Murad Law Associate

Murad Law Associate Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Murad Law Associate, Criminal lawyer, Mustafa Abad Colony Daharki, Ghotki.

27/12/2023
06/06/2023

پاکستان میں وکیل بننے کی شرائط اور وکیل کے مدارج و مراتب۔

قومی اسمبلی پاکستان نے 22 فروری 1973 کو
LEGAL PRACTITIONERS AND BAR COUNCILS ACT, 1973
پاس کیا۔ جس میں وکیل بننے اور وکالت سے متعلق جملہ اصول وضع کیے۔
مزکورہ ایکٹ کے باب (chapter) 8 کے تابع دفعہ 21 کے تحت وکلاء کی چار اقسام اور درجہ بندیاں بیان کی ہیں۔ جو کہ درج ذیل ہیں۔

1۔ سینئیر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان
2۔ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان
3۔ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
4۔ ایڈووکیٹ ۔

ایکٹ کی دفعہ 22 کے تحت وکلاء کو حقِ وکالت تفویض کیا گیا ہے جس کے مطابق:

1۔ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان پورے پاکستان کی تمام عدالتوں (بشمول سپریم کورٹ، چاروں صوبائی اور وفاقی ہائیکورٹ، فیڈرل شریعت کورٹ اور تمام ٹربیونلز) میں وکالت کرنے کا حق رکھتا ہے.
2۔ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان کے علاوہ ملک کی تمام ہائیکورٹس، ٹربیونلز اور ماتحت عدالتوں میں وکالت کر سکتا ہے۔
3۔ ایڈووکیٹ جو صرف سول اور ڈسٹرکٹ و سیشن عدالتوں میں وکالت کر سکتا ہے۔

مذکورہ بالا اقسام کے وکلاء کو وکالت کا لائنس جاری کرنے کیلئے بار کونسلز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

ایڈووکیٹ اور ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کا لائسنس جاری کرنے کیلئے چاروں صوبائی بار کونسلز اور (وفاقی) اسلام آباد بار کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس کے قواعد و ضوابط اور مذکورہ ایکٹ کے تابع:

1۔ ایڈووکیٹ بننے کیلئے قانون کی ڈگری کے ساتھ ساتھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تحت منعقدہ (Law G*t) پاس ہونے کا ثبوت اور کم از کم 21 سال عمر ہونا ضروری ہے۔
2۔ ڈگری کے فوراً بعد (1st Intimation) بھیجنا ضروری ہے اور اس دوران کسی سینئر وکیل کے ساتھ چھ ماہ بحیثیت جونیئر کام کرنا شرط ہو گی۔ چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد اپنی مصدقہ ڈگریوں کے ہمراہ ( 2nd Intimation) متعلقہ بار کونسل میں بھیجنا ہوتی ہے جو انٹرویو کے بعد فاضل گریجویٹ کو ایڈووکیٹ کا لائسنس جاری کرے گی۔ اور مذکورہ ایڈووکیٹ اپنے متعلقہ صوبہ کی حد تک ضلعی عدالتوں میں بحیثیت وکیل پیش ہو سکتا ہے۔

2۔ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کیلئے ایڈووکیٹ کے طور پر دو سال مکمل ہونا ضروری ہے اس کے بعد فاضل وکیل متعلقہ بار کونسل میں ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کیلئے درخواست دے گا جس کے بعد متعلقہ بار کونسل کی انرولمنٹ کمیٹی کینجانب سے انٹرویو لیا جائے گا۔ عموماً اس کمیٹی میں ایک معزز جج ہائیکورٹ بھی شامل ہوتے ہیں۔ انٹرویو میں کامیاب ہونے والے وکیل کو ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کا لائسنس جاری ہوتا ہے جو کہ سپریم کورٹ کے علاوہ ملک کی تمام عدالتوں میں پیش ہو سکتا ہے۔

3۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں وکالت کے لائسنس کے اجراء کیلئے دفعہ 23 کے تحت پاکستان بار کونسل کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ سینئیر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے لائسنس جاری کرے اور لائسنس جاری کرے۔ اسی مذکورہ ایکٹ کے باب 8 میں درج دفعہ 55 کے تحت پاکستان بار کونسل کو قواعد و ضوابط وضع کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے، جس کے تابع پاکستان بار کونسل نے
THE PAKISTAN LEGAL PRACTITIONERS AND BAR COUNCILS RULES, 1976
مرتب کیے۔ جس کے باب 7 کے تابع رول/ قاعدہ نمبر 107 کے مطابق ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کا لائسنس حاصل کرنے کیلئے وکیل کیلئے درج ذیل شرائط پورا کرنا ضروری ہیں۔

1۔ صوبائی یا وفاقی بار کونسل کی جانب سے سرٹیفیکیٹ جس میں وکیل کا متعلقہ ہائیکورٹ میں بحیثیت "ایڈووکیٹ ہائیکورٹ" 7 سال کا دورانیہ پورا ہونا ضروری ہے۔
2۔ متعلقہ ہائیکورٹ سے (Fitness Certificate) صداقت نامہ درستی حاصل کرنا ضروری ہے۔
3۔ وکیل کی جانب سے ایک بیان حلفی جس میں وہ اپنی اہلیت، عدمِ سزا یافتہ، اور کسی بھی تادیبی کاروائی کا مرتکب نہ ہونے کا حلف دے گا۔
4۔ متعلقہ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے سرٹیفیکیٹ کہ وکیل موصوف مذکورہ بار کے ممبر ہیں۔
5۔ متعلقہ ہائیکورٹ میں 15 مقدمات میں بحیثیت وکیل پیش ہو کر حاصل کیے گئے فیصلہ جات کی مصدقہ نقول۔

اس سب کے بعد چئیرمین انرولمنٹ کمیٹی کے نام درخواست جمع کروائے گا اور مزکورہ کمیٹی ایڈووکیٹ کو انٹرویو کے لیے طلب کرے گی۔ انٹرویو میں ایڈووکیٹ کو پاس ہونے کے بعد لائسنس جاری ہو گا لیکن کمیٹی کسی بھی وکیل کو (Deferred) التوا میں رکھنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ اس ضمن میں باقاعدہ وجوہات بیان کرنا ضروری ہیں کہ آیا کن وجوہات کی بناءپر وکیل کو التوا میں رکھا گیا ہے۔ اس کمیٹی میں بھی 3 رکن ہوتے ہیں جن میں دو ممبران پاکستان بار کونسل اور 1 ممبر معزز جج سپریم کورٹ شامل ہیں۔ ضروری نہیں کہ انٹرویو میں شامل ہر ایڈووکیٹ کو فوراً ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کا لائسنس مل جائے۔ بلکہ متعدد کو 10 سال تک بھی انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ ہے وہ تمام طریقہ کار جس میں ایل ایل بی کرنے کے بعد سے سپریم کورٹ کا وکیل بننے تک کا راستہ وضع کیا گیا۔

یاد رہے کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں انڈین بار کونسل ایکٹ 1926 اور ایڈووکیٹس ایکٹ 1961 کے تحت ایک مرتبہ لائسنس یافتہ ہی تمام عدالتوں میں پیش ہو سکتا ہے۔ وہاں وکلاء کے صرف 2 مراتب ہیں۔
1۔ سینئیر ایڈووکیٹ
2۔ عام ایڈووکیٹ

ان دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ انرولمنٹ کے تحت جو پہلے وکیل بنا وہ اپنی مرضی سے بار کونسل میں سینئیر ایڈووکیٹ کا لقب حاصل کر سکتا ہے لیکن ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ میں وکالت کیلئے وہاں وکلاء کو کسی قسم کے الگ لائسنس کی ضرورت نہیں بلکہ ایک مرتبہ حاصل کیے گئے لائسنس کی بنیاد پر ہی وہ سپریم کورٹ تک تمام عدالتوں میں پیش ہو سکتا ہے۔
عامر علی قریشی

09/11/2022

رجسٹری کیسے کروائی جائے؟ رجسٹری اور انتقال میں کیا فرق ہے؟

رجسٹری لفظ رجسٹرڈ سے نکلا ہے مطلب کوئی چیز رجسٹرڈ کروانا. مثال کے طور پر ہم موٹر سائیکل لیتے ہیں یا کار تو متعلقہ ایکسائز کے محکمے سے گاڑی کی رجسٹریشن کرواتے ہیں جہاں گاڑی کی نمبر پلیٹ انجن نمبر، رنگ، ماڈل، کمپنی کا نام اگر پرانی گاڑی ہے تو پرانے مالک کا نام غرض کےہر چیز تفصیل سے درج ہوتی ہے اور ایکسائز کی خاص قیمت ادا کرنے کے بعد گاڑی ہمارے نام ہو جاتی ہے. بلکل اسی طرح زمین اور مکان کی رجسٹری کروانے کا معاملہ ہے. زمین کی رجسٹری میں بھی ہر چیز لکھی جاتی ہے جو زمین یا مکان سے متعلق ہو. رجسٹریشن ایکٹ 1908 کی دفعہ 17 کے مطابق غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی کے لئے رجسٹریشن لازمی ہے۔

َزمین، مکان کی رجسٹری کا طریقہ؟

پہلا مرحلہ میں سب سے پہلے جس شخص سے آپ مکان یا زمین خرید رہے ہیں وہ فرد بیع نکلوائے گا اس زمین کی کیونکہ زمین کی رجسٹری کے لیے فرد بیع کا ہونا لازمی ہے. فرد بیع سے پتہ چلے گا کے زمین بیچنے والا شخص ہی اصل زمین کا مالک ہے اور زمین پر کسی قسم کا سٹے یا مقدمہ نہیں ہے. یاد رہے کہ ایک وقت میں ایک ہی فرد بیع نکل سکتی ہے. فرد بیع نکلوانے کے بعد اگر بیچنے والی زمین کی رجسٹری نہ کروائی جائے تو وہ فرد بیع 14 دن بعد منسوخ ہو جاتی ہے. اس کے بعد زمین کی مالیت کے حساب سے E Stamp paper نکلوائیں. فائلر 5 فیصد ٹیکس زمین کی مالیت کے حساب سے ادا کر کے E stamp paper نکلوائے گا اور نان فائلر 6 فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کرے گا۔ زرعی زمین پر 4 فیصد ٹیکس ادا کیا جائے گا. ای سٹیمپ پیپر پر بیچنے والے اور خریدنے والے کا نام تحریر ہوگا. اس اسٹام پیپر پر زمین کا ڈی سی ریٹ لکھا ہوگا کہ کتنے روپے کی زمین فروخت کی جارہی ہے وہ قیمت لکھی ہوگی. اس کے علاوہ اسی E stamp paper پر مکمل تحریر ہوگی کہ کون شخص کس کو زمین بیچ رہا ہے اور کتنے روپے میں بیچ رہا ہے اور اسی طرح گواہان کے نام پتہ ہوگا۔ سب سے اہم اس E stamp paper یا اسٹام پیپر پر نقشہ بنایا جاتا ہے فروخت ہونے والے پلاٹ یا مکان کا جس کے چاروں طرف نشاندہی کی جاتی ہے کہ کیا چیز ہے مطلب آس پاس کے مکان یا زمین کس کی ملکیت ہے.۔ اس سب کا مقصد زمین کو محفوظ بنانا ہے کہ کل کو کوئی اور شخص اس زمین پر قبضہ نہ کرلے اور رجسٹری سے پتہ چل جائے کون کس زمین کا مالک ہے. دوسرا مرحلہ میں اسٹام پیپر زمین کی مالیت کے حساب سے نکلوانے اور تحریر کروانے کے بعد مندرجہ ذیل ڈاکومنٹس لگا کر متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کے پاس جائیں۔ فرد بیع، بیچنے خریدنے والوں کے شناختی کارڈ کی کاپی، ایف بی آر، ٹی ایم اے ٹیکس اور دیگر ٹیکس کی پیمنٹ رسید۔ یہ فائل تیار کرنے کے بعد متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کے پاس جائیں
وہاں رجسٹرار کے سامنے بیچنے والا آپکے حق میں بیان دے گا اور گواہان کی فوٹو بننے اور سائن ہونے کے بعد آپکی رجسٹری ہو جائے گی اور پھر رجسٹری آپکے ایڈریس پر چند دنوں کے اندر بھیج دی جائے گی.

انتقال اور رجسٹری میں کیا فرق ہے؟

رجسٹری اور انتقال زمین میں کوئی فرق نہیں. رجسٹری بھی ملکیت کا ثبوت ہے جبکہ انتقال زمین بھی ملکیت کا ثبوت ہے. رجسٹری کے بعد اگلا مرحلہ انتقال کا ہوتا ہے. رجسٹری حاصل کرنے کے بعد مالک زمین متعلقہ پٹواری کے پاس جائے گا جو رجسٹری کی مصدقہ کاپی دیکھنے کے بعد آپکے نام زمین انتقال کر دے گا. اس انتقال کی فیس 300 روپے ہے اس سے زیادہ پیسے پٹواری کو نہ دیں. سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں قانون وضع کر دیا ہے کہ شہری علاقوں میں زمین کی منتقلی رجسٹری کے ذریعے ہی ہوگی نہ کے انتقال کے ذریعے.
PLD 2019 Sc 297..

05/11/2022

*ترجمہ*
𝙋𝙧𝙞𝙣𝙘𝙞𝙥𝙡𝙚𝙨 𝘾𝙞𝙫𝙞𝙡 𝙇𝙖𝙬 𝙥𝙧𝙖𝙘𝙩𝙞𝙘𝙚 𝙥𝙧𝙖𝙘𝙩𝙞𝙘𝙚 𝙞𝙣 𝙋𝙖𝙠𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣

● ہر دیوانی مقدمہ ضلع کی سب سے نچلی عدالت میں دائر کیا جاتا ہے جو کہ سینئر سول جج کی عدالت ہے۔

● سی پی سی کے آرڈر 37 کے تحت ایک سمری مقدمہ ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔

● فیملی سوٹ پاکستان میں فیملی کورٹس ایکٹ، 1964 کے تحت چلتے ہیں۔

● ایک اور قانون جو فیملی سوٹ کو کنٹرول کرتا ہے وہ ہے ویسٹ پاکستان فیملی کورٹ رولز، 1965۔

● فیملی سوٹ کے معاملے میں، یہ اس جگہ پر دائر کیا جاتا ہے جہاں خاتون رہتی ہے چاہے وہ عارضی طور پر رہتی ہو۔

● ملاقات والدین دونوں کا حق ہے۔ عدالتوں کے ذریعہ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ ان میں سے کوئی ایک ڈیفالٹ نہ ہو۔

● قیام کا حکم مستقل یا عارضی ہو سکتا ہے۔

● مستقل یا مستقل قیام کی اجازت مخصوص ریلیف ایکٹ 1877 کے تحت دی جاتی ہے۔

● عارضی حکم امتناعی یا قیام CPC کے قاعدہ 39 قاعدہ 1 اور 2 کے تحت دیا گیا ہے۔

● دیوانی مقدمے میں کسی بھی وقت کوئی درخواست دی جا سکتی ہے اور جج اسے تسلیم کرنے یا خارج کرنے کا پابند ہے۔

● حکم نامہ ابتدائی یا حتمی ہو سکتا ہے۔ یہ ہمیشہ اپیل کے قابل ہے۔

● ایک آرڈر عام طور پر نظر ثانی کے قابل ہوتا ہے جب تک کہ یہ سی پی سی کے سیکشن 104 یا آرڈر 43 کے دائرہ کار میں نہ آتا ہو۔

● دیوانی مقدمات میں پہلی اپیل دائر کرنے کا وقت 30 دن ہے۔

● دیوانی مقدمات میں دوسری اپیل دائر کرنے کا وقت 60 دن ہے۔

● سول ریویژن فائل کرنے کا وقت 90 دن ہے۔

● CPC کے سیکشن 115 کے تحت سول نظرثانی دائر کی گئی ہے۔

● درخواست گزار ٹرائل کورٹ کا تمام ریکارڈ سول نظرثانی میں فراہم کرنے کا پابند ہے۔

● پہلی اپیل میں قانون کے سوال کے ساتھ ساتھ حقیقت کا سوال بھی ہو سکتا ہے۔

● دوسری اپیل صرف قانون کے سوال پر دائر کی جاتی ہے۔

● عام دیوانی مقدمات میں پہلی اپیل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں دائر کی جاتی ہے۔

● عام دیوانی مقدمات میں ہائی کورٹ میں دوسری اپیل دائر کی جاتی ہے۔

● دیوانی عدالت کے پاس ویسٹ پاکستان سول کورٹس ایکٹ 1962 کے تحت لامحدود مالیاتی دائرہ اختیار ہے۔

● عام عمل میں مختلف مقامی حکومتوں نے سول عدالتوں کے مالیاتی دائرہ اختیار کے لیے مختلف حدود مقرر کی ہیں۔

● جب پہلی بار ہائی کورٹ میں کیس دائر کیا جاتا ہے تو اس کی سماعت سنگل بنچ کرتی ہے۔

● سنگل بنچ کے فیصلے کی اپیل انٹرا کورٹ اپیل میں ڈبل بنچ یا فل کورٹ کے ذریعے سنی جا سکتی ہے۔

● ڈی بی یا فل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاتی ہے۔

● جب سپریم کورٹ اپیل کرنے کی اجازت قبول کرتی ہے تو سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوتی ہے۔

● مفاد عامہ کا مقدمہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 184(3) کے تحت براہ راست دائر کیا جا سکتا ہے۔

● عام طور پر سپریم کورٹ میں اپیلیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت دائر کی جاتی ہیں۔

● تحریریں 5 قسم کی ہوتی ہیں۔

● تحریریں عام طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی جاتی ہیں۔

● CrPC کی دفعہ 491 کے تحت ہیبیس کارپس کی رٹ سیشن کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔

● CPC کے سیکشن 151 کے تحت دیوانی عدالتوں کے موروثی اختیارات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

● عدالتوں کو سی پی سی کے آرڈر 26 کے تحت مقامی کمیشن مقرر کرنے کے اختیارات حاصل ہیں۔

● عارضی حکم امتناعی سے متعلق توہین عدالت کے مقدمات میں سی پی سی کے حکم نمبر 39 رول 7 کے تحت لوکل کمیشن کا تقرر کیا جاتا ہے۔

● جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے اور سی پی سی کے حکم نمبر 39 کے تحت توہین کے الزام میں ملزم کو 6 ماہ تک قید ہو سکتی ہے۔

● نظرثانی وہی عدالت کرتی ہے جو فیصلہ دیتی ہے۔

● نظرثانی کی درخواست سی پی سی کے آرڈر 47 رول 1 کے تحت دائر کی گئی ہے۔

● CPC کا آرڈر 21 عملدرآمد کی کارروائی سے متعلق ہے۔

● مدعی کے پاس پھانسی کی درخواست دائر کرنے کے لیے 3 سال کا وقت ہے۔

● دیوانی مقدموں میں کارروائی کی وجہ سے 3 سال کی حد ہے۔

● CPC کے حکم نمبر 7 اصول 11 کے تحت درخواست مسترد کر دی جاتی ہے۔

● CPC کے حکم نمبر 7 اصول 10 کے تحت مدعی واپس کیا جاتا ہے۔

● CPC کا سیکشن 10 Res Sub Judice کے اصول سے متعلق ہے۔

● CPC کا سیکشن 11 Res Judicata کے اصول سے متعلق ہے۔

● سی پی سی کے آرڈر 6 قاعدہ 17 کے تحت مدعی میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔

● تحریری بیان میں CPC کے حکم نمبر 6 کے اصول 17 کے تحت ترمیم کی جا سکتی ہے۔

● CPC کا آرڈر 7 مدعی سے متعلق ہے۔

● CPC کا آرڈر 8 تحریری بیان سے متعلق ہے۔

● اپیلوں اور نظرثانی کے معاملات میں جواب دہندگان کو جواب داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

● تحریری بیان داخل کرنے کا وقت 30 دن ہے۔

● سرکاری اداروں کی صورت میں تحریری بیان داخل کرنے کی مدت 90 دن ہے۔

● جب کسی تنظیم کا ایک شہر میں ہیڈ آفس اور دوسرے شہر میں برانچ آفس ہو تو مقدمہ کہیں بھی دائر کیا جا سکتا ہے۔

● ایک دیوانی مقدمہ دائر کیا جاتا ہے جہاں کارروائی کی وجہ ہوتی ہے یا جہاں مدعا علیہ رہتا ہے۔

● مادہ بچہ اپنی بلوغت کو پہنچنے تک ماں کے پاس رہتا ہے۔

● ایک لڑکا بچہ 7 سال کی عمر تک ماں کے پاس رہتا ہے۔

● باپ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنے کا ذمہ دار ہے چاہے وہ کسی کے ساتھ رہیں۔

● جب ایک ماں دوسری شادی کرتی ہے، تو وہ بچے کی تحویل کا حق کھو دیتی ہے۔

● خلع ان بنیادوں پر لی جا سکتی ہے جس کا ذکر مسلم شادیوں کے ایکٹ 1939 کے سیکشن 2 میں کیا گیا ہے۔

● جب کالم 18 میں عورت کو طلاق تفویض کا حق ہے تو وہ براہ راست ثالثی کونسل سے طلاق لے سکتی ہے۔

● اگر ثالثی کونسل اجازت دے تو شوہر دوسری شادی کر سکتا ہے۔

● شوہر دوسری شادی کرنے سے پہلے پہلی بیوی کو پورا حق مہر ادا کرنے کا ذمہ دار ہے۔

● خلع کی صورت میں بیوی حق مہر واپس کرنے کی ذمہ دار ہے۔

● اگر بیوی حق مہر واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو اس کے خلع کا حکم نہیں روکا جا سکتا۔

● خلع کا حکم نامہ چھ ماہ گزرنے کے بعد موثر ہو جاتا ہے۔

● پاکستان میں خلع کو واحد طلاق کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔

● اعلان کے لیے مقدمہ مخصوص ریلیف ایکٹ 1877 کے سیکشن 42 کے تحت دائر کیا جاتا ہے۔

● اعلامیہ ریم یا پرسنم میں ہو سکتا ہے۔

● نامزد شخص وارث نہیں ہے۔ وہ اسلامی قانون وراثت کے مطابق حصص کی تقسیم کا ذمہ دار ہے۔

● اولاد کی صورت میں میت کی میراث میں بیوی کا حق 1/8 ہے۔

● اولاد نہ ہونے کی صورت میں وراثت میں بیوی کا چوتھائی حق ہے۔

● ماں اور باپ کا حق 1/6 ہے۔

● بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حق اولاد کی صورت میں 1/4 ہے۔

● اولاد نہ ہونے کی صورت میں بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حق 1/2 ہے۔

● اکیلی بیٹی کو 1/2 جائیداد وراثت میں ملتی ہے۔

● 2 یا 2 سے زیادہ بیٹیاں 2/3 جائیداد کی وارث ہیں۔

● اکیلا بیٹا پوری جائیداد کا وارث ہے۔

● ماں اور باپ بچوں کے فطری سرپرست ہیں۔

● بینکنگ کورٹ ضلعی عدالت کے برابر ہے۔

● قاتل کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

● مخصوص ریلیف صرف جرمانہ نافذ کرنے کے مقصد کے لیے نہیں دیا جا سکتا۔

Address

Mustafa Abad Colony Daharki
Ghotki
65110

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Murad Law Associate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share