات اور نان و نفقہ

یہ اصول فیملی کورٹس پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

اگر کوئی شخص بیوی یا بچوں کے نان و نفقہ کی رقم ادا کرنے سے قاصر ہو، تب بھی فیملی کورٹ اس کا CNIC بلاک نہیں کر سکتی۔

کیونکہ CNIC بلاک ہونے سے اس شخص کے لیے ملازمت، آمدن اور روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں واجبات کی ادائیگی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔

6️⃣ قانون میں موجود جائز متبادل طریقے

رقوم یا واجبات کی وصولی کے لیے قانون میں پہلے ہی مؤثر اور مجاز طریقے موجود ہیں، مثلاً:

🔹 جائیداد کی قرقی و ضبطگی (Attachment of Property)

🔹 تنخواہ سے قانونی کٹوتی (Salary Deduction)

🔹 ضابطہ دیوانی میں مقرر دیگر مجاز طریقۂ اجرا

اہم اصول

Executing Court ڈگری پر عمل درآمد کرا سکتی ہے، مگر ایسا طریقہ اختیار نہیں کر سکتی جو قانون میں مجاز نہ ہو اور شہری کے بنیادی حقوق کو غیر ضروری طور پر متاثر کرے۔

⚖️ CNIC بلاک کرنا ڈگری کے نفاذ کا مجاز طریقہ نہیں۔

PLD 2026 SC 280
PLJ 2026 SC 298

⚖️ THE LAW JUSTICE

روحی ارم چوھدری ایڈووکیٹ
21/40 فاطمہ جناح چیمبرز، سیشن کورٹ گوجرانوالہ

Address

21/40 Fatima Jinnah Chambers Session Court Complex
Gujranwala

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ch Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share