UK & Pakistan Corporate & Taxation

UK & Pakistan Corporate & Taxation UK Company Filling, Quarterly VAT Filling, SECP Company Reg, IT Return, Sales Tax Return, AOP Reg Pa

09/05/2026

Registration with the Pakistan Software Export Board (PSEB) offers significant benefits for freelancers and IT companies, including a reduced 0.25% tax rate on export remittances, 100% income tax exemption on IT exports, subsidized office spaces, and specialized training.
It provides a platform for skills polish and update to people regarding the current market trends.

08/05/2026

15 کروڑ آمدن… مگر Super Tax ایک روپے کا بھی نہیں!
یہ کیس ثابت کرتا ہے کہ بعض اوقات صرف قانون کی ایک درست تشریح… کروڑوں روپے کے ٹیکس کو لمحوں میں ختم کر دیتی ہے۔
Appellate Tribunal Inland Revenue (ATIR)، لاہور بینچ کے سامنے پیش ہونے والے اس معاملے میں، فیصل آباد کے ایک ٹیکس دہندہ، محمد شفیق، کو
Section 4C (Super Tax)
کے تحت ایک بھاری ٹیکس کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ محکمہ ان لینڈ ریونیو نے ان کی آمدن کا تخمینہ 15 کروڑ 26 لاکھ روپے سے زائد لگایا، جو کہ 15 کروڑ کی قانونی حد عبور کرنے کی وجہ سے سپر ٹیکس کے دائرے میں آتی تھی۔ لیکن اصل سوال یہ تھا کہ کیا یہ آمدن واقعی قانون کے مطابق “قابلِ ٹیکس آمدن” تھی؟
محکمہ کی جانب سے اس آمدن میں دو اہم عناصر شامل کیے گئے تھے:
ایک، AOP (Association of Persons) سے حاصل ہونے والا حصہ، اور دوسرا، غیر منقولہ جائیداد پر حاصل ہونے والا کیپیٹل گین۔ بظاہر یہ دونوں آمدن کا حصہ تھے، مگر قانونی نقطہ نظر سے ان کی حیثیت بالکل مختلف تھی۔ یہیں سے کیس نے ایک دلچسپ رخ اختیار کیا۔
ٹریبیونل نے سب سے پہلے کیپیٹل گین کے معاملے کو دیکھا۔ سپریم کورٹ کے ایک اہم فیصلے (DG Khan Cement کیس) کا حوالہ دیتے ہوئے یہ واضح کیا گیا کہ اگر کوئی کیپیٹل گین قانون کے مطابق ٹیکس سے مستثنیٰ ہے, مثلاً ہولڈنگ پیریڈ کی بنیاد پر اس پر زیرو ریٹ لاگو ہوتا ہے, تو اسے کسی دوسرے قانون کے ذریعے دوبارہ ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا۔ یعنی جو آمدن قانون نے ایک دروازے سے باہر نکال دی، اسے دوسرے دروازے سے زبردستی واپس نہیں لایا جا سکتا۔ اس اصول کے تحت، محمد شفیق کا کیپیٹل گین سپر ٹیکس کے حساب سے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا۔
اس کے بعد AOP سے حاصل ہونے والے حصے کا جائزہ لیا گیا۔ Section 92 واضح طور پر کہتا ہے کہ اگر AOP خود ٹیکس ادا کر چکی ہو، تو اس کے ممبر کو ملنے والا منافع اس کے ہاتھ میں مستثنیٰ (exempt) ہوتا ہے۔ ٹریبیونل نے اس بات کو یقینی بنایا کہ Section 4C میں income کی تعریف میں صرف وہی آمدن شامل ہے جو taxable ہو، یعنی جس پر قانون کے تحت ٹیکس لاگو ہوتا ہو۔ چونکہ AOP سے ملنے والا حصہ پہلے ہی مستثنیٰ ہے، اس لیے اسے سپر ٹیکس کی بنیاد میں شامل کرنا قانونی طور پر درست نہیں۔
جب ان دونوں عناصر کو کل آمدن سے نکالا گیا، تو پیچھے رہ جانے والی 15 کروڑ سے زائد کی آمدن سکڑ کر صرف 7 کروڑ 50 لاکھ رہ گئی، یعنی قانونی حد سے بہت نیچے۔ اس کے ساتھ ہی سپر ٹیکس لگانے کی بنیادی شرط ہی ختم ہو گئی۔ یوں ٹریبیونل نے نہ صرف سپر ٹیکس کو ختم کیا بلکہ اس کے ساتھ عائد کیا گیا ڈیفالٹ سرچارج بھی کالعدم قرار دے دیا۔
یہ فیصلہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ ٹیکس قوانین میں صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ الفاظ اور ان کی تشریح بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔

Tax Liability Against a Deceased Person Declared IllegalThe Appellate Tribunal Inland Revenue, Multan, has annulled a ta...
15/04/2026

Tax Liability Against a Deceased Person Declared Illegal

The Appellate Tribunal Inland Revenue, Multan, has annulled a tax demand of Rs. 19,506,542 that was issued against a taxpayer two years after her death. The Tribunal ruled that the proceedings were void ab initio because the tax department issued notices and an assessment order in the name of a deceased individual rather than her legal heirs. Drawing on established legal precedents, the court affirmed that tax liability cannot be created or recovered from a dead person, as they are unable to defend themselves or file a proper representation. While the specific order was cancelled, the department retains the right to initiate fresh, lawful proceedings against the legal heirs. 0306 3000054

13/04/2026

State Bank of Pakistan (SBP) has continued to allow the IT firms and freelancers retain $5,000 per month or 50% of their export proceeds, whichever is higher, in their Exporters’ Special Foreign Currency Accounts (ESFCAs)

01/04/2026

امریکا اگر خلیج سے اسطرح بھاگ گیا جیسے افغانستان سے 2022 میں بھاگا تھا تو اسبار دنیا شدید تبدیلوں کی زد میں آ جائے گی:
امارات انتہائی غیر محفوظ ہو جائے گا! بحرین کو ایران اپنا صوبہ مانتا ھے- کویت عراق کا صوبہ ہوا کرتا تھا-
جنوبی کوریا میں امریکہ کی 30 ہزار فوج ھے- شمالی کوریا امریکی مدد کے بغیر اسے دو چار دن میں فتح کر لے گا !
تائیوان چین کا صوبہ ھے- اسے تو چین ایسے کھا جائے گا جیسے کوئی رس گلے کھاتا ھے-
یوکرین کی جنگ ہفتوں میں ختم ہو جائے گی اور روس اسکا بیشتر علاقہ ہڑپ کر لے گا-
اسرائیل بھی غیر محفوظ ہو جائے گا! کیونکہ بغیر امریکی مدد کے اسکی بدمعاشی چوبیس گھنٹے نہیں چل سکتی !

What is your opinion?

01/04/2026

بلڈرز و ڈیویلپرز کو بڑا ریلیف۔۔۔😀

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس سے متعلق ایک اہم وضاحتی سرکلر نمبر 07 برائے ٹیکس سال 2025-26 جاری کر دیا ہے، جس میں جائیداد کی فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس (سیکشن 236C) کے اطلاق کے حوالے سے بلڈرز اور ڈیویلپرز کے لیے اہم رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔
سرکلر کے مطابق ایف بی آر کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی تھی کہ کنسٹرکشن اور ڈیویلپمنٹ کے شعبے سے وابستہ افراد، جو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 7F کے تحت خصوصی ٹیکس نظام کے تابع ہیں، ان پر سیکشن 236C کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس کے اطلاق میں ابہام پایا جا رہا تھا۔
ایف بی آر نے وضاحت کی ہے کہ سیکشن 7F کے تحت بلڈرز اور ڈیویلپرز کی آمدن کا تعین مجموعی وصولیوں کے ایک مقررہ فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے، اور یہ آمدن "بزنس انکم" کے زمرے میں آتی ہے۔ اس نظام کے تحت ٹیکس کی ادائیگی ایک خصوصی طریقہ کار کے تحت ہوتی ہے، جس کے باعث سیکشن 236C کے تحت کٹوتی بعض صورتوں میں اضافی مالی بوجھ کا باعث بن رہی تھی، خاص طور پر جب متعلقہ ٹیکس دہندہ کی دیگر قابلِ ٹیکس آمدن موجود نہ ہو۔
ایف بی آر نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ایسے افراد جو سیکشن 7F کے تحت اپنی ٹیکس ذمہ داری پوری کر چکے ہوں اور ان کی کوئی دیگر قابلِ ٹیکس آمدن نہ ہو، وہ سیکشن 236C کے تحت ایڈوانس ٹیکس کی وصولی سے استثنیٰ حاصل کر سکتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے متعلقہ افراد کو انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 159 کے تحت کمشنر ان لینڈ ریونیو کو درخواست دینا ہوگی، جس کے بعد انہیں استثنیٰ سرٹیفکیٹ جاری کیا جا سکتا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ جائیداد کی فروخت کے وقت ودہولڈنگ ٹیکس کی عدم کٹوتی کی اجازت دے گا۔
ایف بی آر نے تمام کمشنرز ان لینڈ ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسی درخواستوں کا جائزہ کیس ٹو کیس بنیادوں پر لیں اور یہ یقینی بنائیں کہ درخواست گزار تمام قانونی تقاضے پورے کرتا ہو۔ مزید برآں، استثنیٰ سرٹیفکیٹس کے اجرا کے لیے مقررہ وقت کی پابندی بھی لازم قرار دی گئی ہے۔

Send a message to learn more

Attention! Sales Tax Registers Entities Federal Board of Revenue has issued Sales Tax General Order No. 01 of 2026 to cl...
31/03/2026

Attention! Sales Tax Registers Entities

Federal Board of Revenue has issued Sales Tax General Order No. 01 of 2026 to clarify the procedure for electronic sales tax invoicing and integration of registered persons with its computerized system. Under this order, all sales tax registered persons are required to issue digital sales tax invoices through licensed integrators in accordance with Section 23 of the Sales Tax Act, 1990. To address practical difficulties, FBR has now allowed registered persons to engage one or more licensed integrators, wherever required, subject to approval or notification by the Board. The order further provides that any electronic sales tax invoice may only be cancelled, deleted, or edited within 72 hours of its generation in cases of bona fide mistake through the FBR system. After expiry of 72 hours, any such amendment will require prior approval from the concerned Commissioner Inland Revenue under the prescribed procedure.

22/02/2026

۔(Client Advisory۔)

۔Implementation & Compliance Requirements under SRO 288(I)/2026

محترم کلائنٹس،
ایف بی آر نے SRO 288(I)/2026 کے ذریعے مختلف کاروباری شعبہ جات کے لیے ریئل ٹائم ڈیجیٹل انضمام (Real-Time Integration) لازمی قرار دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سیلز ٹیکس کی شفافیت، دستاویزی معیشت کا فروغ، اور ریونیو لیکیج کی روک تھام ہے۔

یہ ایڈوائزری آپ کو اس SRO کے اطلاق، قانونی تقاضوں، اور فوری عملی اقدامات سے آگاہ کرنے کے لیے جاری کی جا رہی ہے۔

اطلاق کا دائرہ (Who is Covered?)
یہ نوٹیفکیشن درج ذیل شعبہ جات کے ایف بی آر رجسٹرڈ کاروباروں پر لاگو ہوگا:

۔(A)Retail & Distribution
خاص طور پر Tier-1 Retailers، یعنی وہ ریٹیلرز جو:

*قومی یا بین الاقوامی فرنچائز کا حصہ ہوں
*ایئر کنڈیشنڈ مال/پلازہ میں واقع ہوں
*دکان کا رقبہ 1,000 مربع فٹ یا زائد ہو
*سالانہ بجلی بل 12 لاکھ روپے سے زائد ہو

۔POS کے ذریعے کارڈ پیمنٹ وصول کرتے ہوں
۔Wholesaler-cum-Retailer کے طور پر کام کرتے ہوں
چھوٹے ریٹیلرز مخصوص حدود سے کم ہونے کی صورت میں مستثنیٰ ہو سکتے ہیں۔

۔(B) Healthcare Sector
*ہسپتال
*لیبارٹریز
*کلینکس
*ڈائیگناسٹک سینٹرز
(کوئی واضح ٹرن اوور حد مقرر نہیں، مگر مزید وضاحت متوقع ہے)

۔(C) Education Sector

*نجی اسکول
*کالجز
*یونیورسٹیز

شرط: ماہانہ فیس ≥ 1,000 روپے فی طالب علم

۔(D) Hospitality & Personal Services

*ریسٹورنٹس
ہوٹلز
میرج ہالز
*بیوٹی پارلرز
*ویلنیس سینٹرز

۔(E) Logistics & Courier

*تمام انٹر سٹی ٹرانسپورٹ اور کوریئر آپریٹرز

۔(F) Recreation & Clubs

*جمز
*فٹنس سینٹرز
*کلبز
*سوئمنگ پولز

۔(G) Professional & Financial Services

*چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس
*کاسٹ اکاؤنٹنٹس
*ایونٹ مینیجرز
*فوٹوگرافرز
*ایکسچینج کمپنیاں

قانونی تقاضے
(Mandatory Compliance۔ Requirements)

متعلقہ کاروباروں کو:
ایف بی آر منظور شدہ POS/ERP سسٹم استعمال کرنا ہوگا
تمام آؤٹ لیٹس کی رجسٹریشن کرنا ہوگی
ہر سیل/ٹرانزیکشن کا ڈیٹا ریئل ٹائم ایف بی آر کو منتقل کرنا ہوگا
سافٹ ویئر انضمام مکمل کرنا ہوگا۔

عدم تعمیل کی صورت میں نتائج
سیلز ٹیکس رجسٹریشن کی معطلی
ڈی رجسٹریشن
جرمانے
کاروباری احاطہ سیل کیے جانے کا خطرہ
قانونی کارروائی
ٔ
عملی و اسٹریٹجک سفارشات
بطور احتیاطی و پیشہ ورانہ مشورہ، درج ذیل اقدامات فوری اختیار کیے جائیں:
اپنے کاروبار کی Tier-1 حیثیت کی تصدیق کریں
بجلی بل، دکان کے رقبے اور ٹرن اوور کی دستاویزات تیار رکھیں۔

۔ POS/ERP سسٹم کی اپ گریڈیشن کریں
۔ FBR منظور شدہ سافٹ ویئر وینڈر سے تحریری تصدیق حاصل کریں
تمام برانچز/آؤٹ لیٹس کی رجسٹریشن مکمل کریں
کمپلائنس مانیٹرنگ کے لیے اندرونی SOP تیار کریں

ممکنہ قانونی نکات
۔Threshold کی تشریح پر تنازع ممکن
۔Mixed Activity Businesses میں درجہ بندی کا مسئلہ
۔Small Businesses کے استثنا کی وضاحت متوقع
مستقبل میں مزید SRO یا سرکلرز جاری ہو سکتے ہیں

۔SRO 288(I)/2026 پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیکس اصلاحات کا ایک اہم قدم ہے۔ اس کے تحت شامل کاروباروں کے لیے بروقت تیاری نہایت ضروری ہے تاکہ:
جرمانوں سے بچا جا سکے۔

21/02/2026
19/02/2026

کلائنٹ ایڈوائزری
ایس آر او S.R.O. 288(I)/2026 کے تحت آن لائن انضمام لازمی
محترم کلائنٹ،
یہ مطلع کیا جاتا ہے کہ Federal Board of Revenue (FBR) نے S.R.O. 288(I)/2026 مورخہ 18 فروری 2026 جاری کر دیا ہے، جس کے تحت متعدد کاروباری اور خدماتی شعبوں کے لیے ایف بی آر کے ساتھ آن لائن انضمام (Online Integration) اور ای-انوائسنگ / POS سسٹم کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔

کن شعبوں پر اطلاق ہوگا؟
یہ نوٹیفکیشن درج ذیل کاروباروں اور سروس پرووائیڈرز پر لاگو ہوگا:

ریسٹورنٹس، ہوٹلز، گیسٹ ہاؤسز، شادی ہالز، مارکیز
کلبز، جمز، ہیلتھ کلبز
کورئیر و کارگو سروسز
بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ آپریٹرز
ریٹیلرز (بشمول مینوفیکچرر کم ریٹیلر، ہول سیلر کم ریٹیلر)
نجی اسکولز، کالجز، یونیورسٹیز
نجی ہسپتال، کلینکس، ڈائیگناسٹک لیبارٹریز
ایکسچینج کمپنیاں
بیوٹی پارلرز، ایونٹ مینیجرز وغیرہ

متعلقہ اداروں کو:
ایف بی آر کے سسٹم کے ساتھ POS / e-Invoicing انضمام کرنا ہوگا۔

تمام فروخت اور خدمات کی ریئل ٹائم رپورٹنگ کرنا ہوگی۔
غیر منسلک آؤٹ لیٹس یا سسٹم کے ذریعے کاروبار کی اجازت نہیں ہوگی۔

عدم تعمیل کی صورت میں۔

جرمانہ
رجسٹریشن کی معطلی
مزید قانونی کارروائی
ممکن ہو سکتی ہے۔

اگر آپ کا کاروبار مذکورہ کیٹیگری میں آتا ہے تو:

فوری طور پر سافٹ ویئر انضمام کی تیاری شروع کریں۔
اپنے اکاؤنٹنگ اور آئی ٹی سسٹم کا جائزہ لیں۔

S.R.O. 288(I)/2026 مورخہ 18.02.2026

Address

ST #6 Hafizabad Road
Gujranwala
52250

Telephone

+923063000054

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UK & Pakistan Corporate & Taxation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to UK & Pakistan Corporate & Taxation:

Share

Category