Advocate Aqib Khalid

  • Home
  • Advocate Aqib Khalid

Advocate Aqib Khalid Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Advocate Aqib Khalid, Tax Lawyer, .

چھوٹے دکانداروں کے لئے آسان ریٹرن
18/07/2026

چھوٹے دکانداروں کے لئے آسان ریٹرن




02/07/2026

اسلام آباد : حکومت کی جانب سے دس کروڑ کی بینک ٹرانزیکشن کا ڈیٹا رپورٹ کرنے کا قانون نافذ کردیا گیا ، جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے ملک میں ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے سخت اور جدید ترین قانونی طریقہ کار متعارف کرا دیا۔

فنانس ایکٹ 2026ء کے تحت یکم جولائی سے ان تمام بینک اکاؤنٹ ہولڈرز کا ڈیٹا ڈیجیٹل اسکروٹنی کے لیے فراہم کیا جائے گا، جن کی 6 ماہ کے دوران بینک ڈپازٹس یا ود ڈرالز کی مالیت 10 کروڑ (100 ملین) روپے سے زائد ہوگی۔

گزشتہ روز جاری ہونے والے فنانس ایکٹ 2026ء کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء میں ایک نئی شق "سیکشن 165AB” شامل کی گئی ہے، جس کا عنوان "بینکنگ کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے مالیاتی لین دین کے ڈیٹا کی رپورٹنگ” ہے۔

اس نئے قانون کے تحت تمام بینکنگ کمپنیوں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ دوسرے بینکنگ یا مالیاتی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مخصوص مالیاتی لین دین کا ڈیٹا الیکٹرانک طریقے سے ایک "سینٹرل ڈیٹا ہب” پر اپ لوڈ کریں، تاکہ بینکنگ اور ٹیکس معلومات کا کمپیوٹر الگورتھم کے ذریعے موازنہ کیا جا سکے۔

کون سی معلومات شیئر کی جائیں گی؟
بینکس کی جانب سے ایسے اکاؤنٹ ہولڈرز کا ڈیٹا شیئر کیا جائے گا جن کے کسی ایک یا تمام بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 6 ماہ کے دوران 10 کروڑ روپے یا اس سے زائد کی ٹرانزکشنز ہوئیں۔

شیئر کیے جانے والے ڈیٹا میں رقم جمع کروانے اور نکلوانے کی تفصیلات ، اکاؤنٹ کا اوپننگ اور کلوزنگ بیلنس جبکہ پیک کریڈٹ (رپورٹنگ کی مدت کے دوران اکاؤنٹ میں موجود سب سے زیادہ رقم) اور ٹوٹل کریڈٹ شامل ہیں۔

یہ رپورٹنگ مالی سال کے دو حصوں میں ہوگی، پہلی مدت (1 جولائی سے 31 دسمبر) کا ڈیٹا 31 جنوری تک، جبکہ دوسری مدت (1 جنوری سے 30 جون) کا ڈیٹا 31 جولائی تک فراہم کرنا لازمی ہوگا، اس قانون میں کرنٹ، سیونگز، فکسڈ اور ٹرم ڈپازٹس سمیت تمام اقسام کے اکاؤنٹس شامل ہیں۔

قانون کے مطابق، بینکس کی جانب سے شیئر کی جانے والی معلومات کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائزڈ طریقے سے پروسیس کیا جائے گا اور کراس میچنگ کے مرحلے کے دوران یہ ڈیٹا انکم ٹیکس حکام کی پہنچ سے دور رہے گا، تاکہ کسی قسم کی بلیک میلنگ یا ہراساں کرنے کا عنصر شامل نہ ہو۔

اگر سسٹم کو کسی اکاؤنٹ ہولڈر کے ٹیکس ریکارڈ اور بینک بیلنس میں بڑا فرق نظر آیا، تو ایف بی آر کا خودکار ڈیجیٹل نظام اس کیس کو ‘کمپلائنس رسک مینجمنٹ’ سسٹم کے ذریعے "نیشنل فیس لیس سینٹر” کو مزید قانونی کارروائی کے لیے بھیج دے گا۔

اس قانون کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان شیڈولڈ بینکوں کے پاس موجود افراد کے مالیاتی لین دین اور ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک محفوظ، مرکزی اور ورچوئل ڈیٹا بیس بھی قائم کر سکتا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ بینکوں سے موصول ہونے والی اس معلومات کی سخت رازداری کو یقینی بنائے اور قانون کے علاوہ اس ڈیٹا کے کسی بھی قسم کے غلط استعمال یا افشا کو روکے۔

19/06/2026
07/05/2026

بڑا فیصلہ:
ایف بی آر کی 7E پالیسی زمین بوس، تمام نوٹسز غیر قانونی قرار
Federal Constitutional Court of Pakistan
نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی متنازعہ دفعہ 7E کے بارے میں ایک نہایت اہم اور دور رس قانونی اثر رکھنے والا فیصلہ صادر کیا ہے۔ عدالت نے اس شق کو آئینِ پاکستان کے خلاف قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر کالعدم کر دیا ہے۔
چیف جسٹس Amin-ud-Din Khan نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اس شق کی ابتداء ہی غلط تھی، یعنی اس کا قانونی وجود شروع سے ہی غیر مؤثر اور غیر آئینی تھا۔
اس مقدمے کا پس منظر یہ ہے کہ جب فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے دفعہ 7E کو ٹیکس قانون کا حصہ بنایا گیا تو اس کے خلاف ملک بھر میں آئینی درخواستیں دائر ہوئیں۔ مختلف ہائی کورٹس نے اس معاملے پر مختلف فیصلے دیے۔ پشاور ہائی کورٹ اور ہائی کورٹ آف بلوچستان نے اس شق کو غیر آئینی قرار دیا، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جزوی طور پر اسے کالعدم کیا۔ اس کے برعکس لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے بعض درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا، جس سے قانونی ابہام پیدا ہوا۔
بعد ازاں یہ تمام مقدمات فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ کے سامنے یکجا سماعت کے لیے پیش کیے گئے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دفعہ 7E آئین کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے اور اس کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔ اس لیے اسے مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے مزید قانونی طور پر یہ قرار دیا کہ دفعہ 7E کے تحت Federal Board of Revenue یا دیگر متعلقہ ٹیکس حکام کی جانب سے جاری کیے گئے تمام نوٹسز، کارروائیاں اور وصولیاں غیر قانونی ہیں اور ان کی کوئی آئینی حیثیت باقی نہیں رہی۔
اس فیصلے کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ اب دفعہ 7E کے تحت کوئی بھی ٹیکس وصولی یا کارروائی جاری نہیں رکھی جا سکتی۔ یہ فیصلہ ٹیکس دہندگان کے آئینی حقوق کے تحفظ کی ایک اہم مثال ہے اور یہ اصول مضبوط کرتا ہے کہ ریاستی ادارے صرف آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی ٹیکس نافذ کر سکتے ہیں۔
انفارمیشن اچھی لگے تو لائک ضرور کریں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں

14/04/2026

فائلر بنے اور ٹیکس بچائیں

12/04/2026

پاکستان کی ہر دوسری گلی سے صبح سویرے یہی ہے اوازیں گونج رہی ہوتی ہیں

نان فائلر ہو؟یعنی ہر بڑی ٹرانزیکشن پر ڈبل ٹیکس ادا کر رہے ہو! 😰🏦 بینک سے پیسے نکالو — اضافی ٹیکس🚗 گاڑی خریدو — اضافی ٹیک...
11/04/2026

نان فائلر ہو؟
یعنی ہر بڑی ٹرانزیکشن پر ڈبل ٹیکس ادا کر رہے ہو! 😰

🏦 بینک سے پیسے نکالو — اضافی ٹیکس
🚗 گاڑی خریدو — اضافی ٹیکس
🏠 پراپرٹی لو — اضافی ٹیکس

یہ سلسلہ تب تک جاری رہتا ہے جب تک آپ ٹیکس فائلر نہیں بن جاتے۔

اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں!
ہمارے ساتھ اپنا ٹیکس ریٹرن فائل کروائیں — آسان، تیز اور بالکل درست طریقے

فائلر بننے کے فائدے:
✅ فائلر اسٹیٹس جلد فعال
✅ ڈبل ٹیکس سے ہمیشہ کے لیے نجات
✅ بڑی ٹرانزیکشنز پر کم ٹیکس
✅ گھر بیٹھے مکمل پراسیس

📩 ابھی رابطہ کریں اور آج ہی فائلر بن جائیں!

📞 Contact / WhatsApp:03216074297
....


Advocate Aqib Khalid







Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Aqib Khalid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your practice to be the top-listed Law Practice?

Share