Sher-Wali khan Law associates

Sher-Wali khan Law associates Ex Minister of Law GB & Associates. Experts in civil, service, corporate and criminal litigation. ⚖️

25/10/2024

Aurangzeb Khan Advocate Official

25/10/2024

Syed Ghulam Muhammad , Ex GM Kcbl who was re-instated on his position as GM KCBl by Honble Chief Court, today the Apex Court of GB suspended the operation of impugned judgment passed by Chief Court GB . The Petitioner no. 5 Mr Maqsad Jan ,by virtue of order, can continue his previous position. Mr Aurangzeb Khan counsel of petitioner no. 5 got suspended the operation of impugned judgment passed by learned Chief Court.

Once a wise man said "You will never learn until you are willing to unlearn what you have already learnt."Living with th...
14/08/2024

Once a wise man said "
You will never learn until you are willing to unlearn what you have already learnt."
Living with this inspiration everyday.

Today Sher wali khan law associates appeared before Hon'ble Supreme Appellate Court GB in two cases of bail matters pert...
18/04/2024

Today Sher wali khan law associates appeared before Hon'ble Supreme Appellate Court GB in two cases of bail matters pertaining to offences under section 302 PPC.
We at SW khan law associates ensure that our valued clients get legal services to the best of our abilities.

28/07/2022

جوڈیشل کمیشن اور سپریم جوڈیشل کونسل اعلی عدلیہ کے دو اہم ترین آئینی ادارے ہیں۔ کمیشن کا کام ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی ہے جبکہ کونسل ججز کے خلاف ریفرینسز کی سماعت کرتی ہے۔

کمیشن میں چیف جسٹس پاکستان، سپریم کورٹ کے چار سینئر ترین جج، ایک سابق چیف جسٹس ہائی کورٹ جسے چیف جسٹس دو سال کے لئے نامزد کرتے ہیں، ایک پاکستان بار کونسل کا نمائندہ جسے بار کونسل دو سال کے لئے نامزد کرتی ہے۔ وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کو ملا کر کل نو اراکین ہوتے ہیں۔ اس وقت چیف جسٹس کے علاوہ اعجاز الاحسن، فائز عیسی، سجاد علی شاہ اور سردار طارق مسعود حالیہ ججز میں سے کمیشن کا حصہ ہیں۔ فائز عیسی اور طارق مسعود کا ووٹ آج چیف جسٹس کے خلاف آیا ہے جبکہ وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور بار کونسل کے نمائندے نے بھی ان کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ چند ججز کے معاملے میں نامزد ممبر سابق چیف جسٹس ہائی کورٹ سرمد جلال عثمانی نے بھی چیف جسٹس کی نامزدگیوں کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ اہم بات یہ کہ چیف کے حق میں ڈالے جانے والے ووٹس میں سے ایک جسٹس سجاد علی شاہ دو ہفتے بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔ ان کی جگہ جسٹس منصور علی شاہ کمیشن کے ممبر بنیں گے جو بظاہر چیف جسٹس کے خلاف ہی ووٹ دیں گے۔ یوں دو ہفتے بعد کمیشن میں چیف جسٹس مخالف ووٹوں کی تعداد چھ اور کچھ صورتوں میں سات ہو جائے گی۔ نو اراکین کے کمیشن میں چھ اور سات کی اکثریت سے فائدہ اٹھانے کے لئے حکومت، اتحادی جماعتوں اور جمہوریت پسند وکلا کا لائحہ عمل کیا ہے۔ اگر نہیں تو ہونا چاہیے۔ اس وقت سپریم کورٹ میں چار سیٹس خالی ہیں جو سپریم کورٹ کا پچیس فیصد حصہ بنتا ہے۔

جوڈیشل کونسل کے پانچ ممبران ہوتے ہیں۔ اس وقت ان ممبران میں عطا بندیال، اعجاز الاحسن، فائز عیسی، احمد علی شیخ (چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ) اور اطہر من اللہ (چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ) ہیں۔ اگر صدارتی ریفرینس چیف جسٹس کے خلاف آتا ہے تو کونسل کی سربراہی جسٹس فائز عیسی کے پاس چلی جائے گی اور کونسل میں جسٹس سردار طارق مسعود چیف جسٹس کی جگہ آ جائیں گے۔ اس صورت میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ یا چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ (جو دونوں موجودہ چیف جسٹس سے ذیادہ خوش نہیں ہیں) میں سے ایک ووٹ بھی چیف جسٹس کو گھر بھیج سکتا ہے۔ یہی صورتحال اعجاز الاحسن کے خلاف ریفرینس کی صورت میں بھی ہو گی۔ اگر اتحادی چاہیں تو ان حضرات کے خلاف صدارتی ریفرینس کے لئے کافی مواد موجود ہے۔

یہ ریکارڈ کے لئے لکھ دیا ہے تاکہ کل کلاں جب نون لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی وغیرہ سپریم کورٹ کے ججز، چیف جسٹس اور مستقبل کے چیف جسٹس جناب اعجاز الاحسن کے ہاتھوں زچ ہوں تو کم از کم یہ نہ کہہ سکیں کہ وہ کچھ کر نہیں سکتے تھے۔

As Justice Owen Roberts of US SC famously said: the judgments and precedents of the Supreme Court should not be like tra...
27/07/2022

As Justice Owen Roberts of US SC famously said: the judgments and precedents of the Supreme Court should not be like train tickets - “good for this day and this train only"

26/07/2022

ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی رولنگ کیس
آج کیس کا تیسرا دن تھا
شروعات میں ہی عرفان قادر صاحب روسٹرم پہ آۓ اور عدالت سے کہا کہ ہمیں ھدایات جاری کی گئی ہیں کہ کیس کو مزید فالو نہ کیا جائے اور پی ڈی ایم نے معزز عدالت پہ عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے جو کہ ایک unprecedent عمل ہے۔ اس کے بعد فاروق ایچ نائیک صاحب روسٹرم پہ آئیں اور کہا کہ مجھے بھی یہی ھدایات جاری کی گئی ہیں لہذا ہم کیس فالو نہیں کرسکتے۔
اس کے بعد علی ظفر صاحب روسٹرم پہ آۓ اور تفصیلی دلائل شروع کیے۔
چیف جسٹس صاحب نے ان کے دلائل سے قبل ریماکس دیے کہ کہ اب تک فریق مخالف کے وکلاء ہمارے سامنے ایسا کوئی بھی سوال واضح نہ کرسکے ہیں جو فل کورٹ تشکیل دینے کا متقاضی ہو۔ سادہ سہ سوال ہے کہ پارلیمانی پارٹی کی ھدایات مانی جاے گی یا پھر سیاسی جماعت کے سربراہ کی۔ یہ تو ایسا سوال ہے جس پہ کسی کیس لاء کی ضرورت بھی نہیں مکمل طو ر پر واضح سوال ہے۔ اب تک آپ یعنی درخواست گزار کی طرف سے یہی طریقہ صحیح سمجھا گیا کہ جس سے اس کیس کو حل کیا جائے۔ دستور کسی بھی صورت بغیر حکومت کے کسی نظام کی حمایت نہیں کرتا اسی لیے اس عدالت نے قرار دیا ہے کہ وزیر اعظم کے بغیر کیبنٹ کی کوئی حثیت نہیں۔ فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست تأخیری حربہ ہے جو فریق مخالف استعمال کرنا چاہتی ہے۔
اس کے بعد چیف جسٹس صاحب نے علی ظفر صاحب سے کہا اب ہمیں سب سے اہم کیس PLD 2015 SC 401 پہ دلائل دیجیے۔
علی ظفر نے اس ججمنٹ کے ایک پیرے کو واضح کیا اور کہا کہ جسٹس عظمت سعید صاحب نے اس فیصلے میں کہا ہے کہ ھدایات سیاسی جماعت کا سربراہ جاری کرسکتا ہے۔ سابقہ کیس جو مئی میں فیصلہ ہوا اس میں سوال ھدایات جاری کرنے کا نہ تھا جب کہ حالیہ کیس میں سوال ھدایات جاری کرنے کا سوال ہے۔
چوں کہ اس ججمنٹ میں چیف جسٹس صاحب بھی جج تھے اس لیے انہوں نے علی ظفر صاحب کے سامنے کچھ ریمارکس رکھے۔
کونسل آپ مجھے بتائیں کہ اگر میں نے کسی فیصلے میں غلطی کی ہے تو کیا مجھے اس غلطی پہ ڈٹے رہنا چاہیے یا پھر میں آذاد ہوں کہ میں اس غلطی سے رجوع کروں؟
میں آذاد ہوں کہ میں اپنی غلط راے کی تصحیح کروں ؟
غلط رائے سے مراد ایسی رائے ہے جو کہ دستور و قانون کے خلاف ہو۔۔۔
اس پہ یہی جواب تھا کہ غلط ہونے کی صورت میں غلطی سے رجوع ہونا چاہیے اس سے ادارے اور جج کہ توقیر میں اصافہ ہوتا ہے۔
اس کے بعد علی ظفر صاحب پھر ججمنٹ کی طرف آۓ اور کہا 2015 والے ججمنٹ میں کل سترہ ججز تھے جن میں آٹھ ججز نے اپنی ذاتی رائے بھی لکھی جسے obiter dicta کہا جاتا ہے اور اس راے کو ratio decidndi یا عدالتی فیصلے کی حیثیت حاصل نہ ہے لہذا وہ نظیر نہیں بن سکتا۔
پھر مزید کہا کہ اس ججمنٹ میں اصل سوال ھدایات جاری کرنے کا نہ تھا اور نا ہی آرٹیکل 63 اے کے پروسیجر کا تھا بلکہ اس ججمنٹ میں اول سوال آرٹیکل 63 اے کا دستور کے ساتھ تصادم کا تھا لہذا جو سوال اس کیس میں زیر بحث نہ تھا وہ سوال اس کیس میں طے نہیں ہوسکتا تھا اور نا ہی اس سوال کے لیے جو زیر بحث نہ رہا ہو وہ کیس نظیر بن سکتا ہے۔
اب آتے ہیں کہ اس ججمنٹ میں اصل فیصلہ کیا تھا اس میں اصل فیصلہ یہ تھا کہ اٹھارویں ترمیم، اکیسویں ترمیم اور فوجی عدالتوں کو قیام زیر سوال تھا اور فیصلہ یہ ہوا کہ وہ درخواستیں مسترد کر دی گئی اور یہی فیصلہ کہلاتا ہے باقی اوبیٹر ڈکٹا ہے جو کہ عدالت پہ لاگو نہ ہے۔
اس کے بعد علی ظفر صاحب نے اس ججمنٹ کے ایک نکتے کو واضح کیا تمام ججز کے رائے کو بھی واضح کیا اور ایک ایک جز پہ بات کی۔ اور آخر میں کہا کہ حالیہ کیس میں مذکور سوال کا تعلق اس ججمنٹ سے بلکل بھی نہیں بنتا ۔
پھر علی ظفر صاحب نے کہا کہ درخواست گزار کا کیس یہ ہے پارلیمانی پارٹی کو حق ہے کہ ھدایات جاری کرے نہ کہ سیاسی جماعت کے سربراہ کو۔
چیف جسٹس صاحب نے سوال کیا کہ کس کو اختیار حاصل ہے کہ پارٹی لائن طے کرے؟ کیسے ووٹ دیا جائے گا ووٹ دینے کا طریقہ کار کیا ہوگا ؟
اس پہ علی ظفر صاحب نے کہا کہ پالیمانی جماعت کے ھدایات پہ ووٹ دیا جائے گا آرٹیکل واضح ہے اس بابت ۔ اگر پارٹی سربراہ ھدایات جاری کرے اور اسے صحیح مانا جائے تو یہ دستور کے خلاف ہے
چیف جسٹس صاحب نے اس پہ کہا کہ آرٹیکل میں پارلیمانی پارٹی کے الفاظ ہے نہ پالیمانی پارٹی کے سربراہ کے گویا پالیمانی جماعت مل بیٹھ کر فیصلہ کرے گی اور کوئی ایک شخص اکیلے وہاں بھی فیصلے کا مجاز نہ ہوگا۔

چیف جسٹس صاحب پھر اپنی سابقہ راے اور فیصلہ کی طرف گیے اور کہا کہ مجھے اپنی رائے سے رجوع میں کوئی رکاوٹ نہ ہے مگر کوئی مجھے معقول اور مظبوط وجہ دے کہ میری کوئی رائے غلط ہے۔
علی ظفر صاحب نے مزید کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت پارٹی ھیڈ کے پاس بہت رول ہے اور جب پارٹی ھیڈ ڈیسکوالیفائی ہو جائے تو عدالت نے اسی لیے کہا ہے کہ وہ پارٹی ھیڈ نہیں رہ سکتا۔ لہذا پارٹی ھیڈ کے رول سے انکار نہیں ہے مگر ھدایات اس کا اختیار نہیں ہے۔
چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ پارٹی ھیڈ کا بہت اہم رول ہے لیکن پھر آرٹیکل 63 اے میں اس پروسیجر کا کیا مطلب ہے۔
علی ظفر صاحب نے کہا کہ تاکہ سربراہ کے ضمیر کے مطابق نہیں بلکہ ہر ممبر اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دے سکے۔ اسی طرح اس کا فایدہ یہ بھی ہے کہ پالیمان میں اگر اقلیت پالیمانی پارٹی کے خلاف جاتی ہے تو پالیمانی پارٹی کے پاس ان کو ڈیفیکٹیو کرنے کا اختیار ہے۔
اس کے بعد مختلف سوالات زیر بحث آئے جیسے سیاسی جماعت کس کی ملکیت تصور ہوتی ہے کیا یہ کسی کی ذاتی جاگیر تصور ہوتی ہے یا پبلک کی ملکیت ؟ یہ سوال چیف جسٹس صاحب نے کیا۔
پھر یہ کہا گیا کہ نہیں یہ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے بلکہ پولیٹکل ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ جماعت ہوتی ہے جس پہ سب کا حق ہوتا ہے۔
اس کے بعد ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب آئے اور انہوں نے دلائل دیے۔ انہوں نے کہا کہ اسی عدالت نے آرٹیکل سترہ کے حق کو سیاسی جماعت تک توسیع دی ہے اور یہ سیاسی جماعت کا حق ہے تو اسی پہ جسٹس اعجاز الحسن نے ٹوکا اور کہا کہ سیاسی جماعت کہا ہے سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں کہا ہے۔ اس کے ساتھ کچھ دیگر سوالات پہ بھی بحث جاری رہی اور اس کے بعد چیف جسٹس صاحب نے اعلان کیا کہ مختصر فیصلہ آج 5:45 پہ سناجق جاے گا ہم نے دلائل سن لیے ہیں دونوں فریق کے دلائل بہت اچھے تھے مگر منصور عثمان اعوان صاحب کے دلائل بہت ہی بہترین تھے اور ان کی تعریف ہونی چاہیے۔..

Contract Act 1878
26/07/2022

Contract Act 1878

In 2021, 4 SC judges (CJ Gulzar, J Bandial, J Ahsan, J Alam) passed an order restraining J Isa from hearing cases involv...
26/07/2022

In 2021, 4 SC judges (CJ Gulzar, J Bandial, J Ahsan, J Alam) passed an order restraining J Isa from hearing cases involving former PM Imran Khan to ensure “un-biasness and impartiality”

IK didn’t even have to allege bias or request SC J. Isa shouldn’t hear cases against him..

Address

Public Chowk Jutial Gilgit
Gilgit
15100

Telephone

+923554507021

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sher-Wali khan Law associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sher-Wali khan Law associates:

Share